உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hijab Row: گورنمنٹ پری یونیورسٹی کالج فار گرلز، اڈوپی کا وہ کالج جہاں سے حجاب کا مسئلہ ہوا شروع

    اس کالج کے ذریعے اچھے معیار کی تعلیم تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔

    اس کالج کے ذریعے اچھے معیار کی تعلیم تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔

    حکام کے مطابق 1985 میں قائم ہونے والے گورنمنٹ پری یونیورسٹی کالج فار گرلز میں ہر سال طلبا کی کامیابی کا فیصد 95 فیصد سے کم نہیں رہا ہے، یہاں کے بیشتر طلبا اور طالبات اپنی پڑھائی میں منہمک ہیں اور وہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہاں فیکلٹی اور اسٹاف کی کوئی کمی نہیں ہے۔

    • Share this:
      سومیا کلاسا

      کرناٹک کے ضلع اڈوپی میں گورنمنٹ پری یونیورسٹی کالج فار گرلز (Govt Pre University College for Girls) لڑکیوں کا واحد کالج ہے۔ جہاں سے کرناٹک حجاب کا تنازعہ شروع ہوا ہے۔ اڈوپی کے مقامی باشندوں کے لیے یہ ایک ایسا ادارہ ہے جہاں غریب اور نچلے متوسط ​​طبقے کے خاندانوں کے طلبا کو اچھے معیار کی تعلیم تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔

      کالج کی عمارت میں آٹھویں تا بارہویں جماعت کی کلاسیس لی جاتی ہے۔ یہاں گیارہویں اور بارہویں کلاس کو پری یونیورسٹی کا پہلا اور دوسرا سال سمجھا جاتا ہے۔ پری یونیورسٹی کے سیکشن کو آرٹس، سائنس اور کامرس میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں کل تقریباً 1,000 طلبا ہیں۔ ان میں سے 95 مسلمان ہیں۔ طلبا کی اکثریت قریبی دیہات سے آتی ہے، جو کہ تقریباً 5 تا 10 کلومیٹر کے دائرے میں آباد ہیں۔

      جدید ترین سہولیات موجود ہیں:

      اڈوپی کی ایک رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی کہ اڈوپی میں کئی بہترین پرائیویٹ کالج ہیں۔ اڈوپی کا یہ سرکاری کالج طالبات کی معیاری تعلیم کی ضروریات کی تکمیل کررہا ہے۔ میری بیٹی اس کالج میں پڑھتی ہے۔ اب وہ منگلور یونیورسٹی میں ماسٹرز کر رہی ہیں۔ پری یونیورسٹی کالج میں جدید ترین سہولیات موجود ہیں۔

      اس کالج میں آنے والے زیادہ تر بچے لوئر مڈل کلاس یا غریب گھرانوں سے ہوتے ہیں۔ اگر وہ امیر ہوتے تو پرائیویٹ کالج کا رخ کرتے۔ اس سب کے باوجود یہاں کے طلبا و طالبات تمام ہم نصابی مقابلوں میں پرائیویٹ کالج کی ٹیموں کے برابر مقابلہ کرتے ہیں۔ جس شخص نے ان باتوں کا اظہار کیا ہے، وہ ایک نجی فرم میں ڈرائیور کے طور پر کام کرتا ہے۔

      ’’حالات سدھر جائیں گے‘‘

      ایک دن قبل ہی یہاں کے اساتذہ میڈیا اور مشتعل افراد کو روکنے کے لیے طلبا کے کلاس میں داخل ہوتے ہی گیٹ بند کر رہے ہیں، تاکہ غیر ضروری افراد کی امید کی وجہ سے حالات خراب نہ ہو۔ ایک مقامی شخص نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ امید ہے کہ اب یہاں حالات سدھر جائیں گے اور دوبارہ امن و امان کا ماحول پیدا ہوگا۔ اسی طرح کالج میں بھی تعلیمی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز ہوگا۔

      اصل میں یہ تنازعہ چھ طالبات کو کالج میں داخل نہ دینے کی بنیاد پر شروع ہوا۔ جنہیں کلاسز میں شرکت سے قبل اپنے حجاب اتارنے کے لیے کہا گیا تھا۔ ان کی یہ تصاویر وائرل ہونے کے بعد دوسرے اداروں میں بھی یہ بات عام ہوگئی کہ باحجاب طالبات کو کالج میں داخل نہیں ہونے دیا جارہا ہے۔ اس کے بعد کئی طلبا زعفرانی کھنڈوا پہنے آئے۔

      کالج بند رکھنے کا حکم:

      کرناٹک کے وزیر تعلیم ناگیش بی سی نے کالج حکام کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیمپس میں زعفرانی کھنڈوا اور حجاب دونوں پر پابندی ہونی چاہیے۔ مسلم مظاہرین کی جانب سے کرناٹک ہائی کورٹ میں دو درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔ چیف منسٹر بسواراج ایس بومائی نے منگل کو ریاست کے تمام اسکولوں اور کالجوں کو تین دن کے لیے بند رکھنے کا حکم دیا۔

      حکام کے مطابق 1985 میں قائم ہونے والے گورنمنٹ پری یونیورسٹی کالج فار گرلز میں ہر سال طلبا کی کامیابی کا فیصد 95 فیصد سے کم نہیں رہا ہے، یہاں کے بیشتر طلبا اور طالبات اپنی پڑھائی میں منہمک ہیں اور وہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہاں فیکلٹی اور اسٹاف کی کوئی کمی نہیں ہے۔

      این جی اوز کا بھی تعاون:

      کئی این جی اوز اور تنظیموں نے اکثر اس ادارے کے طلبا کے لیے مدد کا ہاتھ بڑھایا ہے، چاہے وہ سائنس لیب کے لیے آلات ہوں، لیپ ٹاپس ہو یا کورونا کے دوران آن لائن کلاسز میں شرکت کے لیے سیل فون، کتابیں یا کئی بار طلبا کو یونیفارم اور بیگ کی بھی فراہمی کے لیے سماجی کام کیے گئے ہیں۔ احتجاج کرنے والی طالبات کے علاوہ دیگر مسلم لڑکیاں اسی کالج کی عمارت میں جاری امتحانات میں شرکت کریں گے۔

      کرناٹک حجاب تنازعہ سے متعلق کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ خواتین بکنی پہنیں یا حجاب، یہ ان کی پسند ہے۔ اس معاملے میں کسی کو بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ پرینکا گاندھی نے ٹوئٹ کرکے لکھا ہے، بکنی پہنیں، گھونگھٹ پہنیں، جینس پہنیں یا پھر حجاب، یہ خواتین کا حق ہے اور وہ کیا پہنیں اور یہ اختیار اسے ہندوستان کے آئین سے ملا ہے۔ ہندوستان کا آئین، اسے کچھ بھی پہننے کی گارنٹی دیتا ہے، اس لئے خواتین پر ظلم کرنا بند کریں۔

      کرناٹک ہائی کورٹ میں سماعت:

      منگل کو حجاب معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ چونکہ حکومت عرضی گزار کے اس اپیل پر راضی نہیں ہے کہ دو ماہ کے لئے طالبات کو حجاب پہننے دیا جائے، اس لئے ہم اس معاملے کو میرٹ کی بنیاد پر لیں گے۔ اس معاملے میں احتجاج ہو رہے ہیں اور طلبا سڑک پر ہیں، اس سبھی موضوع کو ہم نوٹس میں لے کر ہی کچھ کریں گے۔ ہائی کورٹ کی بینچ نے کہا تھا کہ حکومت قرآن کے خلاف حکم نہیں دے سکتی۔ کپڑے پہننے کا متبادل بنیادی حق ہے۔ حجاب پہننا بھی بنیادی حق ہے۔ حالانکہ حکومت بنیادی حقوق کو محدود کرسکتی ہے۔

      یونیفارم کو لے کر حکومت کا واضح حکم نہیں ہے، اس لئے حجاب پہننا ذاتی معاملہ ہے۔ اس معاملے میں حکومت کا حکم ذاتی حدوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: