உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    NeoCoV: انسانوں کے لئے بڑا خطرہ نہیں ہے یہ نیا کورونا وائرس، کیا کہتی ہے اس پر اسٹڈی؟

    اپنی تحقیق میں، چینی سائنسدانوں نے پایا کہ چمگادڑوں کو متاثر کرنے کے لیے NeoCoV وائرس کے ذریعے استعمال کیے جانے والے ریسیپٹرز (حساس خلیے) انسانی خلیوں سے بہت ملتے جلتے ہیں، جو SARS-CoV-2 کی مدد سے انسانی جسم میں پھیلتے ہیں۔

    اپنی تحقیق میں، چینی سائنسدانوں نے پایا کہ چمگادڑوں کو متاثر کرنے کے لیے NeoCoV وائرس کے ذریعے استعمال کیے جانے والے ریسیپٹرز (حساس خلیے) انسانی خلیوں سے بہت ملتے جلتے ہیں، جو SARS-CoV-2 کی مدد سے انسانی جسم میں پھیلتے ہیں۔

    اپنی تحقیق میں، چینی سائنسدانوں نے پایا کہ چمگادڑوں کو متاثر کرنے کے لیے NeoCoV وائرس کے ذریعے استعمال کیے جانے والے ریسیپٹرز (حساس خلیے) انسانی خلیوں سے بہت ملتے جلتے ہیں، جو SARS-CoV-2 کی مدد سے انسانی جسم میں پھیلتے ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی:دنیا بھر میں کورونا وائرس کے الگ الگ ویرینٹس نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔ زیادہ تر ملکوں میں فی الحال ڈیلٹا ویرینٹ کو ریپلیس کر کے اومیکرون ویرینٹ قابض ہورہا ہے۔ اس درمیان ایک نئے طرح کے کورونا وائرس کے سامنے آنے کی خبروں نے لوگوں کی تشویش بڑھا دی ہے۔ دراصل، کافی وقت سے انٹرنیٹ پر ایسی رپورٹ سامنے آرہی ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ ایک نیا وائرس - نیوکوو (NeoCoV) کو ساوتھ افریقہ میں چمگاڈروں میں پھیلا ہوا پایا گیا ہے۔ کہا یہ بھی جارہا ہے کہ وائرس اتنا خطرناک ہے کہ اس سے متاثر ہونے والے ہر تین لوگوں میں سے ایک کی موت ہوسکتی ہے۔ حالانکہ یہ رپورٹ کتنی صحیح ہے اس کا ابھی تک پختہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔

      کہاں سے آئی ہے یہ رپورٹ، جس سے لوگوں میں پھیلا ہے ڈر؟
      اس وقت دنیا بھر میں جو خبریں وائرل ہو رہی ہیں وہ چینی سائنسدانوں کا ایک تحقیقی مقالہ ہے جس کی تصدیق دوسرے سائنسدانوں نے نہیں کی ہے۔ تاہم اگر اس تحقیقی مقالے میں دی گئی باتوں کو درست مان بھی لیا جائے تو میڈیا پر چلنے والی باتیں اس سے مختلف ہیں۔ اس رپورٹ کو دیکھنے والے چند سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تحقیقی مقالے کی چیزوں کو لوگوں کے سامنے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

      تو کیا ہے NeocoV وائرس کی سچائی؟
      ایسا نہیں ہے کہ Neokov وائرس دنیا میں موجود نہیں ہے۔ کچھ عرصہ قبل یہ وائرس جنوبی افریقہ میں چمگادڑوں میں پایا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کورونا وائرس سے بہت مشابہت رکھتا ہے جس کی وجہ سے مڈل ایسٹ ریسپیریٹری سنڈروم (MERS) ہوا، یہ ایک انفیکشن ہے جو 2012 میں جنوبی ایشیا میں پھیلا تھا۔

      اپنی تحقیق میں، چینی سائنسدانوں نے پایا کہ چمگادڑوں کو متاثر کرنے کے لیے NeoCoV وائرس کے ذریعے استعمال کیے جانے والے ریسیپٹرز (حساس خلیے) انسانی خلیوں سے بہت ملتے جلتے ہیں، جو SARS-CoV-2 کی مدد سے انسانی جسم میں پھیلتے ہیں۔

      رپورٹ میں NeocoV کو لے کر کتنا کنفیوژن؟
      حالانکہ، نیوکوو کے بارے میں کہی جانے والی زیادہ تر باتیں مبالغہ آرائی یعنی بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی ہیں۔ مہاراشٹر کی کورونا وائرس ٹاسک فورس کے رکن اور بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن کے صدر ڈاکٹر ششانک جوشی نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے نیوکوو کے بارے میں ابہام دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ...

      1. ’NeoCov ایک پرانا وائرس ہے جو MERS کی طرح DPP4 ریسیپٹرز کے ذریعے خلیات تک پہنچتا ہے۔‘

      2. ’اس وائرس کے بارے میں نئی ​​بات یہ ہے کہ یہ چمگادڑوں کے ACE2 ریسیپٹرز (ACE2 Receptors) کو متاثر کر سکتا ہے، لیکن جب تک اس میں کوئی نیا میوٹیشن نہ ہو، یہ انسانوں کے ACE2 ریسیپٹرز کو استعمال نہیں کر سکتا۔ باقی سب کچھ صرف بڑھا چڑھا کر کی گئیں باتیں ہیں۔‘

      خود ریسرچ پیپر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیوکوو اب تک صرف چمگادڑوں میں پایا گیا ہے اور اس نے کبھی انسانوں کو متاثر نہیں کیا۔ اس کی تین میں سے ایک کو مارنے کی صلاحیت اس حقیقت سے سامنے آتی ہے کہ یہ مرس(MERS) وائرس سے ملتا جلتا ہے۔ مطالعہ میں میرس انفیکشن کی وجہ سے اموات کی شرح کا تخمینہ 35 فیصد لگایا گیا ہے۔

      چونکانے والی بات یہ ہے کہ جب میرس جنوبی ایشیا میں پھیلا تو اس کا اثر صرف ایک محدود حد تک تھا۔ یہ کورونا وائرس کی موجودہ شکل کی طرح وبائی بیماری نہیں بنی۔ فی الحال چمگادڑوں سے انسانوں میں نیوکوو کی منتقلی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ محققین نے کہا ہے کہ لیبارٹری کے تجربات میں بھی یہ پایا گیا کہ یہ وائرس انسانوں کے ACE2 ریسیپٹرز کو متاثر کرنے سے قاصر ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: