ہوم » نیوز » Explained

جانئے بچوں کو کورونا وائرس کا شکار ہونے سے کیسے بچائیں آپ ؟

کووڈ 19 کی پہلی لہر نے سن رسیدہ افراد کو زیادہ متاثر کیا تھا اور اس کی دوسری لہر نے نوجوانوں کو ، اس سے اب یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ اس کی ممکنہ تیسری لہر بچوں کو متاثر کرسکتی ہے جو 18 سال سے کم عمر کے ہیں ۔

  • Share this:
جانئے بچوں کو کورونا وائرس کا شکار ہونے سے کیسے بچائیں آپ ؟
جانئے بچوں کو کورونا وائرس کا شکار سے کیسے بچا سکتے ہیں آپ ؟۔ علامتی تصویر

کووڈ 19 کی پہلی لہر نے سن رسیدہ افراد کو زیادہ متاثر کیا تھا اور اس کی دوسری لہر نے نوجوانوں کو ، اس سے اب یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ اس کی ممکنہ تیسری لہر بچوں کو متاثر کرسکتی ہے جو 18 سال سے کم عمر کے ہیں ۔ کورونا نے اپنی پہلی لہر کے دوران نوجوانوں کو کیوں چھوڑا اور اب انہیں کیوں متاثر کررہا ہے ؟ کیا بچوں کو کورونا کا انفیکشن زیادہ اثر نہیں ڈالتا ہے ؟ کیا بچوں میں کورونا انفیکشن کی سنگینی کم ہوجاتی ہے ؟ ان سب میں سچ کیا ہے اور اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے ؟ بچوں میں کووڈ 19 کے انفیکشن کو لے کر کئی باتیں کہی جارہی ہیں ۔


1 - نوویل کورونا وائرس (nCoV) جسم میں ACE2 سے چپک کر پہنچتا ہے ، جو ناک اور گلے کے درمیان کے حصے ، پھیپھڑے ، آنت ، دل اور گردے کے خلیات میں پائے جاتے ہیں ۔ عمر کے ساتھ گلے اور ناک کے درمیان کے حصے اور پھیپھڑے کی دیوار کے اندرونی حصے پر ACE2  کی موجودگی بڑھ جاتی ہے اور اس کی وجہ سے یہ nCoV کو زیادہ سے زیادہ جسم کے اندر لے جانے کے قابل ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کم عمر کے لوگوں میں اس کے انفیکشن کا خطرہ کم ہوتا ہے ۔ جانوروں پر ہوئی اسٹڈیز کے مطابق ACE2  پھیپھڑے کو ہونے والے نقصان سے وابستہ nCoV سے بچاتا ہے ۔ جب nCoV خلیات تک ACE2  کے ذریعہ سے پہنچ جاتا ہے تو ACE2  کا حجم چھوٹا ہوجاتا ہے اور اس کی دفاعی صلاحیت بھی کم ہوجاتی ہے ، جس کی وجہ سے جسم کو متاثر کرنا آسان ہوجاتا ہے ۔


2 - خون کی نالیوں کی اندرونی پرت جس کو اینڈوتھیلم بھی کہتے ہیں اور بچوں میں خود کے تھکا بننے کا نظام بالغوں سے الگ ہے ، جس کی وجہ سے ان کو دل کا دورہ یا اسٹروک کم پڑتا ہے ۔


3 - زیادہ تر لوگوں میں عام کورونا وائرس کے خلاف یہ اینٹی باڈیز کا بننا بچپن کی شروعات میں ہوجاتا ہے ۔ جسم میں پہلے سے موجود یہ اینٹی باڈیز کورونا وائرس کی نئی قسم کو  خلیات میں داخل ہونے میں مدد کرتی ہیں اور بالغوں کو یہ اس وائرس کے تئیں زیادہ کمزور بنا دیتا ہے ، جس کی وجہ سے ان میں زیادہ انفیکشن پھیلتا ہے ۔ اس کو اینٹی باڈی ڈیپینڈینسی انہاسمنٹ ( اے ڈی ای ) کہا جاتا ہے ۔ کووڈ 19 سے متاثر بچوں میں بالغوں کے مقابلہ میں اے ڈی ای کم ہوتا ہے ۔

4 - عمر بڑھنے کو جسم میں آسان اور موزوں امیونیٹی میں کمی سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے اور اس وجہ سے وائرس کے خلاف لڑنے میں جسم کمزور پڑجاتا ہے ۔ پھر بچوں میں یہ امیونٹی زیادہ مضبوط ہوتی ہے ، جس کی وجہ سے ان کے جسم میں انفیکشن ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے ۔

5 - بچوں کے جسم میں دیگر بیماریاں جیسے ڈٓائبٹیز ، ہائپر ٹینشن ، دل کی بیماری ، سی او پی ڈی وغیرہ کم ہوتی ہے ۔ ان بیماریوں کی وجہ سے بالغوں میں کووڈ کا انفیکشن زیادہ ہوتا ہے ۔

6 - ویٹامن ڈی کی کمی بھی ایک وجہ ہے ۔ ویٹامن ڈی میں اینٹی انفلیمیٹری اور اینٹی آکسیڈیٹو کوالیٹی ہوتی ہے اور اس کی کمی بچوں کے مقابلہ میں بالغوں میں زیادہ ہوتی ہے ۔

7 - بچوں کی سانس نلی اور آنتوں میں بالغوں کے مقابلہ میں مائیکروبس جیسے بیکٹریا اور وائرس وغیرہ زیادہ ہوتے ہیں ، جو خلیات میں کورونا وائرس کے خلاف مضبوطی سے لڑائی لڑتے ہیں اور انہیں خلیات میں داخل نہیں ہونے دیتے ہیں ۔

8 - میلاٹونن نام کا ہارمون جس میں اینٹی انفلیمیٹری اور اینٹی آکسیڈیٹو کوالیٹی ہوتی ہے ، بچوں میں ان کی زیادہ مقدار پائی جاتی ہے اور عمر بڑھنے کے ساتھ ہی اس میں کمی آتی ہے ، جس کی وجہ سے بچوں میں کورونا کے انفیکشن کا اثر معمولی ہوتا ہے ۔

9 - بالغوں کے مقابلہ میں بچوں کو دئے گئے بی سی جی اور دوسرے ٹیکوں کا اثر موجود رہتا ہے اور اس وجہ سے بھی ان میں انفیکشن کی دھار کم ہوجاتی ہے ۔

10 - بالغوں کے مقابلہ میں بچوں کے کام کرنے کی جگہ ، سفر ، شاپنگ کے دوران اور نوسوکومیل ایکسپلوزر کم ہوتا ہے ۔ اگر آپ زیادہ باہر جائیں گے تو آپ کو زیادہ انفیکشن ہوگا ۔ ( میری رائے میں سب سے قابل قبول وجہ ہے ) ۔

اپنے بچوں کو ہم نوویل کورونا انفیکشن سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

جیسے ہم بالغ خود کو بچاتے ہیں ، جسم کی دوری ، صاف ماسک پہننا جو آپ کی ناک اور منہ کو پوری طرح سے ڈھکے ، صاف صفائی کا اہتمام ، زیادہ بھیڑ بھاڑ والی بند جگہ پر نہیں جانا اور ٹیکے لگوانا ۔ اگر زیادہ سے زیادہ نوجوان اور بالغ لوگ ٹیکے لگوائیں گے تو بچوں میں بھی انفیکشن کم ہوگا ۔ پھر اب تو دو سال سے زیادہ کی عمر کے بچوں کیلئے بھی ٹیکے آنے والے ہیں ۔



Dr Niket Rai
MBBS, MD
Maulana Azad Medical College and associated LOK Nayak Hopital’
New Delhi


Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 10, 2021 11:26 PM IST