உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hydrerabad: مسجد محبوبیہ: یورپی طرز تعمیر کی شاہکار، جانیے تاریخ اور موجودہ صورتحال

    مسجد محبوبیہ میں صحن کے قریب کا وہ حصہ جہاں کسی زمانے میں نمازیں ہوتی تھی۔ (تصویر: 27 فروری 2022۔ محمد رحمان پاشا)

    مسجد محبوبیہ میں صحن کے قریب کا وہ حصہ جہاں کسی زمانے میں نمازیں ہوتی تھی۔ (تصویر: 27 فروری 2022۔ محمد رحمان پاشا)

    صبغت اللہ خان نے نیوز 18 اردو ڈاٹ کام سے گفتگو کے دوران بتایا کہ مسجد محبوبیہ (Masjid e Mahboobia) کی موجودہ صورت حال ناگفتہ بہ ہے۔ مسجد کی موجودہ صورت میں نماز بھی نہیں پڑھی جاسکتی ہے، لیکن اس کو بچایا جا سکتا ہے حالانکہ اس میں تعمیراتی مسائل ہیں کیونکہ یہ ایک طرف جھک رہی ہے اور لکڑی کے سیڑھیاں بوسیدہ ہوچکے ہیں۔

    • Share this:
    تاریخی آثار سے واقفیت، ان کا تحفظ اور اس سے متعلق معلومات کی فراہمی میں مصروف حیدرآباد کا معروف ادارہ دکن آرکائیو (Deccan Archive) کی جانب سے 27 فروری 2022 کو موسیرام باغ ہیریٹیج واک کا اہتمام کیا گیا تھا۔ واک کا آغاز مونسیور ریمنڈ (Monsieur Raymond) کے مقبرے سے ہوا۔ مونسیور ریمنڈ کون تھے؟ اس بارے میں کتاب ’حیدرآباد فرخندہ بنیاد‘ کے مصنف موہن پرشاد کے مطابق ’’آصف جاہ دوم میر نظام علی خان کے دور میں 1798 میں مرہٹوں نے اچانک بمقام کھڑلہ جو بیدر شریف کے قریب ایک قلعہ ہے، حملہ کردیا‘‘۔

    موہن پرشاد آگے لکھتے ہیں کہ ’’انگریزوں نے اس جنگ میں (میر نظام علی خان کی) فوجی مدد نہ کی البتہ فرانسیسی جرنل مونسیور ریمنڈ نے جان داؤ پر لگا کر جنگ میں حصہ لیا۔ انگریزوں کے دوران جنگ مدد نہ کرنے پر انھوں نے انگریز فوج کو معطل کردیا اور فرانسیسی جرنل مونسیور ریمنڈ کا تقرر کیا۔ نظام کے حکم پر مونسیور ریمنڈ نے جدید طریقے سے ایک تربیت یافتہ فوج تیار کی۔ نظام نے اس کو آصفی افواج کا جنرل مقرر کیا‘‘۔ صفحہ نمبر (76 تا 78)۔ ان ہی تاریخی وجوہات کی بنا پر مونسیور ریمنڈ مقبرے کا ہیریٹیج واک کرایا گیا تھا۔ مونسیور ریمنڈ کے مقبرے کی حال ہی میں ایک سیاحتی مقام کے طور پر تزئین کاری کی گئ۔ جہاں وسیع باغ، مقبرہ، باب الداخلہ پر اردو، تلگو و انگریزی میں بورڈ اور کھلا میدان واقع ہے۔

    حیدرآباد میں فرانسیسی جرنل مونسیور ریمنڈ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد موسیرام باغ میں واقع آندھرا کالونی سے ہوتے ہوئے ممتاز کالج (Mumtaz College) کے کیمپس میں داخل ہوئے۔

    ممتاز کالج کا باب الداخلہ
    ممتاز کالج کا باب الداخلہ


    یہاں ایک بہت ہی قدیم عمارت نظر آئی جو کہ مذکورہ واک کی آخری منزل یعنی  آصفیہ ہائی اسکول (Asafia High School) کی عمارت تھی۔

    اس وقت یہ عمارت اور تعلیمی ادارے ممتاز یار الدولہ ٹرسٹ کے تحت ہے۔ جو کہ بانی مدرسہ آصفیہ ممتار یار الدولہ بہادر کے نام سے موسوم ہے۔

    یہ لب سڑک ممتاز کالج کا وہ دروازہ ہے، جہاں سے مسجد محبوبیہ نظر آتی ہے۔
    یہ لب سڑک ممتاز کالج کا وہ دروازہ ہے، جہاں سے مسجد محبوبیہ نظر آتی ہے۔


    واک میں شرکا نے عمارت کے کئی دروازوں سے داخل ہونے کی کوشش کی، جن میں سے ہر ایک بند تھا۔ مونسیور ریمنڈ کے مقبرے سے لے کر ممتاز کالج کے مین گیٹ تک ایک کلومیٹر طویل فاضلہ ہے۔ جس کو طئے کرکے سبھی یہاں پہنچیں۔

    مدرسہ آصفیہ موجودہ آصفیہ ہائی اسکوم کی قدیم عمارت
    مدرسہ آصفیہ موجودہ آصفیہ ہائی اسکوم کی قدیم عمارت


    یہ کالج کے قدیم ترین حصے یعنی مدرسہ آصفیہ، موجودہ آصفیہ ہائی اسکول کی عمارتوں تک ایک طویل پیدل سفر تھا۔ مدرسہ آصفیہ ماضی کی ​​شان و شوکت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے، لیکن وہ اپنے حال کی صورت حال پر ماتم کناں بھی نظر آیا۔ ممتاز کالج کا کیمپس بڑے وسیع و عریض رقبہ پر محیط ہے۔ جس میں ممتاز کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی، آصفیہ ہائی اسکول، ورانڈہ ’میرشدہ منجانب نواب لطف الدولہ بہادر صدر المہام عدالت امور مذہبی و والی پائیگاہ 1327 فصلی‘، مسجد محبوبیہ کی چار منزلہ عمارت اور نواب ممتاز یارالدولہ بہادر کی مزار موجود ہے۔

    مدرسہ آصفیہ کے بانی اور پہلے سکریٹری ممتاز یارالدولہ بہادر کی مزار
    مدرسہ آصفیہ کے بانی اور سکریٹری ممتاز یارالدولہ بہادر کی مزار


    مسجد محبوبیہ کا حال:

    ورانڈہ والی عمارت کے سامنے مسجد محبوبیہ کی خوبصورت لیکن نہایت بوسیدہ عمارت واقع ہے۔ مسجد کی چھت، دیواریں اور صحن کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے، جو محفوظ ہو۔ یہاں کی در و دیوار پر کئی طرح سے دڑاریں آچکی ہیں۔ عمارت کے عقب میں ’فزیکل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ‘ کا کتبہ لگا ہوا ہے۔ جہاں کسی زمانے میں فٹنس اور دیگر کھیلوں کی تعلیم دی جاتی تھی۔

    مسجد محبوبیہ کے عقب میں فزیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ لکھا ہوا ہے۔
    مسجد محبوبیہ کے عقب میں فزیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ لکھا ہوا ہے۔


    مسجد محبوبیہ کے بائیں جانب کتبہ میں ’مسجد محبویہ یادگار حضرت غفران مکان علیہ الرحمۃ 1330 فصلی‘ لکھا ہوا ہے۔ مسجد محبویہ، ساتویں نظام میر عثمان علی خان کے والد اور چھٹویں نظام نواب میر محبوب علی خان غفران مکان کے نام سے منسوب ہے۔

    مسجد محبوبیہ کا اردو کتبہ، جس میں تاریخ بھی درج ہے۔
    مسجد محبوبیہ کا اردو کتبہ، جس میں تاریخ بھی درج ہے۔


    دکن آرکائیو کی جانب سے 27 فروری 2022 کو واک کے دوران تمام شرکا یہاں آکر رکھ گئے۔ مسجد والی عمارت کو تالہ لگا ہوا تھا۔ تمام شرکا عمارت کے ٹھنڈے سائے میں اس وقت تک انتظار کرتے رہے جب تک کہ اسکول انتظامیہ نے گیٹ نہیں کھولے اور انھیں اندر جانے دیا۔

    مسجد محبوبیہ کی عمارت کا منظر
    مسجد محبوبیہ کی عمارت کا منظر


    یہ چار منزلہ عمارت ہے۔ یہاں ایک منزل سے دوسری منزل تک جانے کے لیے لکڑی سے بنی سیڑھیاں ہیں۔ جو بوسیدہ ہوچکی ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ اگر کوئی لحیم شحیم شخص سیڑھیاں پر چڑھیں تو وہ زمین بوس نہ ہوجائے۔

    مسجد محبوبیہ کا وہ منظر، جس سے مسجد کی چاروں منزلیں نظر آتی ہے۔
    مسجد محبوبیہ کا وہ منظر، جس سے مسجد کی چاروں منزلیں نظر آتی ہے۔


    یورپی طرز تعمیر کی شاہکار مسجد:

    دکن آرکائیو کے بلاگر، آرکیٹکچر اور ہیریٹیج ایکٹیویسٹ صبغت اللہ خان نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ سو سالہ قدیم مسجد محبوبیہ، یورپی طرز تعمیر کی حامل نہاںیت ہی شاندار مسجد ہے۔ یہ تعمیرات کی دنیا کا ایک شاہکار ہے۔ حیدرآباد کی تاریخی مساجد میں اس جیسی کوئی مسجد نہیں۔

    مسجد محبوبیہ کا وہ حصہ جہاں کبھی باجماعت نمازیں ادا کی جاتی تھی۔
    مسجد محبوبیہ کا وہ حصہ جہاں کبھی باجماعت نمازیں ادا کی جاتی تھی۔


    صبغت اللہ خان نے بتایا کہ برآمدہ اور مسجد کی عمارت کے درمیان ایک کھلا صحن ہے جو مسجد کی عمارت کی سیڑھیوں سے جڑتا ہے جہاں داخلی محراب کے نیچے ایک اور پتھر کی تختی ہے، جس میں مسجد محبوبیہ کی تاریخ 1330 فصلی (1920 عیسوی) لکھی ہوئی ہے۔ قبلہ کے دونوں طرف کمرے ہیں۔ یہ کمرے اپنے مسجد کے امام کے حجرے تھے۔ مسجد کی آرائش یورپی طرز کی ہے جس میں طاقوں کے اوپر مثلثی گوشہ ہیں، یہ سب قیمتی پتھروں بنے ہوئے ہیں۔

    مسجد محبوبیہ کا محراب، جہاں قبلہ رخ ہو کر نمازیں پڑھی جاتی تھی۔
    مسجد محبوبیہ کا محراب، جہاں قبلہ رخ ہو کر نمازیں پڑھی جاتی تھی۔


    مسجد کے گراؤنڈ فلور پر بڑی الماریوں سے لیس کلاس رومز ہیں، جہاں الیکٹرانک لیب کا سامان ذخیرہ کیا ہوا تھا۔ جو نہایت بری حالت میں بکھرا پڑا ہوا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ چار منزلوں میں سے پہلی منزل اسمبلی ہال ہے، جسے دیوان کہا جاتا تھا۔ دوسری منزل پر مسجد محبوبیہ واقع ہے۔

    یہ مسجد محبوبیہ کی پہلی منزل ہے۔ جسے دیوان کہا جاتا تھا۔ یہ کسی زمانے میں میر عثمان علی خان کے نام سے موسوم ہال تھا۔
    یہ مسجد محبوبیہ کی پہلی منزل ہے۔ جسے دیوان کہا جاتا تھا۔ یہ کسی زمانے میں میر عثمان علی خان کے نام سے موسوم ہال تھا۔


    مدرسہ آصفیہ و مسجد محبوبہ کی تاریخ:

    مدرسہ آصفیہ کے بانی و اعزازی معتمد ممتاز یار الدولہ نے کتاب ’مدرسہ آصفیہ فوقانیہ ملک پیٹھ حیدرآباد دکن دستور العمل‘ میں لکھا ہے کہ ’’میں نے رعایائے سلطنت آصفیہ کیلئے 5 مہر 1305 فصلی مدرسہ آصفیہ کی اقامتی اصول پر بنیاد ڈالی۔ اس مدرسے کے قیام سے میرا نصب العین تعلیم و تربیت اطفال اور مسلمانون کی مذہبی تعلیم ہے۔ اس وقت مدرسہ محبوبیہ اقامت خانہ وغیرہ کی متعدد عمارتیں اور پلے گرونڈ کے وسیع میدان جس زمین پر واقع ہیں، وہ سب عالی جناب نواب سر آسمانجاہ بہادر مرحوم و مغفور کی عطا کردہ زمین ہے، جو نواب صاحب مرحوم نے اپنی زندگی میں اس کار خیر کے لیے حضرت غفران مکان علیہ الرحمۃ نے نہ صرف زبانی ارشاد فرمایا بلکہ اس کی امداد کیلئے 1316 ھجری مقدسہ سے تین سو روپیے کی گرانقدر مستقل ماہوار کا فرمان عطوفت شان صادر فرمایا جو خاص دست مبارک سے لکھا ہوا دفتر مدرسہ میں موجود اور جس کا عکس ذیل میں پیش ہے‘‘۔ صفحہ نمبر: 2

    ’عکس فرمان مبارک‘ بحوالہ: کتات مدرسہ آصفیہ فوقانیہ ملک پیٹھ حیدرآباد دکن دستور العمل
    ’عکس فرمان مبارک‘ بحوالہ: کتات مدرسہ آصفیہ فوقانیہ ملک پیٹھ حیدرآباد دکن دستور العمل


    ممتاز یار الدولہ لکھتے ہیں کہ ’’مسجد محبوبیہ کی چو منزلہ پرشوکت عمارت جو بادگار حضرت غفران مکان علیہ الرحمہ تیار کی گئی ہے۔ اس کی تیاری میں ہمارے موجودہ آقائے ولی نعمت حضرت ظل سبحانی نے کمیشت مبلغ 25000 کی گرانقدر رقم سرفراز فرماکر خاص طورپر اس یادگارکو مسجد محبوبیہ کے نام سے موسوم کرنے کے لیے زبانی ارشاد فرما کر چار چاند لگادے۔ اس کے علاوہ پبلک اور ملک کے مختلف محکمہ جات نے اس مدرسے کی امداد کی اور کرر ہے ہیں۔ اس کے مد نظر میں نے مدرسہ کی جملہ عمارات اراضی وغیرہ کو ہمیشہ کیلئے بتوسط سررشتہ امور مذہبی مورخہ 2 مہر 1343 فصلی سے سرکارعالی کی صیانت میں بغرض تعلیم وتربیت اطفال وقف کرا دیا ہے‘‘۔

    مسجد محبوبیہ کے بائیں جانب ورنڈہ کا حصہ
    مسجد محبوبیہ کے بائیں جانب ورنڈہ کا حصہ


    ’’اگر یہ مدرسہ 41 سال سے بتدریج ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے فوقانیہ کے درجہ کو پہنچ چکا ہے لیکن آئنیدہ خالص ملک و قوم کے مفاد کے مدنظر میں نے اس کا جملہ نظم و نسق دستور العمل ہذا کے تحت کلیتاً یکم آذر 1346 فصلی سے مجلس امنا یعنی ابنائے ملک کی ایک درد مند جماعت کے سپرد کردیا ہے۔ آخر میں میری یہ دعا ہے کہ جس طرح میں نے اس مدرسہ کے بقا میں کوشش کی خداوند تعالی اس کو قبول کرے اور ہمیشہ یہ مدرسہ سرسبز و شاداب رہے فقط

    ممتاز یار الدولہ
    بانی و اعزازی معتمد مدرسہ آصفیہ‘‘ صفحہ نمبر: 3

    ورانڈہ ’میرشدہ منجانب نواب لطف الدولہ بہادر صدر المہام عدالت امور مذہبی و والی پائیگاہ 1327 فصلی‘
    ورانڈہ ’میرشدہ منجانب نواب لطف الدولہ بہادر صدر المہام عدالت امور مذہبی و والی پائیگاہ 1327 فصلی‘


    مسجد محبوبیہ کے 100 سال مکمل:

    دی ہندو سے وابستہ سینئر صحافی سریش نانیسٹی نے 20 مارچ 2022 کو اپنی رپورٹ میں لکھا کہ سال 2020 میں بغیر کسی جشن اور نمازیوں سے خالی مسجد محبوبیہ کے 100 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ یہ مسجد قیمتی جواہرات کی طرح تیار کی گئی ہے۔ جو اب ویران عمارت کا حصہ ہے، جسے آصفیہ مدرسہ کہا جاتا ہے۔ اسے دکن کے ایک رئیس ممتاز یار الدولہ نے 12 اگست 1896 کو قائم کیا تھا۔

    مسجد محبوبیہ کی بوسیدہ چھت
    مسجد محبوبیہ کی بوسیدہ چھت


    سریش نانیسٹی نے لکھا ہے کہ یہ مسجد حیدرآباد کی شاہی وراثت میں سے ایک ہے۔ پائیگاہ خاندان کے ایک رئیس آسمانجاہ بہادر نے 29 ایکڑ اراضی پر ایک اسکول قائم کرنے کے لیے یہ جائیداد تحفے میں دی تھی۔ نظام میر عثمان علی خان نے عمارت کی تعمیر کے لیے 25,000 روپے جمع کرائے تھے۔ اس سے پہلے 1906 میں نظام محبوب علی خان نے مدرسہ آصفیہ کے نام سے اسکول چلانے کے لیے ماہانہ 300 کا الاؤنس دیا تھا۔ جب کہ اس پر 1896 میں کام کرنا شروع کیا گیا تھا۔

    قبلہ کا خوبصورت منظر
    قبلہ کا خوبصورت منظر


    دی ہندو کی مذکورہ رپورٹ کے مطابق ممتاز یار الدولہ ٹرسٹ سے وابستہ نواب محبوب عالم خان کئی تعلیمی ادارے چلاتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ یہ عمارت اب 50 سال سے زائد عرصے سے غیر آباد ہے۔ اسے دوبارہ تزئین و آرائش کرنے کی ضرورت ہے لیکن ہمارے ٹرسٹ کے پاس اس قسم کے فنڈز نہیں ہیں۔ وہیں مسجد کے نگراں نے کہا کہ اگرچہ یہ عمارت ویران ہے، لیکن کئی سال تک مسجد میں نمازیں ہوتی رہیں۔ ایک دہائی قبل چھت کے پلاسٹر کا ایک حصہ گر گیا تھا اور اس کے بعد سے عمارت کو تالا لگا دیا گیا ہے۔ مسجد محبوبیہ کبوتروں کی غلاظت اور پلاسٹر کے ٹکڑوں سے بھری ہوئی ہے۔

    مسجد محبوبیہ کا اندرونی حصہ
    مسجد محبوبیہ کا اندرونی حصہ


    صبغت اللہ خان نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ مسجد کی موجودہ صورت حال ناگفتہ با ہے۔ موجودہ صورت میں نماز بھی نہیں پڑھی جاسکتی ہے، لیکن اس کو بچایا جا سکتا ہے حالانکہ اس میں تعمیراتی مسائل ہیں کیونکہ یہ ایک طرف جھک رہی ہے اور لکڑی کے سیڑھیاں بوسیدہ ہوچکے ہیں۔

    مسجد کے ہر حصہ پر دڑاڑیں آئیں ہیں۔
    مسجد کے ہر حصہ پر دڑاڑیں آئیں ہیں۔


    مسجد کے ایک ذمہ دار کے مطابق مسجد میں کئی سال قبل تک باجماعت نماز ادا کی جارہی تھی، لیکن مسلسل بارش سے چھت کے ٹکڑے زمین پر گرتے رہے، جس کی وجہ سے مسجد کو بند کردیا گیا ہے اور یہاں باجماعت نماز بھی نہیں ہورہی ہے۔



     




    View this post on Instagram





     

    A post shared by The Deccan Archive (@deccanarchive)





    صارفین کا رد عمل:

    مسجد محبوبیہ سے متعلق ایک ویڈیو 30 اپریل 2022 کو فیس پر دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گیا ہے۔ بعد میں اس ویڈیو کو کئی صارفین نے شیئر بھی کیا ہے۔ مذکورہ ویڈیو سے متعلق سید اسلام الدین مجاہد نے لکھا ہے کہ ’’افسوس ہے ان مسلمانوں پر جنہوں نے اس مسجد کو ویران کردیا ہے۔ ان تعلیمی اداروں میں ہزاروں طلبا پڑھتے ہیں اور اساتذہ و لکچرس سب مسلمان ہیں۔ کالج کا انتظامیہ بھی مسلمان ہے اور ان کا شمار حیدرآباد کے دولت مند گھرانوں میں ہوتا ہے، لیکن یہ سب ہوتے ہوئے یہ مسجد کی زبوں حالی۔۔۔‘‘ محمد عیقل نے لکھا ہے کہ ’’اللہ سے دعا ہے کہ مسجد کو جلد سے جلد آباد کرے‘‘۔ فاروق طاہر نے لکھا کہ ’’ان اداروں کو غاصبانہ تسلط سے آزاد کروانا ضروری ہے ۔ ان فلاحی اداروں کو قائم کرنے والوں نے اللہ کی رضا اور عوامی فلاح کے مقاصد سے انھیں قائم کیا تھا لیکن تاجرانہ سوچ رکھنے والے افراد جب ایسے اداروں میں گھس جاتےہیں انھیں زبوں حالی سے روکنا محال ہو جاتا ہے‘‘۔ ایم طارق ایوبی نے لکھا ہے کہ ’’کون ہے اس کی ویرانی کا ذمہ دار؟ کس نے اس حال میں پہنچایا؟ کیوں ہوئی یہ صورت حال؟؟؟؟؟؟‘‘ مظفر غزالی نے لکھا ہے کہ ’’کیا حیدرآباد کے لوگوں کی نظر میں یہ مسجد نہیں ہے؟ پورا پتہ بتائیں تو لوگوں کو اس طرف متوجہ کیا جائے ۔ تاکہ مسجد آباد ہو سکے‘‘۔

    مسجد محبوبیہ یوریپی طرز تعمیر کی شاہکار ہے۔
    مسجد محبوبیہ یوریپی طرز تعمیر کی شاہکار ہے۔


    میر مسرور صدیقی نے لکھا ہے کہ ’’کتنی افسوس کی بات ہے مسلم ادارہ ہے خود اس ادارے میں ہزاروں طلبا و طالبات پڑھتے ہیں ایک کلومیٹر کے دائرے میں کم از کم 10 ہزار مسلمان رہتے ہیں اطراف جو مساجد ہیں تنگ دامنی کا شکوہ کررہی ہیں ایسے میں اس مسجد کو آباد کرنے کی فکر کریں تو مسلمانوں کو بھی بڑی سہولت ہوگی اور مسجد بنانے والوں کو بھی ثواب ملےگا‘‘۔

    مسجد محبوبیہ میں واقع خوبصورت کمانیں
    مسجد محبوبیہ میں واقع خوبصورت کمانیں


    محمد شفیع نے لکھا ہے کہ ’’کتنی افسوس کی بات ہے مسلم ادارہ ہے خود اس ادارے میں ہزاروں طلبا و طالبات پڑھتے ہیں میں اس اسکول میں 1966 سے1974 تک طالب علم رہ چکا ہوں نمازوں کا اہتمام ہوا کرتا تھا یہ قدیم عمارت کے اوپری منزل پر واقع ہے بہت ہی خوبصورت تعمیر ہے ایک کلومیٹر کے دائرے میں کم از کم 10 ہزار مسلمان رہتے ہیں اور کافی تعداد میں قدیم طلبا بھی رہتے ہیں اطراف جو مساجد ہیں تنگ دامنی کا شکوہ کررہی ہیں ایسے میں اس مسجد کو آباد کرنے کی فکر کریں تو مسلمانوں کو بھی بڑی سہولت ہوگی اور مسجد بنانے والوں کو بھی ثواب ملےگا‘‘۔

    محمد وہاج الدین نظیر نے لکھا ہے کہ ’’اگر مسجد کی مضبوطی کا سروے کر کے آرکیالوجیکل ڈپارٹمنٹ نے نماز ادا کرنے سے روک دیا ہے تو پوری مسجد کو ڈھا کر نئی مسجد تعمیر کرنے کے لئے آرکیالوجیکل ڈپارٹمنٹ اور میونسپل کارپوریشن سے منظوری کی کوشش کرنی چاہئے اگر وہ مسجد وقف بورڈ میں درج ہے تو وہاں بھی کاروائی کر کے نئی مسجد تعمیر کی جا سکتی ہے۔ اس کے لئے وہاں کے کارپوریٹر اور ایم ایل اے سے مدد لینا ضروری ہے۔ فوٹوز دیکھنے سے ایسا معلوم ہو رہا ھے کہ پرانی مسجد پر داغ دوزی کر کے اس کو نئی تعمیر کی طرح بنا دیا گیا ہے۔ اس لئے سرویر نے رپورٹ کر دی کہ مسجد قدیم اور اندرونی عمارت بوسیدہ حالت میں ہے۔ اس لئے اسکو استعمال سے روک دیا جاے۔ معلومات میں کمی کی وجہہ ہزاروں روپیے برباد ہو گئے‘‘۔

    مزید پڑھیں: Jobs in Telangana: تلنگانہ میں سرکاری ملازمتیں، TSPSC کا رجسٹریشن کیسے کریں؟ جانیے مکمل طریقہ کار


    سید مجاہد ہاشمی نے لکھا ہے کہ ’’سینکڑوں برس پرانی مساجد بھی اچھی داغ دوذی اور ماہرین کے مشورے سے ضروری کام کی انجام دہی سے یہ مسجد کو پھر سے آباد کرنے کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے محلے اور قریب کے مسلمان خاص فکر کریں اور مسلمانوں کی سیاسی قیادت خواہ اس کا کسی بھی جماعت سے تعلق ہو میدان عمل میں آیں اور یونایتد خاموش فورم کے علماء و مشائخ وجماعتیں اللہ کے گھر کے لے بغیر ہدایت کے زبان کھولیں‘‘۔ تو وہیں شجاعت علی صوفی نے لکھا ہے کہ ’’تنقید وں کے بجائے اس خوبصورت مسجد کو کس طرح آباد کیا جائے اس پر غور کیا جائے‘‘۔

    (نوٹ: اس خبر میں استعمال کی گئی تمام تصاویر 27 فروری 2022 کو لی گئی۔ خبر کی تیاری میں آصفہ ہائی اسکول و مسجد محبوبیہ سے متعلق صبغت اللہ خان کے مضمون اور دی ہندو اخبار کی ایک رپورٹ سے استفادہ کیا گیاہے۔)
    Published by:Mohammad Rahman Pasha
    First published: