உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Pakistan میں بنی تھی ’پاکستان ہندو پارٹی‘، زعفرانی تھا پرچم، جانیے کیا ہوا حشر؟

    پاکستان ہندو پارٹی کا زعفرانی پرچم۔

    پاکستان ہندو پارٹی کا زعفرانی پرچم۔

    اس پارٹی کا واحد نعرہ ہندوؤں کی مضبوطی تھا۔ اس نے قدیم ہندو اقدار کی وکالت کی۔ اس کا جھنڈا وہی زعفرانی رنگ کا جھنڈا تھا جسے شیواجی استعمال کرتے تھے۔ اس کے جھنڈے پر اوم اور ترشول بطور علامت ابھرے ہوئے تھے۔

    • Share this:
      اسلام آباد:ایک زمانے میں پاکستان میں ہندوؤں کی سیاست کے لیے ایک سیاسی جماعت بنائی گئی تھی۔ پارٹی بڑے جوش و خروش کے ساتھ بنائی گئی۔ پارٹی بنانے والا ایک مضبوط ہندو لیڈر تھا تاہم جتنی دھوم دھام سے پارٹی بنی تھی، اتنی ہی خاموشی سے چند سالوں کے بعد یہ کنارے بھی ہوگئی۔

      یہ پارٹی 1990 میں پاکستان کی ریاست عمرکوٹ کے ہندو راجہ رانا چندر سنگھ نے بنائی تھی۔ خیال کیا جاتا تھا کہ یہ پارٹی ہندوؤں کی آواز بنے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہو سکا۔ یہ جماعت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں ہے لیکن یہ اب بھی کاغذ پر موجود ہے۔ اب رانا چندر سنگھ کے بیٹے رانا ہمیر سنگھ اس پارٹی کے سربراہ ہیں۔

      کن حالات میں بنی تھی یہ پارٹی
      امرکوٹ، رانا چندر سنگھ کی شاہی ریاست، قیام کے وقت پاکستان کی سب سے طاقتور اور سب سے بڑی شاہی ریاست تھی۔ یہ ریاست 22000 کلومیٹر پر پھیلی ہوئی تھی۔ قیام پاکستان کے وقت اس شاہی ریاست کے حکمران نے حکمران جماعت سے ہاتھ ملایا۔ بعد ازاں رانا چندر سنگھ ان لوگوں میں شامل ہو گئے جنہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی بنائی۔ لیکن ایک وقت میں انہوں نے محسوس کیا کہ پاکستان میں ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد ہے اور ان کی آواز کو صحیح طریقے سے اٹھانے والی کوئی جماعت نہیں ہے۔ انہوں نے 1990 میں پاکستان ہندو پارٹی تشکیل دی ۔

      1990 میں پاکستان کے قدآور ہندو رہنما رانا چندر سنگھ نے پاکستان ہندو پارٹی بنائی۔
      1990 میں پاکستان کے قدآور ہندو رہنما رانا چندر سنگھ نے پاکستان ہندو پارٹی بنائی۔


      اس پارٹی کا پرچم یا آئین بھی تھا
      اس کا واحد نعرہ ہندوؤں کی مضبوطی تھا۔ اس نے قدیم ہندو اقدار کی وکالت کی۔ اس کا جھنڈا وہی زعفرانی رنگ کا جھنڈا تھا جسے شیواجی استعمال کرتے تھے۔ اس کے جھنڈے پر اوم اور ترشول بطور علامت ابھرے ہوئے تھے۔

      کون تھے رانا چندر سنگھ
      رانا چندر سنگھ پاکستان کے امرکوٹ (اب عمرکوٹ) کے حکمران تھے۔ وہ ہندو سوڈھا راجپوت تھے۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رکن تھے۔ وہ عمرکوٹ سے سات بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ انہوں نے پاکستان ہندو پارٹی بنائی تھی۔ وہ دو مرتبہ حکومت پاکستان میں وزیر بھی رہے۔ وہ پاکستان اقلیتی کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔ وہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی دوست بھی سمجھے جاتے تھے۔ ان کا انتقال 2003 میں ہوا۔ ان کے بیٹے رانا ہمیر سنگھ ان کے جانشین ہیں۔

      یہ پارٹی کبھی مضبوط کیوں نہیں ہوپائی
      رانا چندر سنگھ نے پاکستان ہندو پارٹی بنائی، لیکن اس پارٹی کے زیادہ تر عہدیداران یا تو ان کے رشتہ دار تھے یا اعلیٰ درجے کے ہندو۔ اس میں پاکستان کی نچلی ہندو ذاتوں کی کوئی نمائندگی نہیں تھی۔ ایسے میں یہ پارٹی اپنا عوامی بنیاد بنانے میں ناکام رہی۔ دوسری بات یہ کہ جس طرح اس جماعت کے لوگوں کو زمین پر اتر کر ہندوؤں کو ساتھ لے کر چلنا تھا، وہ بھی نہ ہو سکا۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے جن ہندو اقلیتوں کو صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کی ریزرو نشستوں پر بھیجا تھا، ان کا تعلق بھی نچلی ذات کے ہندوؤں سے تھا۔ بلاشبہ پیپلز پارٹی نے ہندوؤں کے لیے بہت کچھ نہیں کیا ہو گا لیکن انہیں اپنی پارٹی سے بھی جوڑا۔

      پاکستان پیپلز لیگ کی ہندو سینیٹر کرشنا کماری۔ پاکستان میں ہندو آبادی عام طور پر پاکستان پیپلز لیگ سے زیادہ وابستہ رہی ہے۔
      پاکستان پیپلز لیگ کی ہندو سینیٹر کرشنا کماری۔ پاکستان میں ہندو آبادی عام طور پر پاکستان پیپلز لیگ سے زیادہ وابستہ رہی ہے۔


      پاکستان ہندو پارٹی نے انتخابات میں کیا اثر دکھایا
      پی ایچ پی کو ضلعی اور صوبائی سطح پر انتخابات میں کامیابی کی امید تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ نتیجتاً چند سالوں میں یہ جماعت اس دوڑ سے باہر ہو گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اسے بنانے والے رانا چندر سنگھ نے ہی پی پی پی کو جوائن کرلیا۔ اس کے بعد پاکستان میں ہندوؤں نے کبھی کوئی سیاسی جماعت بنانے کی کوشش تک نہیں کی، جب کہ عیسائیوں کی کئی سیاسی جماعتیں ہیں، جو رجسٹرڈ بھی ہیں۔ وہ اس طرح ہیں-

      پاکستان کرسچن نیشنل پارٹی
      مسیح ملت پارٹی
      کرسچن نیشنل اینڈ لبریشن فرنٹ
      آل پاکستان مسیحی اتحاد
      پاکستان کرسچن موومنٹ
      کرسچن لیبر پارٹی
      پاکستان کرسچن لیگ
      پاکستان کرسچن کانگریس

      پاکستان میں کیوں نہیں بن پاتی ہندوؤں کی سیاسی پارٹی
      پاکستان میں ہندوؤں کے خلاف ظلم و ستم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مظالم کے باوجود پاکستان کی قومی اسمبلی، سینیٹ اور ریاستی اسمبلی کے ہندو رہنماؤں کی خاموشی حیران کن ہے۔ انہوں نے کبھی یہ کوشش نہیں کی کہ ہندوؤں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی سیاسی جماعت بنائی جائے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر پاکستان میں ایسا کچھ ہوتا ہے تو اس کے ہندوؤں کی ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

      نچلی ذات کے ہندو پاکستان میں کیوں خراب حال میں ہیں
      پاکستان میں نچلی ذات کے ہندوؤں کو زیادہ مسائل کا سامنا ہے، کیونکہ اونچی ذات کے ہندو عام طور پر امیر ہوتے ہیں اور سماجی، مذہبی، سیاسی طور پر اپنے آپ کو نچلی ذات کے ہندوؤں سے الگ رکھتے ہیں۔ اس لیے نچلی ذات کے ہندو نہ صرف مظالم کا زیادہ شکار ہوتے ہیں بلکہ مضبوط تنظیم کی عدم موجودگی میں ان کی بات بھی نہیں سنی جاتی۔

      رانا چندر سنگھ کے بیٹے بھی کیا سیاست میں سرگرم ہیں
      کچھ حد تک، وہ تین مرتبہ سندھ صوبے میں ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔ ان کی امیج دبنگ راجپوت کی ہے۔ اس علاقے میں ان کا بڑا اثر و رسوخ ہے۔ عمرکوٹ کا مشہور قلعہ ان کے خاندان کی ملکیت ہے، اسی قلعے میں مغل حکمراں اکبر کی پیدائش ہوئی۔ جب ہمایوں شیر شاہ سوری سے شکست کھا کر بھاگ رہا تھا تو اسے اس قلعے میں پناہ دی گئی۔ تھار پکار، عمرکوٹ اور مٹھی کے ہندوؤں اور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آج بھی اس خاندان کو اپنا حکمران مانتی ہے۔ وہ تین بار ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔ جب ان کی تاجپوشی کی گئی تو ایک بہت بڑی تقریب منعقد ہوئی تھی۔ رانا ہمیر کے بیٹے کرنی سنگھ کی شادی جے پور میں ہوئی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: