உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستان کو آنکھ بتانے والے عمران کے دن ہوئے پورے؟ جانیے کیسے اپوزیشن عمران کو اقتدار سے کررہا ہے بے دخل؟

    Youtube Video

    ایسی صورتحال بھی ہو سکتی ہے کہ عمران خود مستعفی ہو کر اپنی پارٹی کے کسی اور رہنما کو وزیر اعظم بنا دیں۔ کئی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج نے ان کی پارٹی کے دوسرے لیڈر کو وزیراعظم بنانے کے لیے کہا ہے۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان ایک بار پھر اقتدار کی تبدیلی کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اپنے ساڑھے 3 سالہ دور اقتدار میں مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں عمران حکومت کے خلاف 28 مارچ کو پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ ادھر عمران کی جماعت پاکستان تحریک انصاف یعنی پی ٹی آئی کے تقریباً دو درجن ارکان اسمبلی نے بھی بغاوت کر دی ہے۔ ایسے میں اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کے دن ختم ہو چکے ہیں۔

      ایسی صورتحال میں آئیے جانتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد کیا ہے؟ اپوزیشن عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیوں لا رہی ہے؟ باغیوں کی وجہ سے عمران خان کا اقتدار کیسے ختم ہو سکتا ہے؟

      آخر تحریک عدم اعتماد کیا ہوتی ہے؟
      پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت وزیراعظم کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کی جا سکتی ہے۔

      تحریک عدم اعتماد کے لیے قومی اسمبلی کے کم از کم 20 فیصد ارکان کو پارلیمنٹ کے سیکرٹریٹ میں نوٹس جمع کروانا پڑتا ہے۔

      اس کے بعد اس تجویز پر تین دن سے پہلے یا سات دن بعد ووٹنگ نہیں ہو سکتی۔ اگر یہ قرارداد قومی اسمبلی میں اکثریت سے منظور ہو جاتی ہے تو وزیر اعظم کو عہدہ چھوڑنا ہو گا۔

      قومی اسمبلی میں اس وقت تحریک عدم اعتماد کی منظوری کے لیے 172 ووٹ درکار ہیں۔

      عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیوں لائی جارہی ہے؟
      حال ہی میں پاکستان مسلم لیگ نواز یعنی مسلم لیگ (ن) اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی جانب سے قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے 100 سے زائد ارکان کے دستخطوں سے تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ فیصلہ اپنے لیے نہیں پاکستانی عوام کے لیے کیا ہے۔

      اس کی ضرورت کیوں پڑی، شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان نے ملکی معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہے۔ 22 کروڑ لوگوں کو قرض لے کر گروی رکھ دیا گیا ہے۔

      اس دوران سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ حکمران جماعت کے رہنماؤں سمیت بہت سے لوگ حکومت کی ناقص کارکردگی سے ناراض ہیں۔ ہمیں 272 سے زائد ارکان پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہے اور ہمارا اقدام کامیاب ہوگا۔

      اسلام آباد کے جلسے میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے صاحبزادے اور پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران استعفیٰ دیں اور الیکشن میں ہمارا سامنا کریں ورنہ تحریک عدم اعتماد کے لیے تیار ہوں۔

      تاہم عمران خان نے معیشت کے بحران کا جواب تیل اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سے دیا ہے۔ اس کے باوجود عمران کی مشکلات کم ہوتی نظر نہیں آ رہی ہیں۔

      پارلیمنٹ میں عمران خان اور اپوزیشن کو کتنے ارکان کی حمایت ہے؟
      عمران خان پاکستان میں مخلوط حکومت کی سربراہی کر رہے ہیں۔ قومی اسمبلی میں ارکان کی کل تعداد 342 ہے اور اکثریتی تعداد 172 ہے۔

      عمران کی پارٹی کے کل 155 ایم پیز ہیں۔ یعنی اکثریت سے 17 کم۔ اگرچہ پی ٹی آئی کو 6 جماعتوں کے مزید 23 ایم پی ایز کی حمایت حاصل ہے، یعنی عمران حکومت کو اس وقت 178 ایم پی ایز کی حمایت حاصل ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Pakistan news: عمران خان شیئر کریں گے خفیہ لیٹر بم، اس کے بعد دے سکتے ہیں استعفیٰ!

      اس کے ساتھ ساتھ، مشترکہ اپوزیشن جس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی پارٹی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ارکان کی کل تعداد 160 ہے۔ قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی منظوری کے لیے اپوزیشن کو 172 ووٹ درکار ہیں۔ ایسی صورتحال میں اپوزیشن کو عمران خان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے مزید 12 ایم پی ایز کی ضرورت ہوگی۔

      قومی اسمبلی کا اجلاس 21 مارچ کو بلائے جانے کا امکان ہے اور اس پر ووٹنگ 28 مارچ کو ہونے کا امکان ہے۔

      عمران خان کے پاس کیا کیا آپشنس ہیں؟
      جمعرات کے صدمے کے بعد عمران خان نے پارٹی رہنماؤں اور وزراء سے بات چیت کی۔ اس دوران وزیر داخلہ شیخ رشید نے سندھ میں گورنر راج لگانے اور اراکین اسمبلی کی خریداری میں ملوث ہونے پر پیپلز پارٹی کی حکومت کو ہٹانے پر زور دیا۔

      عمران خان نے صدارتی ریفرنس دائر کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے آئین کے آرٹیکل 63-A کے تناظر میں چار بنیادی سوالات پر ہدایات مانگی ہیں۔ یہ سوالات ہیں، کیا منحرف ہونے والوں سے پارلیمانی سیٹ چھینی اور جیتی جا سکتی ہے؟ پارٹی تبدیل کرنے والے نااہل ہو گئے تو کیا وہ اگلا الیکشن لڑ سکیں گے یا نہیں؟ کیا آرٹیکل 63-A کے تحت منحرف رکن پارلیمنٹ ساری زندگی کے لیے پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے نااہل ہو جائے گا؟ اگر کوئی رکن اسمبلی اپنی پارٹی کی پالیسی کے خلاف ووٹ دیتا ہے تو کیا یہ درست ہوگا؟

      تحریک عدم اعتماد پر پاکستان کی فوج کا کیا موقف ہے؟
      عمران خان نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں فوج کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم پاکستانی فوج کے ترجمان نے گزشتہ ہفتے میڈیا کو بتایا تھا کہ فوج اس معاملے میں غیر جانبدار رہے گی۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ آرمی اور عمران کا رشتہ اب پہلے جیسا خوشگوار نہیں رہا۔

      تاہم کئی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فوج نے بھی عمران کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ اعلیٰ فوجی افسران نے او آئی سی اجلاس کے بعد عمران سے استعفیٰ دینے کا کہا ہے۔

      عمران کے جانے پر پاکستان کا اقتدار کس کو ملے گا؟
      عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد ہارنے کے بعد تین طرح کے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ پہلے فوج خود سنبھال لے اور چند دنوں کے بعد دوبارہ عام انتخابات کرائے جائیں۔

      دوسری صورت حال یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم کے لیے مسلم لیگ ن کے قائد شہباز شریف کا انتخاب کریں۔ اس کے ساتھ پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری اور ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو بھی دوڑ میں شامل ہوں گے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      عمران خان کے وزیر کا انکشاف- نواز شریف نے دیا تھا ہندوستان کو اجمل قصاب کا سراغ

      ایسی صورتحال بھی ہو سکتی ہے کہ عمران خود مستعفی ہو کر اپنی پارٹی کے کسی اور رہنما کو وزیر اعظم بنا دیں۔ کئی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج نے ان کی پارٹی کے دوسرے لیڈر کو وزیراعظم بنانے کے لیے کہا ہے۔

      عمران کے تحریک عدم اعتماد ہارنے پر ہند-پاک تعلقات پر کیا اثر ہوگا؟
      پاکستان کے سامنے ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لانے کا سوال باقی ہے۔ کئی میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان بیک چینل سے تعلقات کو معمول پر لانے میں مصروف ہیں۔

      تاہم اقتدار کی تبدیلی کے بعد یہ دوبارہ رک جائے گا۔ ایسے میں دونوں ملکوں کو اس کے لیے ایک بار پھر کوشش کرنی ہوگی۔ ساتھ ہی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر فوج پاکستان کا اقتدار سنبھالتی ہے تو مذاکرات کا یہ سلسلہ مکمل طور پر رک جائے گا۔

      نئی حکومت کے سامنے ہندوستان کے ساتھ تجارت کی بحالی سے مہنگائی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ کیونکہ اس سے پاکستان گیہوں، چینی اور سبزیوں کی قیمتیں کم کرسکتا ہے۔ اس سے پاکستان کے عام لوگوں کو کافی راحت مل سکتی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: