உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained: تحریک عدم اعتماد پرووٹنگ کل،کیاکہتی ہے نیشنل اسمبلی کی رول بکRule Book؟ جانئے یہاں

    Youtube Video

    Pakistan News:پاکستان کی قومی اسمبلی کے ارکان کی کل تعداد 342 ہے اور ایک رکن کی موت کے بعد یہ تعداد اس وقت 341 ہے۔ اقتدار حاصل کرنے کے لیے جادوئی اعداد و شمار 172 ہے۔ یعنی جس پارٹی کو 172 ارکان کی حمایت حاصل ہو وہی حکومت سازی کریگی۔ عمران خان کی پی ٹی آئی (PTI)ایوان میں سب سے بڑی جماعت ہے لیکن اس کے اپنے صرف 155 ارکان ہیں۔

    • Share this:
      Pakistan News: پاکستان کی نیشنل اسمبلی (National Assembly)میں عمران حکومت کے خلاف لائی گئی تحریک عدم اعتماد (No Confidence Motion)پر 3 اپریل بروز اتوار (3rd April Sunday)کو ووٹنگ ہو گی ۔ وزیراعظم عمران خان(PM Imran Khan) اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے بیرونی سازش سے لے کر سڑکوں پر احتجاج تک ہر حربہ اپنانے میں مصروف رہے۔ تاہم یہ بات یقینی ہے کہ ان کی حکومت کے مستقبل کا فیصلہ سڑک سے نہیں بلکہ نیشنل اسمبلی میں ہوگا۔ ایسی صورتحال میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی رول بک(Rule Book) ایسی صورتحال کے بارے میں کیا کہتی ہے۔

      جس کو ملے گی 172ارکان کی حمایت ، وہ پارٹی کو ملے گا اقتدار


      پاکستان کی قومی اسمبلی کے ارکان کی کل تعداد 342 ہے اور ایک رکن کی موت کے بعد یہ تعداد اس وقت 341 ہے۔ اقتدار حاصل کرنے کے لیے جادوئی اعداد و شمار 172 ہے۔ یعنی جس پارٹی کو 172 ارکان کی حمایت حاصل ہو وہی حکومت سازی کریگی۔ عمران خان کی پی ٹی آئی (PTI)ایوان میں سب سے بڑی جماعت ہے لیکن اس کے اپنے صرف 155 ارکان ہیں۔ سال 2018 میں ہونے والے انتخابات کے بعد سے اب تک عمران خان چند چھوٹی جماعتوں کی حمایت سے حکومت چلا رہے ہیں جن میں سے 3 اہم جماعتوں نے اپنی حمایت واپسی لے لی ہے۔ ایم کیو ایم 7، مسلم لیگ (ق) 4 اور بی اے پی 3 اور جی ڈی اے 3 نے اپوزیشن کی جانب سے لائی گئی تحریک عدم اعتماد کی حمایت میں ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ان کی حمایت سے اب تک 165 کی طاقت پر چلنے والی اپوزیشن جماعتوں کی ٹیم کا اعداد و شمار 180 تک پہنچ گیا ہے۔ اس کے علاوہ اگر عمران خان کی پی ٹی آئی پارٹی سے بغاوت کرنے والے 20 سے زائد ایم پی ایز کی تعداد کو شامل کیا جائے تو یہ اپوزیشن ارکان کو 200 ایم ایز کی تائید حاصل ہوجائیگی ۔

      Ramadan 2022 : رمضان کی رونقیں ، نیوز18 اردو کی خاص پیشکش ، یہاں پڑھیں رمضان سے متعلق تمام اسٹوریز


      عمران خان کی حکومت ، چند گھنٹوں کی مہمان


      تاہم، اس وقت یہ اپوزیشن کو کتنے ارکان کی تائید حاصل ہوتی ہے یہ کہنا مشکل ہوگا ۔اصل امتحان اتوار کو نیشنل اسمبلی میں ہوگا۔ فی الحال اعداد شمار کے مطابق عمران خان کا وزارت عظمیٰ کے عہدے سے محروم ہونا طے سمجھا جا رہا ہے۔ لیکن ایسی صورتحال میں نئے وزیر اعظم کے انتخاب کا عمل آسان نہیں ہوگا۔ پاکستان کی قومی اسمبلی کے مینول میں کہا گیا ہے کہ اگر وزیراعظم کی کرسی خالی ہوتی ہے تو سب سے پہلے ایوان میں اگلے وزیراعظم کے انتخاب کا عمل شروع کیا جائے گا۔ کوئی بھی ممبر اس اعلیٰ عہدے کے لیے کسی مسلمان امیدوار کے نام کی تجویز اور حمایت کر سکتا ہے۔ لیکن کسی رکن کا نام صرف ایک بار تجویز کیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے نامزدگی داخل کی جائے گی۔ الیکشن کے لیے ایک سے زائد امیدوار بھی اپنی امیدوار ی کا دعویٰ پیش کر سکتے ہیں۔

      امیدوار کی نامزدگی کو درست یا کالعدم قرار دینے کا فیصلہ نیشنل اسمبلی کے چیئرمین(اسپیکر) کے پاس ہوگا۔ یعنی موجودہ کیس میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے موجودہ صدر اسد قیصر کا کردار اہم ہوگا۔ اسپیکر تجویز کنندہ اور اس کے حامیوں کی موجودگی میں نامزدگی کی منظوری کا فیصلہ کرے گا۔ ساتھ ہی کسی بھی کاغذات نامزدگی کی منسوخی کی وجہ بھی بتائی جائے تاہم منظوری یا مسترد ہونے پر اسپیکر کا فیصلہ حتمی تصور کیا جاتا ہے۔ کاغذات نامزدگی اور ان کی جانچ پڑتال کا عمل پولنگ کے دن سے کم از کم ایک دن پہلے کیا جاتا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں :پاک وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ریلیشن میں تھی زینت امان، سشمیتا اور رینا رائے سمیت ان ایکٹریس کا جڑچکا ہے پاکستانی کرکٹرس سے نام


      ووٹنگ کے دن اسپیکر امیدوار کا اعلان کرتا ہے، انتخابی عمل میں اگر صرف ایک امیدوار کا نام آتا ہے تو اس کا فیصلہ ایوان کی اکثریت سے کیا جائے گا۔ جس کے بعد اسپیکر منتخب لیڈر کے نام کا اعلان کر سکتا ہے۔ لیکن اگر اسے مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں ہوئی تو پھر یہ سارا عمل دوبارہ دہرایا جائے گا۔ جبکہ دو سے زائد امیدواروں کے درمیان ہونے والے مقابلے میں اگر کسی کو بھی اکثریت حاصل نہ ہو تو سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کسی ایک نام کو اکثریت حاصل نہیں ہو جاتی۔

      عمران کچھ عرصے کے لیے رہ سکتے ہیں نگران کاروزیراعظم


      مقررہ طریقہ کار کے مطابق ا سپیکر قومی اسمبلی قائد ایوان کے انتخاب کی معلومات صدر مملکت کو بھیجتا ہے اور پھر اس کے لیے ضروری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا ہے۔

      ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان اکثریت سے محروم ہونے کے بعد فوری طور پر گھر چلے جائیں گے؟ جواب ہاں میں بھی ہے اور اور ناں میں بھی ہے۔ کیونکہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 94 کے تحت صدر عمران خان کو اگلے وزیر اعظم کے چارج سنبھالنے تک کا م کاج سنبھالنے کی ذمہ داری دے سکتے ہیں۔ یعنی عمران کچھ عرصے کے لیے نگراں کاروزیر اعظم بھی رہ سکتے ہیں۔ تاہم نئے سربراہ کا انتخاب مکمل ہوتے ہی انہیں اپنا عہدہ چھوڑنا پڑے گا۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: