ہوم » نیوز » Explained

Explained: جانئے آخر پاکستان پر کتنا ہے قرض اور کیا ہے اس کی وجہ

کل قرض کو پاکستان کی 21.66 کروڑ کی آبادی پر برابر تقسیم کیا جائے تو وہاں کے ہر ایک شہری پر کل ایک لاکھ 75 ہزار روپے کا قرض ہے ۔

  • Share this:
Explained: جانئے آخر پاکستان پر کتنا ہے قرض اور کیا ہے اس کی وجہ
Explained: جانئے آخر پاکستان پر کتنا ہے قرض اور کیا ہے اس کی وجہ ۔ (flickr)

اقتصادی بدحالی جھیل رہے پاکستان پر اب ایک اور تلوار لٹک رہی ہے ۔ دراصل متحدہ عرب امارات ( یو اے ای) نے پاکستان سے قرض کے ایک ارب ڈالر فورا لوٹانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اس سے پہلے سعودی عرب نے بھی پاکستان کو اپنے پیسے لوٹانے کیلئے کہا تھا ، تب چین نے پاکستان کی مدد کی تھی ۔ پاکستان کے ساتھ عمران حکومت کے وقت میں یہ عام بات ہوگئی ہے کہ وہ ایک ملک کا قرض ادا کرنے کیلئے دوسرے ملک کی مدد لے رہا ہے ۔


سال 2019 کے 31 دسمبر تک پاکستان پر تقریبا 40.94  ٹریلین روپے کا قرض ہوچکا تھا ۔ یہ بڑھتے ہوئے اب تقریبا 45 ٹریلین روپے کا ہوچکا ہے ۔ یہ انکشاف سینٹرل بینک آف پاکستان نے کیا تھا ۔ خود پاکستانی وزارت خزانہ کی رپورٹ اس کا اشارہ دیتی ہے ۔ حال ہی میں پارلیمنٹ میں حکومت نے اس بات کی جانکاری دی کہ ملک پر کل قرض کتنا ہے ۔ اس کو اگر پاکستان کی 21.66  کروڑ کی آبادی پر برابر تقسیم کیا جائے تو ہر ایک پاکستانی شہری پر ایک لاکھ 75 ہزار روپے کا قرض ہے ۔


ہر ایک پاکستانی شہری پر ایک لاکھ 75 ہزار روپے کا قرض ہے ۔ (pixabay)
ہر ایک پاکستانی شہری پر ایک لاکھ 75 ہزار روپے کا قرض ہے ۔ (pixabay)


عمران حکومت کے دوران کتنا بڑھا قرض

پاکستانی اخبار دی ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق اس قرض میں عمران سرکار کی حصہ داری 46 فیصدی ہے ۔ یعنی کل قرض میں 46 فیصدی قرض صرف عمران حکومت کی مدت کار میں بڑھا ۔ اس سے پہلے بھی پاکستان کے حالات کچھ بہتر نہیں تھے ، لیکن گزشتہ سالوں میں یہ مزید خراب ہوگئے ہیں ۔ اس کی ایک وجہ کورونا وبا کو بھی مانا جارہا ہے ۔ حالانکہ پاکستان میں غربت کا حوالہ دیتے ہوئے اور ممالک کے مقابلہ میں بہت کم وقت کیلئے لاک ڈاون لاگو ہوا ، لیکن تب بھی اس کا اثر معیشت پر دیکھنے کو ملا ۔

اب سرکار اپنے ہی ملک میں گھر رہی ہے

خود وہاں کے وزیر خزانہ نے یہ اعتراف کیا ہے کہ سرکار نے ایف آر ڈی ایل ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہے ۔ یہ ایکٹ سال 2005 میں پاس کیا گیا تھا ۔ اس قانون کے تحت سرکار کا مالیاتی خسارہ قومی معیشت کا چار فیصدی سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے جبکہ عمران حکومت کے دوران یہ خسارہ جی ڈی پی کا 8.6 فیصد رہا جو کہ دوگنے سے بھی زیادہ ہے ۔

پاکستان میں غربت کا حوالہ دیتے ہوئے اور ممالک کے مقابلہ میں بہت کم وقت کیلئے لاک ڈاون لاگو ہوا ، لیکن تب بھی اس کا اثر معیشت پر دیکھنے کو ملا ۔ (pixabay)
پاکستان میں غربت کا حوالہ دیتے ہوئے اور ممالک کے مقابلہ میں بہت کم وقت کیلئے لاک ڈاون لاگو ہوا ، لیکن تب بھی اس کا اثر معیشت پر دیکھنے کو ملا ۔ (pixabay)


نہیں دی جارہی پوری معلومات

مالی پالیسی کے تحت افسران کو یہ ہدایت رہتی ہے کہ اگر قرض سر سے اوپر جانے لگے تو فورا عوام کو بھی اس کی جانکاری دی جائے ۔ تاکہ وہ معیشت میں بہتری کیلئے اپنی سطح پر کوشش کرسکیں ۔ حالانکہ موجودہ سرکار نے اس بات کی جانکاری دینے سے بھی پرہیز کیا اور کافی مختصر رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ۔ دی ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق رپورٹ میں زیادہ تر اعداد و شمار غائب تھے کہ قرض کیوں لیا گیا اور اب تک وہ ادا کیوں نہیں کیا گیا ۔

گزشتہ سالوں میں قرض کتنا بڑھا

ایک مرتبہ یہ بھی سمجھ لیتے ہیں کہ عمران حکومت سے پہلے پاکستان پر کل قرض کتنا تھا ۔ سال 2018 کے وسط میں پاکستان کا کل قرض 24.9  ٹریلین روپے تھا ۔ اس کو آبادی میں فی کس تقسیم کریں تو یہ تقریبا ایک لاکھ 20 ہزار روپے ہوتا ہے ۔ یہ قرض گزشتہ دو سالوں میں بڑھ کر فی کس ایک لاکھ 75 ہزار ہوچکا ہے ۔

کئی ملک مسلسل اپنے قرض کی ادائیگی کا مطالبہ کرنے لگے ہیں ۔ (pixabay)


نیلامی تک جاچکے ہیں حالات

حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ کئی ملک مسلسل اپنے قرض کی ادائیگی کا مطالبہ کرنے لگے ہیں اور دباو بڑھنے پر ان کا قرض ادا کرنے کیلئے پاکستانی حکومت کسی اور ملک یا ادارہ سے قرض لے رہی ہے ۔ حال ہی میں بات بیرون ممالک میں موجود پاکستانی جائیداد کی نیلامی تک پہنچ گئی تھی ۔ دراصل پاکستان نے اپنے یہاں کی سونے کی کانوں میں مائننگ کیلئے دیگر مملک کی مائننگ کمپنیوں سے معاہدہ کیا تھا ، لیکن بعد میں پاکستان کا ارادہ بدل گیا اور اس نے میعاد پوری ہونے سے پہلے ہی سمجھوتہ رد کردیا ، جس کی وجہ سے کمپنیوں نے عدالت میں کیس دائر کردیا ۔ پاکستان وہ کیس ہار چکا ہے ۔

لٹک رہی ہے یہ بڑی تلوار

عدالت مائننگ کمپنیوں کو ہوئے نقصان کی تلافی کیلئے پاکستان کو پیسہ ادا کرنے کیلئے کہہ رہی ہے ۔ یہ معاوضہ ساڑھے آٹھ ارب ڈالر ہے ۔ اگر پاکستان یہ نہیں کرسکا تو بیرون ممالک موجود اس کے عالیشان ہوٹل وغیرہ نیلام ہوسکتے ہیں ۔ نیلامی کو روکنے کیلئے عمران حکومت کو کافی زور لگانا ہوگا یا پھر عدالت کی طے کی ہوئی جرمانہ کی رقم دینی ہوگی ۔ فی الحال عمران حکومت کی مالی حالت پہلے ہی خراب ہے اور اس پر جرمانہ کی رقم بھی پاکستان کی جی ڈی پی کا تقریبا دو فیصد ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 13, 2021 09:48 PM IST