உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گنٹور کا جناح ٹاور پھر سرخیوں میں، کیوں ہورہا نام بدلنے کا مطالبہ

    گنٹور کا تاریخی جناح ٹاور۔

    گنٹور کا تاریخی جناح ٹاور۔

    یہ ٹاور بھی یہاں کی تاریخی عمارت ہے، جو بھی یہاں آتا ہے وہ اس ٹاور کو دیکھنے ضرور جاتا ہے۔ یہ چھ ستونوں پر کھڑا ہے۔ اس کا اوپری حصہ گنبد نما ہے۔ یہ خالصتاً 20ویں صدی کے اوائل کا ایک مسلم فن تعمیر ہے۔ تاہم آندھرا پردیش کی کئی تنظیموں نے جناح ٹاور کو گرانے کا مطالبہ بھی حکومت کے سامنے رکھا تھا جسے آندھرا پردیش حکومت نے مسترد کر دیا تھا۔

    • Share this:
      گنٹور:پاکستان کے بانی اور ہندوستان کی تقسیم کے ویلن کہے جانے والے محمد علی جناح کے نام کو لے کر جہاں اترپردیش انتخابات میں تنازع کھڑا ہوگیاہے۔ وہیں آندھراپردیش میں اس یوم جمہوریہ پر بھی جناح کا نام تنازع میں آگیا۔ دراصل معاملہ آندھراپردیش کے گنٹور ضلع کا ہے، جہاں ملک کی واحد ایسی عمارت ہے جو جناح کے نام پر ہے، اسے جناح ٹاور کہا جاتا ہے۔
      اس یوم جمہوریہ پر ہندو واہنی کے لوگوں نے ترنگا لہرانے کی ضد پکڑی، جس پر معاملے نے کافی طول پکڑا، جس کے بعد اب ریاست کی بی جے پی نے اس ٹاور کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حالانکہ ریاست کے وزیراعلیٰ جگن موہن ریڈی اسے محض سیاسی چال قرار دے کر ہوا نہیں دینا چاہتے لیکن یہ دلچسپ بات ہے کہ ملک میں جناح کے نام کا ٹاور کیسے ہے۔

      اب تک اس مینار کے نام کو لے کر کبھی ایسا تنازع نہیں رہا لیکن اس مرتبہ ضرور یہ سرخیوں میں ہے۔ 1945 میں بنی یہ مینار مہاتما گاندھی روڈ پر شان سے کھڑی ہے۔ ہندوستان میں جناح کے نام پر یہ واحد یادگار ہے۔

      گنٹور میں الگ ہی نظر آتی ہے یہ مینار
      یہ مینار جناح کی یاد میں بنایا گیا تھا۔ یہ ٹاور آندھرا کے گنٹور میں واقع ہے، یہ سمندر کنارے کا علاقہ ہے۔ یہ اونچا ٹاور شہر کے مرکزی بازار کے بیچوں بیچ کھڑا ہے۔ اس کے نام کے حوالے سے یہاں کبھی کوئی تنازعہ نہیں ہوا۔ گنٹور کے لوگ اس ٹاور کو شہر کی شان بھی کہتے ہیں۔ اتفاق سے جس سڑک پر یہ ٹاور واقع ہے اس کا نام مہاتما گاندھی روڈ ہے۔



      جناح کے اعزاز میں بنی تھی یہ مینار
      گنٹور میں یہ مینار جناح کے اعزاز میں بنایا گیا تھا۔ اب یہ یہاں کی ایک تاریخی عمارت بھی ہے۔ اس بارے میں بہت سی کہانیاں سنائی جاتی ہیں۔ جو لوگ اس ٹاور کو پہلی بار دیکھتے ہیں وہ ایک ہی سوال کرتے ہیں کہ جناح کے نام کا یہ خوبصورت ٹاور یہاں کیوں ہے؟ کہا جاتا ہے کہ آزادی سے قبل 1939 میں محمد علی جناح چند دنوں کے لیے گنٹور آئے تھے، یہاں انہوں نے ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا۔ بس ان کی یاد میں یہاں ایک مینار بنایا گیا۔ اگرچہ اس کے علاوہ بھی اس کے بارے میں کچھ کہانیاں ہیں۔

      مینار بننے کا ایک قصہ یہ بھی
      ایک قصہ یہ بھی ہے کہ لیاقت علی خان آزادی سے پہلے مسلم لیگ کے بڑے لیڈر تھے اور جناح کے نمائندے بھی۔ آزادی سے قبل جب وہ گنٹور آئے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ راجیہ سبھا کے سابق رکن اور تلگو دیشم پارٹی کے نائب صدر ایس ایم باشا کے دادا لال جان باشا نے جودا لیاقات کے استقبال کے لیے جناح مینار بنادیا۔



      جناح کو بلا کر ریلی کرانے کے منصوبے میں بنا ٹاور
      دوسری کہانی یہ ہے کہ 1942 میں گنٹور کے اس وقت کے ایم ایل اے ایس ایم لالجن باشا نے محمد علی جناح کو یہاں بلا کر ایک بڑی ریلی نکالنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ جب یہ منصوبہ بنایا جا رہا تھا تو جناح کے اعزاز میں اس ٹاور کی تعمیر شروع ہوئی۔
      حالانکہ جناح یہاں نہیں آ سکے۔ لیکن اس عمارت پر کام جاری رہا۔ جب یہ ٹاور 1945 میں مکمل ہوا تو اس کا نام جناح ٹاور سینٹر رکھا گیا۔

      کبھی نام بدلنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی
      اس بارے میں ایک اور کہانی ہے۔ اس کے مطابق اس ٹاور کو بلدیہ کے اس وقت کے چیئرمین ندام پلی نرسمہا راؤ اور تیلاکولا جلائیہ نے بنایا تھا۔ اس کا نام جناح رکھا لیکن مقصد امن اور ہم آہنگی تھا۔ تقسیم کے دوران جب پورے ملک میں تشدد ہوا تو گنٹور میں امن رہا۔ جناح ٹاور ہمیشہ یہاں کھڑا ہے اور اس کا نام تبدیل کرنے کی ضرورت کبھی محسوس نہیں کی گئی۔

      شہر کا اہم لینڈ مارک ہے یہ مینار
      اب یہ ٹاور بھی یہاں کی تاریخی عمارت ہے، جو بھی یہاں آتا ہے وہ اس ٹاور کو دیکھنے ضرور جاتا ہے۔ یہ چھ ستونوں پر کھڑا ہے۔ اس کا اوپری حصہ گنبد نما ہے۔ یہ خالصتاً 20ویں صدی کے اوائل کا ایک مسلم فن تعمیر ہے۔ تاہم آندھرا پردیش کی کئی تنظیموں نے جناح ٹاور کو گرانے کا مطالبہ بھی حکومت کے سامنے رکھا تھا جسے آندھرا پردیش حکومت نے مسترد کر دیا تھا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: