உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عمران خان نے ہر ہتھکنڈہ فیل ہونے پر کھیلا غیرملکی سازش کا داؤ، ایسے دی اپوزیشن کو شکست

     عمران نے قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کی حمایت لے لی۔ ڈپٹی اسپیکر نے آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک غیر ملکی سازش کا الزام لگا کر مسترد کر دی۔ اس کے ساتھ ہی عمران نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔ اب پاکستان میں 90 دن کے اندر انتخابات ہوں گے۔

    عمران نے قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کی حمایت لے لی۔ ڈپٹی اسپیکر نے آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک غیر ملکی سازش کا الزام لگا کر مسترد کر دی۔ اس کے ساتھ ہی عمران نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔ اب پاکستان میں 90 دن کے اندر انتخابات ہوں گے۔

    عمران نے قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کی حمایت لے لی۔ ڈپٹی اسپیکر نے آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک غیر ملکی سازش کا الزام لگا کر مسترد کر دی۔ اس کے ساتھ ہی عمران نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔ اب پاکستان میں 90 دن کے اندر انتخابات ہوں گے۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان کی تحریک عدم اعتماد کے بعد وزیراعظم عمران خان نے اپنا اقتدار بچانے کے لیے ہر طرح کے حربے اپنائے لیکن سب ناکام رہے۔ اس دوران عمران کئی طرح کی داستانیں بناتے رہے۔ انہوں نے ملک میں یہ چرچا پھیلا دی کہ انہیں ہٹانے میں امریکہ کا ہاتھ ہے اور ہندوستان اس میں مدد کر رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کو اس میں ملوث بتایا گیا تھا۔ اس کے باوجود انہیں کامیابی نہیں ملی۔

      جس کے بعد آخری وقت پر عمران نے قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کی حمایت لے لی۔ ڈپٹی اسپیکر نے آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک غیر ملکی سازش کا الزام لگا کر مسترد کر دی۔

      اس کے ساتھ ہی عمران نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔ اب پاکستان میں 90 دن کے اندر انتخابات ہوں گے۔ تاہم عمران اس وقت تک نگراں وزیراعظم رہیں گے۔
      آئیے جانتے ہیں کہ عمران خان نے اپنا اقتدار بچانے کے لئے کس کس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے؟

      1. اسپیکر کی مدد سے کئی مرتبہ تحریک عدم اعتماد پر بحث اور ووٹنگ ملتوی کروائی
      8 مارچ کو پاکستان کی اپوزیشن کی جانب سے پاکستان کی قومی اسمبلی میں عمران حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نوٹس دیا گیا۔ اس دوران الزام لگایا گیا کہ عمران حکومت کی وجہ سے ملک میں معاشی بحران پیدا ہوا ہے۔
      28 مارچ کو اپوزیشن نے عمران حکومت کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کی۔ تاہم تحریک عدم اعتماد کے ساتھ ہی اسپیکر نے ایوان کی کارروائی دوبارہ ملتوی کر دی۔
      اس بار بھی عمران پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنی حکومت بچانے کے لیے جان بوجھ کر ایوان کو ملتوی کیا۔ تاہم ایوان میں تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد اسپیکر کو 7 دن کے اندر ووٹ دینا ہوگا۔ اس کے بعد ووٹنگ کا دن 3 اپریل مقرر کیا گیا۔

      2. اسلام آباد میں بڑی ریلی کر کے اپنی مقبولیت ظاہر کی
      عمران کے خلاف اس سے قبل تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 28 مارچ کو ہونی تھی۔ اس سے قبل انہوں نے 27 مارچ کو اسلام آباد میں 10 لاکھ کارکنوں کو بلانے کا اعلان کیا تھا۔ اس دوران وہ یہ دکھانا چاہتے تھے کہ ان کی مقبولیت اب بھی برقرار ہے۔ تاہم میڈیا رپورٹس میں صرف 1 لاکھ کارکنان کے پہنچنے کی بات کہی گئی۔
      اس ریلی میں عمران اپنے روایتی حریفوں نواز شریف اور آصف علی زرداری پر برستے نظر آئے۔ خان نے مجمع کے سامنے ایک خط بھی لہرایا اور الزام لگایا کہ یہ لوگ غیر ملکی سازش کا حصہ ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Pakistanمیں بڑھے گاسیاسی بحران،اپوزیشن قائدین کے خلاف ملک سے غداری کاکیس درج کرنے کی تیاری

      3. پاکستان کے آرمی چیف سے بھی کی تھی ملاقات
      سیاسی ہلچل کے درمیان عمران خان نے 18 مارچ کی صبح آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔ اس کے باوجود کئی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ فوج نے بھی عمران کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔

      4. قوم کے نام دو مرتبہ خطاب میں کئی بار ہوئے جذباتی- امریکہ پر سازش رچنے کا لگایا الزام
      عمران خان نے ایک بار پھر 31 اپریل کو اپنی حکومت بچانے کے لیے تقریباً 40 منٹ تک مکمل جذباتی ڈرامے کے ساتھ قوم سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ہٹانے کی سازش میں امریکہ ملوث ہے۔ عمران نے کہا کہ امریکہ ان کی خارجہ پالیسیوں سے ناراض ہے اس لیے ان کی حکومت گرانے کے لیے اپوزیشن رہنماؤں سے کام لیا جا رہا ہے۔
      اپنے خطاب کے دوران عمران نے ہندوستان پر الزامات بھی لگائے۔ ایک کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ نواز شریف نیپال میں وزیراعظم نریندر مودی سے خفیہ ملاقات کرتے تھے۔ عمران نے اپنی تقریر میں کشمیر کا راگ بھی اٹھایا۔

      5. نوجوانوں کو مظاہرے کے لئے اُکسایا
      عمران خان نے اپنے خطاب میں پورے ملک بالخصوص نوجوانوں سے کہا کہ وہ سڑکوں پر نکل کر اس سازش کے خلاف احتجاج کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے ملک سے غداری کی ہے، اس لیے پورا پاکستان سڑکوں پر نکل کر ان کے خلاف احتجاج کرے۔

      6. لیٹر بم کو اُچھالا
      عمران خان 27 مارچ کو اسلام آباد میں جلسے کے دوران اپنی جیب سے ایک خط دکھا رہے تھے۔ حالانکہ یہ نہیں بتایا کہ اس میں کیا لکھا ہے۔ عمران نے کہا کہ بہت جلد اس غیر ملکی سازش کو بے نقاب کریں گے۔ تاہم میں ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہتا جس سے ملک کو نقصان پہنچے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Imranکا امتحان: تحریک عدم اعتماد سے پہلے چھاونی میں تبدیل ہوا پارلیمنٹ کے آس پاس کا علاقہ

      7. اپوزیشن لیڈروں پر ملک سے غداری کا کیس درج کرنے کی دی دھمکی
      عمران کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے ایک دن قبل 2 اپریل تک اپوزیشن رہنماؤں کو دھمکیاں دیتے ہوئے دیکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کرنے والوں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ غداری کے مقدمے کے لیے وکلا سے مشورہ لے رہے ہیں۔

      عمران نے کہا کہ ان لوگوں نے ملک کے ساتھ جو غداری کی ہے اسے معاف نہیں کیا جا سکتا۔ ہم ایک ایک کے خلاف کارروائی کریں گے۔ قانون کو بھی دیکھنا ہے، وکلاء کے ساتھ مل کر رات کو فیصلہ کروں گا کہ ان کے خلاف کس قسم کی قانونی کارروائی کرنی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: