உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Prophet Muhammad: ملک گیراحتجاج کے بعدمتعددریاستوں میں 400 سے زائدافرادگرفتار، غازی آباد میں دفعہ 144 نافذ!

    Youtube Video

    یوپی کے آٹھ اضلاع میں 316 افراد اور مغربی بنگال میں 100 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ رانچی میں پولیس نے ان جھڑپوں کے ذمہ داروں کے خلاف 25 ایف آئی آر درج کی ہیں جن میں 10 جون کو دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

    • Share this:
      کئی ریاستوں میں پولیس فورسز نے 10 جون 2022 بروز جمعہ کو ہونے والے مظاہروں میں شریک افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جو پیغمبر انسانیت حضرت محمد ﷺ کے خلاف متنازعہ ریمارکس پر احتجاج کررہے تھے۔ اس کے دوسرے دن 400 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اتر پردیش میں حکام نے تشدد کے ’’ماسٹر مائنڈنگ‘‘ کے الزام میں عام لوگوں کے گھروں کو مسمار کر کے بلڈوزر مہم چلائی یہاں تک کہ اب جھارکھنڈ میں انٹرنیٹ سروس بحال کی گئی ہے۔

      ہفتہ کو مغربی بنگال کے ہاوڑہ ضلع میں تشدد کے بڑھنے کے بعد نادیہ میں بھی اسی طرح کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ہاوڑہ اور مرشد آباد کے کچھ حصوں میں امتناعی احکامات جاری ہیں۔ اس دوران اتر پردیش میں امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے غازی آباد میں 10 اگست تک سی آر پی سی کی دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔

      یوپی کے آٹھ اضلاع میں 316 افراد اور مغربی بنگال میں 100 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ رانچی میں پولیس نے ان جھڑپوں کے ذمہ داروں کے خلاف 25 ایف آئی آر درج کی ہیں جن میں 10 جون کو دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

      کئی ریاستوں میں لوگوں کے سڑکوں پر آنے کے بعد سکیورٹی سخت کر دی گئی اور پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ کئی اضلاع میں پتھراؤ اور سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپوں کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں بی جے پی سے نکالے گئے ترجمان نوپور شرما (Nupur Sharma) اور نوین کمار جندال (Naveen Kumar Jindal) کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔

      جمعہ کے احتجاج کے بعد پورے ملک میں کہاں کیا ہوا؟ اس پر سرسری نظر ڈالتے ہیں:

      مغربی بنگال:

      نیوز 18 ڈاٹ کام کی ایک خبر کے مطابق ہاوڑہ، مرشد آباد اور جنوبی 24 پرگنہ سے تشدد کے واقعات کے بعد نادیہ کے بیتھواڈاہری ریلوے اسٹیشن پر لوگوں کے ایک گروپ نے ایک لوکل ٹرین پر حملہ کرکے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ ایک پولیس افسر نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ اس لائن پر ٹرین خدمات تقریباً دو گھنٹے تک منقطع رہی اور 10 لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔

      مذکورہ خبر کے مطابق افسر نے بتایا کہ 1,000 سے زیادہ مظاہرین نے پتھر پھینکے، مکانات کو نقصان پہنچایا اور سڑکیں بلاک کرنے کی کوشش کی۔ افسر نے مزید کہا کہ مظاہرین کا ایک حصہ ریلوے اسٹیشن کے اندر گیا اور پلیٹ فارم پر انتظار کر رہی ٹرین پر حملہ کر دیا۔

      ہجوم نے ضلع کے ایک اور ریلوے اسٹیشن دھوبلیا میں بھی توڑ پھوڑ کی۔ مشرقی ریلوے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ کچھ ملازمین اور مسافر زخمی ہو گئے۔ پوربا میدنی پور ضلع میں پولیس نے اپوزیشن لیڈر سویندو ادھیکاری کو تشدد سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے سے روک دیا۔ ادھیکاری نے کہا ہے کہ وہ پیر کو عدالت جائیں گے۔

      اتر پردیش:

      نیوز 18 ڈاٹ کام کی مذکورہ خبر کے مطابق پولیس نے غازی آباد میں 10 اگست تک امتناعی احکامات نافذ کیے ہیں۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ’فسادیوں‘ کے خلاف سخت کارروائی کا عزم کیا ہے۔ پریاگ راج میں حکام نے شہر میں جاوید احمد کی جائیدادوں پر بلڈوزر چلا دیا ہے۔ جس سے علاقہ کے لوگوں میں خوف کا ماحول پایا جارہا ہے۔

      ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (امن و قانون) پرشانت کمار نے کہا کہ 13 مقدمات درج کیے گئے ہیں اور آٹھ اضلاع سے 316 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

      جھارکھنڈ:

      رانچی میں تقریباً 33 گھنٹوں کے بعد انٹرنیٹ خدمات بحال کر دی گئیں، یہاں تک کہ ریپڈ ایکشن فورس، انسداد دہشت گردی دستہ، خصوصی ٹاسک فورس اور ضلعی پولیس کو سٹریٹجک مقامات پر تعینات کیا گیا، جن میں 38 غیر محفوظ جیبوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔

      پولیس نے مشرقی سنگھ بھوم میں فلیگ مارچ کیا اور احتیاطی اقدام کے طور پر ملحقہ سرائیکیلا-کھرسوان میں امتناعی احکامات نافذ کر دیئے۔ گولی لگنے سے جاں بحق ہونے والے محمد مدثر عالم (Mohammad Mudassir Alam) اور محمد ساحل (Mohammad Sahil) کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا کہ وہ احتجاج کا حصہ نہیں تھے۔

      پولیس فائرنگ کے بارے میں پوچھے جانے پر رانچی کے ایس ایس پی سریندر کمار جھا نے کہا کہ معیاری آپریٹنگ طریقہ کار پر عمل کیا گیا ہے۔ فائرنگ آخری حربہ ہے۔ ہم نے فائرنگ کرنے سے پہلے تمام اصولوں پر عمل کیا، کیونکہ ہجوم جارحانہ اور بے قابو تھا۔ میں اس پر زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا کیونکہ معاملہ زیر تفتیش ہے۔

      مزید پڑھیں: J&K News: جموں وکشمیر میں انکاونٹر کے تین واقعات میں لشکر کے پانچ دہشت گرد ڈھیر، اب تک وادی میں مارے گئے 100 دہشت گرد


      آسام:

      سونائی میں ایک گروپ کے سڑکوں پر آنے اور شرما کا پتلا جلانے کے بعد آسام کیچار ضلع میں بھی دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔ ہفتہ کی صبح ایک کلب کے ممبران جمع ہو کر بی جے پی کے سابق لیڈر کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ کاچھر ایس پی اور ڈی آئی جی سدرن رینج نے علاقے میں امتناعی احکامات نافذ کرتے ہوئے کارروائی کی۔


      یہ بھی پڑھئے: وادی کشمیر میں ٹارگیٹ کلنگز کے خلاف آواز بلند کریں عوام : ایل جی منوج سنہا

       

      مہاراشٹر:

      شرما اور جندال کے خلاف ردعمل اور عدالتی شکایات کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے اور دیگر کے خلاف مبینہ طور پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں کئی مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ مہاراشٹر کے بھیونڈی میں پولیس نے شرما کو پیر کو اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے سمن جاری کیا ہے، جب کہ جندال کو بھی 15 جون کو طلب کیا گیا ہے۔ اس سے قبل شرما کو 22 جون کو تھانے میں پیش ہونے کے لیے کہا گیا تھا جب کہ ممبئی پولیس نے انھیں 25 جون کو طلب کیا تھا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: