ہوم » نیوز » Explained

ویکسین لینا کتنا ضروری اور کون ٹیکہ لگوا سکتا ہے، یہاں جانیں تمام تر تفصیلات

لوگوں کو ٹیکہ لگانے کی مہم پوری دنیا می چلائی گئی ہے اور یہ امید کی جاتی ہے کہ یہ وائرس پر لگام لگائے گا۔

  • Share this:
ویکسین لینا کتنا ضروری اور کون ٹیکہ لگوا سکتا ہے، یہاں جانیں تمام تر تفصیلات
کوون ایپ (CoWin App) پر رجسٹریشن کرنے کا عمل شروع تو ہوا لیکن رجسٹریشن ہوتے ہی ایپ کا سرورس ڈاؤن ہو گیا ہے۔

دنیا کو سال 2020 میں SARS COV 2 کے طور پر بہت ہی خطرناک بیماری کا سامنا کرنا پڑا جس نے پوری دنیا کو تباہ کرکے رکھا ہے۔ لوگوں کو جسمانی، دماغی و ذہنی اور جذباتی ہر طرح سے اس بیماری نے جھٹکا دیا ہے۔ اس کیلئے کئی طرح کے علاج آزمائے گئے ہیں پر کچھ بھی ٹھیک ثابت نہیں ہوا ہے۔ لوگوں کو ٹیکہ لگانے کی مہم پوری دنیا می چلائی گئی ہے اور یہ امید کی جاتی ہے کہ یہ وائرس پر لگام لگائے گا۔ اس وائرس کی اپنی کوئی سیل (cell) نہیں ہوتی ہے اس لئے وہ جس کے جسم میں داخل ہوتا ہے اسی کے جسم کی مدد لیکر پھیلتا ہے۔ ٹیکہ ہمارے جسم کو اس وائرس کو پہچاننے اور اس کو مارنے کیلئے ضروری اینٹی باڈی بنانے کی صلاحیت دیتا ہے جو اس کے پھیلاؤ پر بھی روک لگاتا ہے۔ ہندستان میں اس وقت دو طرح کی ویکسین دستیا ب ہیں۔ کوویکسین (COVAXIN) اور کووی شیلڈ (COVISHIELD) ہم یہاں ویکسین کے بارے میں کچ ھعام سوالوں کے جواب دے رہے ہیں۔


کیا ویکسین لینا ضروری ہے؟

کوئی بھی علاج یا ٹیکہ کاری ضروری نہیں ہوتی۔ یہ کسی شخص کا نجی فیصلہ ہو سکتا ہے پر لوگوں کو ٹیکہ لگوانے کی صلاح دی جاتی ہے کیونکہ یہ آپ کے جسم کو واےر سے لڑنے میں صلاحیت دیتا ہے اور اگر زیادہ لوگ ٹیکہ لگوائیں گے تو اس کے پھیلاؤ پر روک لگ پائے گی۔


ٹیکہ کون لگوا سکتا ہے
18 سے زیادہ عمر کا کوئی بھی شخص ابھی دو سے 18 کی عمر کیلئے ٹیکے کا ٹرائل ہو رہا ہے اور جلد ہی اس عمر گروپ کے لئے بھی دستیاب ہوجائے گا۔

ابھی تک حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کے لئے ٹیکہ محفوظ ہے کہ یا نہیں اس بارے میں پختہ جانکاری نہیں ہے۔
جن لوگوں کو ذیابیطس ، ہائی بلڈ پریشر ، کینسر ، دل کی بیماری ، گردوں کی بیماری ، جگر (لیور کی بیماری) ، تھائیرائڈ ، امیونوس پریسو جیسی بیماری ہوتی ہے ان کو یہ ویکسین ضرور لینا چاہئے کیونکہ ان پر زیادہ خطرہ ہے۔ حالانکہ ایسے لوگوں کو ویکسین لیتے وقت وہاں بتانا جانا چاہئے اور یہ بھی کہ وہ کیا دوائیں لے رہے ہیں۔

ٹیکہ کون نہیں لے سکتا؟
اگر کسی شخص کو کسی دوا سے الرجی ہے تو اسے ٹیکہ لگواتے وقت اس بات کی جانکاری ہیلتھ افسر کو دینی چاہئے۔
جس شخص کو ٹیکے کی پہلی خوراک سے الرجی ہوئی اسے اس کی دوسری خوراک نہیں لینی چاہئے
ایسے لوگ جو بخار ، کھانسی ، نزلہ ، بخار وغیرہ سے دوچار ہیں وہ اس وقت تک ویکسین نہیں لیں جب تک کہ وہ مکمل طور پر ٹھیک نہ ہوجائے۔
جن لوگوں کو خون میں بہاؤ میں گڑبڑی ہے جیسے کہ جسم میں پلیٹلیٹ کا کم ہونا یا اگر وہ کوئی ایسی دوا لے رہے ہیں جو خون کو پتلا کرتا ہے تو انہیں اس بارے میں ٹیکہ لینے کے پہلے ہیلتھ افسر کو بتانا چاہئے۔

کون سا ٹیکہ ہے بہتر۔۔۔



کوئی ویکسین دوسرے سے بہتر نہیں ہے۔ دونوں ویکسین جب اتنب ہی موثر اور محفوظ ہیں۔
Published by: Sana Naeem
First published: May 27, 2021 07:31 PM IST