உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Maharashtra Political Crisis:پچھلے 15 دن کی صورتحال سے جانیے مہاراشٹر حکومت پر خطرہ کیوں؟ سمجھیں سیٹوں کا حساب

    مہاراشٹر میں شیوسینا، این سی پی اور کانگریس اتحاد والی حکومت ہے۔

    مہاراشٹر میں شیوسینا، این سی پی اور کانگریس اتحاد والی حکومت ہے۔

    این ڈی اے کے پاس فی الحال 113 ایم ایل اے ہیں۔ اسے اکثریت حاصل کرنے کے لیے 32 ایم ایل ایز کی حمایت درکار ہوگی۔ اگر بی جے پی لیڈر راؤ صاحب دانوے کے دعووں کو سچ مان لیا جائے تو این ڈی اے کے ساتھ ایم ایل اے کی تعداد 138 تک پہنچ جاتی ہے۔ یعنی اب بھی بی جے پی اتحاد اکثریت سے دور ہے۔

    • Share this:
      ممبئی: ہندوستان میں، جس وقت لوگ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے بارے میں بحث کر رہے تھے، ملک کے کچھ دوسرے حصوں میں بھی سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر تھیں۔ جہاں کرناٹک میں حجاب کا تنازعہ گرم تھا، وہیں گجرات میں نصاب کی تبدیلی اور دیگر مسائل کی وجہ سے سیاسی جوش برقرار رہا۔ ایک اور ریاست مہاراشٹر میں گزشتہ دو ماہ سے بی جے پی 10 مارچ کے بعد سیاسی زلزلے کی وارننگ دے رہی تھی۔ بی جے پی کے ریاستی صدر چندرکانت پاٹل کے ان بیانات کا ابتدا میں حکمراں مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) میں شامل شیوسینا، این سی پی اور کانگریس نے مذاق اڑانے کی کوشش کی، لیکن جیسے ہی یوپی، اتراکھنڈ، پنجاب، منی پور اور پڑوسی ریاست گوا کے انتخابی نتائج سامنے آئے۔ ویسے ہی اس اتحاد کے خدشات بڑھ گئے۔
      مہاراشٹر میں 15 دن کے وہ واقعات، جن سے MVA میں نظر آنے لگی دراڑ!

      1. جب کانگریس نے اٹھائی اتحاد کے خلاف آواز
      10 مارچ کو گوا اسمبلی انتخابات کے نتائج سے کانگریس سب سے زیادہ متاثر ہوئی تھی۔ نتیجہ آنے کے بعد مہاراشٹر کانگریس کے رہنما نانا پٹولے نے دعویٰ کیا کہ 2024 میں کانگریس کا ہی مہاراشٹر میں وزیر اعلیٰ ہوگا۔ ان کے اس بیان کے بعد یہ قیاس لگایا جا رہا ہے کہ کانگریس مہاراشٹر میں ایم وی اے سے الگ ہو کر الیکشن لڑ سکتی ہے۔

      اتحاد میں دراڑ کا اگلا نشان 18 مارچ 2022 کو آتا ہے۔ اس دن مرکزی وزیر مملکت راؤ صاحب دانوے نے دعویٰ کیا کہ مہاویکاس اگھاڑی کے 25 ایم ایل اے بی جے پی کے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ پارٹی کے کن لیڈروں نے ان سے رابطہ کیا تھا، لیکن دانوے نے دعویٰ کیا کہ ایم وی اے حکومت میں نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے یہ سبھی لیڈر ناراض تھے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Azam Khanکو بڑا جھٹکا، آج نہیں لے پائیں گے حلف، عدالت نے اسمبلی میں جانے کی نہیں دی اجازت

      2. حکومت کی قیادت کررہی شیوسینا نے بھی ظاہر کی ناراضگی
      ایسا نہیں ہے کہ مہاوکاس اگھاڑی اتحاد کے درمیان یہ دراڑ صرف کانگریس کی وجہ سے ہوئی ہے۔ سی ایم کا عہدہ رکھنے کے باوجود ادھو ٹھاکرے کی پارٹی کو بھی اتحاد میں دوسرا درجہ ملنے کی شکایت رہی ہے۔ یہ شکایت اعلیٰ قیادت سے نہیں آئی ہے بلکہ ایم پی سے لے کر ایم ایل اے تک اس معاملے پر بیان دے چکے ہیں۔ اس عدم اطمینان کی عکاسی کرتے ہوئے، یہ بیان 22 مارچ 2022 کو آیا، جب شیو سینا کے ایم پی شرینگ بارنے نے دعویٰ کیا کہ مہاراشٹر حکومت میں سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والی پارٹی شرد پوار کی این سی پی تھی۔ انہوں نے کہا کہ شیوسینا لیڈر ہونے کے باوجود امتیازی سلوک کا سامنا کر رہی ہے۔ بارنے نے الزام لگایا تھا کہ این سی پی لیڈروں نے انہیں اپنی لوک سبھا سیٹ چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا تاکہ اجیت پوار کے بیٹے پارتھ پوار کو اس سیٹ سے لڑایا جا سکے۔ بارنے نے کہا کہ انہیں کہا گیا تھا کہ اس کے بجائے انہیں راجیہ سبھا بھیجنے کی بات کہی گئی تھی۔

      دو دن پہلے یعنی 28 مارچ کو شیوسینا کے ایم ایل اے تانا جی ساونت نے ایک پروگرام کے دوران کچھ ایسا ہی بیان دیا۔ اس میں ساونت نے کہا کہ شیوسینا کے تمام سینئر لیڈروں کی ایک ہی رائے ہے کہ حکومت میں پارٹی کے ساتھ دوسرے درجے کا سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ پارٹی کو تمام جگہوں پر نظر انداز کیا جا رہا ہے، چاہے وہ کونکن خطہ ہو یا مغربی مہاراشٹر، مراٹھواڑہ ہو یا ودربھ اور یہ ریاست کے بجٹ میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ غور طلب ہے کہ مہاراشٹر کا بجٹ این سی پی لیڈر اور وزیر خزانہ اجیت پوار نے پیش کیا تھا، جس کے بارے میں شیو سینا ماضی میں کئی تند و تیز بیانات دے چکی ہے۔ ساونت نے یہاں تک الزام لگایا تھا کہ انہیں کئی گرام پنچایتوں سے فون آتے ہیں کہ این سی پی لیڈروں کی طرف سے تجویز کردہ 1 کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کو منظوری دے دی گئی ہے، جب کہ شیو سینا کے لیڈران اپنے منصوبوں کے نفاذ کا انتظار کرتے رہے۔

      3. اتحاد کے دو ساتھیوں پر این سی پی کا رُخ؟
      مہاویکاس اگھاڑی اتحاد میں جس پارٹی نے اب تک عدم اطمینان کا اظہار نہیں کیا ہے وہ این سی پی ہے۔ پارٹی نے ابھی تک شیو سینا یا کانگریس پر براہ راست کوئی بیان نہیں دیا ہے، لیکن اگر رپورٹوں پر یقین کیا جائے تو، این سی پی کے صدر شرد پوار نے سی ایم ٹھاکرے کے اس منصوبے کے خلاف آواز اٹھائی ہے، جس میں وزیر اعلیٰ نے 300 اراکین اسمبلی کو طلب کیا ہے۔ قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسل کے ارکان کے لئے ممبئی میں مکان بنانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ پوار نے کہا تھا کہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے بات چیت کے بعد لیڈروں کے لیے مکانات بنانے کا فیصلہ لیا ہے، لیکن وہ ذاتی طور پر اس منصوبے کے خلاف ہیں۔
      MVA اتحاد کی مشکلوں پر نیا کیا؟

      1. کانگریس کے 25 ایم ایل اے ناراض، سونیا گاندھی کو لکھا خط
      دراصل کانگریس کے 25 ایم ایل اے اتحاد سے ناراض بتائے جاتے ہیں۔ ان ایم ایل اے نے پارٹی کی قومی صدر سونیا گاندھی کو بھی خط لکھ کر معاملات کو جلد درست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس کے ایک لیڈر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر وزراء اپنے حلقوں میں کام کو نافذ کرنے کے لیے قانون سازوں کی درخواستوں کو نظر انداز کر دیں گے تو پارٹی انتخابات میں کیسے اچھا کام کرے گی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ٹی-20 عالمی کپ میں ہندوستان کی شکست کا جشن منانے والے کشمیری طلبا کو ملی ضمانت

      2. وزیراعلیٰ ٹھاکرے، وزیر پرب کے خلاف سپریم کورٹ پہنچے کانگریس لیڈر
      دوسری طرف کانگریس نے اب اتحاد میں جاری تنازعہ کو ایک قدم آگے لے جانے کا کام کیا ہے۔ 2019 کے اسمبلی انتخابات میں شیوسینا کے دلیپ لانڈے کے خلاف شکست کھانے والے پارٹی لیڈر نسیم خان نے چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے، وزیر ٹرانسپورٹ انیل پرب اور حکومت کے کئی اور لیڈروں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ خان نے الزام لگایا ہے کہ انتخابی مہم کی آخری تاریخ ختم ہونے کے باوجود ان لیڈروں نے 2019 کے اسمبلی انتخابات کے دوران پدیاترا نکالی اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی۔ کانگریس لیڈر کے اپنے ہی اتحادی ساتھی کو اس طرح سے گھیرنے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ آنے والے دن مہاراشٹر حکومت کے لیے بہت مشکل ثابت ہو سکتے ہیں۔

      3.ابھی کیا ہے مہاراشٹر میں سیٹوں کا گٹھ جوڑ؟
      مہاراشٹر سدن میں 288 ارکان کی گنجائش ہے۔ ان میں سے 170 ایم ایل ایز مہاوکاس اگھاڑی اتحاد کے ساتھ ہیں، جب کہ این ڈی اے ایم ایل ایز کی تعداد 113 ہے۔ ایم وی اے بنیادی طور پر تین پارٹیوں شیوسینا (57)، این سی پی (53) اور کانگریس (43) کے زور پر اقتدار میں رہنے میں کامیاب رہی ہے۔ اکیلے ان تینوں جماعتوں کی سیٹوں کی کل تعداد ایم وی اے کو اکثریت کے اعداد و شمار سے آگے رکھتی ہے - 145 سے آٹھ سیٹیں آگے یعنی 153 پر کھڑا کرتی ہے، جب کہ باقی پانچ پارٹیاں اور آٹھ آزاد اتحاد کو مضبوط کرتے ہیں۔

      بی جے پی کے لئے کیا ہے حکومت میں آنے کے مواقع؟
      دوسری طرف، این ڈی اے کے پاس فی الحال 113 ایم ایل اے ہیں۔ اسے اکثریت حاصل کرنے کے لیے 32 ایم ایل ایز کی حمایت درکار ہوگی۔ اگر بی جے پی لیڈر راؤ صاحب دانوے کے دعووں کو سچ مان لیا جائے تو این ڈی اے کے ساتھ ایم ایل اے کی تعداد 138 تک پہنچ جاتی ہے۔ یعنی اب بھی بی جے پی اتحاد اکثریت سے دور ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: