ہوم » نیوز » Explained

جانئے کووڈ 19 اور خون کی جانچ سے متعلق سبھی سوالات کے جواب

جوں ہی کووڈ سے متاثر ہونے کی بات کا پتہ چلتا ہے تو پہلا مشورہ آر ٹی پی سی آر یا اینٹیجن جانچ کا دیا جاتا ہے ۔ تاکہ کووڈ ہے کہ نہیں اس کا پتہ چل سکے ۔ مریض کی طبی حالت کیا ہے ، اس بنیاد پر CBC, CRP, D Dimer, LDH, IL6, LFT, RFT, بلڈ شوگر کی جانچ کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ مریض کا علاج کیسے ہو ، یہ یقینی بنایا جاسکے ۔ ان جانچوں کے بارے میں نیچے جانئے ۔

  • Share this:
جانئے کووڈ 19 اور خون کی جانچ سے متعلق سبھی سوالات کے جواب
جانئے کووڈ 19 اور خون کی جانچ سے متعلق سبھی سوالات کے جواب

جوں ہی کووڈ سے متاثر ہونے کی بات کا پتہ چلتا ہے تو پہلا مشورہ آر ٹی پی سی آر یا اینٹیجن جانچ کا دیا جاتا ہے ۔ تاکہ کووڈ ہے کہ نہیں اس کا پتہ چل سکے ۔ مریض کی طبی حالت کیا ہے ، اس بنیاد پر CBC, CRP, D Dimer, LDH, IL6, LFT, RFT, بلڈ شوگر کی جانچ کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ مریض کا علاج کیسے ہو ، یہ یقینی بنایا جاسکے ۔ ان جانچوں کے بارے میں نیچے جانئے ۔


سی بی سی


سی بی سی / سی بی پی کا مطلب ہے کمپلیٹ بلڈ کاونٹ ، جس سے بلڈ سیلس کی بناوٹ میں آئی تبدیلیوں کو پتہ کیا جاسکے ۔ ان میں ریڈ بلڈ سیلس ، وہائٹ بلڈ سیلس ، پلیٹ لیٹ ( تھرومبوسائٹس ) شامل ہیں ۔ انفیکش کی وجہ سے بلڈ سیلس میں مقدار اور ان کی ساخت میں آئی تبدیلیوں کو سمجھا جاسکتا ہے ، جس سے ڈاکٹروں کو مریض کے علاج میں مدد ملتی ہے ۔


سی آر پی

سی ری ایکٹیو پروٹین لیور میں پایا جانے والا ری ایکٹینٹ ہے ۔ انفیکشن کی وجہ سے خون میں سی آر پی کی سطح بڑھ جاتی ہے ۔ بہت ہی سنگین انفیکشن میں جیسے کہ ڈائبٹیز اور ہائپرٹینشن میں اس میں معمولی طور سے اضافہ ہوتا ہے ۔ جبکہ گٹھیا اور متعدی گٹھیا میں یہ تھوڑا زیادہ بڑھتا ہے ، مگر جب کوئی بیکٹیریل ، وائرل ، فنگل انفیکشن ہوتا ہے تو یہ کافی بڑا ہوجاتا ہے ۔

ڈی ڈائمر

عام طور پر بلڈ ویسلز میں بلڈ کا کلوٹ نہیں بنتا ہے ، کیونکہ اس میں فطری طور سے کلوٹنگ روکنے والا کیمیکل ملا ہوتا ہے ۔ مگر جوں ہی بلڈ ویسلز میں گڑبڑی پیدا ہوتی ہے ، تو خون کے ضیاع کو روکنے کیلئے اس کا کلوٹ بن جاتا ہے ۔ اسی طرح اگر بلڈ ویسلز سے خون کا بہنا جاری رہے ۔ کلوٹ کو ختم کرنے پر جو کچرا تیار ہوتا ہے وہ بہت تھوڑے وقت کے بعد نکل جاتا ہے ۔ بیماری اور انفیکشن کی وجہ سے بلڈ ویسلز میں ضرورت سے زیادہ کلوٹ بن سکتا ہے اور اس کو دور کرنے کیلئے کلوٹ کو ہٹانے کا کام کیا جاتا ہے ۔ اس وجہ سے خون میں کلوٹ کو ختم کرنے کے بعد پیدا ہوئے کچرے کی مقدار بڑھ جاتی ہے ، جو کہ چھوٹی بلڈ ویسلز میں پھنس سکتا ہے اور اس کی وجہ سے مریض کی موت ہوسکتی ہے ۔ ڈی ڈائمر کلوٹ کو ختم کرنے والا پروڈکٹ فائبرن ہے ۔ خون میں ڈی ڈائمر کی سطح بڑھنے کا مطلب ہے خون میں ضرورت سے زیادہ کلوٹ کا بننا اور اس لئے کلوٹ کو ختم کرنے کا عمل شروع کرنا ہوتا ہے تاکہ مریض کی جان بچائی جاسکے ۔

ایل ڈی ایچ

لیکٹیٹ ڈیہائیڈروجنیج ایک طرح کا اینزائم ہے جو جسم کی ہر سیل میں ہوتا ہے ۔ خون میں اس کی سطح تب بڑھتی ہے جب جسم میں کوئی انفیکشن ہوتا ہے یا کوئی بیماری ہوتی ہے ۔ کئی مرتبہ کافی زیادہ ورزش کرنے یا مشکل سرگرمی کی وجہ سے بھی جسم میں اس کی مقدار بڑھ جاتی ہے ۔ کسی عضو خاص میں ایل ڈی ایچ کا سائز اس عضو کو ہوئے نقصان کے بارے میں بتاتا ہے ۔ اس سے ڈاکٹر کو اس عضو کے بارے میں مزید جانچ کرنے میں مدد ملتی ہے ۔ تاکہ علاج جلد از جلد شروع کیا جاسکے ۔

آئی ایل 6

جسم کی امیونٹی جسم میں انٹرلیوکنس ۔ 6 کو محفوظ کرتی ہے جو کہ خود اور لیور میں سی آر پی اور فائبرن جیسے کیمیکلس کو بناکر انفیکشن سے لڑتا ہے ۔ خون میں آئی ایل 6 کی سطح بڑھنے کا مطلب جسم میں انفیکشن کا ہونا ہے ۔ یہ ایک غیر مخصوص مارکر ہے ، کیونکہ گٹھیا اور اسی طرح کی دیگر بیماریوں کے ہونے پر بھی اس کی سطح جسم میں بڑھتی ہے ۔ جس میں اس کی مقدار زیادہ ہونے پتہ چلنے کا مطلب ہے کہ جسم میں زیادہ سوجن ہے اور اس لئے سوجن کو کم کرنے کی دوا جیسے اسٹیرائیڈ دی جاتی ہے ۔ تاکہ سیلس کا تحفظ کیا جاسکے ۔

ایل ایف ٹی

لیور کیسے کام کررہا ہے اس کی جانچ کیلئے خون کی جانچ کی جاتی ہے ۔ جیسے کہ ایلبیومن جیسی پروٹین اور خون میں کچرے جیسے بلیروبن کو ختم کرنے کیلئے کیمیکلس کو بنا رہا ہے کہ نہیں ۔ خون میں پروٹین کی کم مقدار اور اینزائم کی زیادہ مقدار ہونے کا مطلب لیور کا ٹھیک سے کام نہیں کرنا ہے ۔ اگر ایل ایف ٹی غیر معمولی ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہمیشہ ہی لیور کا خراب ہونا نہیں ہوتا ، یہ انفیکشن یا دو لینے کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے ۔

آر ایف ٹی

گردہ خون کو صاف کرتا ہے اور اس میں سے کچرے کو ہٹاتا ہے ، جو پیشاب کی شکل میں ہمارے جسم سے نکلتا ہے ۔ گردہ ٹھیک سے کام کررہا ہے کہ نہیں اس بات کی جانچ کرنے سے ایلبیومن ، پیشاب اور کریئٹینین کو فلٹر کیا جارہا ہے کہ نہیں یہ پتہ چلتا ہے ۔ اگر ان کی مقدار غیر معمولی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ گردہ ٹھیک سے کام  نہیں کررہا ہے ۔ غیر معمولی آر ایف ٹی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ گردہ کی بیماری ہے بلکہ ایسا کئی وجوہات سے ہوسکتا ہے جس میں انفیکشن اور دوا لینا بھی شامل ہے ۔

پیشاب کی جانچ

یہ ایک ایسی جانچ ہے جس میں پیشاب کا مائیکرواسکوپ سے جائزہ لیا جاتا ہے ، جس میں اس کے رنگ ، اس میں پائی جانے والی چیزوں اور اس کی کنسنٹریشن جانچ کی جاتی ہے ۔ یہ مفید جانچ ہے اور اس سے پیشاب کی نلی میں کسی طرح کے انفیکشن ، گردہ کی بیماری یا ڈائبٹیز کا پتہ چلتا ہے ۔

خون میں شوگر کی مقدار کی جانچ

خون میں شوگر کی مقدار کی جانچ اہم طور سے ڈائبٹیز کے علاج کیلئے کی جاتی ہے ۔ ڈائبٹیز کے علاوہ کشیدگی ، انفیکشن اور دوا جیسے اسٹیرائیڈ لینے سے بھی خون میں شوگر کے لیول میں ہیر پھیر ہوتی ہے ۔

پرو کیلسی ٹونن جانچ ( پی سی ٹی)

یہ خون پر مبنی بایومارکر ہے ، جس میں بیکٹریا سے ہونے والے انفیکشن میں مریض کا جسم کس طرح سے رد عمل ظاہر کرتا ہے ، اس کا پتہ چلتا ہے ۔ بیکٹریا کا انفیکشن ہونے کے تین سے چھ گھنٹے کے اندر اس میں اضافہ ہوتا ہے اور 12 سے 24 گھنٹے کے بعد یہ ٹاپ پر ہوتا ہے اور پھر جیسے ہی انفیکشن کم ہوتا ہے یہ کم ہونے لگتا ہے ۔ وائرل انفیکشن میں اس کا لیول نیچے برقرار رہتا ہے ۔ پی سی ٹی سکینڈری بیکٹریل انفیکشن کو پکڑنے اور بیماری کو آگے بڑھنے کے بارے میں جاننے میں مدد کرتا ہے ۔ یہ اس بات کا پتہ لگانے میں بھی معاون ہوتا ہے کہ اسٹیرائیڈ کے استعمال کی وجہ سے ڈبلیو بی سی کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے یا کسی بیکٹیریل انفیکشن کی وجہ سے ۔ پی سی ٹی ایک اہم جانچ ہے ، جس کے ذریعہ یہ تشخیص کی جاتی ہے کہ مریض کو اینٹی بایوٹک دی جائے یا نہیں اور اس طرح مریض میں اینٹی بایوٹک کی ضرورت سے زیادہ استعمال کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے ۔ کیونکہ اس کا زیادہ استعمال اینٹی بایوٹک مزاحمت پیدا کرتا ہے ۔ کئی اسٹڈیز میں پتہ چلا ہے کہ پی سی ٹی یہ بتانے میں اہل رہا ہے کہ بیماری سنگین ہونے والی ہے یا علاج کا اثر نہیں ہورہا ہے ۔ اس کی مقدار اگر < 0.25 مائیکروگرام / لیٹر ہے تو یہ اچھے نتائج کی عکاس ہے ۔

Dr Niket Rai
MBBS, MD
Maulana Azad Medical College and associated LOK Nayak Hopital’
New Delhi
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 18, 2021 12:31 AM IST