ہوم » نیوز » Explained

عثمانیہ یونیورسٹی کےاصل لوگو(Osmania University Logo)کی بحالی کامطالبہ،جانئےاصل لوگواورموجودہ لوگومیں کیاہےفرق؟

ٹوئٹر صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ اب جب کہ عثمانیہ یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلر پروفیسر ڈی رویندریادو کا تقرر عمل میں آچکا ہے۔ لہذا وہ اس سلسلے میں پہل کریں اور طلبہ برادری کے مطالبہ کو تنلگانہ حکومت کے سامنے رکھ کر اصل لوگو کی بحالی کو یقینی بنائے۔ تاکہ کہ او یو کی علمی و تحقیقی روایات کو برقرار رکھا جائے۔

  • Share this:
عثمانیہ یونیورسٹی کےاصل لوگو(Osmania University Logo)کی بحالی کامطالبہ،جانئےاصل لوگواورموجودہ لوگومیں کیاہےفرق؟
عثمانیہ یونیورسٹی کا قدیم اور موجودہ لوگو

معروف علمی و تحقیقی دانش گاہ عثمانیہ یونیورسٹی (Osmania University) کے لوگو کے سلسلے میں آج بڑے پیمانے پر سماجی رابطہ عامہ کے پلیٹ فارم ٹوئٹر (Twitter) پر کئی صارفین نے عثمانیہ یونیورسٹی کے اصل لوگو کی بحالی کے لیے ٹرینڈ چلایا ہے۔ اس ٹرینڈ کے تحت کہا جارہا ہے کہ حیدرآباد کے لوگ اور خاص کر طلبہ برادی عثمانیہ یونیورسٹی کے پرانے اور اصل لوگو کی بحالی چاہتی ہے۔


  • عثمانیہ یونیورسٹی کی مختصر تاریخ:


یونیورسٹی آف حیدرآباد (University of Hyderabad) کی سابقہ صدر شعبہ اردو پروفیسر سیدہ جعفر نے عثمانیہ یونیورسٹی کی تاریخ پر مبنی کتاب ’’جامعہ عثمانیہ‘‘ سال اشاعت جون 1993 کے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ ’’جامعہ عثمانیہ جنوبی ہند کی وہ پہلی دانش گاہ ہے، جس نے ایک دیسی زبان اردو (indian languages) کو ذریعہ تعلیم بنانے کا کامیاب تجربہ کیا۔ اس جامعہ کے فارغ التحصیل طلبہ ہندوستان اور بیرون ممالک میں اہم عہدوں پر فائز رہے اور اپنی اعلی تعلیمی صلاحتیوں کا لوہا منوایا‘‘۔



پروفیسر سیدہ جعفر نے مزید لکھا کہ ’’انھوں نے یہ ثابت کردیا کہ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم کسی طرح دوسرے طلبہ سے مسابقی دور میں پیچھے نہیں رہتے بلکہ انھیں اپنے ذاتی جوہروں کو نکھارنے اور بروئے کار لانے کا ان طالب علموں سے بہتر موقعہ ملتا ہے جو کسی غیر زبان کو ذریعہ کے طور پر اختیار کرتے ہیں‘‘۔ صفحہ نمبر : 3

سابق مملکت آصفیہ حیدرآباد دکن کے ساتویں نظام نواب میر عثمان علی خان (Nawab Mir Osman Ali Khan) پیدائش 6 اپریل 1886 ؍ وفات 24 فروری 1967 نے اپنے دور حکومت میں اعلی تعلیم کے لیے سنہ 1919 میں جامعہ عثمانیہ (موجودہ عثمانیہ یونیورسٹی) کا قیام عمل میں لایا۔ پہلے پہل اس جامعہ کا ذریعہ تعلیم اردو تھا۔ جو کہ کئی سال تک جاری رہا۔

عثمانیہ یونیورسٹی کا قدیم لوگو
عثمانیہ یونیورسٹی کا قدیم لوگو


جامعہ عثمانیہ کے قیام کے کئی سال بعد 17 ستمبر 1948 کو انڈین یونین کی جانب سے مملکت آصفیہ حیدرآباد دکن پر پولیس ایکشن (Police action) ہوا اور دکن کو انڈین یونین میں ضم کردیا گیا۔ اس کے بعد غالباً سنہ 1950 میں جامعہ عثمانیہ کا ذریعہ تعلیم اردو سے بدل کر انگریزی کردیا۔

سنہ 1948 میں پولیس ایکشن کے بعد چونکہ نظام حکومت ختم اور مملکت آصفیہ کا زوال ہوچکا تھا، اسی لیے عثمانیہ یونیورسٹی کے اصل لوگو کو بھی اس کی قدیم سناخت ختم کرکے نئے انداز میں استعمال کیا جانے لگا۔

  • آج کی عثمانیہ یونیورسٹی:


عثمانیہ یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے مطابق عثمانیہ یونیورسٹی نے اول روز ہی سے نمایاں پیشرفت کی ہے اور تمام فیکلٹیوں کی مربوط ترقی کو برقرار رکھا ہے۔ اس نے نہ صرف خطے بلکہ ملک کی بھی تعلیمی اور معاشی ترقی میں نمایاں مدد کی ہے۔ اس کے سابق طلبہ نے زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنے آپ کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر ممتاز کیا ہے اور پوری دنیا میں دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔

یونیورسٹی کا علاقائی ، قومی اور عالمی سماجی و اقتصادی تبدیلیوں کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے انسانی وسائل کے معیار کو ترقی دینے ، بڑھانے اور بہتر بنانے کا وژن ہے۔ اس کا مشن تعلیم اور تحقیق میں منفرد مقام حاصل کرنا ہے اور طلبہ کے لئے قومی اور علاقائی ترقی میں شراکت کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

عثمانیہ یونیورسٹی کو قومی تشخیص (National Assessment) اور یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کا ایک خودمختار ادارہ ایکریڈیشن کونسل (Accreditation Council) کے ذریعہ اے پلس گریڈ یونیورسٹی ( 'A+' Grade University) کی حیثیت سے منظوری ملی ہے۔

  • عثمانیہ یونیورسٹی کا اصل لوگو:


عثمانیہ یونیورسٹی (او یو) کا موجودہ لوگو پرانے اور اصل لوگو (LOGO) سے قدرے مختلف ہے۔ اسی وجہ سے ٹوئٹر صارفین نے عثمانیہ یونیورسٹی کے اصل لوگو کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر اصل لوگو کو بغور دیکھا جائے تو اس کے لوگو میں بہت سے چیزیں نمایاں نظر آئی گی۔ جو کہ موجودہ (ترمیم شدہ) لوگو میں غائب ہے۔ اس کو تاریخ دکن کو منفرد اور ڈیجیٹل انداز میں پیش کرنے والی ویب سائٹ دکن آرکائیو (The Deccan Archive) نے عام فہم اور عمدہ انداز میں پیش کیا ہے۔


او یو کے اصل لوگو میں سب سے پہلے ’’نور علی نور‘‘ لکھا ہوا تھا۔ اس لوگو میں نظام حیدرآباد کا دستار یعنی تاج بھی بہت ہی نمایاں طور پر نظر آتا تھا۔ اس کے نیچے حدیث کے یہ الفاظ ’’انا مدينة العلم وعلي بابها‘‘ بھی درج تھے۔ جس کے معنی ہے: میں (حضرت محمد ﷺ) علم کا شہر ہوں، علی اس کا دروازہ ہیں۔ پرانے لوگو میں درمیان میں بڑے سائز میں اردو حروف تہجی ’’ع‘‘ لکھا تھا۔ جو کہ عثمانیہ کا مخفف ہے۔ وہیں سب سے آخر میں ’’جامعہ عثمانیہ‘‘ لکھا تھا۔

اصل لوگو کے برعکس موجودہ لوگو کو دیکھا جائے تو اس میں واضح فرق نظر آئے گا۔ ترمیم شدہ موجودہ لوگو میں صرف بڑے سائز میں اردو حروف تہجی ’’ع‘‘ ہی برقرار ہے۔ جب کہ مذکورہ بالا دیگر تحریریں ہٹا دی گئی ہے۔ نظام حیدرآباد کا تاج غیرموجود ہے۔

’’نور علی نور‘‘، ’’انا مدينة العلم وعلي بابها‘‘ اور ’’جامعہ عثمانیہ‘‘ کے بجائے اب انگریزی، تلگو اور ہندی میں عثمانیہ یونیورسٹی نظر آئے گا۔ ٹوئٹر صارفین کا یہی کہنا ہے کہ او یو (OU) لوگو کی اصل شناخت کو بحال کیا جائے تاکہ اس کے ذریعہ عثمانیہ یونیوسٹی کی علمی و تحقیقی خدمات کو بھی یاد رکھا جائے اور اس سے تحریک (Motivation) حاصل کی جائے۔ وہ اس لیے کہ عثمانیہ یونیوسٹی کی روز اول ہی سے اپنی منفرد اور نمایاں شناخت رہی ہے۔

ٹوئٹر صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ اب جب کہ او یو کے نئے وائس چانسلرپروفیسر ڈی رویندر یادو کا تقرر عمل میں آچکا ہے۔ لہذا وہ اس سلسلے میں پہل کریں اور طلبہ برادری کے مطالبہ کو تنلگانہ حکومت کے سامنے رکھ کر اصل لوگو کی بحالی کو یقینی بنائے۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Jun 07, 2021 12:20 AM IST