உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained : ایک ماہ بعد بھی یوکرین میں کیوں نہیں جیت سکا روس، جانئے اس کی 5 اہم وجوہات

    Explained : ایک ماہ بعد بھی یوکرین میں کیوں نہیں جیت سکا روس، جانئے اس کی 5 اہم وجوہات

    Explained : ایک ماہ بعد بھی یوکرین میں کیوں نہیں جیت سکا روس، جانئے اس کی 5 اہم وجوہات

    Russia Ukraine War : یوکرین کے خلاف جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ بعد بھی روس ابھی تک یہ جنگ نہیں جیت سکا ہے۔ ابتدائی طور پر خیال کیا جا رہا تھا کہ روسی فوج چند دنوں میں جنگ جیت جائے گی ، لیکن یہ جنگ ایک ماہ سے زائد جاری رہنے کے باوجود فی الحال روس فاتح بننے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ جیسے جیسے یوکرین کے خلاف جنگ طول پکڑتی جا رہی ہے، روسی فوج کی صلاحیت اور حکمت عملی دونوں پر سوالات اٹھنے لگے رہے ہیں

    • Share this:
      Russia Ukraine War : یوکرین کے خلاف جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ بعد بھی روس ابھی تک یہ جنگ نہیں جیت سکا ہے۔ ابتدائی طور پر خیال کیا جا رہا تھا کہ روسی فوج چند دنوں میں جنگ جیت جائے گی ، لیکن یہ جنگ ایک ماہ سے زائد جاری رہنے کے باوجود فی الحال روس فاتح بننے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ جیسے جیسے یوکرین کے خلاف جنگ طول پکڑتی جا رہی ہے، روسی فوج کی صلاحیت اور حکمت عملی دونوں پر سوالات اٹھنے لگے رہے ہیں ۔ ایسے میں آئیے جانتے کہ ایک ماہ بعد بھی روس کے یوکرین کی جنگ نہ جیتنے کی کیا وجہ ہے؟ یوکرین روس کے سامنے کھڑا ہونے کی پانچ اہم وجوہات کیا ہیں؟

      1- روس کا فوج پر کم خرچ

      روس بھلے ہی دنیا کے سپر پاور میں شامل ہے ، لیکن دفاعی اخراجات کے معاملہ میں وہ امریکہ، چین اور ہندوستان سے بھی پیچھے ہے۔ دفاع پر کم خرچ کا مطلب فوج کی تجدیدکاری میں کمی ۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یعنی ایس آئی پی آر آئی کی رپورٹ کے مطابق 2021 میں امریکہ کا دفاعی بجٹ دنیا میں سب سے زیادہ تھا ، جس نے 2021 میں فوج پر 778 بلین ڈالر خرچ کئے تھے ۔

      دوسرے نمبر پر چین رہا ، جس نے فوج پر 253 ارب ڈالر خرچ کئے۔ تیسرے نمبر پر ہندوستان ہے ، جس نے فوج پر 72.9 بلین ڈالر خرچ کئے ۔ وہیں فوج پر اخراجات کے معاملہ میں روس چوتھے نمبر پر ہے اور اس دوران اس نے اپنی فوج پر 61.7 بلین ڈالر خرچ کئے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : انڈرگراونڈ ہوگئی ہے پوتن کی خفیہ گرل فرینڈ، تین ممالک کے 50 ہزار لوگوں نے لگائی پٹیشن


      2- یوکرین سے فضائی جنگ جیت نہیں پائی روسی ایئرفورس

      جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ بعد بھی روسی ایرو اسپیس فورسز، جسے وی کے ایس کہے ہیں، یوکرین کے آسمانوں پر اپنی برتری ثابت نہیں کرپائی ہے ۔ فضائی برتری کا مطلب ہوتا ہے کہ کسی ملک کی فضائی حدود پر اس طرح غلبہ حاصل کرنا کہ مخالف فوج کی مزاحمت کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوں ۔

      ویسے تو گزشتہ دہائی میں روس نے اپنی فضائی صلاحیت کو بڑھانے کیلئے دنیا کے سب سے بہترین فائٹر پلین میں شمار سخوئی-30، سخوئی-35 اور سخوئی-34 جیسے لڑاکا طیاروں کیلئے اربوں ڈالر خرچ کئے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یوکرین کے آسمانوں پر اس کے باوجود روسی فوج اپنا تسلط کیوں قائم نہیں کر سکی ہے؟

      3- روس کی منصوبہ بندی اور فوجی تربیت کی کمی

      یوکرین کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے روسی فوج کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اس کی پلاننگ کے فقدان کی صورت میں سامنے آیا ہے ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد بھی روسی افواج کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ انہیں جانا کہاں ہے اور یہی وجہ ہے کہ پہلا موقع ملتے ہی وہ ہتھیار ڈال رہے ہیں ۔

      یوکرین کے خلاف جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ بعد بھی روس ابھی تک یہ جنگ نہیں جیت سکا ہے۔
      یوکرین کے خلاف جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ بعد بھی روس ابھی تک یہ جنگ نہیں جیت سکا ہے۔


      واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق یوکرین کے خلاف لڑائی کے پہلے دو ہفتوں میں 5-6 ہزار روسی فوجی مارے گئے یعنی روزانہ تقریباً 400 فوجی۔ 1945 کے بعد دنیا میں کہیں بھی روسی فوج کو اتنا نقصان نہیں پہنچا ہے ۔ افغانستان کے ساتھ سوویت روس جنگ کے دوران بھی ہر روز اوسطاً 5 روسی فوجی مارے گئے تھے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے :  ولادیمیر پوتن کی 'دشمن' ہے یہ خوبصورت حسینہ، روسی فوج پر گرا رہی بجلیاں!


      4- لاجسٹک اور سپلائی لائن

      یوکرین کی فوج نے اس جنگ میں روس کے لاجسٹکس اور سپلائی لائن کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا ہے ۔ اس کی وجہ سے بھی روس کو جنگ میں برتری حاصل کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ رپورٹس کے مطابق یوکرین نے روس کے 60 فیوٹ ٹینکوں تباہ کردیا ہے اور روس کی لاجسٹک سپلائی چین پر انتہائی اسٹریٹجک طریقہ سے حملہ کیا ہے، جس کی وجہ سے روس اپنے فوجیوں کو اس رفتار سے مدد نہیں پہنچا پا رہا ہے ، جو جنگ میں پیش رفت کیلئے ضروری ہے ۔

      ماہرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ کیف میں روسی ٹینکوں کا ایک طویل قافلہ ہونے کے باوجود روس دارالحکومت کیف پر قبضہ نہیں کر سکا ، کیونکہ اس کے بیشتر ٹینکوں میں تیل نہیں تھا ۔ لاجسٹکس یا رسد کا فوج کے معاملہ میں مطلب افواج کو ایندھن اور ہتھیار وغیرہ فراہم کرنا اور نقل و حمل وغیرہ کے انتظامات کرنا ہوتا ہے ۔

      5- یوکرین کے عوام کے حوصلے اور صدر اور فوج کی حکمت عملی

      روسی حملے کے بعد سے یوکرین میں فوج کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی ہر ممکن طریقے سے روس کی مخالفت کر رہے ہیں ۔ ہزاروں یوکرینیوں نے لڑنے کیلئے ہتھیار بھی اٹھا لئے ہیں ۔ نیشنل گارڈ آف یوکرین کے مطابق یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے اب تک ایک لاکھ سے زائد یوکرینی شہری ، یوکرینی فوج کی والینٹیئر برانچ میں شامل ہو چکے ہیں ۔

      جنگ شروع ہونے کے بعد روسی ٹینک کے سامنے کھڑے تنہا یوکرینی شخص کی تصویر دنیا بھر میں وائرل ہوئی تھی ۔ یہ تصویر طاقتور روس کے سامنے یوکرین کے عوام کے حوصلے کی عکاسی کرتی ہے ۔ اس جنگ میں یوکرین کے صدر زیلینسکی اور فوج کی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ اس کے حوصلے نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے ، جس کا فائدہ بھی اسے ملا ۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق روس کے مقابلہ میں یوکرین کے صرف 50 فیصد فوجی جنگ میں ہلاک ہوئے ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: