உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Electricity Amendment Bill: کیوں ہورہی مخالفت اور عام صارفین کو کیا ہوگا نقصان؟

    (Electricity Amendment Bill, 2021) کے خلاف کئی تنظیمیں اُٹھا رہی ہیں آواز۔

    (Electricity Amendment Bill, 2021) کے خلاف کئی تنظیمیں اُٹھا رہی ہیں آواز۔

    ابھی تک آپ جو بھی بجلی استعمال کرتے ہیں اُس پر حکومت کی جانب سے سبسڈی جاری کی جاتی ہے۔ یہ سبسڈی سیدھے بجلی کمپنیوں کو ملتی ہے، جس کے بدلے بجلی کمپنیاں سبسڈی کے بعد والے ریٹ پر آپ کا بل جاری کرتی ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ایک طرف حکومت نئے الیکٹریسٹی امینڈمنٹ بل 2021 (Electricity Amendment Bill,2021) کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے جارہی ہے، تو دوسری طرف ملک بھر میں الگ الگ جگہوں پر مظاہرہ کر کے اسے واپس لیے جانے کی اپیل ہورہی ہے۔ مخالفت کرنے والی تمام تنظیمیں اسے عوام مخالف (Anti People)قرار دے رہے ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں اس نئے بل میں آخر کیا ہے، جس کے لئے اس بل کی اتنی مخالفت کی جارہی ہے۔ اس مضمون میں ہم آپ کو اُس کے بارے میں تفصیل سے جانکاری دیں گے۔

      مرکزی حکومت، سرمائی سیشن (Parliament Winter Session) میں اس بل کو پیش کرنے والی ہے۔ اس بل میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بجلی کمپنیوں کو حکومت کی طرف سے کوئی سبسڈی (Electricity Subsidies) نہیں دی جائے گی۔ مطلب یہ ہے کہ اب بجلی کمپنیاں اپنے صارفین سے بجلی کی پوری قیمت وصول کریں گی۔ ابھی تک آپ جو بھی بجلی استعمال کرتے ہیں اُس پر حکومت کی جانب سے سبسڈی جاری کی جاتی ہے۔ یہ سبسڈی سیدھے بجلی کمپنیوں کو ملتی ہے، جس کے بدلے بجلی کمپنیاں سبسڈی کے بعد والے ریٹ پر آپ کا بل جاری کرتی ہیں۔

      اس نئے بل میں کہا گیا ہے کہ حکومت کمپنیوں کو سبسڈی نہ دے کر، اسے گاہکوں کے بینک اکاونٹ میں ڈائریکٹ ٹرانسفر (Direct Benefit Transfer) کرے گی۔ بالکل رسوئی گیس کی سبسڈی کی طرح۔ آپ سے سلینڈر کا پورا پیسہ لیا جاتا ہے اور پھر سرکاری سبسڈی آپ کے بینک اکائونٹ میں آتی ہے۔

      کیسے پڑے گا صارفین پر اس کا اثر؟
      چونکہ اب بجلی بنانے والی کمپنیاں آپ سے بجلی کا پورا پیسہ واپس لیں گی تو ظاہر ہے کہ آپ پر اضافی بوجھ پڑے گا۔ بیشک حکومت بعد میں آپ کو سبسڈی کے طور پر کچھ پیسہ لوٹائے گی مگر ابھی تک یہ پتہ نہیں ہے کہ کن گاہکوں کو سبسڈی ملے گی اور کن کو نہیں؟ کیا اس کے لئے کچھ سلیب بنائے جائیں گے یا کچھ اور ہوگا؟

      نئے قانون سے بجلی کمپنیوں کی لاگت کی بنیاد پر صارفین سے بل وصولنے کی چھوٹ ملے گی۔ اعدادوشمار کے مطابق، ابھی بجلی پروڈکشن کمپنیوں کی لاگت گاہکوں سے وصولے جانے والے بل سے 0.47 روپے فی یونٹ زیادہ ہے، جس کی بھرپائی کمپنیاں سبسڈی سے کرتی ہیں۔ تو اب یہ اضافی بوجھ لوگوں پر پڑنے والا ہے، کیونکہ ابھی تک سبسڈی کیسے اور کسے کسے ملے گی، یہ واضح نہیں ہے۔

      اور کیا کیا ہے اس بل میں؟
      اس بل کے ذریعے بجلی کی تقسیم (Power Distribution)کو ڈی۔لائسنس (D-license)کرنے کی تجویز رکھی جائے گی۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ بجلی تقسیم کے پرائیوٹ پلیئر سرکاری تقسیم کمپنیوں کے ساتھ مسابقت کرپائیں گے۔ اس کے علاوہ، بجلی صارفین یہ انتخاب کرپائیں گے کہ وہ بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں میں سے کس سے بجلی لینا چاہتے ہیں۔ اس کے بارے میں فائنانس منسٹر نرملا سیتارمن (Finance minister Nirmala Sitharaman) نے پچھلے یونین بجٹ میں کہا تھا کہ حکومت ایسا ایک فریم ورک لانے پر کام کررہی ہے۔ بتادیں کہ ان ترامیم پر مہاراشٹر، مغربی بنگال، تمل ناڈو اور کیرل پہلے ہی اعتراض ظاہر کرچکے ہیں۔

      کیا کہتے ہیں مخالفت کرنے والی تنظیمیں
      کرناٹک کے میسور ضلع کی ممبرس آف سوشلسٹ یونیٹی سینٹر آف انڈیا (کمیونسٹ) کی کمیٹی نے اسے عوام مخالف قرار دیا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ’کراس سبسڈی‘تو بہانہ ہے، حکومت اس کے ذریعے سبسڈی ختم کرنا چاہتی ہے۔ کمیٹی نے وزیراعظم نریندر مودی سے اس بل کو لاگو نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ کمیٹی نے اس کے ساتھ ہی مانگ کی ہے کہ عام صارفین پر غیر روایتی توانائی کی پیداوار اور استعمال پر کسی طرح کی پابندی ن ہیں لگنی چاہیے۔ اس کے علاوہ کمیٹی پری پیڈ میٹر (Prepaid meters)لگائے جانے کے حق میں بھی نہیں ہے۔

      آل انڈیا پاور انجینئرس فیڈریشن (All India Power Engineers Federation/AIPEF) نے بھی اسے غریب اور عام لوگوں کا مخالف بل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس دن اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، اُسی دن فیڈریشن سے جڑے 15 لاکھ ملازمین احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔

      حکومت کیوں لارہی ہے یہ بل
      فی الحال کئی بجلی ڈسٹریبیوٹ کرنے والی کمپنیاں نقصان میں ہیں۔ ڈیسکام پر کمپنیوں کا 95 ہزار کروڑ بقایہ ہے۔ ڈیسکام کو سبسڈی ملنے میں دیری ہوتی ہے، جس سے یہ کمپنیاں بحران زدہ ہیں۔ ایسے میں کمپنیوں کو اس بحران سے اُبھارنے کے لئے حکومت یہ بل لارہی ہے۔

      نئے بل میں کئی ایشوز
      نئے بل میں کافی ایشوز ہیں، جیسے بجلی بل کی سبسڈی کس کو ملے گی؟ مثال کے طور پر بجلی کا بل مکان مالک، زمین یا دکان کے مالک کے نام پر آتا ہے تو سبسڈی اُنہیں مل سکتی ہے، لیکن کرایہ دار کے معاملے میں سبسڈی کا کیا ہوگا؟ اس کے علاوہ ایک بڑی بات یہ بھی ہے کہ ملک کے کئی گاوں میں بنا میٹر کے بجلی دی جارہی ہے، حکومت اُن سے کیسے وصول کرے گی؟

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: