உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Birthday Special : کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیان اور ...

    Birthday Special : کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیان اور ...

    Birthday Special : کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیان اور ...

    غالب اردو کے ایسے عظیم شاعر تھے ، جنہیں ہندی بولنے والوں سے بھی اٹوٹ پیار ملا ۔ وہ بیشک اردو زبان کے شاعر تھے ، لیکن فارسی شاعری کے بہار کو بھی انہوں نے ہندوستانی زبانوں میں پہنچایا ۔ شاعری میں غالب کا کوئی استاد نہیں تھا ، لیکن فارسی زبان انہیں ان کے استاد ملا عبد الصمد ایرانی نے سکھائی ۔ اپنے استاد سے انہوں ںے فارسی کے قدیم اور جدید ادب کی گہری جانکاری حاصل کی ۔

    • Share this:
      شکیل خان

      غالب کا ہندی میں معنی تلاش کریں تو جو الفاظ سامنے آتے ہیں وہ ہیں : چھایا ہوا ، حاوی ، موثر ، فاتح ، بہترین ۔ 27 دسمبر 1796 کو آگرہ شہر میں پیدا ہوئے مرزا اسد اللہ بیگ خان غالب نے اپنی شاعری سے کنیت غالب کو سچے معنی میں صحیح ثابت کیا اور تاعمر ثابت کرتے رہے ۔ آج 224 سالوں کے بعد بھی شاعری پسند لوگوں کے دل و دماغ پر وہ پوری طرح چھائے ہوئے ہیں ۔

      غالب کے بارے میں ایک لائن میں سب کچھ کہنا ہو تو کہہ سکتے ہیں ، ایسا شاعر نہ دنیا میں کبھی ہوا ہے اور نہ کبھی ہوگا ۔ غالب جتنے زیادہ مشہور تھے ، اتنے ہی بدنام بھی تھے ۔ بالکل الگ اور باغیانہ تیورر والے غالب ہمیشہ روش سے ہٹ کر چلے۔

      ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالب کو نہ جانے

      شاعر تو وہ اچھا ہے پر بدنام بہت ہے

      اپنے بارے میں ایسا کہنے کی جرات وہ لوگ ہی کرپاتے ہیں جو اپنے بارے میں خود بخوبی جانتے ہیں کہ وہ الگ ہی مٹی کے بنے ہیں ، عام نہیں ہیں ، خاص ہیں ، بہت خاص ۔

      غالب اردو کے ایسے عظیم شاعر تھے ، جنہیں ہندی بولنے والوں سے بھی اٹوٹ پیار ملا ۔ وہ بیشک اردو زبان کے شاعر تھے ، لیکن فارسی شاعری کے بہار کو بھی انہوں نے ہندوستانی زبانوں میں پہنچایا ۔ شاعری میں غالب کا کوئی استاد نہیں تھا ، لیکن فارسی زبان انہیں ان کے استاد ملا عبد الصمد ایرانی نے سکھائی ۔ اپنے استاد سے انہوں ںے فارسی کے قدیم اور جدید ادب کی گہری جانکاری حاصل کی ۔

      اس علم نے ان کی شاعری کو بہت مالا مال کیا ۔ شروعاتی دور میں غالب اردو کے پیچیدہ الفاظ کا استعمال کرتے تھے ، اس لئے ان کی شاعری بڑے بڑے لوگوں کے سر کے اوپر سے نکل جایا کرتی تھی ۔ بعد میں انہوں نے نسبتا آسان الفاظ کا استعمال شروع کیا ، لیکن باتیں ان میں بھی گہری ہی تھیں ۔ اس کے بعد تو حالات یہ ہوئے کہ غالب کی شناخت مشاعرہ لوٹنے والے شاعر کی بن گئی ۔ دو قصے جو غالب کی انہیں خصوصیات کو سامنے لاتے ہیں ۔

      پہلا قصہ : غالب دہلی سے آگرہ منتقل ہوچکے تھے ۔ ایک مرتبہ انہیں بہادر شاہ ظفر کے دربار میں ہونے والے مشاعرہ میں شامل ہونے کی دعوت ملی ۔ غالب کے دوست اور گھروالے کافی خوش تھے کہ غالب تو وہاں سے واہ واہی لے کر ہی لوٹیں گے اور بادشاہ کی نظر بھی آجائیں گے ۔ بہادر شاہ ظفر شاعری کے شوقین تھے اور ان کے دربار میں مشاعرے ہوتے رہتے تھے ۔

      بادشاہ کے استاد مشہور شاعر شیخ ابراہیم ذوق تھے ۔ شاعر مومن بھی اس دربار کی رونق ہوا کرتے تھے ۔ غالب نے محفل میں جو غزل سنائی وہ یہ تھی : نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا ، کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا ، کاو کاو سخت جانی حال تنہائی نہ پوچھ ۔۔۔۔

      ان کی اس غزل کو کوئی سمجھ نہیں پایا اور بھری محفل میں ان کا مذاق بنایا گیا ۔ مرزا نوشہ ( غالب ) نے صرف مطلع اور مقطع یعنی ابتدائی اور آخری شیر سنایا اور مشاعرہ چھوڑ کر چلے گئے ۔

      دوسرا قصہ : پھر اسی دربار کے مشاعرے کا ہے ۔ یہاں غالب نے جن حالات میں جو غزل سنائی وہ ثابت کرتا ہے کہ غالب کیوں عظیم شاعر کے خطاب سے نوازے گئے ۔ دراصل ہوا یوں تھا کہ ایک مرتبہ مرزا نوشہ بازار میں کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہنسی مذاق کررہے تھے ۔ تبھی استاد ذوق کی سواری وہاں سے گزری ۔

      کسی نے مرزا کو کہا : دیکھو استاد ذوق جارہے ہیں ۔ مرزا نے ذوق پر طنز کستے ہوئے زور سے کہا : ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا۔

      اس جملے کو ذوق نے بھی سنا اور ان کے ساتھ کے لوگوں نے بھی ۔ ذوق ٹھہرے بادشاہ کے استاد، تو برا لگنا بھی فطری تھا ۔ ذوق شاطر تھے ، انہوں نے بدلہ لینے کی غرض سے اپنے چمچوں سے کہا : اگلے ہفتہ محل میں مشاعرہ ہے ، اس کی دعوت مرزا کو دیدو اور بادشاہ کے سامنے بازار والا قصہ دوہرا دینا ۔ چمچوں نے کہا : ضرور حضور مرزا نوشہ کو پچھلی مرتبہ سے زیادہ بے عزتی کرکے مشاعرے سے نکالیں گے ۔

      مشاعرے کی شروعات میں بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے سب کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ کچھ شاعر ہمارے استاد ذوق پر فقرہ کستے ہیں ، آگے ایسا نہ ہو ۔

      منصوبہ کے مطابق ذوق کے ایک چمچہ نے کہا : نہیں حضور استاد کی شان میں ایسی گستاخی کوئی نہیں کرسکتا ۔

      دوسرے نے جواب دیا : مرزا نوشہ نے سر راہ استاد پر جملہ کسا ہے اور کہا ہے کہ ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا ۔

      بادشاہ نے ناراض ہوکر پوچھا : مرزا نوشہ کیا یہ سچ ہے ۔

      جواب میں مرزا غالب نے کہا : جی حضور سچ ہے ، میرے مقطع کا مصرع اول ہے ۔ یعنی آخری شعر کی پہلی لائن ۔

      بادشاہ نے پورا مقطع ( شعر ) سنانے کیلئے کہا ۔ جواب میں غالب نے شعر سنایا جو اس طرح تھا : ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا ، و گرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے ۔

      واہ واہ سے محفل گونج اٹھی ۔ ذوق کو معلوم تھا کہ شعر کی دوسری لائن مرزا غالب نے ابھی گڑھی ہے ، سو پھنسانے کی غرض سے کہا : اگر مقطع اتنا خوبصورت ہے تو پوری غزل کیا ہوگی ، سنی جائے ۔

      بادشاہ نے کہا : آج کے مشاعرے کا آغاز غالب کی اسی غزل سے ہوگا ۔

      غالب نے جیب سے ایک پرچہ نکالا اور غزل پڑھنی شروع کی ۔ ہر ایک بات پہ کہتے تم کہ تو کیا ہے ، تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے ۔

      اگلا شعر : رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل ، جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے ۔

      غزل ختم ہوئی ۔ غالب جس کاغذ کو دیکھ کر غزل سنا رہے تھے ، وہ کاغذ انہوں نے مسکراتے ہوئے چمچے کی طرف بڑھادیا ، جس نے اس قصہ کو بادشاہ تک پہنچانے کا جال بچھایا تھا ۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ پرچہ تو کورا تھا ، دونوں طرف سے کورا ۔

      دراصل غالب نے وہ غزل اسی وقت تیار کی تھی اور لکھے بغیر ہی براہ راست سنادی ۔ بعد میں غزل کے سبھی اشعار بہت زیادہ مشہور ہوئے ۔ خاص طور پر رگوں والا شعر ۔ یہ غالب کی بہترین غزلوں میں شامل کی گئی ۔

      یعنی ایک انتہائی شاندار اور خوبصورت غزل غالب نے کسی تیاری کے بغیر یونہی کہہ ڈالی تھی ۔ ایسی غزل جس کو بادشاہ کے ساتھ پوری محفل کی داد تو ملی ہی غالب سے خار کھائے بیٹھے استاد ذوق کی بھی کھلی اور بھرپور داد ملی ۔ ایسے کمال کے جادوگر شاعر تھے غالب ۔

      ویسے کھلے دل سے اپنے دشمن کی تعریف کیلئے ذوق کی دریادلی بھی تعریف کی حقدار تھی ۔ بتاتے چلیں غالب کا یہ قصہ ہم نے گلزار کے ذریعہ دور درشن کیلئے گئے سیریل مرزا غالب سے اٹھایا ہے ، کیونکہ گلزار نے اس قصے کو کافی خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے ۔

      بات گلزار کی ہورہی ہے تو ان کے کیسیٹ انٹروڈکشن آف مرزا غالب کی بات بھی کرلیں ۔ اس میں جگجیت نے غالب کی غزل گائی ہے ۔ وہی 'ہر ایک بات پر کہتے ہو ۔۔۔'

      تذکرہ نکلا ہے تو بتاتے چلے کہ غالب تو عظیم تھے ہی ، لیکن ہمارے دور میں غالب کو عام لوگوں تک پہنچانے میں جگجیت سنگھ کا بہت بڑا رول ہے ۔ بڑے ادیبوں ، شاعروں اور کوویوں میں غالب عزت اور ادب سے لیا جانے والا نام تھا ہی ، اس کو آج کے دور میں عام لوگوں تک پہنچانے کا کام جگجیت نے کیا ۔

      ایسے میں جب جگجیت اور گلزار ملے تو کمال ہونا کیا بڑی بات ہے ۔ سیریل میں تو ان کے ساتھ نصیر الدین شاہ بھی جڑگئے تھے۔ بہر حال بات غزل کے کیسیٹ کی ہورہی تھی ، سو اس میں گلزار نے غالب کا پتہ جس انداز میں بتایا ہے ، ویسا کوئی دوسرا تو سوچ بھی نہیں سکتا ۔ تو کسی کانٹ چھانٹ کے بغیر ہوبہو گلزار کے الفاظ میں غالب پتہ :

      بلی ماراں کے محلے کی وہ پیچیدہ دلیلوں کی سی گلیاں

      سامنے ٹال کی نکڑ پہ بٹیروں کے قصیدے

      گڑگڑاتی ہوئی پان کی پیکوں میں وہ داد وہ واہ وا

      چند دروازوں پہ لٹکے ہوئے بوسیدہ سے کچھ ٹاٹ کے پردے

      ایک بکری کے ممیانے کی آواز

      اور دھندلائی ہوئی شام کے بے نور اندھیرے سائے

      ایسے دیواروں سے منہ جوڑ کے چلتے ہیں یہاں

      چوڑی والان کے کٹرے کی بڑی بی جیسے

      اپنی بجھتی ہوئی آنکھوں سے دروازے ٹٹولے

      اسی بے نور اندھیری سی گلی قاسم سے

      ایک ترتیب چراغوں کی شروع ہوتی ہے

      ایک قرآن سخن کا صفحہ کھلتا ہے

      اسد اللہؔ خاں غالبؔ کا پتا ملتا ہے

      غالب کے شعر کے کئی معانی ہوتے ہیں ۔ وہ ایک شعر کہتے ہیں تو سننے والے اس کے الگ الگ معانی نکال لیتے ہیں ۔ ان کے ایک شعر سے اس کو سمجھتے ہیں : کوئی ویرانی سی ویرانی ہے ، دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا ۔ اس کا ایک مطلب لوگ یہ نکالتے ہیں : یہ دشت یعنی جنگل کی ویرانی دیکھ کر شاعر کو اپنا گھر یاد آگیا ۔ دوسرا مطلب دیکھئے : ہم تو دشت کی ویرانی کو پتہ نہیں کیا سمجھتے تھے ، مگر یہاں دیکھ کر لگا ، ارے یہ ویرانی بھی کوئی ویرانی ہے ، ویرانی دیکھنا ہو تو ہمارا گھر دیکھیں ، اس سے زیادہ ویرانی تو ہمارے گھر میں ہے ۔ شعر کو جب ہم اس مطلب میں لیتے ہیں تو غالب کی شاعری ایک پل میں کافی اونچائی پر پہنچ جاتی ہے ۔

      غالب کی شاعری میں تنوع بہت ہوتا تھا ۔ غزل کے ہر شعر میں وہ فلسفہ سے لبریز گہری بات کہتے تھے ۔ ملاحظہ فرمائیے غزل کا پہلا شعر ہے : ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے ، بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے ۔ آسان زبان میں غالب نے کتنی بڑی بات کہی ہے ۔ غزل کے ایک اور شعر میں وہ ایک شرارتی اور بہت گہری بات کہتے ہیں ۔

      نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن

      بہت بے آبرو ہوکر تیرے کوچے سے ہم نکلے

      پہلی لائن کا مطلب ہے کہ اسلامی روایات کے مطابق خدا نے ناراض ہوکر آدم کو جنت سے نکال دیا تھا ۔ دوسری لائن کہتی ہے کہ شاعر کو ان کی محبوبہ نے بے آبرو کرکے نکال دیا ، یہ کوئی چھوٹا موٹا واقعہ نہیں ہے۔ جنت میں خدا نے آدم کو باہر نکالا تھا اور یہاں غالب کو بے آبرو کرکے نکالا گیا ۔

      اگر غالب کے ساتھ پیش آیا ہے تو پھر یہ واقعہ کوئی چھوٹا موٹا تو نہیں ہے۔ اپنا موازنہ اتنے بڑے واقعہ سے کرتے نظر آرہے ہیں ، اس لئے اس کو شرارتی شعر کہا گیا ہے ۔ غالب نہ سرف اپنے دور سے بہت آگے کے شاعر تھے بلکہ غالب خود اس بات سے مطمئن تھے کہ وہ بہت ہی بڑے شاعر ہیں ۔ یہ ان کا گھمنڈ نہیں خود اعتمادی تھی ۔

      وہ خود دار بھی بہت تھے ۔ ان کی پوری زندگی ہی مفلسی میں گزری ، لیکن اپنی خود داری سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ۔

      باغیانہ تیور والے غالب کی شاعری تو کمال کی تھی ہی ان کے لکھے ہوئے خط بھی اردو ادب کے بیش قیمتی ورثہ ہیں ۔ ایسا ورثہ کہ اگر ان کی شاعری کو الگ بھی کردیا جائے تو یہ خط ہی انہیں ادب کے بہت اونچے مقام تک آرام سے پہنچا دیں گے ۔ کچھ بھی سن لو ، کچھ بھی پڑھ لو، غالب کا سب کچھ بس کمال ہے ، جادو ہے ۔

      پھر خواہ ان کی زندگی ہو ، ان کا لکھا ہوا ہو ، یا ان کی حاضر جوابی کے قصے ہوں ، سب کچھ بے مثال ہیں ۔ سب خاص ہے ، ان کا روش سے ہٹ کر غزل پیش کرنے والا انداز ۔ اسی لئے تو غالب کہہ پاتےہیں : ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے ، کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیان اور ۔

      ڈسکلمیر : یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہے ۔ تحریر میں دی گئی کسی بھی جانکاری کی صداقت / صحیح ہونے کے تئیں مضمون نگار خود جواب دہ ہیں ۔ اس کیلئے نیوز18 اردو کسی بھی طرح سے جوابدہ نہیں ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: