ہوم » نیوز » Explained

EXCLUSIVE: کواڈگروپ بندی فوجی مقاصدکےلیےنہیں ہے، امریکی وزیرخارجہ اینٹونی بلنکن سے انٹرویو

سی این این نیوز 18 (CNN-News18) کے منیجنگ ایڈیٹر زکا جیکب کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے ہندوستان کے ساتھ کھلے اور آزاد انڈو پیسفک خطے میں کام کرنے اور فائزر-موڈرنہ ویکسین Pfizer-Moderna vaccines کی فراہمی کے بارے میں بات کی۔ پیش ہے مکمل انٹرویو:

  • Share this:

امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن Antony Blinken نے کہا کہ کواڈ گروپ بندی Quad grouping عسکری خطوط پر نہیں ہے، بلکہ ویکسین ، آب و ہوا کی تبدیلی ، اور سمندری تحفظ کے اہم امور پر ہم خیال ممالک کا سنگم ہے۔


سی این این نیوز 18 (CNN-News18) کے منیجنگ ایڈیٹر زکا جیکب کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے ہندوستان کے ساتھ کھلے اور آزاد انڈو پیسفک خطے میں کام کرنے اور فائزر-موڈرنہ ویکسین Pfizer-Moderna vaccines کی فراہمی کے بارے میں بات کی۔ اس دوران انھوں نے امریکہ کی جانب سے اپنے فوجیوں کے انخلا کے بعد افغانستان میں تنازعات کے حل کے بارے میں بھی بات چیت کی۔ امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن اس وقت ہندوستان کے دورہ پر ہیں۔



انٹرویو کے اہم اقتباسات یہ ہیں:

سوال) کواڈ گروپ بندی کے تعلق سے امریکہ کا ورژن کیا ہے؟

جواب: یہ فوجی خطوط پر نہیں ہے۔ یہ ہم خیال ممالک کا ایک گروہ ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ ایسے معاملات پر اکٹھا ہو رہا ہیں؛ جو لوگوں کی زندگیوں کے لئے اہم ہیں اور ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ دنیا کے امن پسندوں کو ایک آزاد اور خود مختار خطہ ہونے کی ضرورت ہے۔ ہم دنیا کو مزید کووڈ۔19 ویکسین فراہم کرنے ، آب و ہوا کی تبدیلی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے ساتھ سمندری تحفظ پر ایک ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
سوال) چین کی تنقید پر آپ کا کیا کہنا ہے کہ کواڈ کا مقصد بیجنگ کو نشانہ بنانا ہے؟

جواب) مجھے نہیں لگتا کہ زیادہ سے زیادہ ویکسین تیار کرنے کا مطلب چین کو نشانہ بنانا ہے، یہ اس خطے اور دنیا کو وائرس سے نجات دلانے میں مدد کرنے کی زیادہ کوشش ہے۔ ہم اسی کے لئے مل کر کام کر رہے ہیں۔

سوال) دو امریکی ویکسین فائزر اور موڈرننا ہندوستانیوں کو اب تک کیوں دستیاب نہیں ہیں؟

جواب) میں یہ بتانا چاہوں گا کہ جب ہم وبائی مرض میں مبتلا تھے تو ہندوستان مدد فراہم کر کے ہمارے بچاؤ کے لئے حاضر ہوا۔ ہم نے ایسا ہی کیا جب ہندوستان کو نقصان اٹھانا پڑا اور ہمارا نجی شعبہ لوگوں کی مدد کے لیے اکٹھا ہوا۔ کسی بھی ملک کے ساتھ وہاں منظوری اور ریگولیٹری کا عمل ہوتا ہے اور ویکسین حاصل کرنے کے لیے قانونی عمل درکار ہوتا ہے، اور یہیں چیزیں ابھی تک اس راہ میں حائل کھڑی ہیں۔


سوال) ہم نائن الیون حملوں کی 20 ویں برسی کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ افغانستان سے فوج واپس بلانے کا فیصلہ کہاں تک درست ہے؟

جواب) ہم افغانستان گئے کیوں کہ 9/11 کو ہم پر حملہ ہوا۔ ہم یہ یقینی بنانے کے لئے گئے تھے کہ ہم ان لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے جنہوں نے ہم پر حملہ کیا، جس کا ایک بڑا حصہ ہم نے حاصل کرلیا ہے۔
دس سال بعد بن لادن کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا۔ القاعدہ Al-Qaeda بڑی حد تک کم زور ہوچکی ہے۔ لہذا اب ہم نے 20 سال میں بہت ساری چیزیں حاصل کیں۔ افغانستان کو اپنے آپ پر کھڑے ہونے کے لئے تیار رہنا ہوگا، کیوں کہ ہم اپنی افواج کو واپس لے رہے ہیں ، لیکن ہم حکومت کی مدد کرنے اور فریقین کو اکٹھا کرنے کی کوشش کرنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ خطے میں امن قائم ہو۔

سوال) طالبان کے معاملے میں چین کی شمولیت کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟ موجودہ نظریہ یہ ہے کہ جب امریکہ اپنی فوج واپس لے رہا ہے تو چین خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

جواب) افغانستان کے ہمسایہ ممالک کی خطے میں دلچسپی ہے۔ پاکستان ، ایران ، ایشیا اور وسط ایشیائی ممالک ہر ایک کو خطے میں دلچسپی ہے، لیکن کسی کو بھی اس خطے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ وہ پائیدار خانہ جنگی یا طالبان کے ہاتھوں میں پھنس جائے۔
تنازعہ کے پرامن حل میں ہر ایک کی دلچسپی ہے۔ اگر چین اور دوسرے ممالک اس دلچسپی پر کام کر رہے ہیں تو یہ ایک مثبت چیز ہے


سوال) ہندوستان اور اس کے جمہوری اداروں کے بارے میں تشویش سے متعلق آپ کا کیا کہنا ہے؟

جواب) ہم دونوں (امریکہ اور ہندوستان) کو کئی سمائل کا سامنا ہے۔ اس طرح کا ایک چیلنج سائبر اسپیس اور انٹرنیٹ بھی ہے۔ سائبر اسپیس میں غلط معلومات کو کنٹرول کرنے کے مابین فرق ضروری ہے۔ یہ ایک پتلی لکیر ہے ہمیں اسے غور سے دیکھنا ہے۔ ہم اسی جگہ سے آئے ہیں۔ وہ معاشرے جو جمہوری نظریات اور بہت متحرک جمہوریتوں کے ذریعہ زیادہ ہیں، انھیں چیلنجز درپیش ہوتے ہیں۔ یہ ہمارے لئے اچھا ہے کہ ہمیں اس کے بارے میں کھلے انداز میں بات کرنا پڑے گا۔


سوال) آپ وزیر اعظم نریندر مودی Narendra Modi سے ملاقات کریں گے، کیا آپ انہیں وائٹ ہاؤس میں مدعو کریں گے یا بائیڈن جلد ہی ہندوستان آئیں گے؟

جواب) صدر بائیڈن کا مودی استقبال کریں گے تو یقینا بائیڈن بھی مودی کا استقبال کریں گے۔ ابھی تک کوئی تاریخ طے نہیں ہے۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Jul 29, 2021 02:41 PM IST