உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained : اعلیٰ تعلیم کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا، America میں تعلیم حاصل کرنے کے طلبہ ضرور جان لیں یہ باتیں

    Explained : امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے طلبہ ضرور جان لیں یہ باتیں ۔ تصویر : اسپین میگزین ۔

    Explained : امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے طلبہ ضرور جان لیں یہ باتیں ۔ تصویر : اسپین میگزین ۔

    اس مضمون کو پڑھ کر طلبہ کی کہانیوں سے آگاہ ہوں کہ امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کس طرح توقعاتی   ہونے کے ساتھ  قابل حصول اور انسانی دست رس میں بھی ہے۔

    • Share this:
      روپالی ورما

      ایک وقت تھا جب بھارت کے چھوٹے شہروں کے  طلبہ امریکی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا منصوبہ بناتے  تھے تو کہا جاتا تھا  کہ وہ دن میں خواب دیکھ رہے ہیں۔ تاہم اب وقت بدل گیا ہے اور اسی طرح طلبہ اور والدین کا نقطہ نظر بھی تبدیل ہو گیا ہے۔ والدین کی بڑھتی ہوئی تعداد اپنے بچوں کے ان خوابوں کو  شرمندہ تعبیر کرنے میں مددکرنا چاہتی  ہے جو امریکی اداروں میں عالمی معیار کی تعلیم کے حصول کے  ذریعے نہ صرف خود بلکہ اپنے کنبوں کا بھی وقار  بڑھانے  کی صلاحیت حاصل کرتے ہیں۔

      انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے رابطے اور اسمارٹ فون کے پھیلاؤ نے بھارت میں ملک گیر پیمانے پر طلبہ کو ان معلومات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی  ہے جو انہیں بین الاقوامی اعلی تعلیم کی ڈگری کے اپنے خوابوں کوشرمندہ تعبیر  کرنے کے لیے درکار ہیں۔ اب جب کہ 2020 میں تقریباً 2 لاکھ بھارتی طلبہ امریکی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ، ریاست ہائے متحدہ امریکہ بھارتیوں  کے لیے بین الاقوامی تعلیم کا مقبول ترین مقام بنا ہوا ہے۔

      ایک نئی ثقافت  کی جانب منتقلی ، گھر سے دور رہنا اور نئے ماحول میں خود کو ڈھالنا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا۔ تاہم ، چھوٹے شہروں کے طلبہ نے لچک ، لگن اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے اور اب وہ عالمی شہری ہیں جو ایک باہم مربوط دنیا میں اپنا تعاون  پیش کر  رہے ہیں اور امریکہ میں اپنی تعلیم سے حاصل کردہ علم کی ترویج کر  رہے ہیں۔ یہاں دو طالب علموں کی کہانیاں پیش کی جا رہی  ہیں جن سے پتہ چلتا ہے  کہ اگرچہ امریکہ کی اعلیٰ تعلیم توقعاتی  ہے ،  تاہم، یہ قابل رسائی اور قابل حصول بھی ہے۔

      ہماچل پردیش کے پالم پور میں پیدا ہوئے اور پرورش پائے  نِکشت بھاردواج نے اعلیٰ تعلیم کے حصول  کے لیے امریکی ریاست  مشی گن کے فلنٹ شہر میں واقع یونیورسٹی آف مشی گن کا انتخاب کیا۔ بھاردواج کے مطابق ، ان کے والدین اس کے منصوبوں کی حمایت کرتے تھے لیکن ڈگری مکمل کرنے، اعلیٰ تعلیم کے اخراجات ​​، ثقافتی  مطابقت اور از سر نو مطابقت سے متعلق ان کے کئی خدشات تھے۔ ایجوکیشن یو ایس اے میں صلاح کاروں  سے ملاقات کے سلسلوں اور یونیورسٹی میلوں میں شرکت کے بعد  انہوں نے اطمینان محسوس کیا اور درخواست کے عمل کے چیلنجوں کا مقابلہ کیا۔ بہت سے دوسرے طلبہ کی طرح ، بھاردواج نے ابتدائی طور پر ایک آئی وی لیگ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا خواب دیکھا لیکن اپنی ترجیحات ، اپنے  مجموعی پروفائل اور تعلیمی اخراجات ​​کی ضروریات پر  گہرائی سے غور وخوض کرنے کے بعد  انہوں نے اپنی توجہ  کوامریکہ بھر کی یونیورسٹیوں تک وسعت دی جو ان کی ضروریات اور عزائم  سے مطابقت رکھتے تھے۔

      بھاردواج کا کہنا ہے ’’امریکہ کا تعلیمی نظام وسیع ہے اور ہر قسم کے افراد کے لیے ادارے دستیاب ہیں۔‘‘۔لہٰذا وہ مشورہ دیتے ہیں کہ  یہ ضروری ہے کہ یونیورسٹیوں کے ایک دانش مندانہ،  منصفانہ امتزاج کو تلاش کیا جائے جو  اپنی استعداد اور ضروریات پر کھری  اترے۔اس کے علاوہ کالج برادریوں، منظور شدہ ڈگریوں، تحقیقی مواقع، سماجی زندگی، کلاس کی جسامت،  موسیقی اورفنون ، معلم اور  طالب علم کا تناسب اور انٹرن شپ یا ملازمت کے مواقع کو مدنظر رکھا جائے۔

      وہ مزید کہتے ہیں ’’ ہر جگہ اچھے اور برے لوگ  ہوتے ہیں۔ آپ کو معلومات کن ذرائع  سے حاصل ہوتی ہیں ،اس پر انحصار کرتے ہوئے  آپ کے خیالات ایک خاص سمت اختیار کر  سکتے ہیں۔ بھاردواج کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکہ میں ثقافتی جھٹکے کا واقعی  تجربہ نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں ’’مجھے عوامی  زبانیں ، الفاظ اور کام کرنے کے طریقے دلچسپ لگے۔بہت سارے ہم وطن طلبہ اس بات سے شرم محسوس کرتے ہیں کہ وہ بھارتی نسل کے ہیں۔ تاہم ، میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ امریکی اور دیگر افراد  کس طرح سے  ہماری ثقافت کے بارے میں جاننا پسند کرتے ہیں۔ میں نے بھارت کے مالامال ورثے ، ثقافت اور قدرتی مناظر کے تنوع کے بارے میں بات کرنے کے ہر موقع کو غنیمت جانا ہے۔‘‘

      ریاست ہما چل پردیش کے پالم پور میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے نِکشت بھاردواج نے امریکی ریاست مشی گن کے شہر فلنٹ میں واقع یونیورسٹی آف مشی گن کو اپنی اعلیٰ تعلیم کے لیے چنا۔ تصویر بشکریہ نِکشت بھاردواج / اسپین میگزین ۔
      ریاست ہما چل پردیش کے پالم پور میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے نِکشت بھاردواج نے امریکی ریاست مشی گن کے شہر فلنٹ میں واقع یونیورسٹی آف مشی گن کو اپنی اعلیٰ تعلیم کے لیے چنا۔ تصویر بشکریہ نِکشت بھاردواج / اسپین میگزین ۔


      اترپردیش کے خورجہ  سے تعلق رکھنے والے امن اگروال نے اپنے متبادل  اور چنندہ اداروں پر تحقیق کی تاکہ ایسے اداروں سے باخبر ہو سکیں  جو نہ صرف اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کرتے ہیں بلکہ مستحق بین الاقوامی طلبہ کو وظائف اور مالی امداد فراہم کرنے  کی تاریخ بھی رکھتے ہیں۔ اگروال نے حال ہی میں پنسلوانیا کی ڈریکسل یونیورسیٹی سے سماجی صنعت کاری میں مطالعہ کے ساتھ کمپیوٹر سائنس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی ہے  اور اپنے ڈگری پروگرام کے چار سالوں میں وظائف بھی حاصل کیے ہیں۔

      اگروال کہتے ہیں ’’میں اپنے میجر کے باہر مختلف کورسز  تلاش کرنا چاہتا تھا اور اچھی تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا۔ڈریکسل یونیورسٹی کا نصاب میرے لیے کافی لچکدار تھا ۔ اس سے مجھے موقع ملا کہ میں انجینئرنگ کی بنیاد کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ مطالعہ کے ذریعے صنعت کاری  اور سماجی سروکار میں اپنے مفادات کو آگے بڑھا سکوں۔ یونیورسٹی میں مجھے عملی زندگی کے مواقع حاصل ہونے کے ساتھ  موضوع کی نظریاتی   جانکاری ،عملی جانکاری اور ڈگری ملنے سے پہلے عملی تجربہ حاصل کرنے کا بھی موقع ملا۔ ان کے علاوہ یونیورسٹی نے وظائف بھی دیے۔‘‘

      اگروال نے گریجویشن کے بعد مائیکروسافٹ میں نوکری حاصل کی اور ان کا طویل المیعاد منصوبہ مائیکروسافٹ میں نوکری  جاری رکھنا ، ٹیکنالوجی صنعت میں بصیرت حاصل کرنا  اور بالآخر بھارت  میں زراعت ، معیشت اور تعلیم جیسے شعبوں میں تبدیلی لانے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے  ایک سماجی صنعت کاری منصوبہ  شروع کرنا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ آرزو مند  طلبہ کو سوچا سمجھا ہوا خطرہ مول لینا چاہئے  اور اپنے  شوق کی تکمیل  کرنا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس طور پر ’’ آپ سماجی اور فکری سرمایہ حاصل کریں گے جو فور پوائنٹ زیرو یا سو فی صد گریڈ حاصل کرنے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔‘‘

      بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی ۔ 

       
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: