ہوم » نیوز » Explained

اقلیتی مسائل اور سیاسی رجحان ، جانئے کیا کہتے ہیں دانشوران اور علما

سیاسی مستقبل کو روشن کرنے اور دستوری و جمہوری حقوق کی بازیابی کے لیے ضروری ہے کے ووٹ کا استعمال جذباتی ہوکر نہیں بلکہ عقل و شعور کی روشنی میں کیا جائے ۔

  • Share this:
اقلیتی مسائل اور سیاسی رجحان ، جانئے کیا کہتے ہیں دانشوران اور علما
اقلیتی مسائل اور سیاسی رجحان ، جانئے کیا کہتے ہیں دانشوران اور علما

لکھنو : ایک ایسے وقت میں جب کورونا اور مہنگائی کے اثرات نے عام لوگوں کی زندگی سے تمام سہولتیں اور آسائشیں چھین لی ہیں ، ان کو دکھائے گئے ترقی اور خوشحالی کے خواب ٹوٹ چکے ہیں ، حال کا منظر نامہ نہایت مایوس کن اور افسوس ناک ہے، اور مستقبل کے بارے میں بھی لوگ زیادہ یقین و خوش گمانی نہیں رکھتے ہیں ۔ ایسے حالات میں کسی بھی جماعت کے لئے حصول اقتدار کی منزل سر کرنا آسان نہیں ، خاص طور پر بی جے پی کے تعلق سے لوگوں میں جو ناراضگی  برہمی اور اضطراب ہے وہ کچھ اور ہی اشارے دے رہاہے ۔


بات اگر اقلیتی طبقے کے حوالے سے کی جائے تو اس طبقے سے تعلق رکھنے والے دانشوروں اور علماء کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی اس احساس کی ترجمانی کرتے ہیں کہ انہوں نے جن مسائل کا سامنا موجودہ نظام میں کیا ہے اس کی کوئی دوسری نظیر نہیں ۔


معروف عالم دین اور امامیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے صدر مولانا علی حسین کہتے ہیں کہ ہمارے مدارس بند ہوگئے، درسگاہیں مقفل ہوگئیں ، یتیم بچوں کی کفالت اور تعلیم کا انتظام کرنے والا امامیہ ٹرسٹ کنگال ہوگیا ، نتیجہ سامنے ہے کہ نہ غریب بچوں کو تعلیم فراہم کر پارہے ہیں اور نہ ان کی زندگی کی بنیادی ضروریات و سہولیات ہی  پوری کر پارہے ہیں۔ حکومت کا تعاون تو امامیہ ٹرسٹ کو پہلے بھی کبھی نہیں ملا تاہم پہلے یہ حالات نہیں تھے کسی طرح عوامی  چندے اور امداد سے تعلیم و تربیت اور کفالت کا کام بخوبی ہوجاتا تھا ۔ مولا علی حسین واضح طور پر کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت اقلیتی بہبود کے خلاف ہے اور کچھ نانم نہاد مسلم وزیر بھی ذاتی مفاد کے لئے قوم ملت کے ساتھ ساتھ ملک کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں لہٰذا لوگ نظام کی تبدیلی کی خواہاں ہیں ۔


ضروری نہیں کے مولانا علی حسین کے خیالات سے اتفاق کیا جائے لیکن اتنا ضرور ہے کہ کئی  اہم لوگوں سے بات کرنے کے بعد جو رجحانات سامنے آئے ہیں ، ان کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ اقلیتی طبقے کے لوگوں میں بے انتہا مایوسی اور بے چینی ہے اور یہ صرف اس لئے نہیں کہ ان کے معاشی اور اقتصادی حالات خراب ہیں بلکہ اس لیے بھی ہے کہ بیشتر لوگ عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔

آل انڈیا شیعہ پرسنل لاء بورڈ کے اجلاس میں شریک ہونے کے لئے گجرات سے تشریف لائے مولانا حسن علی راجانی کہتے ہیں کہ بی جے پی ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے ، ملک جن حالات سے گزرا ہے ، ان سے ظاہر ہوچکا ہے کہ حکومت لوگوں کے زندہ رہنے کو ہی وکاس تصور کرتی ہے۔ انسانی جانوں کی قیمت کچھ نہیں ہے ، موجودہ اقتدار میں نقصان سب کا ہوا ہے ، ہر شہری اور ہر ہندوستانی اذیت سے گزراہے لیکن مسلمانوں کا تو جیسے تشخص ہی ختم کیا جارہاہو ان کے وجود پر ہی سوالیہ نشان لگائے جارہے ہیں ، صرف جمہوری اور دستوری ہی نہیں بلکہ  مذہبی اور دیگر تمام حقوق صلب کیے جارہے ہیں ، ایسے حالات میں ووٹ دینے کا سوال بھی ہمیں تکلیف پہنچاتا ہے۔

راجانی کہتے ہیں موجودہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے سربراہوں اور لیڈروں نے صرف ملک کے عوام کو اندھیرے میں رکھا ہے ، ان کے مابین نفرت پھیلائی ہے، مہنگائی بڑھائی ہے تعلیمی اور ترقیاتی نظام درست کرنے  اور ان کو فروغ دینے کی بجائے اہم اداروں اور صنعتوں کو فروخت کیا گیا ہے ۔ لہٰذا ہم تو یہی سوچتے ہیں کہ ہمارے ووٹ کی قیمت اہمیت اور مقصد کیا ہے اور اس کے حقدار عوام مخالف لوگ تو نہیں ہوسکتے ۔

راجانی بی جے پی سے ناراض ہیں ، لیکن یہ بھی نہیں واضح کرتے کہ وہ کس سیاسی جماعت یا لیڈر کو اپنا رہنما اور مسیحا تصور کرتے ہیں ، کیا وہ جماعتیں ان کے ووٹ کی حقدار ہیں ، جنہوں نے مسلم ووٹ بنک کا استعمال بی جے پی سے کہیں زیادہ کیا ہے ۔ اس سوال کے جواب میں مولانا علی حسین قمی اور حسن راجانی یہی کہتے ہیں کہ ابھی وقت ہے اور اس بار فیصلہ سیاسی شعور و تدبر کے ساتھ کیا جائے گا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 26, 2021 09:56 AM IST