உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Health Matters: وہ کونسے وجوہات ہیں، جن کی بنا پر بچوں کو اسکول بھیجنا چاہیے؟ جانیے مکمل تفصیلات

    بچوں میں کووِڈ بیماری کے موجودہ یا مجموعی رجحان کو ظاہر کرنے کے لیے زیادہ ڈیٹا موجود نہیں ہے۔

    بچوں میں کووِڈ بیماری کے موجودہ یا مجموعی رجحان کو ظاہر کرنے کے لیے زیادہ ڈیٹا موجود نہیں ہے۔

    یونیسیف (UNESCO) کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں اسکولوں کی بندش نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم میں داخل ہونے والے 24.7 کروڑ بچے اور 2.8 کروڑ بچے جو پری اسکول کی تعلیم حاصل کر رہے تھے، وہ تعلیمی طور پر شدید متاثر ہوئے ہیں۔

    • Share this:
      ہیمانی چندنا

      سانتا کلاز کو لکھے گئے خط میں میری سات سالہ بچی اپنے پسندیدہ یونیکورن یا پیپا پگ کی خواہش نہیں رکھتی تھی۔ درحقیقت اس سال خط بہت چھوٹا لیکن عین مطابق تھا۔ ’یہ بورنگ ہے۔ میں اسکول جانا چاہتی ہوں۔ مجھے اپنے دوستوں کی یاد آتی ہے۔ میرا اسکول کھولو! سانتا‘ تب میں نے سوچا کہ وہ وزن کم کرنے، تھوڑا ہلکا پھلکا ہونے اور اسکرین پر بہت زیادہ وقت گزارنے کے علاوہ ٹھیک کر رہی ہے۔ میں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ بچے کیا کھو رہے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ دو مختلف کہانیاں ہیں۔

      اے سیکھنے میں کمی، جسمانی اور ذہنی نشوونما پر اثر، کمزور سماجی مہارت اور سست علمی نشوونما

      بی چائلڈ لیبر مارکیٹ میں دوبارہ داخلے کے معاملے میں پرائمری اور سیکنڈری تعلیم کی مجموعی رحجان، لڑکیوں کی کم عمری میں شادی، دیگر اثرات کے درمیان ڈراپ آؤٹ کی شرح میں اضافہ

      اس کالم میں آئیے ان وجوہات کو تلاش کرتے ہیں؛ جس کی بنا پر تمام بچوں کو فوری طور پر اسکول واپس جانا چاہیے۔

      اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں، یہاں ایک اہم حقیقت پیش نظر رہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مارچ 2020 میں ہندوستان بھر کے اسکولوں کو بند کر دیا گیا تھا۔ یہ ایک درست اقدام تھا، اس وقت ہمیں وائرس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم تھا۔ بچوں سمیت کمزور آبادی کا تحفظ انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ تاہم اب تقریباً 600 دن ہو گئے ہیں جہاں ہم دو لہروں کو عبور کر چکے ہیں اور وائرس کو بہتر طور پر جانتے ہیں۔

      یونیسکو (UNESCO) کے مطابق ہندوستان دنیا کے سب سے طویل اسکولوں کی بندش کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے۔ یہاں مارچ 2020 اور اکتوبر 2021 کے درمیان اسکول 82 ہفتوں یا 1.5 سال کے لیے بند رہے ہیں۔ یوگنڈا 83 ہفتوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔ تاہم قومی سطح پر مکمل بندش جزوی بندش کے طور پر طویل نہیں ہوئی ہے اور ہندوستان 227 ممالک میں 76 ویں نمبر پر ہے۔

      مکمل بندش کا یہ مطلب ہے کہ کورونا CoVID-19 کی وجہ سے قومی سطح پر اسکول بند تھے۔ ہندوستان میں 25 ہفتوں کے لیے قومی سطح پر اسکول بند تھے۔ جب کہ اسکولوں کی جزوی بندش 57 ہفتوں پر رہی، جس کا مطلب ہے کہ کچھ علاقوں یا درجات میں اسکول بند ہوئے تھے اور کہیں کہیں چل رہے تھے۔ یونیسیف کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں اسکولوں کی بندش نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم میں داخل ہونے والے 24.7 کروڑ بچے اور 2.8 کروڑ بچے جو پری اسکول کی تعلیم حاصل کر رہے تھے، وہ تعلیمی طور پر شدید متاثر ہوئے ہیں۔

      کسی ایک ڈاکٹر نے بھی )بشمول نوزائیدہ ماہرین و ماہرین اطفال) مجھے نہیں بتایا کہ کورونا بچوں کے لیے مہلک ہے یا تشویش کا کوئی سبب ہے۔ جو کہ سبھی نامور نجی اور سرکاری اسپتالوں میں کام کرتے ہیں۔ اب تک تینوں لہروں میں بچوں میں ہلکی کووڈ۔19 بیماری کی اطلاع ملی ہے جو ایک ہفتے کے اندر ٹھیک ہو جاتی ہے۔ کووِڈ بچوں پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے اور یہ جان لیوا کیوں نہیں ہے، اس بارے میں تفصیلی کہانی کا لنک یہاں ہے۔

      حکومتی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ دوسری لہر میں تقریباً 12 فیصد کووِڈ سے متاثرہ آبادی کا حصہ 20 سال سے کم عمر کے مریضوں نے دیا تھا۔ تاہم بچوں میں کووِڈ بیماری کے موجودہ یا مجموعی رجحان کو ظاہر کرنے کے لیے زیادہ ڈیٹا موجود نہیں ہے۔

      تمام اسپتالوں میں طبی ماہرین کے مطابق کووڈ کا سبب نہیں معلوم ہوا بلکہ یہ واقعاتی طور پر رونما ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جگر کی بیماری کی وجہ سے اسپتال میں داخل ایک بچے کو کورونا مثبت ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

      بچوں کو ٹیکے لگانے کا انتظار نہیں کر سکتے:

      سائنسدانوں اور ویکسین کے ماہرین کے مطابق بچوں کو خاص طور پر 12 سال سے کم عمر کے بچوں کو ویکسین کی زیادہ ضرورت نہیں ہے۔

      امیونائزیشن پر ہندوستان کا نیشنل ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ (NTAGI) کے پینل کے رکن اور وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر جے پرکاش مولائل نے مجھے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے مرکزی حکومت کو مطلع کیا ہے کہ بچے ٹھیک ہو رہے ہیں اور ہمیں اب بچوں کو ٹیکے نہیں لگانا چاہیے۔ این ٹی اے جی آئی کا فیصلہ ابھی اس حقیقت پر مبنی ہے کہ کورونا کی وجہ سے بچوں میں کوئی اموات نہیں ہوئی ہیں۔

      اس کے علاوہ ویکسین کے ماہر ڈاکٹر گگندیپ کانگ نے ایک بار مجھے بتایا تھا کہ بہت سے ایسے سوالات ہیں جن کا جواب نہیں دیا گیا ہے۔ ہندوستان کو 12 سال سے کم عمر کے بچوں کو ویکسین دینا شروع کرنے سے پہلے سوچنے کی ضرورت ہے۔ درحقیقت ہمیں اس بات کا بھی یقین نہیں ہے کہ کون سی بہترین ویکسین ہیں جو چھوٹے بچوں کو ٹیکے لگانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ بچوں کی نفسیات سے نمٹنے والے ماہرین اور اساتذہ کا خیال ہے کہ آن لائن تعلیم کے ذریعے بچوں میں سماجی، جذباتی اور علمی صلاحیتیں پیدا نہیں کی جا سکتیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: