ہوم » نیوز » Explained

Explained: ہند۔ امریکہ تعلقات،دفاع، انسداد دہشت گردی اور نفاذ قانو ن سے متعلق تعاون

امریکہ اور بھارت نے باقاعدگی سے اعلیٰ سطح پر دہشت گردی کو موضوع بحث بنایا ہے جس کا اظہار وزیر اعظم نریندر مودی کی صدر اوباما اور صدر ڈونالڈ جے ٹرمپ سے ملاقاتوں کے بعد مشترکہ بیانات میں دہشت گردی کے خلاف سخت اعلانات سے ہوتا ہے۔

  • Share this:
Explained: ہند۔ امریکہ تعلقات،دفاع، انسداد دہشت گردی اور نفاذ قانو ن سے متعلق تعاون
امریکہ اور بھارت کے درمیان دفاع اور سلامتی سے متعلق تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔

دنیا کی دو سب سے بڑی جمہوریتیں، امریکہ اور بھارت کیوں کہ اپنے شہریوں کی حفاظت اورہند ۔ بحر الکاہل خطے میں سلامتی اور استحکام فراہم کرنے میں ذمہ داری کا اشتراک کرتی ہیں، لہٰذا انسانیت سے متعلق حصولیابیوں اور انسانیت کے تعاون کی طویل تاریخ کے حامل مایہ ناز ممالک کی حیثیت سے ہم لوگ بیرونی دبائو سے اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور کاروباری پیشہ ورممالک کی حیثیت سےاس بات سے واقف بھی ہیں کہ خوشحالی اور ترقی کے لیے تحفظ لازمی چیز ہے۔


ان مشترکہ اصولوں پر کام کرنے اور ہمارے شہریوں کے مستحکم تعاون سے امریکہ اور بھارت نے معلومات کے تبادلے، دفاعی منصوبہ بندی، مشق اور تبادلے، دفاعی شعبے کے صنعتی تعاون، انسداد دہشت گردی اور قانون نافذ کرنے والی سرگرمیوں کے ذریعے دفاعی اور سلامتی افواج کے درمیان باہمی تعاون میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔ اس امر کو انجام دینے میں ہمارے ممالک کی بعض انتہائی حساس معلومات اورٹیکنالوجی کے اشتراک کے ساتھ ساتھ مشترکہ کوششوں کے لیے خاطر خواہ اہلکار اور وسائل شامل رہے ہیں۔


اس کام کو انجام دینے کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور بھارت دونوں ملکوں کو ایک ہی قسم کے خطرات اور چیلنجوں کا سامنا ہے جن میں سرحدوں کو تبدیل کرنے اور اصولوں پر مبنی بین الاقوامی نظام کو متاثر کرنے کی یکطرفہ کوششوں سے لے کر علاقائی اور عالمی دہشت گردی کےنیٹ ورکس اور منشیات فروشوں سے لے کرانٹرنیٹ پر بدنیتی کے ساتھ فعال افراد تک شامل ہیں۔ ہم آج صرف اپنے ملکوں کو محفوظ رکھنےکے لیے ہی کوشاں نہیں ہیں بلکہ کل کے خطرات سے نمٹنے کی خاطر مستعد رہنے کے لیے بھی ہم اپنی دفاعی اور سلامتی افواج کے درمیان ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافے اور تعاون میں وسعت کے لیے کا م کررہے ہیں۔


مشترکہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے اپنے مشترکہ عزم اور صلاحیت کو تقویت بخشتے ہوئے ہم اپنے عوام اور دنیا کے سامنے اپنے ترقیاتی اہداف، اپنے جمہوری طرز زندگی اور اصولوں پر مبنی بین الاقوامی نظام کا دفاع کرنے کے اپنے ارادے واضح کررہے ہیں۔

اعلیٰ سطحی پالیسی رہنمائی اور مختلف معاہدوں سے امریکی اور بھارتی فوجی مشقوں اور مشترکہ تربیت کی تعداد، دائرہ کار اورغیر معمولی ذہنی میلان کی وسعت میں مدد ملی ہے۔
اعلیٰ سطحی پالیسی رہنمائی اور مختلف معاہدوں سے امریکی اور بھارتی فوجی مشقوں اور مشترکہ تربیت کی تعداد، دائرہ کار اورغیر معمولی ذہنی میلان کی وسعت میں مدد ملی ہے۔

دفاعی اور سلامتی تعاون کی تاریخ


امریکہ اور بھارت کے درمیان دفاع اور سلامتی سے متعلق تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔ کوریائی جنگ (1953۔1950) کے دوران حکومتِ ہند نے امریکہ کو اس تنازعہ میں چین کے شامل ہونے اور امریکی فوجیوں کو درپیش خطرات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ اس کے بعد جنوبی کوریا کے خلاف ہونے والی جارحیت کی مذمت کے لیے بھارت اور امریکہ نے اقوام متحدہ میں مل کرکام کیا۔ بعد میں بھارت نے اقوام متحدہ کی افواج کی حمایت کے لیے جزیرہ نما کوریا میں60 ویں پیراشوٹ فیلڈ ایمبولینس پلاٹون روانہ کی جس میں امریکی فوج بھی شامل تھی۔

اس کے بعد جب بھارت کی شمالی سرحد پر کشیدگی پیدا ہوئی تو صدر ڈوائٹ ڈی آئزن ہاورنے دسمبر1959ءمیں حکومت ہند اور عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے بھارت کا دورہ کیا۔ اکتوبر1962ءمیں جب چین کے ساتھ بھارت کا تنازعہ پیش آیا توبھارت کی مد دکے لیے امریکہ سامنے آیا اور بھارت کی فوجی مدد کی درخواست فی الفور تسلیم کی ۔ امریکہ نے اپنی فضائیہ کےسی130 طیاروں پر کپڑے، اسلحے اور گولہ بارود پہلے کولکاتہ بھیجا اور پھر اگلے محاذ وں کے لیے روانہ کیا۔

کشیدہ تعلقات کے ایک طویل دَور کے بعد ہماری دفاعی اور سلامتی شراکت داری دوبارہ شروع ہوئی اور پھر1990 ءاور2000 ءکی دہائی میں باقاعدہ فوجی مشقوں، نئے پالیسی معاہدوں اور انسداد دہشت گردی کے خلاف وسیع تعاون کی وجہ سے اس میں کافی وسعت آئی۔ 1992  ءمیں امریکی اور بھارتی بحریہ نے سمندری تحفظ اور تباہی سے نمٹنے کے عمل پر ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیےمالابارنامی سالانہ مشترکہ مشقیں شروع کیں۔ 1995 ءمیں ہماری حکومتوں نے دفاعی تعلقات سے متعلق متفقہ روداد کے ذریعہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے فوجی تعاون کوایک رسمی شکل عطا کی۔ پھر2005ءمیں جب امریکی وزیر دفاع ڈونالڈ رمسفیلڈ اور بھارت کے وزیر دفاع پرنب مکھرجی نے ہند۔ امریکی دفاعی تعلقات کے لیے نئے فریم ورک پر دستخط کیے تو اسے مزید وسعت ملی۔ 2004ءمیں ہماری فوجوں نے یُدھ ابھیاس مشق کا آغاز کیا اور ہماری فضائیہ نے کوپ انڈیامشق شروع کی ۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ امریکہ اور بھارت دونوں طویل عرصے سے دیگر ملکوں میں واقع تنظیموں سے وابستہ بین الاقوامی گروہوں کے حملوں سمیت بعض ملکوں سے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے حملوں کا شکار ہیں۔1990 ءاور 2000 ءکی دہائیوں میں کیوںکہ ہم میں سے ہر ایک کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا،لہٰذا ہم لوگوں نے دہشت گردی کے خلاف تعاون میں اپنی مشترکہ دلچسپی تسلیم کی اور اپنے عزائم اور مشترکہ کوششوں کو مستحکم کرنے کے لیے مل کر کام کرنا شروع کیا۔2000 ءمیں پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور معلومات کا اشتراک کرنے کے لیے ہم نے ہند۔امریکی انسداد دہشت گردی کا مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کیا۔ ہم نے جولائی2010 ءمیں انسداد دہشت گردی پہل کے ساتھ اس تعاون کو وسعت دی جس میں سمندری اور سرحدی سلامتی، تحقیقات و تبادلۂ خیال اور دہشت گردی کی مالی اعانت جیسے مسائل کا احاطہ کیا گیا ۔ اس کے ساتھ ہی اس میں قومی سلامتی گارڈجیسی انسداد دہشت گردی اکائیوں کے درمیان تعاون بھی شامل تھا۔ اسی سال ہم نے انسداد دہشت گردی کی سرگرمیوں اور نفاذ قانون میں تعاون کے لیے اعلیٰ سطح کی حمایت کو یقینی بنانے کے لیےکابینہ سطح کے ہند۔امریکی داخلہ سلامتی مذاکرات کے انعقاد کا اعلان کیا۔

نومبر2010 ءکے ممبئی کے اپنے دورے میں امریکی صدر بارک اوباما نے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہماری مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے نومبر2008ءمیں میکسیمم سٹی میں ہونے والے حملوں کو یاد کیاجن میں امریکی اور بھارتی شہریوں کو اپنی جان گنوانی پڑی تھی۔ صدر اوباما نے کہا: ہماری حکومتوں نے انٹلیجنس کے اشتراک ، مزید حملوں کی روک تھام اور یہ مطالبہ کر کے کہ قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہوکر کام کیا ہے۔

تعلقات کی حالیہ توسیع:بھارت بطور اہم دفاعی شراکت دار


گذشتہ کئی برسوں میں ہم لوگوں نے اپنے ملکوں کو بڑھتے ہوئے خطرات سے محفوظ رکھنے اور اپنی اپنی سرحدوں سے باہر بھی سلامتی فراہم کرنے کےلیے اپنے دفاعی اور سلامتی تعاون کو وسعت دی ہے۔ ہماری اس کوشش کو ہمارے رہنماؤں کی بھر پور حمایت حاصل رہی ہے اور ہمارے سرکاری بیانات اورعسکری دستاویزات میں اس کی واضح عکاسی ملتی ہے۔2015 ءکی امریکی قومی سلامتی حکمت عملی نے بھارت اور ہند۔امریکی تعلقات کو دی جانے والی بڑھتی اہمیت کو نمایاں کیا کیوں کہ اس سے تعلقات کو مستحکم کرنے اور علاقائی سلامتی فراہم کرنے میں بھارت کے بڑھتے ہوئے کردار کی حمایت کرنے کے امریکی ارادے کی تصدیق ہوتی ہے۔

2016ء میں امریکی کانگریس نے بھارت کو اہم دفاعی شراکت دارکے طور پر نامزد کرتے ہوئے اسے یہ خصوصی حیثیت حاصل کرنے والا واحد ملک بنایا۔ بھارت کی اس حیثیت نے حساس دفاعی ٹیکنالوجی تک رسائی میں اس کی مدد کی اور امریکی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں بھارت کے اہم کردار کو تقویت بخشی۔2017 ء میں قومی سلامتی سے متعلق حکمت عملی نے واضح طور پر ہمارے بڑھتے تعلقات کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئےاہم عالمی طاقت اور مضبوط عسکری اور دفاعی شراکت دار کی حیثیت سے بھارت کے ابھرنے کا خیرمقدم کیا۔2018ءمیں امریکی محکمۂ دفاع نے ہوائی میں مقیم اپنی علاقائی جنگجو کمان کا نام امریکی بحرالکاہل کمان سے تبدیل کر کے ہند۔امریکی بحرالکاہل کمان رکھا جس سے ہند۔بحر الکاہل خطے میں بھارت کے مرکزی کردار کی عکاسی ہوتی ہے۔

امریکہ اور بھارت نے باقاعدگی سے اعلیٰ سطح پر دہشت گردی کو موضوع بحث بنایا ہے
امریکہ اور بھارت نے باقاعدگی سے اعلیٰ سطح پر دہشت گردی کو موضوع بحث بنایا ہے


ستمبر2018ءمیں امریکی اور بھارتی دفاعی اور خارجہ پالیسی کے رہنماؤں کے درمیان کابینہ سطح کے اجلاس، دو جمع دو وزارتی مذاکرات کے قیام کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی اور سلامتی تعلقات ایک نئی سطح پر پہنچ گئے۔اس اہم اقدام سے علاقائی سلامتی کے لیےہمارے بڑھتے ہوئے قریبی دفاعی تعلقات اور نقطۂ نظرکی عکاسی ہوتی ہے۔اس کے علاوہ ہند۔ بحر الکاہل خطے میں امن و خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے دفاعی سرگرمیوں میں ہم آہنگی کے لیے بھی ہمارا مشترکہ عزم ظاہر ہوتا ہے۔ دو جمع دو وزارتی مذاکرات کی شروعات نے ہماری مشترکہ کوششوں میں ہم آہنگی اور توسیع کے لیے ایک فریم ورک بھی فراہم کیاہے۔ ہند۔بحر الکاہل خطے میں بھارت اور دیگر اہم شراکت داروں کے ساتھ ان تعلقات کے بعد امریکی محکمۂ دفاع نے اس خطے کے بارے میں‘‘ ہند۔بحرالکاہل عسکری رپورٹ: تیاری، شراکت داری اور نیٹ ورک میں شامل خطے کا فروغ’’کے عنوان سے اپنی پہلی رپورٹ جاری کی۔ اس رپورٹ میں خطے میں ہمارے مشترکہ مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے ہند۔امریکی شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔

پالیسی مشاورت اور مختلف ماحول میں کام کرنے کی صلاحیت میں اضافے سے متعلق معاہدوں سے سلامتی میں اضافہ


بڑھتی ہوئی ہند۔امریکی دفاعی مشاورت اور نئے سلامتی معاہدوں پر دستخط ہمارے عوام کو محفوظ رکھنے کے اہم اقدامات ہیں۔ان تمام چیزوں نے ہمیں آج کی دنیا میں بدلتے ہوئے خطرات کا جائزہ لینے، اپنی سرگرمیوں کی بہتر منصوبہ بندی کرنے،اپنے وسائل مختص کرنے اور اپنی باہمی استعداد میں اضافے کی سہولت فراہم کی ہے۔ امریکی وزیردفاع اور بھارتی وزیر دفاع کے ایک دوسرے کے ملک کے باقاعدہ دوروں سمیت دفاع سے متعلق ہمارے اعلیٰ شہری اور فوجی رہنماؤں نے ان کوششوں کو اس امر میں بروئے کار لایا ہے۔

اس طرح کے تبادلۂ خیال کے نتیجے میں 2002ءکا جنرل سکوریٹی آف ملٹری انفارمیشن ایگریمنٹ(جی ایس او ایم آئی اے)عمل میں آیا جو حساس فوجی معلومات کے تبادلے کو تحفظ فراہم کرنے والے چاربنیادی دفاعی معاہدوں میں سے پہلا معاہدہ تھا۔ اسی سال ہم نے فائر فائنڈر رڈار پلیٹ فارم کی خرید کے بھارت کے معاہدے کے ساتھ باہمی دفاعی فروخت کے عمل کو پھر سے شروع کیا۔ ہماری نجی کمپنیوں کو تکنیکی اعتبار سے ترقی یافتہ دفاعی نظاموں کو مل کر تیارکرنے اور پیداوار پر کام کرنے کااہل بنانے کے لیے ہم نے2019 ء  میں جی ایس او ایم آئی اے کے لیے ایک صنعتی سلامتی ضمیمہ پر دستخط کیے۔ اس سے نجی صنعت کے ساتھ حساس سرکاری معلومات کا اشتراک کرنے میں مدد ملی ۔اس سے ہماری سلامتی میں بہتری آئی اور ہماری معیشت کو وسعت ملی۔

اب جب کہ امریکہ اور بھارت کی افواج نے مل جل کرمزید تربیت حاصل کرنا اور کام کرنا شروع کیا تو یہ واضح ہوگیا کہ ہمیں ایندھن اور دیگر اشیاء کے تبادلے کے لیے ایک طریقۂ کار کی فوری ضرورت ہے۔ ساتھ ساتھ جوابدہی کو یقینی بنانا بھی لازمی ہے ۔ اس طرح 2016 ءمیں ہم نےرسد کے تبادلے سے متعلق معاہدے کے مفاہمت نامے(ایل ای ایم او اے) پر دستخط کیے۔ اس سے ہمیں سمندر میں طیاروں اور جہازوں کو ایندھن بھرنے جیسی سہولت سمیت اپنی باہمی استطاعت بڑھانے میں مدد ملی۔2017ءمیں ہم نے اپنے متعلقہ ہیلی کاپٹروں کو ایک دوسرے کے جہازوں سے پرواز بھرنے کا اہل بنانے کے لیےطیارہ بردار بحری جہازوں کے علاوہ دوسرے جہازوں سےکیے جا سکنے والے ہیلی کاپٹر آپریشن معاہدہ پر دستخط کیے۔ جب ہم لوگوں نے اپنی مشترکہ مشقوں اور کارروائیوں میں مزید اضافہ کیاتو ہماری اکائیوں کو حقیقی وقت میں ہیڈ کوارٹر سے اجازت لیے بغیر محفوظ رابطے کے لیے ایک نظام سمیت دیگر آلات کی ضرورت پیش آئی۔اس طرح ہم لوگوں نے2018 ءمیں مواصلات کی مطابقت اور سلامتی کے معاہدے(سی او ایم سی اے ایس اے)پر دستخط کیے جس سے مواصلات سے متعلق سلامتی نظاموں اور ضوابط کا اشتراک ممکن ہوپایا۔ اس کے علاوہ نئی دہلی میں اکتوبر2020 ءمیں ہوئے ہند۔ امریکہ دو جمع دو وزارتی اجلاس میں ہند۔امریکی دفاعی تعاون میں توسیع پرہی توجہ مرکوز رہی۔ اس اجلاس میں امریکہ اور بھارت نے ہماری مسلح افواج کے درمیان جغرافیائی معلومات کے زیادہ سے زیادہ اشتراک کے لیے بنیادی تبادلےاور تعاون کے معاہدے (بی ای سی اے) پر دستخط کیے۔

فوجی مشقوں کے ذریعہ ہماری سلامتی میں اضافہ


اعلیٰ سطحی پالیسی رہنمائی اور مختلف معاہدوں سے امریکی اور بھارتی فوجی مشقوں اور مشترکہ تربیت کی تعداد، دائرہ کار اورغیر معمولی ذہنی میلان کی وسعت میں مدد ملی ہے۔ ہماری بحریہ، فوج اور فضائیہ نے اس طرح کی سرگرمیوں کے ذریعہ مختلف حالات سے نمٹنے کی اپنی صلاحیت کو بہتر بنایا ہے۔ امریکی اور بھارتی بحریہ نے جاپانی بحریہ کی اپنی دفاع سے متعلق فوج کو شامل کرنے کے لیے 2007  ء میں بحر ہند اور بحرالکاہل کے درمیان منعقد ہونے والی مالابار مشق کو وسعت دی۔ اس مشق میں آسٹریلیا کو شامل کرنے کے لیے 2020ء  میں اس میں مزید توسیع کی گئی۔ بھارتی بحریہ، امریکہ اور دیگر ہند۔بحر الکاہل ممالک کے ساتھ کثیر ملکی رِم آف پیسفک ایکسرسائز یا(آر آئی ایم پی اے سی)میںباقاعدگی سے شرکت کرنے والی بحریہ بن چکی ہے۔

امریکی اور بھارتی افواج نے اپنی اہم فوجی مشق یُدھ ابھیاس میں توسیع کی ہےجو اقوام متحدہ کی امن برقرار رکھنے کی مساعی کے تناظر میں ہر برس مل جل کر مشق کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے۔ امریکی اور بھارتی فضائیہ نے اسی طرح بھارت میں منعقد ہونے والی دو سالہ مشق کوپ انڈیاکے ذریعہ اپنے تعاون کو مستحکم کیا ہے۔ بھارتی فضائیہ، امریکی فضائیہ کی اعلیٰ سطحی جنگی مشق ریڈ فلیگ۔الاسکا میں باقاعدگی کے ساتھ شرکت کرتی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی اور بھارتی خصوصی فوجی دستوں نے ترکش اور وجر پرہار نامی مشقوں کے ذریعہ بھی اپنے تعاون کو وسعت دی ہے۔ اس سے دہشت گردی کے خطرات کے خلاف مشترکہ کارروائی سمیت مخالف حالات میں کام کرنے کی ہماری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔


ہماری انفرادی خدمات کے تعاون کو فروغ دینے اور اپنی افواج کو حقیقی معنوں میں مخالف حالات سے مقابلہ کرنے میں تیار کرنے کے لیےہم لوگوں نے نومبر2019ءمیں آندھرا پردیش کے ساحل سے دور پہلی سہ فریقی مشق ٹائیگر ٹرائمف کا انعقاد کیا۔ اس سے ہماری فوج(بری ، بحری اور فضائیہ پر مشتمل فوج) کی پانی میں اترنے اور انسانی امداد فراہم کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔ توقع ہے کہ مستقبل میں مزید ایسی مشقیں کی جائیں گی۔


ان دفاعی معاہدوں اور فوجی مشقوں کے نتیجے میں ہماری افواج اب بحر ہند۔بحر الکاہل خطے کو آزاد اورکشادہ رکھنے کے لیے مؤثر انداز میں مل کرکام کر رہی ہیں۔ امریکی اور بھارتی بحری فوجیں بحر ہند میں کام کرنے کے تعلق سے ایک عمومی تفہیم کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل پانی کے اندر ذخیرہ کاری کا کام انجام دے رہی ہیں۔ اس کے علاوہ کام کے متعلق معلومات کا اشتراک کرتی ہیں اور زیر سمندر کام کرنے سے متعلق بیداری پر شراکت داری کرتی ہیں۔ دسمبر2018 ءمیں بھارتی بحریہ کایو ایچ ۔تھری ایچ ہیلی کاپٹر امریکی بحریہ کے سان انٹونیو درجے کے بری و بحری بار بردار جہاز، یو ایس ایس اینکریج پر اترا۔اس ہیلی کاپٹر نے جہاز سے دوسرے جہاز پر سواریوں کے تبادلے کے لیے اینکریج سے سفر بھی شروع کیا۔ بحری قزاقی سے نمٹنے کے لیے اکثر اس مشق کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی نہیں اینکریج نے بھارتی بحریہ کے میزائلوں سے حملہ کرکے دشمن کے جہاز کو تباہ کرنے کی صلاحیت سے لیس بحریہ کے جہاز آئی این ایس راجپوت کے ساتھ بھی سلامتی مشقوں میں شرکت کی۔

تبادلے، تربیت اور رابطہ افسران کے ذریعہ ہماری سلامتی میں اضافہ


ہم نے یہ یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ ہماری افواج ایک دوسرے سے واقف ہوں اور انسانی سطح پر مخالف ماحول سے نمٹنےکی بھی اہل ہوں۔ لہٰذا تبادلہ پروگراموں، مشترکہ تربیت اور رابطہ افسران کی تقرری کے ذریعہ ہم نے اس کام کو انجام دیا ہے ۔ کئی برسوں سے بھارت نے نئی دہلی میں اپنے نیشنل ڈیفنس کالج اور تمل ناڈو کے ویلنگٹن میں اپنے ڈیفنس سروسیز اسٹاف کالج میں امریکی فوجی طلبہ کی میزبانی کی ہے۔ امریکہ ہر سال بین الاقوامی فوجی تعلیم اور تربیتی پروگرام کے تحت اپنے اعلیٰ فوجی تعلیمی اداروں میں نو بھارتی افسروں کی میزبانی کرتا ہے۔2010ءسے اب تک 700سے زیادہ بھارتی فوجی طلبہ نے امریکہ میں تربیت حاصل کی ہے۔

فوجی طلبہ اور افسران کے لیے تعلیمی تبادلے کے علاوہ ہم لوگوں نے ایک دوسرے کی فوجی سہولیات پر رابطہ افسران کی تقرری پر غور وخوض کرنا شروع کیا ہے۔ اس طرح کی تقرریاں ایک دوسرے کی مہارت کی باہمی ستائش اوراعلیٰ حد تک اعتماد کا ثبوت پیش کرتی ہیں ۔ واضح رہے کہ امریکہ نے صرف اپنے قریبی اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ ہی ان تقرریوں کے تعلق سے غور وفکر کیا ہے۔2020ءمیں امریکہ نے پہلی بارہریانہ کے گروگرام میں ایک بھارتی فوجی مرکز، نو تشکیل شدہ انفارمیشن فیوژن سینٹر۔انڈین اوشن ریجن میں امریکی بحریہ کے ایک افسر کی تقرری کی ہے ۔ اسی طرح بھارت نے پہلی بار بحرین کے مناما میں ایک امریکی کمان، یو ایس نیول فورسیزسینٹرل کمانڈ پراپنے ایک افسر کو تعینات کیا ہے۔

دفاعی ٹیکنالوجی اور صنعتی تعاون کے ذریعہ معیشتوں کو مضبوط بنانا


حالیہ برسوں میں امریکہ اور بھارت نے دفاعی صنعتی تعاون کو نمایاں طور پر وسعت دی ہے جس سے یہ یقینی بنانے میں مدد ملی ہے کہ ہمارے ممالک کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمارے پاس مناسب ساز وسامان اور پلیٹ فارم موجود ہیں۔ لہٰذا امریکی حکومت اور دفاعی صنعت نے بھارت کے ساتھ مشترکہ تحقیق، پیداوار اور دفاعی فروخت میں اضافہ کیا ہے۔ ہند۔بحر الکاہل خطے میں بھارت کی دفاعی صلاحیتوں اور سلامتی کے کردار کو مستحکم کرنے کے اپنے عزم کی عکاسی کرتے ہوئے ہم نے دفاعی ٹیکنالوجی اور معلومات کے اشتراک میں اضافہ کیا ہے۔ امریکہ اور دیگر مغربی شراکت داروں سے آنے والے دفاعی سازوسامان کے بڑھتے ہوئے استعمال سے نہ صرف بھارت کی فوج مضبوط ہوئی ہے بلکہ مشترکہ طور پر بات چیت کرنے اور اس پر کام کرنے کی ہماری صلاحیت میں بھی بہتری آئی ہے۔

بھارتی فضائیہ اب 11 سی ۔1  سترہ گلوب ماسٹر طیارے کا استعمال کررہی ہے جو امریکہ سے باہر اب تک کا سب سے بڑا بیڑا ہے۔ یہ بڑے طیارے بھارت کو متعدد فوجی اور انسانی ہمدردی کی مہمات کے لیے عملے اور سامان کو بحفاظت لانے اور لے جانے کا اہل بناتے ہیں۔ اپریل2015ءمیں بھارتی فضائیہ نے یمن میں شہری بدامنی سے راہ فرار اختیار کرنے والوں کو باہر نکالنے کے لیے تین سی۔سترہ طیاروں کا استعمال کیا تھا۔ یہ طیارے آپریشن راحت کا حصہ تھے جو اس خطے میں بھارت کے قائدانہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت کا ایک متاثر کن مظاہرہ تھا کیوں کہ بھارتی طیاروں اور بحری جہازوں نے 4600  سے زیادہ بھارتی شہریوں اور ایک ہزار غیر ملکی شہریوں کو یمن کی بد امنی سے بچایا تھا۔

اسی طرح بھارتی بحریہ آبدوز مخالف جنگ،خشکی پر لڑی جانے والی جنگ اور جہاز رانی پر بندش لگانے میں مہارت رکھنے والے پی 8 پیزائڈن طیارے بھی اڑاتی ہے۔امریکہ کے بعد بھارتی بحریہ ہی اس طیارے کی سب سے بڑی آپریٹر ہے۔ آسٹریلیا، جنوبی کوریا، اور نیوزی لینڈجیسے دیگر ہند ۔بحر الکاہل ممالک بھی پی ۔ آٹھ طیارے کا استعمال کرتے ہیں یا استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ پورے خطے میں زیادہ سے زیادہ بحری ہم آہنگی کو یقینی بنایا جاسکے۔بھارتی فوج نے حالیہ برسوں میں امریکہ میں تیار بہت سارے دیگر امریکی پلیٹ فارموں کو شامل کیا ہے جن میں سی 130 جےسُپرہرکیولس مال بردار طیارے، اے ایچ ۶۴ ای اپاچے اور حملہ کرنے اور نقل و حمل میں مہارت رکھنے والے سی ایچ ۔47 چینوک ہیلی کاپٹر اورایم 777  الٹرا لائٹ ویٹ ہووٹزر توپ خانے کی بندوقیں بھی شامل ہیں۔

توسیع شدہ صنعتی تعاون کی وجہ سے امریکی دفاعی کمپنیوں کو عالمی سطح پر سازوسامان فراہم کرنے والوں کی خاطر سامان تیار کرنے کے لیے بھارتی کاروباری اداروں کے ساتھ شراکت کا موقع ملا ہے ۔ بوئنگ، لاک ہیڈ مارٹن، بی اے ای سسٹمز انکارپوریشن، ریتھیان ٹیکنالوجیز، جنرل الیکٹرک اور ایل تھری ہیرس سمیت کئی بڑی امریکی دفاعی فرموں نے بھارت میں اپنی موجودگی درج کرائی ہے ۔ ان کے کام میں تحقیقی سہولیات اور بڑے پیمانے پر مصنوعات سازی شامل ہیں جبکہ ان کے شراکت دار چھوٹے، درمیانے اور بڑے سائز کی بھارتی فرمیں ہیں۔ بھارت اب جلد ہی امریکہ کے باہر بوئنگ کا سب سے زیادہ استعمال کرنے والا ملک بن جائے گا۔اس سلسلے میں   بینگالورومیں ایک کیمپس بھی شامل ہوچکا ہے جو سیکڑوں بھارتی انجینئروں کو ملازمت فراہم کرے گا۔ بوئنگ اور لاک ہیڈ مارٹن دونوں کے حیدرآباد میں اسمبلی پلانٹ ہیں – اپاچے ہیلی کاپٹر فیوز لیجیز کے لیے بوئنگ اورسی ۔130  اِمپینیجیز اورایف ۔16 وِنگس کے لیے لاک ہیڈ مارٹن پلانٹ کا انتظام ہے۔


دفاعی شراکت داری کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اعتمادسازی کو نمایاں کرتے ہوئے امریکہ نے بھارت کو برآمدات میں رعایت دی ہے جس میں 2018 ء میں بھارت کو اسٹریٹجک ٹریڈ اتھارائزیشن، ٹیئر۔ایک(ایس ٹی اے ون) کا درجہ دینا بھی شامل ہے۔ اس خصوصی درجے نے بھارت کو دنیا کی جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی تک مزید رسائی کی سہولت فراہم کی ہے۔ بھارت میں جدید امریکی ٹیکنالوجی کا استعمال کافی تیز رفتار سے ہورہا ہے جس سے بھارت کی مسلح افواج، سائنسی برادری اور نجی صنعت کو تقویت ملی ہے۔

امریکہ نے چار کثیرالجہتی برآمدات کنٹرول اداروں میں بھارت کی رکنیت کی حمایت کے لیے دیگر ملکوں کو ترغیب دینے کی خاطر اہم سفارتی کوششیں کی ہیں۔ بھارت نے دسمبر2016ءمیں میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجیم، دسمبر 2017ءمیں واسینار ارینجمینٹ (اشیاء اور ٹیکنالوجی کے دوہرے استعمال کے لیے) اور جنوری2018  ء میں آسٹریلیا گروپ (کیمیائی اور حیاتیاتی اسلحوں  کے لیے) سمیت تین اہم گروپوں میں رکنیت حاصل کی ہے اور اب بھی نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ان تمام پیش رفت کی روشنی میں بھارت کو اب دنیا کی بیش تر جدید ترین ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہے اوریہ عالمی طور پر مہلک اسلحہ کے عدم پھیلاؤ پر قابوپانے کے عمل کا خاکہ بنانے اور ان کو نافذ کرنے میں مدد کرنے کی صلاحیت کا اہل بن چکاہے۔


دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گہرا تعاون


امریکہ اور بھارت کی بڑھتی ہوئی شراکت داری نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تعاون میں اضافہ کرکے ہمارے ملک اور ہمارے خطے کی سلامتی کو مستحکم کیا ہے۔ مسلسل حملوں کا سامنا کرتے ہوئے ہم ایک ساتھ کھڑے ہیں اور متنوع اور روادار جمہوری ممالک کی حیثیت سے عروج پانے کی اپنی قوت کا مظاہر ہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم لوگوں نے ماضی کے حملوں میں حصول انصاف اور آئندہ ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی روک تھام کے لیے مشترکہ کوششوں کو ترجیح دی ہے۔

امریکہ اور بھارت نے باقاعدگی سے اعلیٰ سطح پر دہشت گردی کو موضوع بحث بنایا ہے جس کا اظہار وزیر اعظم نریندر مودی کی صدر اوباما اور صدر ڈونالڈ جے ٹرمپ سے ملاقاتوں کے بعد مشترکہ بیانات میں دہشت گردی کے خلاف سخت اعلانات سے ہوتا ہے۔ ہم لوگوں نے معلومات کے اشتراک میں توسیع کی ہے، تجزیاتی کام کا موازنہ کیا ہے اور علاقائی اور عالمی دہشت گردی کے خطرات کے خلاف مربوط کارروائی کی ہے۔ دیگر سرکاری اداروں کے تعاون سے امریکی محکمۂ خارجہ اور بھارتی وزارت خارجہ کی سربراہی میں امریکہ۔ ہند دہشت گرد مخالف مشترکہ ورکنگ گروپ سنہ 2000ء  سے لے کر اب تک 17بار سے زیادہ ملاقاتیں کر چکا ہے۔ ہم نے انفرادی دہشت گردوں اور گروپوں کو نامزد کرنے کی خاطر اپنے طریقۂ کار کو ہم آہنگ کرنے کے لیے دسمبر2017 ء میں یو ایس۔ انڈیا ڈیزگنیشنس ڈائیلاگ قائم کیا۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے بھوپال میں واقع بھارت کی سینٹرل اکیڈمی فار پولیس ٹریننگ، غازی آباد میں سینٹرل ڈٹیکِٹو ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اور حیدرآباد میں سردار ولبھ بھائی پٹیل نیشنل پولیس اکیڈمی میں انسداد دہشت گردی کی تربیت کو مستحکم کرنے کے لیے بھارتی وزارت داخلہ کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔ محکمۂ خارجہ نے انسداد دہشت گردی امداد پروگرام کے ذریعہ بھی مدد پہنچائی ہے جس میں ایک ہزار سے زائد بھارتی اہلکاروں کے لیے آلات اور تربیت بھی شامل ہیں۔ ہم خیال شراکت داروں کے درمیان دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی تعاون میں اضافے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے نومبر2019ء میں کواڈ کاونٹر ٹیررازم ٹیبل ٹاپ ایکسرسائزکی میزبانی کے ذریعہ بھارت نے ہماری باہمی تربیتی کوششوں کی وسعت میں مدد فراہم کی ہے۔

ایف بی آئی نے 26 نومبر کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے متاثرین کو انصاف دلانے کے لیےبھارتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھا ہے۔ نومبر2018ءمیں ایف بی آئی اور امریکی محکمۂ خارجہ نے ممبئی حملوں کے مبینہ اہم سازشی ساجد میر کے تعلق سے معلومات حاصل کرنے کے لیے 5 ملین ڈالر کا انعام برائے انصاف پروگرام قائم کیا تاکہ اسے گرفتار کر کےسز ا دی جائے ۔ حالیہ برسوں میں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے اپنے بھارتی ہم منصبوں سے باقاعدگی سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ایف بی آئی نے بھارتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر بھارت میں15 سے زیادہ تربیتی کورسیز کی پیش کش کی ہے جس میں دھماکے کے بعد اور دہشت گردی کی اعانت سے متعلق تحقیقات، بحران سے نمٹنے کا عمل اور سائبر تحقیقات جیسے موضوعات پر بہترین طریقوں کا تبادلہ شامل ہے۔

منشیات اور سائبر کرائم کے خطرات کا مقابلہ


امریکہ اور بھارت نے مختلف قسم کی مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون میں اضافہ کیا ہے جس میں غیر قانونی منشیات اور بدنیتی پر مبنی سائبر سرگرمی شامل ہے۔ ان کوششوں کو حکومت کی اعلیٰ قیادت کی حمایت حاصل ہے۔ فروری2020ءمیں صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم مودی نے غیر قانونی منشیات سے نمٹنے کی خاطر ہمارے دیرینہ تعاون کو مزید بہتر بنانے کے لیے دونوں ملکوں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین کائونٹر نارکوٹکس ورکنگ گروپ قائم کرنے کا اعلان کیا۔

دونوں ملکوں کے درمیان قریبی شراکت داری نے قانون نافذ کرنے والے ہمارے اداروں کے مابین پالیسی مباحثے اور تربیت سازی کو وسعت بخشی ہے ۔ مثال کے طور پر، یو ایس ڈرگ انفورسمینٹ ایجنسی (ڈی ای اے) نے فینٹانِل جیسی مصنوعی دواکی تجارت سے نمٹنے کے لیے بھارت کے نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کے ساتھ بہترین طریقوں کا تبادلہ کیا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ کے بین الاقوامی منشیات اورنفاذ قانون سے متعلق امور کے بیورو ( بیورو آف انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لا انفورسمینٹ افیئرس) نے اپنے بھارتی ہم منصبوں اور دیگر جنوب ایشیائی ممالک کے عہدیداروں کے ساتھ کئی برسوں پر مشتمل تربیتی پروگراموں کی حمایت کی ہے۔

ہمارے دوطرفہ تعاون نے غیر قانونی منشیات کے خلاف کافی ٹھوس کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ڈی ای اے نے بھارت کے ڈائریکٹریٹ آف ریونیو انٹلیجنس (ڈی آر آئی) اور این سی بی کے ساتھ مل کر دنیا بھر کے متعدد ممالک سے عالمی سطح پر اوپی اوائیڈ بحران کے عوامل میں سے ایک ٹریماڈول کی اربوں غیر قانونی خوراک کو ضبط کرنے کا کام کیا ہے ۔ اس کے بعد ڈی ای اے، ڈی آرآئی اور این سی بی نے کامیابی کے ساتھ 2018ء میں ٹریماڈول پر کنٹرول کے لیےضابطہ کاروں کے ساتھ مل کر کام کیا جس کی وجہ سے منشیات کے استعمال میں بہت حد تک کمی واقع ہوئی۔ ڈی ای اے اور قانون نافذ کرنے والے دیگر امریکی شراکت داروں نے این سی بی اور بھارتی بحریہ کے انفارمیشن فیوژن سینٹر ۔ انڈین اوشن ریجن سمیت بھارتی حکام کے ساتھ کامیاب کاروائیوں کو انجام دیا جس میں ہیروئن اور دیگر غیر قانونی منشیات کی براہ سمندر غیر قانونی تجارت کو نشانہ بنانا شامل ہیں۔ امریکہ، کناڈا، آسٹریلیا اور جنوبی امریکہ کے دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والی منشیات کی اسمگلنگ کرنے والی تنظیم کی تحقیقات کے لیے ڈی ای اے اور این سی بی نے  2019 ءمیں مشترکہ آپریشن کی قیادت کی۔تحقیقات کے نتیجے میں 200 کیلو گرام میتھامفیٹامائن اور 70کیلو گرام کوکین ضبط کی گئیں۔

سائبر کرائم، خواہ وہ غیر ملکی حکومتوں یا مجرموں کے ذریعہ انجام دیے گئے ہوں، امریکہ، بھارت اور دنیا کے لیے ایک اور بڑھتا ہوا خطرہ ہیں۔ امریکہ اور بھارت نے صارف کے ذاتی ڈیٹا، صنعتی ڈیزائن، اہم بنیادی ڈھانچوں اور جدید معاشروں کے لیے ضروری دیگر نظاموں کی حفاظت کے لیے مل کر کام کیا ہے۔ اس تعاون کی وسعت روزانہ کی معلومات کے اشتراک سے لے کر منصوبہ بند مذاکرات میں پالیسی مفاہمت تک ہے۔

ہند۔امریکہ سائبر ڈائیلاگ کے ذریعہ امریکہ اور بھارت نے کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (سی ای آر ٹی) کے تعاون کو مستحکم کیا ہے اور مَیل ویئر فارینسِکس، اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ اور گمراہ کن اطلاعات کا مقابلہ کرنے کے بہترین طریقوں کا تبادلہ کیا ہے۔۲۰۲۰ ء میں ہند۔امریکہ سائبر ڈائیلاگ کے افتتاحی اجلاس کے دوران امریکہ اور بھارت نے بہترین طریقوں کے تبادلے کے لیےورکنگ گروپ بنائے اور سائبر صلاحیت سازی میں اضافے کی راہیں تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔

مستقبل پر نگاہیں


تاریخ پر نظر ڈالیں تو کئی برسوں پر مبنی دفاع اور سلامتی کے امور پر ہماری حالیہ پیش رفت نے ہمارے شہریوں اور ہند۔ بحر الکاہل خطے کی حفاظت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تعاون کی خصلت، ذاتی تعلقات، مہارت اور ہمارے تیارکردہ سازوسامان نے ہمیں مستقبل کے خطرات اور چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تیار کر دیا ہے۔ ہند۔ بحر الکاہل خطے میں اور اصل میں َپوری دنیا میں معروف جمہوریتوں کی حیثیت سے ہم یہ یقینی بنانے کے لیے تیار ہیں کہ ہمارے عوام اور دیگر ممالک کے عوام کو اصولوں پر مبنی بین الاقوامی نظام میں ترقی کرنے کا موقع مل سکے۔

بھارت کی بری ، بحری اور فضائی افوج نے امریکی فوج ، بحریہ اور فضائیہ کے ساتھ 2019ء میں ہماری پہلی تینوں افواج پر مبنی فوجی مشق میں شرکت کی۔ ٹائیگر ٹرائمف نامی یہ مشق امریکی اور بھارتی افواج کے مابین جاری شراکت داری کا ایک حصہ ہے اور ہند۔ بحر الکاہل خطے کو محفوظ بنانے کا ایک کلیدی جزو بھی ہے۔بھارت میں امریکی سفیر کینتھ آئی جسٹر نے2020ء میں نومبر13 سے 21کی مشق کے افتتاح کے موقع پر کہا ‘‘

ہند۔ بحرالکاہل خطے میں بحری گزرگاہ کی حفاظت کو یقینی بنانے اور سمندری تحفظ کو بہتر بنانے میں ہند۔امریکی شراکت داری نہایت اہم ہے۔’’انہوں نے مزیدکہا  ‘‘امریکہ اور بھارت کی دفاعی شراکت داری بہت مضبوط ہے اور یہ روز بروز مضبوط تر ہوتی جارہی ہے۔’’ ٹائیگر ٹرائمف نے انسانی امداد اور تباہی سے نمٹنے پر توجہ مرکوز کی ہے جس میں خشکی اور پانی پر انجام دیےجانے والے آپریشن بھی شامل ہیں۔ اپنے نام کے اعتبار سے ٹرائمف کا مطلب ٹرائی سروسیز انڈیا ۔یو ایس اَیمفیبیس اکسر سائز ہے۔

امریکی وزیرخارجہ مائیکل آر پومپیو نے اکتوبر2020ءمیں تیسرے ہند۔امریکی دو جمع دو وزارتی مذاکرات میں پریس کانفرنس کے دوران کہاتھا‘‘ امریکہ بھارت کے عوام کے ساتھ کھڑا رہے گاکیوں کہ انہیں اپنی خود مختاری اور اپنی آزادی کو درپیش خطرات کا سامنا ہے۔’’ انہوں نے مزید کہا‘‘امریکہ اوربھارت ہر طرح کے خطرات کے خلاف اپنےتعاون کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔’’

مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا


بھارت جنوبی ایشیا میں قانون نافذ کرنے والوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار رہا ہے۔ایف بی آئی کا نئی دہلی میں واقع لیگل اتاشی آفس دہشت گردی، سائبر کرائم، بین الاقوامی منظم جرائم اور بچوں کے جنسی استحصال کی روک تھام سمیت بہت سے معاملات پر بھارتی سلامتی ایجنسیوں کے ساتھ قریبی تعاون کرتا ہے۔ایف بی آئی کی بھارتی ہم منصبوں کے ساتھ قریبی شراکت داری کے نتیجے میں تفتیشی تبادلے اور صلاحیت سازی کے پروگراموں کے ذریعے مجرمانہ سرگرمی اور دہشت گردانہ حملوں میں خلل پڑا ہے۔

ایف بی آئی اور بھارتی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مل کر پورے بھارت میں مختلف جعلی کال سینٹرز کے ذریعہ جاری مجرمانہ سرگرمی کو روکنے کے لیے کام کیا ہے۔ جعلی کال سینٹرز معمر امریکیوں کو نشانہ بناتے ہیں جس کے نتیجے میں سیکڑوں ملین ڈالرکی مالیت کا نقصان ہوتا ہے۔ مجرم امریکی یا بھارتی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے بھیس میں فریب دہی کے لیے تکنیکی ذرائع کا استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر نومبر2018ءمیں بھارتی وفاقی اور ریاستی قانون نافذ کرنے والے عہدیداروں نے ایف بی آئی کے ساتھ مشترکہ طور پر کام کرتے ہوئے ہریانہ کے گروگرام اور اتر پردیش کے نوئیڈا میں16 سے زیادہ جعلی کال سینٹرز پربیک وقت گرفتاریاں اور تلاشیاں کیں۔ایف بی آئی اور بھارت کے قانون نافذ کرنے والے شراکت دار کسی بھی ایسی مجرمانہ سرگرمی کو روکنے کے لیے پرعزم ہیں جو امریکہ اور بھارت کو متاثر کرتی ہیں۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Mar 04, 2021 08:03 PM IST