உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیرالا نیپا وائرس کی لپیٹ میں! کیا کسی شخص کو نیپا اورکورونا ایک ساتھ ہوسکتاہے؟ کیا کہتے ہیں ماہرین؟

    ایک 12 سالہ لڑکے کی نیپا کی وجہ سے موت کے بعد اور دو دیگر افراد میں انفیکشن کی علامات ظاہر ہونے کے بعد مقامی لوگ اب ریاست میں دونوں مہلک انفیکشن کے پھیلاؤ کے بارے میں فکر مند ہیں اور پوچھا جارہا ہے کہ کیا کوئی شخص نیپا اور کووڈ Nipah and Covid دونوں سے متاثر ہوسکتا ہے؟

    ایک 12 سالہ لڑکے کی نیپا کی وجہ سے موت کے بعد اور دو دیگر افراد میں انفیکشن کی علامات ظاہر ہونے کے بعد مقامی لوگ اب ریاست میں دونوں مہلک انفیکشن کے پھیلاؤ کے بارے میں فکر مند ہیں اور پوچھا جارہا ہے کہ کیا کوئی شخص نیپا اور کووڈ Nipah and Covid دونوں سے متاثر ہوسکتا ہے؟

    ایک 12 سالہ لڑکے کی نیپا کی وجہ سے موت کے بعد اور دو دیگر افراد میں انفیکشن کی علامات ظاہر ہونے کے بعد مقامی لوگ اب ریاست میں دونوں مہلک انفیکشن کے پھیلاؤ کے بارے میں فکر مند ہیں اور پوچھا جارہا ہے کہ کیا کوئی شخص نیپا اور کووڈ Nipah and Covid دونوں سے متاثر ہوسکتا ہے؟

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کیرالا میں روزانہ کورونا وائرس (کووڈ۔19) کے روزانہ 25000 سے زیادہ کیسز سامنے آرہے ہیں۔ ایک اور مہلک نیپا وائرس Nipah virus نے وبائی قہر میں مزید اضافہ کردیا ہے، جس نے جنوبی ریاست کو اپنی صحت کی مشینری کی چوکسی کو مزید بڑھانے کا اشارہ دیا ہے۔

      ایک 12 سالہ لڑکے کی نیپا کی وجہ سے موت کے بعد اور دو دیگر افراد میں انفیکشن کی علامات ظاہر ہونے کے بعد مقامی لوگ اب ریاست میں دونوں مہلک انفیکشن کے پھیلاؤ کے بارے میں فکر مند ہیں اور پوچھا جارہا ہے کہ کیا کوئی شخص نیپا اور کووڈ Nipah and Covid دونوں سے متاثر ہوسکتا ہے؟

      علامتی تصویر۔(Shutterstock)۔
      علامتی تصویر۔(Shutterstock)۔


      کیرالا کی وزیر صحت وینا جارج Veena George نے اتوار کے روز کہا کہ ریاست کو نیپا انفیکشن کے پھیلاؤ کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ حفاظتی اقدامات جیسے ماسک اور پی پی ای کٹس کا استعمال پہلے ہی کووڈ 19 کی وجہ سے موجود ہے اور اس کی گہری تلاش جاری ہے۔

      نیپا وائرس:


      19 مئی 2018 کو جنوبی ہندوستان میں نیپا وائرس کی پہلی وبا کیرالا کے ضلع کوزی کوڈ Kozhikode میں رپورٹ ہوئی تھی۔ اس کے بعد یکم جون 2018 تک 17 اموات اور 18 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

      اس وبا پر قابو پا لیا گیا اور 10 جون 2018 تک اسے ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد جون 2019 میں کوچی سے نیپا کا ایک نیا کیس رپورٹ ہوا اور واحد مریض 23 سالہ طالب علم تھا جو بعد میں صحت یاب ہو گیا۔

      اس سال ایک کیس کی رپورٹنگ کے ساتھ یہ پانچویں بار ہے جب ہندوستان میں وائرس کا پتہ چلا ہے اور یہ کیس کیرالا میں تیسرا کیس ہے۔

      کیرالا میں کووڈ 19 کے کیسز:


      ریاستی حکومت نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے تک 26701 نئے کووڈ 19 کیس اور 74 اموات کی اطلاع دی گئی جس سے انفیکشن کی کل تعداد 4207838 اور ہلاکتوں کی تعداد 21496 تک پہنچ گئی ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 1,55,543 نمونوں کی جانچ کے بعد ٹیسٹ مثبتیت کی شرح 17.17 فیصد پائی گئی۔ اس کے ساتھ اب تک 3,23,90,313 نمونوں کی جانچ کی گئی ہے۔

      علامتی تصویر۔(Shutterstock)۔
      علامتی تصویر۔(Shutterstock)۔


      بلیٹن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہفتہ کے بعد سے انفیکشن سے 28900 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں جس سے مجموعی صحت یابی 39,37,996 اور فعال کیسز کی تعداد 2,47,791 ہوگئی ہے۔ ریاست کے 14 اضلاع میں کوزی کوڈ میں سب سے زیادہ کیس ریکارڈ ہوئے جہاں 3366، اس کے بعد تریسور (3214) ، ارناکولم (2915) ، ملاپورم (2568) ، پالکڈ (2373) ، کولم (2368) ، ترواننت پورم (2103) ، کوٹیم (1،662) ، الپپوزہ (1،655) ، کنور (1،356) ، اڈوکی (1،001) اور پٹھانمتھٹا (947) کیس سامنے آئے ہیں۔

      ماہرین کیا کہتے ہیں


      پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر امر فیٹل ، ڈاکٹر ٹی ایس انیش اور ڈاکٹر ٹی این سریش جیسے ماہرین نے کہا ہے کہ فی الحال تشویش کی کم وجہ ہے کیونکہ ریاست ماضی میں دو مرتبہ نیپا وائرس سے نمٹ چکی ہے۔ جب اس نے 2018 اور 2019 میں اپنا وجود ظاہر کیا اور اس وقت ٹرانسمیشن کا خطرہ کم ہوگا کیونکہ حفاظتی اقدامات جیسے ماسک اور پی پی ای کٹس پہننا پہلے ہی موجود ہیں۔

      انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیپا انفیکشن عام طور پر چھوٹے گروپوں یا علاقوں تک محدود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انفیکشن کے پھیلاؤ پر موثر کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے تمام بنیادی رابطوں کا ’’ گہرے رابطے کا سراغ ‘‘ اور قرنطینہ دو اہم اقدامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انفیکشن پھیلنے کا خطرہ ہے اس لیے ہسپتال میں کمیونٹی لیول کے مریضوں میں اضافہ ہورہا ہے

      لہذا رابطہ ٹریسنگ کرتے ہوئے جو لوگ ہسپتال میں مریض کے ساتھ رابطے میں آئے ہوں گے انہیں احتیاط سے جانچا جانا چاہئے۔

      انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کی طرف سے کووڈ 19 سے نمٹنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات جیسے مریضوں کا ٹائم سٹیمپڈ روٹ میپ تیار کرنا بھی کام آئے گا کیونکہ اس سے پبلک ہیلتھ اتھارٹیز لوگوں کو متاثرہ شخص کے وزٹ کردہ مقامات کے بارے میں آگاہ کرنے میں مدد کرے گی۔ تمام ماہرین نے کہا کہ معاون نگہداشت ہی علاج کا واحد طریقہ ہے کیونکہ نیپا کا کوئی علاج یا ویکسین نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیپہ اور کووڈ 19 کا خطرہ تو ہے لیکن کوئی بیک وقت دونوں سے متاثر ہو، اس کا خطرہ کم ہی ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: