உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained: کیا عقائد کے اعتبار سے ہندوستان اور افغانستان کے مسلمانوں میں کوئی بڑا فرق ہے؟

    Explained: کیا فرقہ / مسلک کے مطابق ہندوستان اور افغانستان کے مسلمانوں میں کوئی بڑا فرق ہے؟

    Explained: کیا فرقہ / مسلک کے مطابق ہندوستان اور افغانستان کے مسلمانوں میں کوئی بڑا فرق ہے؟

    یہ سوال اٹھتا ہے کہ ہندوستان میں جو مسلمان ہیں اور افغانستان میں جو مسلمان ہیں، ان میں عقائد کی بنیاد پر کیا کوئی بڑا فرق ہے یا دونوں ممالک کے مسلمان ایک ہی عقائد سے تعلق رکھتے ہیں؟

    • Share this:
      بیس سالوں بعد ایک بار پھر طالبان نے افغانستان پر قبضہ کرلیا ہے اور چند دنوں میں ان کی حکومت کا آنا طے مانا جا رہا ہے۔ امریکہ اور افغانستان کے سیکورٹی اہلکاروں نے طالبان کے جنگجووں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔ طالبان کی بربریت دیکھ چکے افغانستان کے لوگ خود کو غیر محفوط محسوس کر رہے ہیں۔ اس درمیان ہم آپ کو بتانے جا رہے ہیں کہ کیا فرقے اور مسلک کے لحاظ سے ہندوستان اور افغانستان کے مسلمانوں میں بڑا فرق ہے۔

      شیعہ - سنی کے اندر بھی کئی فرقے

      عقائد کے مطابق، مسلمان نہ صرف شیعہ اور سنی جیسے دو بڑے گروپوں میں منقسم ہیں، بلکہ ان شیعہ اور سنی کے اندر بھی دیگر طبقے اور مسلک ہیں۔ سنیوں میں ایک اہم گروہ سلفی یا اہلحدیث ہیں۔ ان عقائد اور پنتھوں کے درمیان بھی کئی ذیلی فرقے اور مسلک ہیں۔ ایک موٹے طور پر تین چیزیں ہیں، جن پر دنیا کے سبھی مسلمانوں کا ایک موقف ہے۔

      پہلا- ایک اللہ (یعنی سب کا مالک ایک ہے، صرف ایک خدا ہے اور کوئی نہیں)

      دوسرا- ایک قرآن (اللہ کی کتاب ہے)

      تیسرا: پیغمر محمدﷺ (اللہ کے آخری رسول ہیں، ان کے بعد نہ کوئی پیغمبر آیا ہے اور نہ آئے گا)

      اس کے علاوہ سبھی موضوعات پر مختلف نظریے ہیں اور یہ نظریہ تقسیم کی لکیر بناتی ہے۔

      اسلام میں شیعہ-سنی اہم فرقے

      سنی میں اسلامک قانون کے لحاظ سے چار فرقے ہیں۔ حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی۔ اس میں بھی کئی سلسلے ہیں اور اس کے ساتھ ہی سنیوں میں کئی چھوٹے چھوٹے فرقے ہیں۔ حنفی میں بھی دیوبندی اور بریلوی فرقے ہیں۔ اس طرح شیعہ مسلمان بھی منقسم ہیں۔ شیعہ میں اثنا عشری، زیدیہ اور اسماعیلی شیعہ اہم ہیں۔ شیعہ میں اثنا عشری، زیدیہ اور اسماعیلی شیعہ اہم ہیں۔ اس کے علاوہ ہزارا، کھوجہ اور نصیری جیسے بھی فرقے ہیں۔

      ہندوستان میں مسلمان

      ایسے میں ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ہندوستان میں جو مسلمان ہیں اور افغانستان میں جو مسلمان ہیں، ان میں عقائد کی بنیاد پر کوئی بڑا فرق ہے یا دونوں ممالک کے مسلمان ایک ہی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں؟ جانکاری کے لئے بتا دیں کہ ہندوستان میں شیعہ اور سنی دونوں مسلمان ہیں۔ مسلمانوں میں سنیوں کی تعداد 80 سے 90 فیصد ہے۔ ہندوستان میں ان سنی مسلک میں فقہ کے لحاظ سے دو بڑے فرقے ہیں۔ حنفی اور سلفی (اہلحدیث)۔ ہندوستان میں سلفی مسلک کے ماننے والوں کو اہلحدیث یا وہابی بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں وہابی مسلک کے ماننے والوں کی تعداد کم ہے۔

      طالبان بھی افغانستان کے اکثریتی فرقہ حنفی مسلمانوں کا ہی ایک گروہ ہے۔ طالبان کو شدت پسند مسلمان قرار دیا جاتا ہے۔
      طالبان بھی افغانستان کے اکثریتی فرقہ حنفی مسلمانوں کا ہی ایک گروہ ہے۔ طالبان کو شدت پسند مسلمان قرار دیا جاتا ہے۔


      حنفی مسلمانوں میں دو مسلک کے مسلمان ہیں۔ جو دیوبندی اور بریلوی کہلاتے ہیں۔ انہیں حنفی مسلمانوں میں صوفی سلسلے کے بھی مسلمان ہندوستان میں آباد ہیں۔ ہندوستان میں صوفی کے چار بڑے سلسلے ہیں۔

      قادریہ

      چشتیہ

      سہروردی

      نقشبندی

      شیعہ میں سب سے زیادہ اثنا عشری کی تعداد

      شیعہ میں سب سے زیادہ اثنا عشری مسلمانوں کی ہے۔ ان کے علاوہ اسماعیلی شیعہ بھی ہیں۔ بوہرہ اور زیدیہ بھی ہیں۔

      افغانستان کے مسلمان

      خاص بات یہ ہے کہ ہندوستان کی طرح ہی افغانستان میں سنی مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ تقریباً 90 فیصد آبادی سنی فرقے کی ہے۔ ان سنی مسلمانوں میں سب سے بڑی تعداد حنفی مسلمانوں کی ہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صوفی اسلام کا بھی افغانستان میں زبردست اثر ہے، جو سلسلے ہندوستان میں پھل پھول رہے ہیں، انہیں سلسلوں کا افغانستان میں بول بالا ہے۔ اسی طرح شیعوں میں اثنا عشری اور اسماعیلی مسلمان ہیں۔ بہت معمولی آبادی ہزارا شیعہ مسلمانوں کی بھی ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہوا کہ اسلامی قانون یعنی فرقہ یا عقائد کے لحاظ سے ہندوستان اور افغانستان کے مسلمانوں میں کوئی بڑا فرق نہیں ہے۔ طالبان بھی افغانستان کے اکثریتی فرقہ حنفی مسلمانوں کا ہی ایک گروہ ہے۔ طالبان کو شدت پسند مسلمان قرار دیا جاتا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: