உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained: اپنی تعلیم کے خرچ کا انتظام ، جانئے امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کو آسان اور سستا بنانے کیلئے مالی امداد کے متعدد متبادل

    اپنی تعلیم کے خرچ کا انتظام : جانئے امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کو آسان اور سستا بنانے کیلئے مالی امداد کے متعدد متبادل ۔ تصویر : spanmag.com

    اپنی تعلیم کے خرچ کا انتظام : جانئے امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کو آسان اور سستا بنانے کیلئے مالی امداد کے متعدد متبادل ۔ تصویر : spanmag.com

    امریکہ میں رہنے اور تعلیم حاصل کرنے کے لیے الگ الگ جگہوں پر خرچ کی نوعیت الگ الگ ہوتی ہے۔ صحیح منصوبہ بندی اور تحقیق کے ساتھ طلبہ امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کو آسان اور سستا بنانے کے لیے مالی امداد کے متعدد متبادل تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

    • Share this:
      پارومیتا پین

      کسی امریکی یونیورسٹی میں داخلے کا مطلب سیکھنے کی ایک نئی دنیا میں داخلہ ہوتا ہے اور ایسے خیالات کو جنم دینا ہوتا ہے جو اکثر زندگی تبدیل کرنے والے ہوسکتے ہیں۔ امریکہ میں رہنے اور سیکھنے کے اہم پہلو میں مالی اعانت بھی شامل ہے ۔ اگرچہ یہ مشکل ہوسکتا ہے لیکن اس کی تلاش کے لیے طلبہ کے پاس کافی متبادل ہوتے ہیں ۔ مالی اعانت مختلف ذرائع سے حاصل کی جا سکتی ہے ۔ ان میں وہ یونیورسٹی بھی شامل ہے آپ نے جس میں داخلہ کے لیے درخواست دی  ہے۔ یا پھر اسے وفاقی یا نجی ذرائع سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

      ایف۔ ون ویزالے کر امریکہ جانے والے بین الاقوامی طلبہ کے لیے یونیورسٹیوں میں اسکالرشپ، اسسٹنٹ شپ، فیلو شپ، ضرورت یا قابلیت پر مبنی ایوارڈز اور اہل دعویداروں کے لیے دستیاب دیگرعطیات جیسے مالی اعانت کے مواقع  موجود ہوتے ہیں۔

      فیلوشپ۔گریجویٹ طلبہ کی تعلیم میں فیلو شپ اکثرمالی معاونت کا بہترین طریقہ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر آسٹِن  میں واقع  ٹیکساس یونیورسٹی (یو ٹی آسٹن) طلبہ کو بیرونی امداد سے دی جانے والی فیلو شپ تلاش کرنے میں مدد کے علاوہ مختلف فیلو شپ حاصل کرنے اور ادارتی معاون بننے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یونیورسٹی مختلف شعبوں سے نامزدگیوں کی بنیاد پر کالج اور شعبہ جاتی فیلو شپ بھی دیتی ہے۔ فیلوشپ عام طور پر قابلیت کی بنیاد پر دی جاتی ہے ۔ یو ٹی آسٹن میں داخلے کی فیلوشپ کا اہتمام ہے جو گریجویٹ اسکول کی طرف سے اعلیٰ معیار کے گریجویٹ طلبہ کو راغب کرنے کے لیے دیے  جانے والے باوقار ایوارڈ ہیں۔ اپنی درخواست تیار کرتے وقت کسی مخصوص شعبے تک پہنچنا اور اور ان پروفیسروں سے بات چیت شروع کرنا  جن کے کام میں آپ دلچسپی رکھتے ہیں یا جن کے کام  آپ کی تحقیق کے دائرے میں آتےہیں، آپ کو ان میں سے کسی ایک ایوارڈ کو حاصل کرنے کے لیے تحریک دے سکتا ہے۔

      ضرورت یا لیاقت  پر مبنی ایوارڈ۔قابلیت پر مبنی اسکالر شپ تعلیمی امتیاز کے لیے دی جاتی ہیں جن کے اہل بین الاقوامی طلبہ ہوتے ہیں۔ ضرورت پر مبنی وظائف بنیادی طور پر طالب علم کی ضروریات پر مبنی ہوتے ہیں جو مالی اعانت، وظائف، مطالعے کے دوران ملازمت (ورک ۔ اسٹڈی پوزیشن) اور قرضوں کی شکل میں ہو سکتے ہیں۔اپنی یونیورسٹی میں بین الاقوامی طلبہ کے لیے مخصوص عطیات اور وظائف کی معلومات کی جانچ پڑتال بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ گرانٹ عام طور پر یونیورسٹی میں ڈگری والے پروگرام میں داخل طلبہ یا نئے ایف۔ون یا جے۔ون ویزاوالے طلبہ کے لیے ہوتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر طلبہ کو ایک مخصوص جی پی اے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر رینو میں واقع یونیورسٹی آف نیواڈا میں بین الاقوامی طلبہ کے لیے متعدد وظائف  دیے جاتے ہیں۔ انڈر گریجویٹ طلبہ جن کا مجموعی یونیورسٹی جی پی اے  کم از کم 2 اعشاریہ 75 ہے اورگریجویٹ طلبہ جن کا گریجویٹ سطح میں مجموعی یونیورسٹی جی پی اے کم از کم 3 اعشاریہ صفرہے، اس کے اہل ہیں۔ وظائف کے لیے درخواست دیتے وقت یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ تمام وظائف، خواہ اس کی رقم کچھ بھی ہو، اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔

      اگر آپ ریکرینگ ڈپازٹ اکاؤنٹ کھولتے ہیں، تو آپ کو ایک نامزد یا مستفید ہونے والے کا نام بھی درج کرنا ہوگا
      علامتی تصویر ۔


      دیگراسکالرشپ۔گریجویٹ طلبہ کے لیے فلبرائٹ فارن اسٹوڈینٹ پروگرام جیسی اسکالرشپ کی حیثیت امریکہ میں مطالعے کی معاونت کے لیے مکمل وظیفے کی ہوتی ہے۔ ہر سال قریب 4 ہزار غیر ملکی طلبہ فلبرائٹ اسکالر شپ حاصل کرتے ہیں۔ امریکہ میں کل وقتی گریجویٹ یا پوسٹ ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کرنے والی غیر امریکی خواتین(جو پیشہ ورانہ کریئر کی خاطر اپنے آبائی ملک واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں)  کے لیےامیریکن ایسوسی ایشن آف یونیورسٹی وومن فیلو شپ فراہم کرتا ہے۔ آغا خان فاؤنڈیشن کا انٹرنیشنل اسکالر شپ پروگرام امریکہ سمیت متعدد ممالک میں گریجویٹ تعلیم حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کرنے والے بھارتی طلبہ کی درخواستیں قبول کرتا ہے۔اگرچہ فاؤنڈیشن گریجویٹ تعلیم کے لیے اسکالرشپ کی درخواستوں کو ترجیح دیتا ہے لیکن یہ ان طلبہ کی پی ایچ ڈی پروگراموں کے لیے درخواستوں پر بھی غور کرتا ہے، ڈاکٹریٹ کی تعلیم کے لیے جن کے پروفیسر انتہائی سفارشات کرتے ہیں اورجنہیں اپنے تعلیمی یا تحقیق پر مبنی کریئر کے مقاصد کی تکمیل کے لیے  پی ایچ ڈی کی ضرورت ہوتی ہے۔

      اسسٹنٹ شپ۔لافی ایٹ میں واقع  یونیورسٹی آف لوسیانا گریجویٹ اسسٹنٹ شپ کو ’’گریجویٹ طلبہ کی خاطر تنخواہ یاب طلبہ کے لیے ملازمت کا موقع‘‘قرار دیتی ہے جہاں ملازم طلبہ کچھ مخصوص گھنٹوں کے لیے کام کرتے ہیں اور اپنے خرچ کے لیے وظیفہ اور ٹیوشن میں رعایت حاصل کرتے ہیں۔ تدریسی معاون جہاں اکثر تدریسی برادری کا لازمی حصہ ہوتے ہیں وہیں یہ مہارتوں کو فروغ دینے کا ایک بہترین طریقہ بھی ہیں۔

      فیلوشپ کی خاطر اپنے مطالعے کے لیے درخواست دیتے اور بجٹ تیار کرتے وقت اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ مطلوبہ تمام اہلیتوں کا علم رکھتے ہیں اور وظیفہ جن اشیا کا احاطہ کرتا ہے اس سے بھی واقفیت رکھتے ہیں۔ طلبہ اکثرموسم سرما اور موسم گرما کے سمسٹر کے لیے تیار نہیں رہتے جس کے دوران شاید گرانٹ اور فیلوشپ نہیں دی جاتی ہو۔

      مالی طور پر تیار ہونے کا مطلب یہ سمجھنا ہے کہ گرانٹس اور اسکالر شپ  کیسے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ یونیورسٹیاں اکثر مختلف فنڈز کی خاطر  درخواستیں طلب کرنے کے لیے معلومات فراہم کرتی ہیں۔ اپنا اندراج کر کے یونیورسٹی اور گرانٹس آفس سے دی جانے والی معلومات پر نظر رکھیں۔آپ کے ڈیپارٹمنٹ گریجویٹ کوآرڈینیٹر عام طور پر کار آمد معلومات کا ایک بڑا ذریعہ ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو شعبے سے متعلقہ امور کے بارے میں اطلاعات بھیجتے ہیں ،لہٰذا عہدوں کے بارے میں، خاص طور پر تحقیق اور تدریسی معاونین سے متعلق عہدوں کے بارے میں سب سے پہلے انہیں ہی خبر ہوتی ہے۔ بہت سی امریکی یونیورسٹیاں بین الاقوامی طلبہ کے لیے فراخدلی سے مالی اعانت فراہم کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر یو ایس نیوز کے مطابق ریاست ایریزونا کے شہر ٹیمپی میں واقع ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی نے 2020 ۔ 2019 تعلیمی سال میں 2803 بین الاقوامی طلبہ کو اوسطاََ 4737 ڈالر کی مالی امداد فراہم کی۔ اہم چیزیہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ تحقیق کی جائے اور مالی اعانت دینے والے افسران کے ساتھ بات کی جائے ۔ زیادہ تر اسکول طلبہ سے بات کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ بس آپ کو پہلا قدم اٹھاناہے اور ملاقات کا وقت مقرر کرنا ہے۔

      بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: