உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    EXPLAINED: شمالی کوریا کررہا ہے مسلسل میزائل تجربے، جانیے کیا ہے وجہ؟

    مسلسل میزائل تجربے کیوں کررہا ہے شمالی کوریا۔

    مسلسل میزائل تجربے کیوں کررہا ہے شمالی کوریا۔

    خاص بات یہ ہے کہ 2017 سے شمالی کوریا نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں کا تجربہ نہیں کیا تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ شمالی کوریا نے اچانک اپنے میزائلوں کے ذخیرے میں اضافہ کرنا شروع کر دیا ہے۔

    • Share this:
      پیونگ یانگ:شمالی کوریا (North Korea) اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے کو بہت تیز رفتاری سے آگے بڑھا رہا ہے۔ سال کی شروعات سے ہی ملک لگاتار میزائل تجربات (Missile Testing) میں لگا ہا ہے۔ وہ میزائل تجربات کے لئے کسی طرح کی کثر نہیں چھوڑنا چاہتا ہے۔ ہائپر سونک میزائل سے لے کر ریل اور ایئرپورٹ سے لانچ ہونےو الی میزائل تک ہونے والے تجربات ملک کے ہتھیاروں کے خزانے میں اضافہ کو ظاہر کررہے ہیں۔

      خاص بات یہ ہے کہ 2017 سے شمالی کوریا نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں کا تجربہ نہیں کیا تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ شمالی کوریا نے اچانک اپنے میزائلوں کے ذخیرے میں اضافہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ درحقیقت شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے ایشیا میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے ملک کو بڑھتے ہوئے خطرے کو دیکھتے ہوئے اپنی فوجی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا ہے۔ گزشتہ ماہ شمالی کوریا میں مختلف قسم کے ہتھیاروں کے تجربات کیے گئے ہیں۔

      ہائپر سونک میزائل
      شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس نے 5 جنوری کو ایک نئی قسم کے ہائپر سونک میزائل کا تجربہ کیا اور 11 جنوری کو دوبارہ تجربہ کیا۔ اس دوران کم جونگ ان بھی موجود تھے۔ ہائپرسونک ایک ایسا ہتھیار ہے جو بیلسٹک میزائل سے بہت نیچے اپنے ہدف کی طرف پرواز کرتا ہے اور یہ آواز کی رفتار سے پانچ گنا یعنی تقریباً 6200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرتا ہے۔

      ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کی خاصیت اس کی رفتار سے زیادہ چستی ہے جس کی وجہ سے یہ میزائل دفاعی نظام سے خود کو محفوظ رکھتا ہے۔ تاہم جنوبی کوریا نے پہلے تجربے کے بعد میزائل کی صلاحیتوں پر سوالات اٹھائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میزائل کی رفتار جو میڈیا میں بتائی جا رہی ہے وہ ظاہر نہیں کی گئی۔ ساتھ ہی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر شمالی کوریا ایسے ہتھیاروں میں بہتری لاتا ہے تو وہ اپنے اردگرد موجود بڑی طاقتوں کو چیلنج کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

      سب سے پہلے مئی 2019 کو کیا گیا تھا KN-23 SRBM میزائل کا تجربہ
      14 جنوری کو، شمالی کوریا نے چین کے ساتھ شمالی سرحد کے ساتھ ایک علاقے میں ایک ٹرین سے دو مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا۔ اس سے پہلے، ملک نے ستمبر میں ریل پر مبنی نظام کا تجربہ کیا تھا، جو ان کے بقول ملک کو کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اگرچہ ملک کا ریل نیٹ ورک بہت محدود اور ناقابل بھروسہ رہا ہے، لیکن ریل موبائل میزائل اب بھی سستا اور قابل ہے، جس کی وجہ سے دشمن کا پتہ لگانا اور اسے تباہ کرنا مشکل ہے۔ KN-23 SRBM میزائل کا تجربہ سب سے پہلے مئی 2019 کو کیا گیا تھا ۔اسے نچلی سطح پر پرواز کر کے میزائل ڈیفنس سسٹم کو ختم کرنے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ شمالی کوریا نے دیگر KN-23 میزائل کا تجربہ کیا جو پہیوں والی گاڑیوںسے لانچ ہوتی ہے۔

      طویل دوری کی کروز میزائل
      اسی طرح میڈیا میں شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق حال ہی میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے دو میزائلوں کا تجربہ کیا گیا جنہوں نے شمالی کوریا کے مشرقی ساحل سے دور سمندر میں واقع ایک جزیرے سے ٹکرانے سے قبل تقریباً 1800 کلومیٹر کا سفر طے کیا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کروز میزائل ملک کی جنگی صلاحیت میں اضافہ کرے گا۔ اس سے قبل ستمبر میں شمالی کوریا نے پہلی بار ایک نئے اسٹریٹجک کروز میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حال ہی میں جس کروز میزائل کا تجربہ کیا گیا ہے وہ بالکل اسی قسم کا ہے۔ شمالی کوریا میں کروز میزائلوں کو بیلسٹک میزائلوں کے مقابلے میں کم توجہ دی جاتی ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ان پر واضح طور پر پابندی نہیں ہے۔ لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زمین پر حملہ کرنے والے کروز میزائل بھی بیلسٹک میزائل کی طرح خطرناک ہو سکتے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: