உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Pakistan: کانٹوں بھرا تاج پہننے والے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے کیا کیا ہیں چیلنجز؟

    Youtube Video

    عمران خان کے دور میں حکومت اور فوج کے تعلقات کافی بگڑ گئے تھے۔ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کے انتخاب کے دوران دونوں فریقوں میں رسہ کشی واضح طور پر دیکھی گئی۔

    • Share this:
      اسلام آباد: شہباز شریف نے پاکستان کے 23ویں وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ صدر مملکت عارف علوی کی طبیعت ناساز ہونے کے بعد نائب صدر صادق سنجرانی نے شہباز شریف سے عہدے اور رازداری کا حلف لیا(Pakistan New PM Shehbaz Sharif) ۔ اس دوران نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اپنے چچا شہباز سے گلے مل کر جذباتی ہو گئیں۔ حلف برداری کے بعد مریم نواز نے کہا کہ ان کی حکومت انتقام کی نیت سے کسی کے خلاف کارروائی نہیں کرے گی۔ ساتھ ہی شہباز شریف نے اقتدار سنبھالتے ہی پاکستان کے بیرونی ممالک سے تعلقات بہتر کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے سستے داموں آٹا فروخت کرنے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا وعدہ بھی کیا۔ تاہم شہباز شریف کے سامنے بہت سے چیلنجز ہیں جن پر قابو پانا ان کے لیے بہت مشکل ہوگا۔

      پاکستان کی معیشت کا برا دور
      پاکستان کی معیشت انتہائی خراب دور سے گزر رہی ہے۔ بطور وزیر اعظم قومی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں شہباز شریف نے خود بتایا کہ بدقسمتی سے پاکستان کو آج تک کے سب سے بڑے بجٹ خسارے کا سامنا ہے۔ تجارتی خسارہ بھی ریکارڈ سطح پر ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی اب تک کا سب سے بڑا ہونے جا رہا ہے۔ مہنگائی اپنے عروج پر ہے۔ 60 لاکھ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ 2 کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے ہیں۔ ایسے میں معیشت کو بحال کرنا ان کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔ شہباز شریف پر پاکستان کا واجب الادا قرضہ واپس کرنے کا بھی دباؤ ہے۔ ایسی صورت حال میں زوال پذیر معیشت سے قرضوں کی قسطیں ادا کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Pakistan: وزیر اعظم بنتے ہی شہباز شریف نے الاپا کشمیر راگ، ہندوستان سے متعلق کہی یہ بات

      پڑوسیوں سے تعلقات بہتر بنانے کا چیلنج
      شہباز شریف کے سامنے چیلنج پڑوسی ممالک سے تعلقات بہتر کرنا بھی ہے۔ عمران خان کے دور میں پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات خراب ہوئے ہیں۔ ہندوستان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر کسی بھی معاملے پر بات چیت ممکن نہیں۔ تاہم شہباز شریف نے کشمیر کا راگ بھی الاپا ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں ہندوستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی وکالت کی ہے۔ انہوں نے افغانستان کو اپنا ہمسایہ ملک بتایا ہے۔ شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے سعودی عرب، امریکہ، برطانیہ، ترکی، یورپی یونین سے بھی اچھے تعلقات کی بات کی ہے۔ تاہم اس وقت پاکستان کے تعلقات ترکی اور چین کے علاوہ دنیا کے قریب قریب ہر ملک سے خراب ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      India-Pakistan: پی ایم مودی نے پاک کے نئے پی ایم کو دی مبارکباد ،ٹوئٹ کرکے کہی یہ باتیں

      ساتھی پارٹیوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے رکھنا بھی مشکل!
      شہباز شریف کو پاکستانی پارلیمنٹ میں اکثریت سے صرف دو ووٹ زیادہ ملے ہیں۔ عمران خان کے خلاف جمع ہونے والی مختلف نظریات کی اپوزیشن جماعتوں نے شہباز شریف کو وزیر اعظم بنا دیا ہے۔ شہباز شریف کی مسلم لیگ ن حکمران جماعت میں سب سے بڑی جماعت ہو سکتی ہے لیکن اسے حکومت چلانے کے لیے اپنے تمام اتحادیوں کی ضرورت ہے۔ اگر کسی جماعت نے حکومت کی حمایت واپس لی تو شہباز شریف کی کرسی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ پاکستان میں موجودہ پارلیمنٹ کو مکمل ہونے میں تقریباً 14 ماہ کا وقت ہے۔ ایسے میں اگر حکومت گرتی ہے تو وقت سے پہلے عام انتخابات کرانا پڑ سکتے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      عمران خان اور معاون لڑیں گے ’آزادی‘ کی لڑائی! PTI لیڈر نے کہا- اب پارٹی اٹھائے گی یہ قدم

      فوج کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش
      عمران خان کے دور میں حکومت اور فوج کے تعلقات کافی بگڑ گئے تھے۔ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کے انتخاب کے دوران دونوں فریقوں میں رسہ کشی واضح طور پر دیکھی گئی۔ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ رواں سال نومبر میں ریٹائر ہونے والے ہیں۔ وہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے پوری کوشش کر رہے ہیں۔ عمران خان اس بات کے بالکل حق میں نہیں تھے اس لیے پاکستان میں سیاسی بحران کے دوران فوج نے اپوزیشن کا ساتھ دیا۔ اب شہباز کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ وہ قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کر کے تعلقات بہتر کریں یا ان سے دشمنی مول لیں۔ درحقیقت 2018 کے انتخابات میں یہ جنرل باجوہ ہی تھے جنہوں نے عمران خان کو وزارت عظمیٰ کی کرسی تک پہنچایا تھا۔ یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ نواز شریف کو جیل بھیجنے کے پیچھے جنرل باجوہ کا ہی ہاتھ تھا۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ کیا شہباز شریف اپنے بھائی پر ہونے والے مظالم کو بھول کر نئے سرے سے آغاز کرتے ہیں یا فوج اور حکومت کے درمیان رسہ کشی جاری رہتی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: