ہوم » نیوز » Explained

Explained: سیو لکشادیپ مہم (Save Lakshadweep campaign) کیاہے؟ جانئیے مکمل تفصیلات

لکشادیپ ہندوستان کا نہایت تعلیم یافتہ اور ماحول دوست (Environment-friendly) علاقہ ہے۔ یہ مرکز کے زیر انتظام (Union territory) علاقہ ہے۔ گجرات کے وزیر داخلہ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے بی جے پی کے سابق رہنما اور لکشادیپ کے ایڈمنسٹریٹر پرفل پٹیل نے نئی اصلاحات کا اعلان کیا جس سے مقامی لوگوں اور پڑوسی ریاست کیرالہ میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

  • Share this:
Explained: سیو لکشادیپ مہم (Save Lakshadweep campaign) کیاہے؟ جانئیے مکمل تفصیلات
لکشادیپ ہندوستان کا نہایت تعلیم یافتہ اور ماحول دوست (Environment-friendly) علاقہ ہے

مرکز کے زیرانتظام علاقہ لکشادیپ (Lakshadweep) میں پچھلے کچھ دنوں سے جزیرے کے منتظم پرفل پٹیل (Praful Patel) کے ذریعہ اعلان کردہ متعدد انتظامی اصلاحات کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں۔ مظاہرین ان نئے اور ’’غیر ضروری‘‘ اصلاحات کو عوام دشمن قرار دے رہے ہیں


  • لکشادیپ کا پش منظر:


لکشادیپ ہندوستان کا نہایت تعلیم یافتہ اور ماحول دوست (Environment-friendly) علاقہ ہے۔ یہ مرکز کے زیر انتظام (Union territory) علاقہ ہے۔ یہ علاقہ 35 مختلف چھوٹے چھوٹے جزیروں (Islands) کا مجموعہ ہے۔ جس کا مکمل علاقہ 32.62 اسکاؤر فٹ ہے۔ سنہ 2011 کے مردم شماری کے مطابق یہاں کی آبادی 60 سے 70 ہزار کے درمیان ہے۔


لکشادیپ میں ہر طرف پیڑ ہی پیڑ اور ندیاں نظر آتی ہیں۔ یہاں کی 99 سے زائد فیصد آبادی مسلمانوں پر متشمل ہے۔ یعنی یہاں مسلمانوں کو اکثریت کا درجہ حاصل ہے۔ جن کا تعلیم کے ساتھ ساتھ معیار زندگی (Standard of living) بھی بہت بلند ہے۔ یہاں جرائم نہیں کے برابر ہوتے ہیں، کیونکہ سبھی لوگ خوش حال ہیں۔


لکشادویپ کو بچانے کے مہم (Save Lakshadweep campaign) کے تحت ہونے والے مظاہروں میں اس مہم کی حمایت کرنے والی کئی اہم اور نمایاں شخصیات بھی آگی آچکی ہیں۔ جزیرے کی صورتحال کیا ہے؟ یہ سمجھنے کے لئے یہاں تفصیلات پیش ہیں:

  • آخر مسئلہ کیا ہے؟


گجرات کے وزیر داخلہ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے بی جے پی کے سابق رہنما اور لکشادیپ کے ایڈمنسٹریٹر پرفل پٹیل نے نئی اصلاحات کا اعلان کیا جس سے مقامی لوگوں اور پڑوسی ریاست کیرالہ میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

اس سے قبل یہاں یہ ہوتے رہا ہے کہ کسی سیاسی رہنما کے بجائے باصلاحت اور قابل سیول سروٹ کو یو ٹی کا ذمہ دار بنایا جاتا تھا۔ اب اس روایت کو ختم کر کے پرفل پٹیل جیسے سیاسی پس منظر والے شخص کو یہاں کا منتظم (Administrator) بنایا گیا ہے۔ جن کا تعلق بی جے پی سے ہے اور یہ وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی مانے جاتے ہیں۔

  • بے لگام اور مکمل اختیارات:


اس مسئلے کا اصل سبب مرکز کی جانب سے پیش کیے گیے ریگولیشن ’’لکشادیپ ڈویولپمنٹ اتھارٹی ریگولیشن 2021 یا ایل ڈی اے آر (Lakshadweep Development Authority Regulation 2021) کا مسودہ ہے، جو ایڈمنسٹریٹر کو شہر کی منصوبہ بندی یا کسی بھی ترقیاتی سرگرمی کے لئے مکمل اختیار فراہم کرتا ہے۔ یہ مسودہ ایڈمنسٹریٹر کو یہ بھی حق فراہم کرتا ہے کہ ان جزیروں کو ان کے حقیقی مالکوں سے خرید کر نئے آباد کاروں کو فروخت کردے۔

ان نئی اصلاحات کے تحت مقامی پنچائیتوں کے پانچ شعبہ جات کے ذمہ داراوں کے اختیارات کو بھی کم کردیا گیا ہے۔ جن میں تعلیم، شعبہ صحت، زراعت، موشی پالن اور مچھلی پالن شامل ہے۔ وہیں نئے پنچائت کے لیے یہ ضروری کردیا گیا ہے کہ جس کے دو سے زیادہ بچے ہوں، وہ ان پنچایت انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا۔

اسی ضمن میں مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک طرح سے مرکز کی جانب سے ’’مشن کشمیر‘‘ کے مطابق ہے۔ پرفل پٹیل یہاں کی آبادیاتی ساخت (Demographic structure) کو بدلنا چاہتے ہیں۔

  • ’’غنڈہ ایکٹ‘‘


اس کے علاوہ انسداد سماجی سرگرمیوں کی روک تھام کا قانون (Lakshadweep Development Authority Regulation 2021 ) جنوری 2021 میں متعارف کرایا گیا۔ جسے مقامی لوگ غنڈہ ایکٹ کہہ رہے ہیں۔ جو بھی نئے اصلاحات کے خلاف اجتجاج کررہے ہیں، انھیں اس قانون کے تحت گرفتار کیا جا رہا ہے اور ان پر ایل ڈی اے آر کے تحت سنگین دفعات عائد کیے جارہے ہیں۔

یہ قانون نئی انتظامیہ کو کسی بھی پیشگی اطلاع اور سبب کے بجائے کسی بھی شخص کو ایک سال کی مدت کے لئے حراست میں رکھنے کا اختیار دیتا ہے۔ محض
شک و شبہ کی بنا پر اسے اس قانون کے تحت گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

  • گاؤں کشی پر پابندی اور شراب کی کھلے عام اجازت:


دیگر نئے ضوابط میں اسکولوں میں نان ویج کھانوں (non veg foods) کو بند کردیا گیا ہے۔ جب کہ مقامی لوگوں کی روایت ہے کہ وہ مچھلی اور دیگر جانوروں کا گوشت ہمیشہ ہی سے کھاتے رہے ہیں۔ ان اصلاحات کے تحت گاؤں کشی پر سخت پابندی لگائی گئی ہے۔ یہاں پہلے شراب پر پابندی عائد تھی، لیکن اب شراب کی کھلے عام اجازت دی گئی ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر شراب کی کھلے عام اجازت دی جائے تو لوگوں کی صحت خراب ہوسکتی ہے۔ جس سے لوگوں کا معیار زندگی خراب ہوسکتا ہے۔



  • پنچایت انتخابات لڑنے پر کیا تنازعہ ہے؟


پنچایت نوٹیفکیشن کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ دو سے زیادہ بچوں والا شخص لکشادیپ پنچایت کا رکن نہیں بن سکتا ہے۔ جب کہ یہاں مذکورہ قانون پہلے سے موجود نہیں تھا۔ جس کے بعد مقامی لوگوں میں خوف و حراس پھیل گیا ہے۔

  • کووڈ پروٹوکول:


نئی تبدیلیوں میں ایڈمنسٹریٹر پرفل پٹیل کے یہاں آنے کے بعد کورونا وائرس (Covid-19) پروٹوکول کو کم کرنا بھی شامل ہے۔ اس سے قبل جزیرے کے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار میں جزیرے میں داخلے کے لئے چودہ دن کے سخت قرنطینہ (Quarantine) کی ضرورت تھی۔ لیکن پٹیل نے ان اصولوں کو رد کردیا ہے۔ جس کی وجہ سے یو ٹی میں کورونا وائرس کے کیسوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جب کہ چند ماہ قبل تک لکشادیب ہندوستان کا کورونا سے محفوظ (Covid-19 Free) علاقہ تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایڈمنسٹریٹر پرفل پٹیل کی حالیہ کارروائیوں کی وجہ سے یو ٹی میں کورونا کے کیسوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اب لکشادیپ میں داخل ہونے کے لئے صرف آر ٹی-پی سی آر منفی سند (RT-PCR negative certificate) کافی ہے، جب کہ چودہ دن کی سخت قرنطینہ کی ضرورت ختم کردی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے ان جزائر میں تشویش پائی جاتی ہے۔

  • اب ملک گیر مظاہرے کیوں ہورہے ہیں؟


جنوری 2021 میں جب سے یہ بل لایا گیا تھا تب سے ہی یہ جزیرا متنازعہ شقوں کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ وہیں کیرالہ کے رکن پارلیمنٹ ایلارام کریم (Elamaram Kareem) نے صدر رام ناتھ کووند (Ram Nath Kovind) کو لکھے گئے اپنے خط میں آگاہ کیا ہے کہ مختلف محکموں کے تحت کام کرنے والے متعدد آرام دہ اور پرسکون مزدور اس جزیرے میں عائد ہونے والے نئے قوانین کی وجہ سے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

یہاں تک کہ مقامی ماہی گیروں اور مچھواروں کے کاروباری علاقوں اور ان کی رہائش گاہوں کو سخت نقصان پہنچایا گیا ہے۔ انھیں نئی انتظامیہ نے اس بنیاد پر مسمار کردیا کہ مقامی لوگوں نے کوسٹ گارڈ ایکٹ (Coast Guard Act) کی خلاف ورزی کی۔ جب کہ یہ قانون پہلے سے تھا ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہی گیر ان قوانین او ’’ ظالیمانہ قوانین‘‘ سے تعبیر کررہے ہیں۔

ایلارام کریم نے الزام عائد کیا کہ اب بغیر کسی انتباہ کے مقامی ماہی گیروں اور دیگر کاروباریوں کے علاقے مسمار کردیئے جارہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ جزیرے کے باشندے مال بردار راہداری کے لئے اب بی پور Beypore (کیرالہ) پر انحصار نہ کریں۔ اس کے بجائے انہیں اس مقصد کے لئے منگلور Mangalore (کرناٹک) پر انحصار کرنا چاہئے۔ جو کہ دور دراز علاقہ ہے اور اس پر خرچ بھی بہت زیادہ آتا ہے۔

  • کون سی دوسری مشہور شخصیات ہیں جنھوں نے لکشادیپ کو بچانے کی مہم کی حمایت کی ہے؟


لکشادیپ کے لاکھوں عوام کے ساتھ ساتھ اب ملک کی معروف شخصیات بھی لکشادیپ  کے حق میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ مشہور اداکار پرتھویراج (Prithviraj) اور فٹبالر سی کے ونیتھ (CK Vineeth ) سمیت ممتاز شخصیات Save Lakshadweep campaign مہم کی حمایت کے لئے آگے آئیں ہیں۔ ایک ٹویٹر بیان میں پرتھوی راج نے کہاکہ ’’پچھلے کچھ دنوں سے مجھے ان جزیروں سے ان لوگوں کی طرف سے بے چین پیغامات مل رہے ہیں جنھیں میں جانتا ہوں اور بہت سوں کو نہیں بھی جانتا ہوں۔ میں درخواست کرتا ہوں اور یہ التجا کرتا ہوں کہ یہاں کے عوام کو پریشان نہ کیا جائے۔

  • مقامی لوگ کیا کہتے ہیں؟


مقامی لوگ لکشادیپ کے تحفظ کے لیے پیش پیش ہیں۔ لکشادیپ کی حفاظت کے لیے پڑوسی ریاست کیرالہ کے ساتھ ساتھ ٹامل ناڈو، مہاراشٹر، کرناٹک، تلنگانہ اور دہلی کے علاوہ دوسری ریاستوں میں بھی احتجاج ہورہے ہیں اور ٹوئٹر کے ذریعہ (Save Lakshadweep campaign) مہم چلائی جارہی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یو ٹی کے ایڈمنسٹریٹر پرفل پٹیل کھلے طور پر یہاں کی اکثریت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ یہاں کے امن و امان والے حالات کو بگاڑنا چاہتے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہندوستان بھر میں لکشادیپ کی تہذیب اور کھان پان کے لیے ایک الگ ہی پہچان ہے۔ جس کو پرفل پٹیل ختم کرکے ایک نیا نظریہ اور نئی تہذیب تھوپنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے اب یہ مہم ملک سطح پر چلائی جا رہی ہے کہ لکشادیپ اور یہاں کی تہذیب و ثفافت کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: May 28, 2021 08:26 AM IST