உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    EXPLAINED: کتنے وقت کے لئے معطل ہوسکتے ہیں ارکان اسمبلی، جانیے کیا کہتے ہوئے رولس

    EXPLAINED: کتنے وقت کے لئے معطل ہوسکتے ہیں ارکان اسمبلی، جانیے کیا کہتے ہوئے رولس

    EXPLAINED: کتنے وقت کے لئے معطل ہوسکتے ہیں ارکان اسمبلی، جانیے کیا کہتے ہوئے رولس

    رولس 255 اور 256 کے تحت راجیہ سبھا مین زیادہ سے زیادہ معطلی سیشن کے بچے ہوئے وقت سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ اسی طرح کے رولس اسمبلیوں اور قانون ساز کونسلوں کے لئے بھی لاگو ہیں، جن میں زیادہ سے زیادہ معطلی سیشن کے بچے ہوئے وقت سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: مہاراشٹر اسمبلی (Maharashtra Assembly) سے بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے 12 ارکان اسمبلی کو ایک سال کے لئے معطل کرنے کو سپریم کورٹ میں پہلی نظر میں غیر آئینی بتایا تھا۔ ساتھ ہی کہا تھا کہ یہ ’معطلی‘ سے بھی زیادہ برا ہے۔ معاملے پر اگلی سنوائی 18 جنوری کو ہونی ہے۔ معطل ہوئے ارکان اسمبلی نے پچھلے سال عدالت عظمیٰ میں ایک رٹ داخل کی تھی، جس میں معطلی کو ختم کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ ایک ایم ایل اے کو آخر کتنے وقت کے لئے معطل کیا جاسکتا ہے۔ اسے تفصیل سے سمجھتے ہیں۔

      منگل کو ہوئی سماعت میں جسٹس اے ایم کھانویلکر، دنیش ماہیشوری اور سی ٹی روی کمار کی بنچ میں معطلی کی مدت کو لے کر سماعت ہوئی۔ بنچ کا کہنا ہے کہ اگر منتخب کیے گئے ارکان اسمبلی کے حلقہ اسمبلی کو اسمبلی میں پورے سال نمائندگی نہیں ملی، تو اس سے آئین کے بنیادی ڈھانچے پر اثر پڑے گا۔ بنچ نے آئین کے آرٹیکل 190(4) کا ذکر کیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ، ’اگر ریاست کے اسمبلی کا کوئی رکن ایوان کی اجازت کے بغیر 60 دنوں کی مدت کے لئے سبھی میٹنگوں سے غیر حاضر رہتا ہے، تو ایان اُس کی سیٹ کو خالی قرار دے سکتی ہے۔‘

      اس کے علاوہ دا ری پریزنٹیشن آف دی پیوپل ایکٹ 1951 کی دفعہ 151(A) میں کہا گیا ہے کہ خالی عہدہ ہونے کے 6 مہینوں کے اندر ضمنی انتخاب کرائے جانے چاہیے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس دفعہ میں شامل مستثنیات کو چھوڑ کر، کوئی بھی علاقہ 6 ماہ سے زیادہ نمائندے کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ ایک سال کی معطلی پہلی نظر میں غیر اائینی ہے، کیونکہ اس نے 6 مہینے کی معیاد پار کرلی ہے۔ ساتھ ہی اسے ’صرف رکن ہی نہیں، بلکہ پورے اسمبلی حلقے کو سزا دینے‘ کی طرح مانا گیا تھا۔

      کیا کہتے ہیں رولس
      Rules of Procedure and Conduct of Business in Lok Sabha کے رول 373,374 اور 374A میں ایوان کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے اور جان بوجھ کر کام میں رکاوٹ ڈالنے والے کو 'انتہائی بے ترتیب' طرز عمل پر رکن کو ہٹانے اور معطل کرنے کا پروویژن ہے۔ ان رولس کے مطابق، زیادہ سے زیادہ معطلی 5 لگاتار میٹینگوں یا بچے ہوئے سیشن تک ہوسکتی ہے۔

      رولس 255 اور 256 کے تحت راجیہ سبھا مین زیادہ سے زیادہ معطلی سیشن کے بچے ہوئے وقت سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ اسی طرح کے رولس اسمبلیوں اور قانون ساز کونسلوں کے لئے بھی لاگو ہیں، جن میں زیادہ سے زیادہ معطلی سیشن کے بچے ہوئے وقت سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔

      کیا تھا معاملہ
      5 جولائی 2021 کو دو دنوں کے مانسون سیشن کے دوران ریاستی وزیر چھگن بھجبل (این سی پی) نے ایک تجویز رکھنے کی کوشش کی، جس پر اپوزیشن کے لیڈر دیویندر فڈنویس (بی جے پی) نے اعتراض ظاہر کیا۔ اس کے بعد سے ایوان میں ہنگامہ مچ گیا۔ بی جے پی کے کئی ارکان اسمبلی نے ایوان میں جم کر ہنگامہ کیا۔ اس دوران انہوں نے مائیک بھی اکھاڑ دئیے۔ پریذائیڈنگ آفیسر اور شیوسینا ایم ایل اے بھاسکر جادھو نے ایوان کی کارروائی 10 منٹ کے لیے ملتوی کر دی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کے بعد بی جے پی کے کچھ ایم ایل اے مبینہ طور پر ان کے کمرے میں پہنچے اور انہیں دھمکیاں دیں اور بدتمیزی کی۔

      اس کے بعد مہاراشٹر کے پارلیمانی امور کے وزیر انیل پرب نے 12 بی جے پی ارکان اسمبلی کو معطل کرنے کی تجویز پیش کی۔ معطل کیے گئے 12 بی جے پی ارکان اسمبلی سنجے کوٹے، اشیش شیلار، ابھیمنیو پوار، گریش مہاجن، اتول بھات کھالکر، پراگ الوانی، ہریش پمپلے، یوگیش ساگر، جئے کمار راول، نارائن کوچے، رام ست پوتے اور بنٹی بھانگڑیا ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: