உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained:انتخابات سے عین قبل پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں میں لگ جاتا ہے بریک!سمجھیے 7 مارچ تک کیوں چلے گا یہ کھیل؟

     بھلے ہی مودی سرکار پچھلے کچھ سالوں سے ریاستوں کے انتخابات سے عین قبل پٹرول ڈیزل کی قیمتوں کو بڑھانے سے بچتی رہی ہے، لیکن انتخابات کے بعد ان کی قیمتوں کو بڑھانے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی ہے۔

    بھلے ہی مودی سرکار پچھلے کچھ سالوں سے ریاستوں کے انتخابات سے عین قبل پٹرول ڈیزل کی قیمتوں کو بڑھانے سے بچتی رہی ہے، لیکن انتخابات کے بعد ان کی قیمتوں کو بڑھانے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی ہے۔

    بھلے ہی مودی سرکار پچھلے کچھ سالوں سے ریاستوں کے انتخابات سے عین قبل پٹرول ڈیزل کی قیمتوں کو بڑھانے سے بچتی رہی ہے، لیکن انتخابات کے بعد ان کی قیمتوں کو بڑھانے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کو لے کر اکثر سوال اٹھتے ہیں لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ پچھلے لگاتار 83 دنوں سے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ پچھلے سال دیوالی پر مودی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی گھٹائی تھی، جس سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی آئی تھی، تب سے اب تک پٹرول ڈیزل کی قیمت تقریباً مستحکم ہے۔

      ملک میں پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہونے کی وجہ اترپردیش اور پنجاب سمیت پانچ ریاستوں میں ہونے والے آئندہ اسمبلی الیکشن کو مانا جارہا ہے۔
      چلئے سمجھتے ہیں کہ آخر کیوں ڈھائی مہینے سے ملک میں نہیں بڑھی ہیں پٹرول-ڈیزل کی قیمتیں؟ کیسے انتخابات کے دوران ملک میں پٹرول ڈیزل کی قیمتوں پر لگ جاتا ہے بریک؟

      پچھلے ڈھائی مہینے سے ملک میں نہیں بڑھی ہیں پٹرول-ڈیزل کی قیمتیں
      پچھلے سال دیوالی سے ایک دن پہلے (3 نومبر 2021) مرکزی حکومت نے پٹرول، ڈیزل کی ایکسائز ڈیوٹی میں سلسلہ وار 10 روپے فی لیٹر اور 5 روپے فی لیٹر کی کٹوتی کا اعلان کیا تھا۔ جس کا اثر فوری ہی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے طو رپر سامنے آیا تھا۔اس وقت تیل کی قیمت اپنے اعلیٰ سطح پر پہنچ کی تھی اور پٹرول 100 روپے فی لیٹر کو پار کرگیا تھا اور ڈیزل بھی 100 روپے فی لیٹر کے بالکل قریب پہنچ گیا تھا۔

      ملک میں 04 نومبر 2021 کے بعد سے اب تک (تقریباً پچھلے 83 دنوں سے سے) پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ یعنی قریب ڈھائی مہینے سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت دیوالی کی قیمتوں کے آس پاس ہی مستحکم بنی ہوئی ہیں۔

      انٹرنیشنل مارکٹ میں قیمت ریکارڈ اونچائی پر، ملک میں پھر بھی اضافہ نہیں
      اس سال جنوری میں بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت تقریباً 30 فیصد اضافے سے 88 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جو کہ 2014 کے بعد خام تیل کی بلند ترین قیمت ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے مہینوں میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے جس کی وجہ متحدہ عرب امارات کے تیل کے اڈوں پر حوثی باغیوں کے حملے اور روس یوکرین کے تنازع سے پیدا ہونے والے صورتحال ہے۔

      ہندوستان اپنی ضرورت کا تقریباً 84 فیصد پٹرولیم پروڈکٹ امپورٹ کرتا ہے، ایسے میں انٹرنیشنل مارکٹ میں خام تیل کی قیمت سے ہی ملک میں پٹرول-ڈیزل کی قیمت طئے ہوتی ہے۔ لیکن خام تیل کے مہنگے ہونے کے باوجود ملک میں پٹرول ڈیزل کی قیمت ڈھائی مہینے سے زیادہ وقت سے مستحکم بنی ہوئی ہے۔

      اس کی وجہ پانچ ریاستوں میں فروری-مارچ میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کو مانا جارہا ہے۔ یوپی میں آخری مرحلے کی ووٹنگ 7 مارچ کو ہونی ہے، جب کہ نتیجے 10 مارچ کو آئیں گے، ایسے میں الیکشن ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتوں کا بڑھنا تقریباً طئے مانا جارہا ہے۔

      بی جےپی نے کھیلا انتخابات سے پہلے بڑا داؤ
      کئی ماہرین اسے بی جے پی کی یوپی، پنجاب سمیت پانچ ریاستوں کے آئندہ اسمبلی الیکشن کو دیکھتے ہوئے کھیلا گیا بڑا داؤ مان رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق، اس فیصلے سے حکومت کو فائنانشیل ایئر 2021-22 کے باقی بچے مہینوں میں 45 ہار کروڑ اور سالانہ کی بنیاد پر تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہونے کا اندیشہ ہے لیکن اس کے باوجود مودی حکومت نے انتخابات کو دیکھتے ہوئے اتنا بڑا رِسک لیا ہے۔

      پچھلے کچھ سالوں میں مودی حکومت اسمبلی الیکشن سے عین قبل پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے بچتی رہی ہے۔ حالانکہ الیکشن ختم ہوتے ہی وہ قیمتوں کو بڑھانے میں دیر نہیں کرتی ہیں۔ نومبر 2021 سے پہلے تک کورونا وبا کے دور میں مرکزی حکومت نےپٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی کئی گنا بڑھادی تھی۔

      الیکشن آتے ہی لگ جاتا ہے پٹرول ڈیزل کی قیمتوں پر بریک
      یہ پہلا موقع نہیں ہے جب انتخابات سے پہلے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تعطل آیا ہو۔ گزشتہ چند برسوں کے رجحان کو دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ حکومت کس طرح انتخابات سے عین قبل پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو بریک لگا دیتی ہے اور انتخابات ہوتے ہی قیمتیں دوبارہ بڑھنا شروع ہو جاتی ہیں۔
      چلئے دیکھیں کہ کیسے انتخابات اور پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں کے درمیان ہے ایک گہرا رشتہ:

      جنوری-اپریل 2017: اس سے پہلے جنوری 2017 سے اپریل 2017 کے درمیان تقریباً تین ماہ تک پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ اس دوران 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہوئے جن میں اتر پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب، گوا اور منی پور شامل ہیں۔

      دسمبر 2017: دسمبر 2017 میں گجرات میں اسمبلی انتخابات سے پہلے تیل کمپنیوں نے مسلسل 14 دنوں تک تیل کی قیمتوں پر نظر ثانی نہیں کی۔ ان انتخابات سے چند ماہ قبل پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نیچے آگئی تھیں۔ اس دوران اکتوبر سے نومبر کے دوران بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں 10 فیصد اضافہ ہوا تھا لیکن ملک میں پٹرول کی قیمت میں صرف 2 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ دسمبر کے مہینے میں بھی پیٹرول کی قیمت میں صرف ایک فیصد کا اضافہ کیا گیا تھا۔

      مئی 2018: اسی طرح کا رجحان مئی 2020 میں کرناٹک اسمبلی انتخابات سے پہلے نظر آیا تھا۔ اس کے بعد لگاتار 20 دنوں تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی، جبکہ اس دوران خام تیل کی قیمت میں تقریباً 5 ڈالر فی بیرل کا اضافہ ہوا۔ 12 مئی کو ووٹنگ ختم ہونے کے بعد صرف 15 دنوں کے اندر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 4 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔

      مئی 2019: لوک سبھا الیکشن 2019 کے دوران حالانکہ فیول پرائسس میں ٹھہراو تو نہیں آیا لیکن تیل کمپنیوں نے خام تیل کی قیمتوں کا بوجھ گھریلو صارفین پر ڈالنے کی رفتار بہت دھیمی رکھی۔ مارچ میں انٹرنیشنل خام تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ ہوا لیکن ملک میں پٹرول کی قیمت صرف 1 فیصد ہی بڑھی۔ 19 مئی کو آخری مرحلے کی ووٹنگ ختم ہوتے ہی 20 مئی سے 30 مئی کے درمیان پٹرول-ڈیزل کی قیمت میں 70-80 پیسے فی لیٹر تک اضافہ کیا گیا۔

      اکتوبر-نومبر 2020: بہار کے انتخاباتکو دیکھتے ہوئے اکتوبر سے نومبر 2020 تک پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں تبدیلی نہیں ہوئی تھی۔ بہار میں 28 اکتوبر سے 7 نومبر تک الیکشن ہوئے تھے اور 10 نومبر کو نتیجہ آیا تھا۔ اس دوران 23 ستمبر سے 19 نومبر تک ڈیزل اور 2 اکتوبر سے 19 نومبر 2020 تک پٹرول کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، لیکن 20 نومبر کے بعد ان دونوں کی قیمت بڑھنے لگی تھی۔

      مئی 2021: مغربی بنگال، تمل نادو، آسام، کیرل، پڈوچیری میں 6 اپریل سے 29 اپریل تک الیکشن ہوئے تھے۔ ان الیکشن کو دیکھتے ہوئے 23 فروری کے بعد سےپٹرول-ڈیزل کی قیمتوں پر بریک لگ گیا تھا، جو 2 مئی کو اسمبلی الیکشن کے نتیجوں کے آنے تک جاری رہا۔ 4 مئی سے پھرسے پٹرول ڈیزل کی قیمتیں بڑھنا شروع ہوگئی تھیں۔

      پٹرول-ڈیزل پر لگاتار بڑھتا گیا مرکز ٹیکس
      پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں کے بڑھنے میں سب سے بڑا رول مرکز اور ریاستی حکومت کے ٹیکس کا ہوتا ہے۔ پٹرول ڈیزل پر لگنے والے ٹیکس سے مرکز اور ریاست دونوں کی بڑی کمائی ہوتی ہے۔ حالانکہ پچھلے 7 سالوں کے دوران ان ٹیکس سے ریاستوں کے مقابلے میں مرکز کی کمائی کئی گنا بڑھی ہے۔

      - 2017 میں مرکزی حکومت پٹرول پر 9.48 روپے فی لیٹر ایکسائز ڈیوٹی لیتی تھی، جو نومبر 2021 میں بڑھ کر 32.90 روپے ہوگئی، فی الحال یہ 27.90 روپے فی لیٹر ہے۔ وہیں 2014 میں ڈیزل پر مرکزی حکومت 3.56 روپے فی لیٹر ایکسائز ڈیوٹی لگاتی تھی، جو نومبر 2021 میں بڑھ کر 31.80 روپے ہوگئی تھی اور فی الحال 21.80 روپے ہے۔

      - 2014-15 میں، مرکز نے پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی سے 1.15 لاکھ کروڑ روپے کمائے، جب کہ ریاستوں نے ایندھن پر ٹیکس سے 1.37 لاکھ کروڑ کمائے۔ اسی وقت، 2020-21 تک، مرکزexplain کی آمدنی بڑھ کر 3.84 لاکھ کروڑ اور ریاستوں کی آمدنی 2.03 لاکھ کروڑ ہوگئی۔

      - خاص طور پر کورونا کی مدت شروع ہونے کے بعد سے ہی مرکز نے پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ صرف فروری 2020 سے مئی 2020 تک، مرکز نے پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں بالترتیب 13 روپے فی لیٹر اور 16 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا تھا۔

      - نومبر 2021 میں ان دونوں پر ایکسائز ڈیوٹی گھٹانے سے پہلے مئی 2020 سے اکتوبر 2021 تک پٹرول کی قیمت میں 38.85 فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 29.35 روپے فی لیٹر تک کا اضافہ ہوا تھا۔

      - یعنی بھلے ہی مودی سرکار پچھلے کچھ سالوں سے ریاستوں کے انتخابات سے عین قبل پٹرول ڈیزل کی قیمتوں کو بڑھانے سے بچتی رہی ہے، لیکن انتخابات کے بعد ان کی قیمتوں کو بڑھانے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: