உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Ukraine-Russia Crisis: پوتن کو سبق سکھانے کے خواہشمند یوروپی ممالک روس کے ایک قدم سے خود گھٹنے ٹیکنے پر ہوجائیں گے مجبور

    Ukraine-Russia Crisis: بڑھتی کشیدگی کے درمیان روس کے فیصلے سے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائیں گے یوروپی ممالک۔

    Ukraine-Russia Crisis: بڑھتی کشیدگی کے درمیان روس کے فیصلے سے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائیں گے یوروپی ممالک۔

    Ukraine-Russia: امریکہ اور نیٹو ممالک نے ایک ایک کر کے روس پر پابندیوں کی بارش شروع کر دی ہے۔ لیکن ایک ایسا قدم اٹھایا گیا ہے جس سے پورا یورپ تناؤ کی لپیٹ میں آگیا ہے۔ کیونکہ جنگ یوکرین میں چھڑے گی، لیکن یورپ میں لائف لائن بھی رک جائے گی۔ آخر گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایسا کیا ہوا ہے کہ روس کو گھٹنے ٹیکنے کی سوچ رکھنے والے یورپی ممالک گھٹنوں کے بل آنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

    • Share this:
      ماسکو:لوہانسک اور ڈونیٹسک میں یوکرین(Ukraine) اور روس (Russia) کے حمایت یافتہ باغیوں کے درمیان پرتشدد تنازعہ جاری ہے۔ باغیوں نے یوکرین پر راکٹ حملے (Rocket Attack)کا الزام عائد کیا۔ ٹرالی بس ڈپو میں فائرنگ کے نشانات دیکھے گئے ہیں۔ حملے میں 2 شہریوں کے مارے جانے کی بھی خبر ہے۔ لوہانسک میں مسلسل فائرنگ کے باعث لوگ شیلٹر میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں بم دھماکوں اور حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں باغیوں کا قبضہ ہے۔ یوکرین کی فوج اور روسی حمایت یافتہ باغیوں کے درمیان کئی دنوں سے لڑائی جاری ہے۔

      بیلگوروڈ میں روسی فوج کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھا گیا ہے۔ روس کی جانب سے سرحد پر ٹینک اور ہوویتزر تعینات کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف میں اپنا سفارت خانہ خالی کرنا شروع کر دیا ہے جس سے جنگ کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔

      اگلے 48 گھنٹوں میں روس کرسکتا ہے یوکرین پر قبضہ
      امریکا نے بڑی پیش گوئی کی ہے کہ روس اگلے 48 گھنٹوں میں پورے یوکرین پر قبضہ کر سکتا ہے۔ امریکی انٹلیجنس ایجنسی نے یوکرین کے صدر زیلنسکی کو بھی اس بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔ روس یوکرین کشیدگی پر دوسری بڑی بریکنگ نیوز یہ ہے کہ امریکا نے یوکرین پر روسی حملے کے حوالے سے ایک اور وارننگ جاری کر دی ہے۔ امریکہ نے بڑا بیان دے دیا ہے کہ روس۔ کیف پر میزائلوں کی بارش کی تیاری میں ہے۔ روسی میزائل کیف کا الیکٹرانک کمیونیکیشن سسٹم تباہ کر دیں گے اور اس وقت تیسری بڑی خبر آ رہی ہے کہ یوکرین پر سائبر حملہ ہوا ہے۔ یوکرین کی سرکاری ویب سائٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ چوتھی بڑی خبر یہ ہے کہ بائیڈن نے کہا ہے کہ ان کا روس یوکرین کشیدگی کے حوالے سے روس سے لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ وہ اتحادیوں کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس یوکرین پر بڑے حملے کر سکتا ہے۔

      دراصل، پوٹن کی کارروائی کے سامنے بائیڈن کا ردعمل سست نظر آرہا ہے۔ تمام تر دھمکیوں کے باوجود روس کی جانب سے یوکرین کے حوالے سے کیے گئے فیصلے نے پوٹن کا حوصلہ بڑھایا ہے۔ اب اسے روس کی یوکرین کو براہ راست وارننگ کہیں یا امریکہ پر بالواسطہ حملہ، لیکن روس نے پہلے یوکرین کو امریکہ کی آنکھوں کے سامنے یوکرین سے لوہانسک اور ڈونسک کاٹ کر دو حصوں میں تقسیم کیا اور پھر وہاں اپنی فوج اتار کر بتا دیا کہ امریکہ کتنا بے بس ہے۔

      روس کے خلاف سیدھی جنگ لڑنا نہیں چاہتا امریکہ
      امریکہ یا اس کی قیادت میں نیٹو کے ممالک روس کے خلاف براہ راست جنگ نہیں لڑنا چاہتے، اس لیے وہ روس کو اقتصادی طور پر کمزور کرنے کے لیے اس پر پابندیاں لگا رہے ہیں۔ ماہرین بتا رہے ہیں کہ روس پر ان اقتصادی پابندیوں کا زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔

      امریکہ اور نیٹو ممالک نے ایک ایک کر کے روس پر پابندیوں کی بارش شروع کر دی ہے۔ لیکن ایک ایسا قدم اٹھایا گیا ہے جس سے پورا یورپ تناؤ کی لپیٹ میں آگیا ہے۔ کیونکہ جنگ یوکرین میں چھڑے گی، لیکن یورپ میں لائف لائن بھی رک جائے گی۔ آخر گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایسا کیا ہوا ہے کہ روس کو گھٹنے ٹیکنے کی سوچ رکھنے والے یورپی ممالک گھٹنوں کے بل آنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
      پوٹن اور بائیڈن کی جنگ کے درمیان روس کی گیس پائپ لائن بھی آچکی ہے۔ یہ پائپ لائن ان ممالک تک بھی جاتی ہے جو نیٹو کے رکن ہیں اور اب سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ بائیڈن شاید پوٹن کو سبق سکھانے کے لیے روسی پائپ لائن کاٹنا چاہتے ہیں لیکن کیا سپلائی میں کٹوتی کی وجہ سے امریکہ کے اپنے اتحادی بھی گیس بحران کی زد میں نہیں آئیں گے؟

       

      یوکرین کی آرمی کا دعویٰ-روس نے 96 مرتبہ کی سیز فائر کی خلاف ورزی
      یوکرین کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 96 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جس میں ایک یوکرائنی فوجی ہلاک اور 6 زخمی ہوئے جب کہ ڈی پی آر کا دعویٰ ہے کہ یوکرائنی فوج کی فائرنگ سے 3 شہری ہلاک اور 6 فوجی زخمی ہوئے۔

      درحقیقت امریکہ اور نیٹو کی دھمکیوں کی پرواہ کیے بغیر یوکرین کے لوگانسک اور ڈونسک کی صورت حال جسے روس نے خود مختار ریاستوں کے طور پر قرار دیا تھا کشیدہ بن چکے ہیں۔ ڈونباس میں روس کی براہ راست مداخلت بڑھ گئی ہے۔ اور دوسری طرف سے یوکرین کی فوج نے مورچہ سنبھال لیا ہے۔

      غیر ملکی مشن پر فوج بھیجنے کے فیصلے کے بعد روسی فوج مسلسل یوکرین کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔ روسی ٹینک ڈون باس میں گشت کر رہے ہیں، اور روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسند اب یوکرین کی فوج سے براہ راست محاذ سنبھال رہے ہیں۔ یوکرین کے شہر لوہانسک میں ٹرالی بس ڈپو کے قریب یکے بعد دیگرے پانچ دھماکے ہوئے۔ ایل پی آر نے الزام لگایا کہ یہ دھماکے یوکرین کی فوج نے کیے ہیں۔ اسی دوران روس نواز ڈونسک میں ٹیلی ویژن سینٹر کے قریب زور دار دھماکہ ہوا۔

      مشرقی یوکرین میں دو دن کی گولہ باری کے دوران ایک پاور پلانٹ گر گیا۔ گیس پائپ لائن میں بھی آگ لگ گئی۔ یعنی یوکرین نے اب اپنے ان علاقوں میں سپلائی لائنیں کاٹنا شروع کر دی ہیں جنہیں روس نے خود مختار ملک قرار دیا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: