உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hijab Controversy:کرناٹک سے دوسری ریاستوں تک پہنچا حجاب تنازع، سیاسی گلیوں میں بڑھی سیاسی گرمی، جانیے کب اور کیسے ہوئی اس کی شروعات

    کرناٹک حجاب تنازع: ہنگامہ ہے کیوں برپا!

    کرناٹک حجاب تنازع: ہنگامہ ہے کیوں برپا!

    سعودی عرب میں خواتین ڈھیلا ڈھالا لباس پہنتی ہیں جسے عبایا کہا جاتا ہے۔اسے حجاب، نقاب یا برقع کے ساتھ پہننا ضروری ہے۔ ایران میں خواتین کے لباس کے حوالے سے قوانین بہت سخت ہیں۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے حجاب پہننا یہاں لازمی ہے۔ خواتین کو ڈھیلے ڈھالے لباس پہننے اور عوامی مقامات پر سر اور گردن ڈھانپنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    • Share this:
      Karnataka Hijab Controversy: کرناٹک میں حجاب بمقابلہ بھگوا کو لے کر زبردست ہنگامہ برپا ہے۔ حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ کرناٹک کے اسکول اور کالج تین دن کے لیے بند رکھنے پڑے۔ بعض مقامات پر پتھراؤ کے واقعات بھی پیش آئے۔ حجاب اور بھگوا یعنی زعفرانی کے نام پر تشدد پھوٹ پڑا۔ حالات پر قابو پانے کے لیے ضلع میں دفعہ 144 نافذ کرنا پڑی۔ ہائی کورٹ نے بھی اس معاملے میں سماعت کی اور کہا کہ جذبات سے نہیں صرف قانون سے چلیں گے۔ اس کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ آئین ہماری بھگوت گیتا ہے۔ اس خبر کے ذریعے ہم آپ کو بتائیں گے کہ ہائی کورٹ کو اتنا تیکھا ریمارکس کیوں دینا پڑا۔ اس سارے معاملے کا پس منظر بھی بیان کیا جائے گا۔ ہم کرناٹک حکومت کے اس فیصلے کے بارے میں بات کریں گے، جس کو لے کر معاملہ بھڑک اٹھا۔

      اسی دوران شیموگہ میں کالج سے یونیورسٹی تک حجاب بمقابلہ بھگوا کھل کر سامنے آنے لگا۔ پولس انتظامیہ کی موجودگی میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ شیموگہ ضلع میں پتھراؤ اور بڑھتے ہوئے ہنگامے کے درمیان دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔ پولیس نے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے امن کی اپیلیں شروع کر دیں۔ کالج انتظامیہ نے چھٹی کا اعلان کرنا شروع کر دیا۔ اس سب کے باوجود ہنگامہ آرائی بڑھتی رہی۔ جب حجاب کو لے کر ہنگامہ بڑھ گیا تو کرناٹک سے لے کر دہلی تک ردعمل آنے لگے۔ رہنماؤں نے مختلف دلائل دیئے۔ کسی نے کہا کہ جو لوگ حجاب کے حق میں ہیں انہیں پاکستان جانا چاہیے تو کسی نے اس میں غزوہ ہند کا اینگل ڈھونڈ لیا۔ تاہم اس سب کے درمیان کسی اور کالج میں احتجاج کی خبریں آئیں تو پتھراؤ کی تصویریں منظر عام پر آنے لگیں۔ حالات کو بے قابو ہوتے دیکھ کر پولیس نے چارج سنبھال لیا۔ سختی بھی برتی۔ ایم جی ایم کالج میں مسلم لڑکیوں نے حجاب کے حق کے لیے آواز اٹھائی تو دوسری جانب کالج میں زعفرانی رومال کی منظوری کا مطالبہ کیا۔ دراصل گزشتہ کچھ دنوں سے کرناٹک میں حجاب کو لے کر زبردست ہنگامہ جاری ہے۔ ہائی کورٹ میں کل ہوئی سماعت سے پہلے ہی ہنگامہ مزید بڑھ گیا۔ حجاب پر بڑھتے ہوئے تنازعہ کو دیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہائی اسکول اور کالج کو اگلے تین دن کے لیے بند کرنے کا حکم دیا۔

      1 جنوری کو شروع ہوا تھا تنازع
      دراصل کرناٹک میں حجاب کو لے کر تنازعہ یکم جنوری سے شروع ہوا تھا۔ پھر اوڈپی میں 6 مسلم طالبات کو حجاب پہننے پر کالج کے کلاس روم میں بیٹھنے سے روک دیا گیا۔ کالج انتظامیہ نے اس کی وجہ نئی یونیفارم پالیسی کو بتایا۔ اس کے بعد ان لڑکیوں نے کرناٹک ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی۔ لڑکیوں کا موقف ہے کہ انہیں حجاب پہننے کی اجازت نہ دینا آئین کے آرٹیکل 14 اور 25 کے تحت ان کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔ ایک کالج سے شروع ہونے والا جھگڑا دوسرے کالجوں تک بھی پہنچ گیا۔ وہاں بھی حجاب پہننے والی لڑکیوں کو کالج میں داخلہ نہیں دیا گیا۔ تنازعہ اس وقت مزید بھڑک اٹھا جب طلبہ کا ایک اور گروپ بھگوا رومال، اسکارف اور صافے پہنے کالج میں آنے لگا اور جئے شری رام کے نعرے لگائےجانے لگے۔

      حجاب بنا زعفرانی اسکارف؟
      اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کرناٹک کے کالج کی یونیفارم کا تنازع حجاب بمقابلہ زعفرانی اسکارف تک کیسے پہنچا؟ کیا اسے سیاست کے رنگ میں رنگا جا رہا ہے؟ کیونکہ اس کی دھمکی دہلی سے یوپی تک سنائی دے رہی ہے۔ اس سب کے درمیان یہ معاملہ کرناٹک ہائی کورٹ میں پہنچ گیا۔ عدالت نے مسلم طالبات کی چار درخواستوں پر سماعت کی۔ ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل (اے جی) نے لڑکیوں کے وکیل کے سامنے حکومت کا موقف رکھا، عدالت نے اس بارے میں کچھ تبصرے کیے۔ ہائی کورٹ نے کہا، ’ہم کسی کے جذبے یا جذبات سے نہیں بلکہ ہم قانون اور آئین کی پیروی کریں گے، ہم وہی کریں گے جو آئین کہے گا۔آئین ہمارے لیے بھگوت گیتا ہے۔‘

      آج ہوگی آگے کی سماعت
      جسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ کی بنچ نے کہا کہ کسی معاملے میں جو بھی فیصلہ لیا جائے گا، وہ تمام درخواستوں پر لاگو ہوگا۔ بنچ نے درخواست گزار سے پوچھا کہ قرآن کا کون سا صفحہ کہتا ہے کہ حجاب ضروری ہے؟ جج نے عدالت کی لائبریری سے قرآن پاک کا نسخہ بھی طلب کیا۔ درخواست گزار نے قرآن پاک کی آیت 24.31 اور آیت 24.33 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آیات کے مطابق سر پر دوپٹہ یا سر پر نقاب ایک ضروری مذہبی فعل ہے۔درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا کہ ایک ذریعہ سورس قرآن ڈاٹ کام سے ہے اور اسے مستند قرآن کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم کے ان دونوں احکامات کی ہندوستان سے لے کر بیرون ملک تک کئی فیصلوں میں تشریح کی گئی ہے۔ درحقیقت عرضی گزار کی جانب سے کہا گیا کہ حکومت کو اس معاملے میں نرمی دکھانی چاہیے۔ حکومت کو یکساں رنگ کا حجاب پہننے کی اجازت دینی چاہیے۔ ان تمام باتوں پر ہائی کورٹ نے کہا کہ ہمارے لیے آئین بھگوت گیتا ہے۔ ہمیں آئین کے مطابق کام کرنا ہے اب اس معاملے کی سماعت آج بھی ہو گی۔

      سبھی طالبات کو یکساں لباس پہننا چاہیے: قانون
      دراصل ملک کا قانون تمام اہل وطن کو اپنے مذہب اور پسند کے مطابق لباس پہننے کا حق دیتا ہے۔ ان حقوق کے بارے میں کوئی تنازعہ نہیں ہے، لیکن کرناٹک میں کرناٹک ایجوکیشن ایکٹ، 1983 نافذ ہے۔ یہ قانون کہتا ہے کہ تمام طلبہ کو ایک جیسا لباس پہننا چاہیے۔ یہ قانون کہتا ہے کہ اسکول کے تمام طلبہ کو ایک ہی لباس میں حاضر ہونا چاہیے۔ یہ قانون کہتا ہے کہ کرناٹک کے اسکولوں میں کوئی امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔ حجاب پر تنازعہ پیدا ہونے کے بعد کرناٹک میں حکومت نے پہلے سے نافذ قانون کو سختی سے لاگو کرنے کو کہا۔ اس قانون سے واضح ہے کہ کرناٹک حکومت نے ملک کے آئین کے مطابق تعلیم کی نوعیت کا فیصلہ کیا ہے۔ سیکولر رہنے کے لیے اسکولوں میں کسی بھی قسم کے مذہبی لباس کی اجازت نہیں تھی۔ کرناٹک کی حکومت چاہتی ہے کہ طلباء ایسے ماحول میں تعلیم حاصل کریں جہاں انہیں مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

      حجاب تنازع اب دوسری ریاستوں تک پہنچ گیا ہے
      کرناٹک سے شروع ہوا حجاب کا تنازع اب دوسری ریاستوں تک پہنچ گیا ہے۔ تلنگانہ میں بھی حجاب کو لے کر آج کشیدگی دیکھی گئی۔ حیدرآباد میں مسلم طالبات اور خواتین نے مظاہرہ حجاب کے حق کے لئے آواز اٹھائی۔ اسلامک آرگنائزیشن کی طالبات اور خواتین نے گولکنڈہ کے علاقے سیون ٹومبس کے قریب اسکولوں میں حجاب پہننے کے حقوق کا مطالبہ کرنے والے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے مظاہرہ کیا۔ اسکول سے شروع ہونے والا یہ تنازعہ سڑکوں پر آگیا ہے۔ کل مدھیہ پردیش کے وزیر تعلیم نے بھی اس پر بیان دے کر اس تنازع کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایم پی کے وزیر تعلیم اندر سنگھ پرمار نے کہا کہ حجاب پر پابندی لگنی ہی چاہیے کیونکہ یہ اسکول یونیفارم کا حصہ نہیں ہے۔ ویسے حجاب کو لے کر اتنا ہنگامہ ہوا.. آخر ہوتا کیا ہےحجاب؟ نقاب اور برقعہ سے یہ کیسے مختلف ہے؟ آج وہ بھی آپ کو سمجھاتے ہیں۔ حجاب کا مطلب ہے پردہ۔ حجاب میں بالوں کو مکمل طور پر ڈھانپنا ہوتا ہے۔یعنی حجاب کا مطلب ہے سر ڈھانپنا۔لیکن عورت کا چہرہ نمایاں رہتا ہے۔جہاں تک نقاب کا تعلق ہے تو یہ ایک قسم کا کپڑے کا پردہ ہے، جو سر اور چہرہ پر لگا ہوتا ہے۔ مسلم خواتین کا پورا جسم برقعے میں ڈھکا ہوتا ہے۔ آنکھوں کے لیے صرف ایک جالی دار کپڑا ہے۔

      حجاب، نقاب اور برقعہ مسلم خواتین کے لباس
      اب اس میں کوئی شک نہیں کہ حجاب، نقاب اور برقعہ مسلمان خواتین کے لباس ہیں، لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مختلف ممالک میں ان کے پہننے کے حوالے سے مختلف قوانین ہیں۔ سعودی عرب میں خواتین ڈھیلا ڈھالا لباس پہنتی ہیں جسے عبایا کہا جاتا ہے۔اسے حجاب، نقاب یا برقع کے ساتھ پہننا ضروری ہے۔ ایران میں خواتین کے لباس کے حوالے سے قوانین بہت سخت ہیں۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے حجاب پہننا یہاں لازمی ہے۔ خواتین کو ڈھیلے ڈھالے لباس پہننے اور عوامی مقامات پر سر اور گردن ڈھانپنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اگرچہ پاکستان اور انڈونیشیا میں خواتین کو برقع یا حجاب پہننے کی پابندی نہیں ہے.. حجاب پہننا ہے یا نہیں.. یہ خواتین خود فیصلہ کرتی ہیں۔ لیکن کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جہاں برقعہ پہننے پر مکمل پابندی ہے.. اس میں فرانس، چین، ڈنمارک، جرمنی، سری لنکا، بیلجیئم، کیمرون اور اٹلی جیسے ممالک شامل ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: