ہوم » نیوز » Explained

Explained:امریکی بحریہ نےہندوستان کی رضامندی کےبغیرلکشدیپ کےقریب بھیجااپناجنگی جہاز،آخرکیامعاملہ؟

ہندوستانی بحریہ کے سابق چیف ایڈمرل ارون پرکاش نے کہا کہ یہ اتفاقی طور پر دوست ملک کا غیر ضروری اقدام ہے۔ انہوں نے کہا امریکہ ان چند ممالک میں سے ایک ہے جنہوں نے امریکی قانون کے مطابق بین الاقوامی قانون پر دستخط نہیں کیا تھا۔ساتویں بیڑے کی ہندوستان کے ساتھ ایک تاریخ ہے۔ 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کے لئے جنگ جاری تھی ، اس وقت یہ خلیج بنگال کے پانیوں میں جانے کے لئے بھی بدنام ہے۔

  • Share this:
Explained:امریکی بحریہ نےہندوستان کی رضامندی کےبغیرلکشدیپ کےقریب بھیجااپناجنگی جہاز،آخرکیامعاملہ؟
ہندوستانی بحریہ کے سابق چیف ایڈمرل ارون پرکاش نے کہا کہ یہ اتفاقی طور پر دوست ملک کا غیر ضروری اقدام ہے۔

امریکی بحریہ (US Navy) کے 7 ویں بیڑے کا کہنا ہے کہ اس نے ’بحری حقوق اور آزادی‘ پر زور دینے کے لئے ہندوستان کے لکشادیپ جزیروں کے مغرب میں 130 سمندری میل (تقریبا 224 کلومیٹر) مغرب میں ایک جنگی جہاز بھیجا ہے۔ اس اقدام کو ماہرین نے ایک ایسے وقت میں کو غیر ضروری قرار دیا ہے، جب واشنگٹن اور نئی دہلی کے مابین تعلقات عروج پرہے۔ساتویں فلیٹ پبلک افیئرز (7th Fleet Public Affairs) کی طرف سے ایک غیر معمولی پریس نوٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ہندوستان کی جانب سے پیشگی رضامندی کی درخواست نہیں کی گئی تھی لیکن اس میں یہ بھی کہا گیا کہ گائڈڈ میزائل (guided missile) کو تباہ کرنے والا یو ایس ایس جان پال جونز (US John Paul Jones) کا اقدام بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔


اگرچہ ہندوستانی قوانین کے مطابق اس طرح کی کارروائی کے لیے خصوصی اقتصادی زون تحت پیشگی اطلاع دینا پڑتا ہے۔ لیکن امریکہ کے ساتویں بحری بیڑے کا کہنا ہے کہ اس نے معمول کے مطابق اور نیویگیشن آپریشنز کی آزادی Freedom of Navigation Operations FONOPs کے تحت ہی یہ کارروائی انجام دی ہے۔ جو کسی ایک ملک یا وہاں کی سیاست کے بارے میں نہیں ہے۔ہندوستانی عہدیداروں کی طرف سے فوری طور پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ بحریہ کے ذرائع نے بتایا کہ یہ ایک سخت بیان ہے۔ اگر اس ضمن میں پہلے سے قاقف کرایا جاتا تو قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ لیکن ساتویں بیڑے کے بیان کے بعد نااتفاقی بڑسکتی ہے۔



واضح رہے کہ عالمی قوانین کے مطابق کسی ملک کے سمندر یا آبی ذخائر میں کسی بھی دوسرے ملک کے جانب سے کی جانے والی کوئی بھی کارروائی کے لیے متعلقہ ملک کی رضامندی حاصل کرنا ضروری ہے۔ ورنہ ان قوانین کی خلاف ورزی ہوگی۔حقیقت یہ ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب کسی امریکی جنگی بحری جہاز اجازت حاصل بغیر ہندوستان کے خصوصی اقتصادی زون سے گذرا گیا ہو۔ در حقیقت یہ سابق میں بھی ہوتا رہا ہے لیکن جو چیز غیر معمولی ہے وہ ’جارحانہ پریس نوٹ‘، جو کہ امریکی بحریہ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

اس اقدام سے قبل ہی دونوں ممالک نے بحر الکاہل میں چین کے خطرے سے نمٹنے کے لئے قریبی تعاون کا اشارہ کیا تھا ہندوستان، امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے رہنماؤں (جو ایک بلاک کواڈ کے نام سے جانا جاتا ہے) نے 12 مارچ کو ایک ورچوئیل اجلاس منعقد کیا جس میں مبصرین کی شرکت کو تاریخی قرار دیا گیا۔ رہنماؤں نے ویکسین، آب و ہوا کی تبدیلی، ابھرتی ہوئی ٹکنالوجی اور ایک محفوظ، مستحکم اور خوشحال ہند بحر الکاہل کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔

اس طرح کے پس منظر میں 7 ویں بیڑے کی جارحیت غیر متوقع ہے۔ جس سے دونوں ملکوں کے درمیان ہنگامی صورت حال پیدا ہوگی۔ امریکی ہند بحر الکاہل کے علاقے میں روزانہ کی بنیاد پر فورسز کام کرتی ہیں۔ اس کے نوٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام کاروائیاں بین الاقوامی قانون کے مطابق کی گئیں اور یہ ظاہر کیا گیا کہ امریکہ جہاں چاہے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھی اپنے کام جاری رکھ سکتا ہے۔


ہندوستانی بحریہ کے سابق چیف ایڈمرل ارون پرکاش نے کہا کہ یہ اتفاقی طور پر دوست ملک کا غیر ضروری اقدام ہے۔ انہوں نے کہا امریکہ ان چند ممالک میں سے ایک ہے جنہوں نے امریکی قانون کے مطابق بین الاقوامی قانون پر دستخط نہیں کیا تھا۔ساتویں بیڑے کی ہندوستان کے ساتھ ایک تاریخ ہے۔ 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کے لئے جنگ جاری تھی ، اس وقت یہ خلیج بنگال کے پانیوں میں جانے کے لئے بھی بدنام ہے۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Apr 10, 2021 10:23 PM IST