உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    RRB-NTPC Protest: طلبہ کا ہنگامہ، خان سر نے بتایا کس نے بھڑکائی ’آگ‘! طلبہ سے کی یہ اپیل

    خان سر نے بتایا کہ RRB-NTPC امتحان کے احتجاج میں تشدد کیوں ہوا؟

    خان سر نے بتایا کہ RRB-NTPC امتحان کے احتجاج میں تشدد کیوں ہوا؟

    خان سر نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی۔ اس کے ساتھ انہوں نے طلباء سے اپیل کی کہ وہ اپنی تحریک کو پرامن رکھیں، اگر وہ تشدد کریں گے تو کوئی ان کا ساتھ نہیں دے گا۔

    • Share this:
      پٹنہ:ریلوے بھرتی بورڈ یعنی RRB اور نیشنل تھرمل پاور کارپوریشن یعنی این ٹی پی سی (NTPC) کے امتحانات کو لے کر طلبہ کا آندولن اب پرتشدد ہوگیا ہے۔ بدھ کو بھی طلبہ نے کئی مقامات پر ہنگامہ کیا اور کئی ریل گاڑیوں میں آگ لگادی۔ اس درمیان ریلوے وزیر اشونی ویشنو (Ashwini Waishnaw) کو طلبہ سے امن بنائے رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے سینئر لوگوں کی ایک کمیٹی بنائی گئی ہے۔ یہ کمیٹی اس معاملے میں چار مارچ کو اپنی رپورٹ سونپے گی۔اس درمیان، مقابلہ جاتی امتحانات دینے والے 6 اساتذہ اور کوچنگ آپریٹر خان سر سمیت 300 سے 400 نامعلوم افراد کے خلاف دارالحکومت پٹنہ کے پترکار نگر پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پترکار نگر پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہیڈ منورنجن بھارتی نے اپنے ہی بیان پر تھانے میں مقدمہ درج کرایا ہے۔ خان سر کے علاوہ ایس کے جھا، نوین سر امرناتھ سر، گگن پرتاپ سر، گوپال پرتاپ ورما سر اور مارکیٹ کمیٹی کے مختلف کوچنگ آپریٹرز کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

      دراصل اس معاملے میں گرفتار طالب علم کشن کمار، روہت کمار، راجن کمار اور وکاس کمار نے پٹنہ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایس ایس پی کے سامنے بیان دیا تھا، جس میں ان ٹیچرس کے نام سامنے آئے تھے۔ ان تمام کوچنگ آپریٹرز اور اساتذہ کے خلاف طلبہ کو اشتعال انگیز تقاریر کرنے پر اکسانے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کوچنگ اسٹاف پر طلبہ کو اکسانے کا الزام ہے۔ ایسے میں کوچنگ کے معاملے میں سب سے زیادہ مقبول طلباء اور یوٹیوبر خان سر پر بھی الزام لگایا گیا ہے۔ لیکن، خان سر نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات پر وضاحت دے دی ہے۔

      آر آر بی کے نوٹیفکیشن سے گڑبڑ ہوگیا معاملہ
      خان سر نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے ہ آر آر بی نے اچھے اسٹیپ یہ اٹھائے ہیں کہ سارے طلبہ سے تجویز مانگی ہے اور کمیٹی بنادی ہے۔ آر آر بی نے جو قدم آج اٹھایا ہے وہ اگر 18 جنوری کو لیا ہوتا تو اتنا ہنگامہ نہیں ہوتا۔ خان سر نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ یہ آیا ہے کہ 24 جھنوری کو جب راجندر نگر ٹرمینل پر 500 کے قریب این ٹی پی سی کے طلبہ ہنگامہ کررہے تھے، تبھی آر آر بی نے گروپ ڈی والوں کے لئے تین بجے آفیشیل نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

      گریجویشن اور انٹر کے امیدواروں کو یکساں سمجھنا صحیح نہیں
      خان سر نے کہا کہ دراصل، این ٹی پی سی کے طلبہ سوچ رہے تھے کہ کچھ اچھی اطلاع ملے گی، لیکن آر آر بی کی نوٹیفکیشن نے آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا۔ بورڈ کا نوٹیفکیشن گروپ ڈی والوں کے لئے تھا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ گروپ ٹی کے امیدواروں کا اب مینس ایگزام لیا جائے گا۔ ایسے میں گروپ ڈی کے سنگل ایگزام والے جو دیڑھ کروڑ طلبہ ہیں اور این ٹیپی سی طلبہ کا ہنگامہ میڈیا کے ذریعے سے دیکھ رہے تھے، وہ لوگ امتحان کی بات سے مشتعل ہوگئے اور این ٹیپی سی کے طلبہ کےساتھ شامل ہوگئے۔ اب جو ہنگامہ ہورہا ہے کہ ان میں گروپ ڈی کے زیادہ طلبہ ہین۔ یہ ساری غلطی آر آر بی کی ہے۔

      احتجاجی مظاہرہ کرنے پر مجبور ہوگئے طلبہ
      خان سر نے کہا کہ این ٹی پی سی نے پہلے ہی غلطی کی تھی، جس کی وجہ سے طلبہ ناراض تھے۔ اسی وقت، آر آر بی نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا اور ہنگامہ میں اضافہ کیا۔ خان سر نے کہا کہ آر آر بی نے آگ میں ایندھن ڈالنے کا کام کیا۔ آر آر بی کی غلطی کی وجہ سے طلبہ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوئے۔ NTPC CBT-1 امتحان میں جو RRB نے لیا، بورڈ نے گریجویشن اور انٹرمیڈیٹ دونوں کے طلباء کو ایک ساتھ بٹھایا۔

      رزلٹ دینے میں بھی ہوئی گڑبڑی
      خان سر نے مزید بتایا کہ انٹر اور گریجویشن کے طلباء کو ایک ہی سوالیہ پرچہ دیا گیا تھا جبکہ کٹ آف الگ رکھا گیا تھا۔ گریجویٹس کے لیے کٹ آف مختلف تھا، جبکہ انٹرمیڈیٹ کے طلبہ کا کٹ آف مختلف تھا۔ ایسے میں گریجویٹس کا پلڑا یقیناً بھاری پڑے گا۔ دونوں کو ملا کر نتیجہ دینے میں گڑبڑی ہوئی ہے۔ انٹرمیڈیٹ کے لوگوں کو 20 گنا رزلٹ دینے کو کہا گیا تھا، لیکن 10 گنا پر ہی رزلٹ ملا۔ حالانکہ اب آر آر بی نے امتحان ملتوی کر دیا ہے۔

      ریلوے کی پہل کی خان سر نے کی تعریف
      خان سر نے یہ بھی بتایا کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ریلوے نے اب اس کے لیے ایک کمیٹی بنا دی ہے۔ یہ کمیٹی امتحان میں کامیاب اور ناکام امیدواروں کی شکایات سنے گی۔ دونوں فریقین کو سننے کے بعد کمیٹی رپورٹ وزارت ریلوے کو پیش کرے گی۔ امیدوار اپنی شکایات 16 فروری 2022 تک کمیٹی کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔ اس کے بعد وزارت ریلوے مزید فیصلہ کرے گی۔ خان سر نے کہا کہ ان کے بارے میں افواہیں پھیلائی گئیں ہیں اور کہا گیا کہ ہم نے مشتعل طلباء کو روک رکھا ہے۔

      طلبہ سے تشدد نہ کرنے کی خان سر نے کی اپیل
      بتادیں کہ خان سر نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی۔ اس کے ساتھ انہوں نے طلباء سے اپیل کی کہ وہ اپنی تحریک کو پرامن رکھیں، اگر وہ تشدد کریں گے تو کوئی ان کا ساتھ نہیں دے گا۔ لیکن، خان سر سمیت چھ کوچنگ آپریٹرز کے خلاف آئی پی سی کے سیکشن 147، 148، 149، 151، 152، 186، 187، 188، 330، 332، 353، 504، 506 اور 120 بی کے تحت پترکار نگر تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ حالانکہ خان سر نے طلبہ کو اکسانے کے کسی بھی الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: