உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained Omicron: کووڈ۔19 کے نئے ویرینٹ کا نام اومیکرون کیسے پڑا؟ کیا ہیں اس کی سائنسی وجوہات؟

    جنوبی افریقہ میں کورونا کے نئے ویرینٹ کی اطلاع کے بعد کورونا پروٹوکال پر عمل ضروری ہے- (shutterstock)

    جنوبی افریقہ میں کورونا کے نئے ویرینٹ کی اطلاع کے بعد کورونا پروٹوکال پر عمل ضروری ہے- (shutterstock)

    عالمی وبا کورونا وائرس کے اس نئے ویرینٹ کو یونانی حروف تہجی کے 15ویں حرف کے نام پر رکھا گیا ہے۔ خبر رساں ایجنسیوں اور ماہرین نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت (WHO) نے عوام میں افہام و تفہیم کے لیے ان جیسے ناموں کی تجویز پیش کی ہے، تاکہ عوام تک اس ضمن میں غلط فہمیوں کے بجائے بہتر معلومات فراہم کی جاسکیں۔

    • Share this:
      جنوبی افریقہ میں عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) کے نئے ویرینٹ اومیکرون (Omicron) کے ظہور کے بعد پوری دنیا میں ایک بار پھر کورونا سے متعلق پابندیوں پر نظرثانی کی جارہی ہیں۔ جمعہ کے روز دنیا بھر کے بازاروں میں اشیا و خدمات کی قیمتوں میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ اس دوران کورونا وائرس پر قابو پانے کی امید مدھم پڑ گئی۔ یوں اب بہت سے لوگ بار بار اومیکرون کی اصطلاح دہرارہے ہیں۔

      عالمی وبا کورونا وائرس کے اس نئے ویرینٹ کو یونانی حروف تہجی کے 15ویں حرف کے نام پر رکھا گیا ہے۔ خبر رساں ایجنسیوں اور ماہرین نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت (WHO) نے عوام میں افہام و تفہیم کے لیے ان جیسے ناموں کی تجویز پیش کی ہے، تاکہ عوام تک اس ضمن میں غلط فہمیوں کے بجائے بہتر معلومات فراہم کی جاسکیں۔ سابق میں بھی کورونا کی مختلف اقسام کو ان کے ملکوں سے منسوب کرنے کے بجائے اسی طرح سے یونانی لفظوں کا استعمال کیا گیا۔

      مثال کے طور پر ہندوستان میں ابھرنے والی شکل B.1.617.2 کے نام سے مشہور نہیں ہے۔ بلکہ اسے یونانی حروف تہجی کا چوتھا حرف ڈیلٹا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے کورونا کی مختلف اقسام کو دلچسپی کی مختلف قسمیں (variants of interest) اور تشویش کی باعث اقسام (variants of concern) کے تحت درجہ بندی کی ہے۔

      یونانی حروف کے ساتھ کچھ دوسری قسمیں ان درجہ بندی کی سطح تک نہیں پہنچتی ہیں اور ڈبلیو ایچ او نے اومیگروں سے قبل بھی دوناموں (Nu) اور (Xi) کی بھی تجویز پیش کیا تھا لیکن اسی دوران کہا گیا کہ اس سے دنیا بھر میں غلط پیغام جائے گا کیونکہ ان میں ایک لفظ Xi چینی صدر شی جنکپنگ کے نام کا حصہ ہے۔ اس لیے ان کے احترام میں اس لفظ سے گریز کیا گیا۔

      ڈبلیو ایچ او کے ترجمان طارق جساریوچ (Tarik Jasarevic) نے کہا کہ Nu بہت آسانی سے new سے ملتا چلتا ہے۔ وہیں Xi نام متنازعہ بن سکتا تھا، اس لیے ان ناموں سے اعتراض کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیماریوں کے نام رکھنے کے لیے ایجنسی کے بہترین طریقے بتاتے ہیں کہ ’’کسی بھی ثقافتی، سماجی، قومی، علاقائی، پیشہ ورانہ یا نسلی گروہوں کے لیے دل آزاری کا باعث بننے سے گریز کیا جائے اور اس پر کسی بھی طرح کا تنازعہ کھڑا نہ ہو‘‘۔

      کچھ معروف قسمیں جیسے ڈیلٹا (Delta) تشویش کی باعث قسم ہے۔ اس زمرے میں دیگر کا نام الفا (Alpha)، بیٹا (Beta) اور گاما (Gamma) بھی ہے۔ دوسرے قسم کے کورونا میں لیمبڈا (Lambda) اور میو (Mu) شامل ہے، جو دلچسپی کی مختلف قسمیں ہیں۔ دوسرے یونانی حروف ایسے متغیرات کے لیے استعمال کیے گئے جو ان حدوں کو پورا نہیں کرتے تھے لیکن صرف Nu اور Xi ہی تھے جنہیں چھوڑ دیا گیا ہے۔

      لوگوں کے لیے بھی آسانی:

      ڈبلیو ایچ او اس نے کہا کہ مختلف قسم کے سائنسی ناموں کے برعکس اس طرح کے نام دینے سے لوگوں کے لیے بھی آسانی ہوگی اور صحیح معلومات لوگوں تک پہنچیں گی۔ وہیں میڈیا رپورٹنگ کے دوران ناموں کے سلسلے میں غلطیاں بھی نہیں دہرائی جائے گی۔ جس پر کچھ محققین متفق ہیں۔

      یونیورسٹی آف سسکیچیوان کی ماہرِ وائرولوجسٹ ڈاکٹر انجیلا راسموسن (Dr. Angela Rasmussen) نے کہا کہ اس سال یونانی ناموں کے نظام کے اعلان سے پہلے انھوں نے صحافیوں کے ساتھ بہت سے انٹرویوز کیے اور انھیں B.1.1.7 اور B.1.351 کی مختلف اقسام کے بارے میں بار بار وضاحت پیش کرنا پڑا اور وہ الجھن میں پڑگئے۔ اب انہیں الفا کے نام سے جانا جاتا ہے، جو برطانیہ میں ابھرا اور بیٹا جنوبی افریقہ میں ابھرا۔

      انہوں نے کہا کہ جب حروف تہجی کے الفاظ کو مسلسل استعمال کر رہے ہیں تو اس کے بارے میں بات کرنا واقعی بوجھل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بالآخر لوگ اسے یو کے ویریئنٹ یا جنوبی افریقی ویرینٹ کہتے ہیں۔

      یہ دوسری بڑی وجہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے یونانی ناموں کے نظام سے کورونا کی مختلف اقسام کو جوڑ دیا۔ ڈاکٹر راسموسن نے کہا کہ پرانا نام دینے کا رواج ان لوگوں کے ساتھ غیر منصفانہ تھا جہاں وائرس ابھرا۔ ایجنسی نے ان جگہوں کے لحاظ سے مختلف حالتوں کو بیان کرنے کی مشق کو بدنامی اور امتیازی قرار دیا۔

      کورونا کی قسموں کو ملکوں سے منسوب نہ کریں:

      ڈاکٹر راسموسن نے کہا کہ علاقوں کے لیے وائرس کے نام رکھنے کا رواج بھی تاریخی طور پر گمراہ کن رہا ہے۔ مثال کے طور پر ایبولا (Ebola) کا نام ایک دریا کے لیے رکھا گیا ہے جو دراصل اس سے بہت دور ہے جہاں سے وائرس ابھرا تھا۔ ڈبلیو ایچ او نے مختلف ملکوں کے قومی حکام اور میڈیا آؤٹ لیٹس کو نئے لیبلز کو اپنانے کی ترغیب دی۔ وہ تکنیکی ناموں کی جگہ نہیں لیتے، جو سائنسدانوں کو اہم معلومات پہنچاتے ہیں اور تحقیق میں استعمال ہوتے رہیں گے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: