ہوم » نیوز » Explained

Explained: کیا ہے بلیو اکنامی ، جس کو لے کر دنیا بھر کے ملکوں میں ہوڑ مچی ہے ؟

سال 2010 میں آئے لفظ بلیو اکنامی نے چین کو بوکھلا کر ردکھ دیا ہے ۔ وہ سمندری راستوں پر قبضہ کرکے دنیا کا لیڈر بننے کی کوشش میں ہے ۔ ہندوستان میں بھی اس معیشت پر زور دیا جارہا ہے ۔

  • Share this:
Explained: کیا ہے بلیو اکنامی ، جس کو لے کر دنیا بھر کے ملکوں میں ہوڑ مچی ہے ؟
Explained: کیا ہے بلیو اکنامی ، جس کو لے کر دنیا بھر کے ملکوں میں ہوڑ مچی ہے ؟ (pixnio)

وزیر اعظم نریندر مودی مسلسل ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے کی بات کررہے ہیں ۔ اسی سلسلہ میں انہوں نے ملک کو بلیو اکنامی میں آگے بڑھانے کی سوچ پیش کی ہے ۔ وزیر اعظم مودی کا ماننا ہے کہ وہی ملک ورلڈ لیڈر بنے گا ، جس کی بلیو اکنامی مضبوط ہوگی ۔ تو کیا ہے یہ بلیو اکنامی ؟ یہ اصل میں سمندر کے ذریعہ کاروبار ہے ۔ آنے والے وقت میں وہی ملک راج کرے گا ، جو اس معاملہ میں سب سے آگے ہوگا ۔


بلیو اکنامی لفظ زیادہ پرانا نہیں ہے ، بلکہ آج سے دہائی بھر پہلے ہی یہ لفاظ وجود میں آیا ۔ بیلجیئم کاروباری اوررائٹر گنٹیر پالی نے اس لفظ کی تلاش کی تھی ۔ بعد میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں استعمال کیا جانے لگا اور اس کے بعد سے یہ مسلسل استعمال ہورہا ہے ۔ حالانکہ یہ لفظ نیا ہے ، لیکن اس لفظ کا جو مطلب ہے وہ سینکڑوں سالوں سے چلا آرہا ہے ۔


صدیوں سے کاروباری ایک دوسرے ملک جاکر سمندر کے ذریعہ کاروبار کرتے رہے ہیں ۔ تب ہوائی جہاز نہیں تھے اور نہ ہی سڑک راستے سے دنیا مربوط تھی ۔ ایسے میں کاروبار کا ایک واحد اور سب سے مضبوط ذریعہ سمندر ہی تھا ۔


 بلیو اکنامی کو مزید تقویت بخشنے کی بات ہورہی ہے ۔ (pixabay)
بلیو اکنامی کو مزید تقویت بخشنے کی بات ہورہی ہے ۔ (pixabay)


آج بھی اس بندوبست سے دنیا کو سالانہ تین اعشاریہ چھ ٹریلین ڈالر کا فائدہ ہورہا ہے ۔ ساتھ ہی 150 ملین سے زیادہ نوکریاں بلیو اکنامی کی وجہ سے پیدا ہورہی ہے ۔ یو این ڈیولپمنٹ پروگرام نے یہ اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے سمندری کاروبار کی اہمیت کو حال ہی میں بیان کیا تھا ۔

اب اسی بلیو اکنامی کو مزید تقویت بخشنے کی بات ہورہی ہے ۔ مودی حکومت کی وزیر خزانہ نرملا سیتامن نے بھی عام بجٹ میں بلیو اکنامی کو مضبوط کرنے کی بات کی تھی ۔ اس کے تحت معیشت سمندری شعبہ پر مبنی ہوتی ہے ، جس میں ماحولیات کے تحفظ کو دھیان میں رکھتے ہوئے بزنس ماڈل تیار کئے جاتے ہیں ۔ یہ اس طرح کے ہوتے ہیں کہ آبی راستوں سے زیادہ کاروبار ہوسکے ۔ اس کیلئے سمندر میں چھوٹے راستے بنائے جاتے ہیں تاکہ وقت اور پیسہ کی بچت ہوسکے ۔

بلیو اکنامی میں صرف سمندری راستے سے کاروبار کرنا ہی شامل نہیں ہے ، بلکہ اس کے تحت سمندری اشیا کا کاروبار بھی ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر سمندر کی تہہ میں بہت سی قیمتی معدنیات موجود ہیں ۔ ان کی کان کنی اور فروخت ملک کو بہت آگے لے جاسکتی ہے ۔ سمندری مصنوعات میں مچھلی اور دیگر سمندری مخلوقات شامل ہیں ، جن کا کاروبار کیا جاتا ہے۔ ان کی پرورش اور افزائش پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔

سمندر کے راستے جہازوں کی آمد و رفت سے آلودگی ہوتی ہے اور ایندھن کے پانی میں ملنے سے پانی آلودہ ہوجاتا ہے ۔(pixabay)
سمندر کے راستے جہازوں کی آمد و رفت سے آلودگی ہوتی ہے اور ایندھن کے پانی میں ملنے سے پانی آلودہ ہوجاتا ہے ۔(pixabay)


سمندر کے راستے جہازوں کی آمد و رفت سے آلودگی ہوتی ہے اور ایندھن کے پانی میں ملنے سے پانی آلودہ ہوجاتا ہے ۔ ماضی میں ایسے کئی واقعات پیش آئے جب سمندر میں تیل مل جانے کی وجہ سے سینکروں میل دور تک کا پانی آلودہ ہوگیا اور آبی مخلوقات مرنے لگیں ۔ یعنی بلیو اکنامی سے کہیں نہ کہیں سمندری مخلوقات اور ماحولیات کو خطرہ پیدا ہوسکتا ہے ۔ اب آلودگی پر قابو پانے پر بھی کام کیا جارہا ہے ، جس کو بلیو گروتھ کہا جارہا ہے ۔ اس کے ذریعہ وسائل کی کمی اور فضلہ کو ضائع کرنے کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

سمندر میں بڑے مال بردار جہازوں کے ذریعہ بڑی مقدار میں سامان ایک ملک سے دوسرے ملک میں پہنچائے جاسکتے ہیں ، لیکن اس کے لئے سمندر میں اس طرح کا انفراسٹرکچر تیار کرنا ہوگا ، جو ماحولیات کو کم سے کم نقصان پہنچائے ۔ فی الحال ملک میں اس پر کافی کام ہو رہے ہیں ۔ بتادیں کہ ملک کی کل تجارت کا 90 فیصد حصہ سمندری راستے سے ہی ہو رہا ہے ۔ ایسی صورتحال میں بلیو گروتھ کے تحت ماحولیات پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے ۔

 ملک کی کل تجارت کا 90 فیصد حصہ سمندری راستے سے ہی ہو رہا ہے ۔(pixabay)
ملک کی کل تجارت کا 90 فیصد حصہ سمندری راستے سے ہی ہو رہا ہے ۔(pixabay)


ادھر بلیو اکنامی کے فائدوں سے چین بھی لاعلم نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسلسل ساوتھ چائنا سی پر قبضہ کرنے کی کوشش میں ہے ۔ ساوتھ چائنا سی کئی ممالک سے مربوط ہونے کی وجہ سے کافی اہم ہے ۔ اس کو دنیا کے کچھ سب سے زیادہ مصروف آبی گزرگاہوں میں سے ایک مانا جاتا ہے ۔ اسی راستہ سے ہر سال پانچ ٹریلین ڈالر قیمت کا انٹرنیشنل کاروبار ہوتا ہے ۔ یہ دنیا کے کل سمندری کاروبار کا 20 فیصد ہے ۔ اس کے ذریعہ چین الگ الگ ممالک تک کاروبار میں سب سے آگے جانا چاہتا ہے ۔

سب سے زیادہ تنازع پارسل آئس لینڈ  کو لے کر ہے ۔ یہ حصہ خام تیل اور قدرتی گیس کا ذخیرہ ہے ۔ ساتھ ہی تقریبا 35 لاکھ مربع کلو میٹر پر محیط اس سمندر میں مونگے اور سمندری مخلوقات کی بھرمار ہے ۔ یہاں اتنی قسم کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں کہ دنیا بھر میں مچھلی کاروبار کی تقریبا آدھی سپلائی یہیں سے ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ چین اس کو بھی ہڑپنا چاہتا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 30, 2021 01:19 PM IST