ہوم » نیوز » Explained

کشمیر وادی میں رات کے درجہ حرارت میں ریکارڈ توڑ اضافہ ، لوگ حیران، ماہرین نے کہی یہ بات

Jammu and Kashmir News : سرینگر میں 26 اور 27 جولائی کی درمیانی شب کو رات کا درجہ حرارت 24.6 ڈگری سلسیس ریکارڈ کیا گیا ، جو معمول کے درجہ حرارت سے 5.9 ڈگری سلسیس زیادہ ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق اسے قبل 21 جولائی 1988 کو رات کا درجہ حرارت 25.2 ڈگری سلسیس ریکارڈ کیا گیا تھا ۔

  • Share this:
کشمیر وادی میں رات کے درجہ حرارت میں ریکارڈ توڑ اضافہ ، لوگ حیران، ماہرین نے کہی یہ بات
کشمیر وادی میں رات کے درجہ حرارت میں ریکارڈ توڑ اضافہ ، لوگ حیران، ماہرین نے کہی یہ بات

جموں و کشمیر : جموں و کشمیر میں گزشتہ کئی روز سے غیر معمولی موسمی حالات بنے ہوئے ہیں ۔ وادی کشمیر میں رات کے درجہ حرارت میں ریکارڈ توڑ اضافہ درج کیا گیا ہے ۔ 26 اور 27 جولائی کی درمیانی شب کو سرینگر میں رات کا درجہ حرارت 24.6 ڈگری سلسیس ریکارڈ کیا گیا ، جو معمول کے درجہ حرارت سے 5.9 ڈگری سلسیس زیادہ ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق اسے قبل 21 جولائی 1988 کو رات کا درجہ حرارت 25.2 ڈگری سلسیس ریکارڈ کیا گیا تھا ۔ جبکہ 9 جولائی 2006 کو رات کا درجہ حرارت 24.4 ڈگری سلسیس ریکارڈ کیا گیا تھا ۔ یوں کل رات 15 برس کے وقفہ کے بعد سرینگر میں گرم ترین رات رہی ۔


محکمہ موسمیات سرینگر سینٹر کے ڈائریکٹر سونم لوٹس کا کہنا ہے کہ سرینگر میں گزشتہ چند روز سے بارش نہ ہونے کے سبب رات کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے۔ نیوز 18 اُردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے سونم لوٹس نے کہا چونکہ ماضی میں بھی رات کے درجہ حرارت میں اضافہ درج کیا جا چکا ہے ، لہذا اسے کسی بڑی موسمی تبدیلی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا ۔


رات کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے وادی کے عوام اور کشمیر میں موجود سیاح پریشان تو نہیں ہیں ، لیکن حیران ضرور ہیں ۔ سرینگر کے باشندے ظہور احمد نے کہا کہ انہوں نے 25 برس کی اپنی عمر میں اتنی گرم ترین رات محسوس نہیں کی ہے ۔ نیوز 18 اُردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں ایسا لگ رہا ہے کہ اگر ایسے ہی موسمی حالات رہے ، تو عین ممکن ہے کہ کشمیری عوام کو بھی آئندہ برسوں کے دوران ایئرکنڈیشنڈ کا استعمال کرنا پڑے گا ۔ ایک اور عام شہری عبدالغفار نے نیوز 18 کو بتایا کہ وادی میں جنگلات کی بے دریخ کٹائی اس صورتحال کا مؤجب ہے ۔


وہیں وادی کی سیر پر آئی دہلی کی باشندہ پرینکا شرما نے کہا کہ وہ جولائی کے مہینے میں پہلے بھی کئی مرتبہ کشمیر آ چکی ہیں ۔ تاہم گزشتہ رات انہیں پہلی بار شدید گرمی کا احساس ہوا۔ نیوز 18 اُردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے پرینکا نے کہا کہ کشمیر وادی میں جولائی ماہ کے دوران دن میں کئی مرتبہ گرمی کا احساس تو ہوتا ہے ۔ تاہم انہوں نے پہلی بار رات کے دوران کشمیر کے درجہ حرارت میں اتنا اضافہ محسوس کیا ہے ۔

سرکردہ ماہر ماحولیات پروفیسر شکیل رومشو کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافہ اور غیر معمولی موسمی حالات عالمی سطح پر پیش آنے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں ۔ نیوز 18 اُردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے پروفیسر رومشو نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے جموں و کشمیر کے موسمی حالات میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور اس کیلئے عالمی حدت ذمہ دار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے موسمی حالات کا دارومدار مغربی ہواؤں پر منحصر ہے، لہذا عالمی سطح پر ہو رہی غیر معمولی موسمی حالات یہاں کے حالات کو متاثر کرنے میں کلیدی رول ادا کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ صنعتی پھیلاؤ کی وجہ سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائڈ اور میتھین جیسی گیسوں کی مقدار بڑھ جاتی ہے ، جس کے سبب فضا میں گرین ہاؤس ایفیکٹ پیدا ہو جاتا ہے ۔ یعنی فضا میں موجود یہ گیسیں سورج کی حرارت کو جذب کرتی ہیں ، جس کے نتیجے میں درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ جموں و کشمیر بالخصوص کشمیر میں ان مضر گیسوں کا زیادہ اخراج نہیں ہوتا ہے ، تاہم ایران ، یورپ اور جنوبی امریکہ جیسے ممالک سے آنے والی مغربی ہوایئں یہاں بھی درجہ حرارت میں اضافہ کر دیتی ہیں ۔

پروفیسر رومشو نے کہا کہ بحر اوقیانوس ( اٹلانٹک اوشن) سے آنے والی مغربی ہوایئں میدانی علاقوں کی بجائے کشمیر جیسے پہاڑی علاقوں کے موسم کو زیادہ متاثر کرتی ہیں۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے درکار کوششوں سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں پروفیسر رومشو نے کہا کہ اس کا حل مقامی سطح پر اقدامات کرنے کی بجائے عالمی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدام  سے نکالا جا سکتا ہے۔

دریں اثنا محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ جموں و کشمیر میں 28 جولائی سے 3 روز تک کئی مقامات پر ہلکے سے درمیانہ درجے کی بارش ہونے کا امکان ہے ، جو یہاں کے عوام کے لیے راحت کی خبر ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 27, 2021 08:58 PM IST