உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جب مصیبت کے وقت مودی ہوتے ہیں سنکٹ موچک ، دکھ کی گھڑی میں دیتے ہیں ساتھ

    ایک فائل فوٹو میں وزیراعظم نریندر مودی

    ایک فائل فوٹو میں وزیراعظم نریندر مودی

    وزیر اعظم نریندر مودی کی شبیہ ان کے سیاسی حریفوں اور پیشہ ور ناقدوں نے ایسے لیڈر کے طور پر بنا رکھی ہے ، جس کے دل میں کسی کیلئے ہمدردی نہیں ہوسکتی ۔ لیکن مودی کی اصل تصویر ناقدین کی طرف سے گڑھی گئی اس شبیہ کے بالکل برعکس ہے ، جو مودی کے آنسو میں بھی سیاسی داو دیکھتے ہیں ۔

    • Share this:
      برجیش کمار سنگھ

      حال ہی میں ٹی وی اینکر اور جرنلسٹ روبیکا لیاقت کے ایک ٹویٹ پر نظر پڑی ۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ایک خط کا حوالہ دیتے ہوئے ٹویٹ کیا تھا اور شکریہ ادا کیا تھا ۔ دکھ کی گھڑی میں ان کا ساتھ دینے کیلئے اور حوصلہ بڑھانے کیلئے ۔ دراصل روبیکا لیاقت کی ماں ڈاکٹر فاطمہ لیاقت کا 28 مئی کو انتقال ہوگیا اور وزیر اعظم مودی نے اس سلسلے میں جو تعزیتی پیغام بھیجا تھا ، وہ صرف خانہ پری نہیں ، سنجیدگی سے بھرا ہوا تھا ۔ مرحومہ فاطمہ لیاقت کی شخصیت کا تذکرہ کرتے ہوئے تھا ۔ روبیکا لیاقت اور میری جان پہچان بہت پرانی نہیں رہی ہے ۔ چار سال پہلے ہم لوگ ایک ہی میڈیا ادارہ کے الگ الگ چینلوں کیلئے کام ررہے تھے ۔ آتے جاتے لفٹ میں ملاقات ہوجایا کرتی تھی ۔ سوچا کہ روبیکا کو فون کرلوں ، کسی کبلئے بھی اپنی ماں کو کھونا ایک ایسا نقصان ہے ، جس کی بھرپائی نہیں ہوسکتی ۔

      روبیکا لیاقت کی ماں کی طبیعت خراب ہوئی ، مدد کیلئے آگے آئے وزیر اعظم مودی

      روبیکا کو فون کیا تو وزیر اعظم مودی کے خط کے پیچھے کی کہانی سمجھ میں آئی ۔ گزشتہ ماہ کی دو تاریخ کو روبیکا کی ماں فاطمہ لیاقت اچانک بیمار ہوگئی تھیں ۔ روبیکا کو ماں کی بیماری کے بارے میں پتہ چلا تو وہ نوئیڈا سے بھاگ کر اودے پور پہنچیں ، جہاں ان کا کنبہ رہتا ہے ۔ ماں فاطمہ لیاقت بایولاجی میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد پانی میں رہنے والے جانوروں پر نقصان دہ دھاتوں کے اثر پر طویل عرصہ سے ریسرچ کررہی تھیں ۔ ماں کی بیماری کے شروعاتی دنوں میں روبیکا کو ایسا لگا کہ جیسے رمضان کے روزوں کی وجہ سے گیسٹروانٹیٹائٹس ہوگیا ہے ، جس میں عام طور پر لوگ قئے کرتے ہیں ، لیکن طبیعت تیزی سے خراب ہوتی چلی گئی ۔ کڈنی ، لیور اور ہارٹ پر بھی سنگین اثر نظر آنے لگا ۔ حالات ملٹی آرگن فیلیور جیسے بننے لگے ۔ کورونا کے دور میں ایسا لگا جیسے یہ سب کہیں کورونا کی وجہ سے تو نہیں ہورہا ہے ۔ اسپتال میں داخل کرانے کی نوبت آئی ، جہاں بعد میں یہ پتہ چلا کہ روبیکا کی ماں کو پینکریٹائٹس ہوگیا ہے ۔ یعنی پینکریاز کو سنگین نقصان ہوجانے والی بیماری ۔

      یہ بیماری کافی خطرناک ہوتی ہے ۔ روبیکا اور ان کی چھوٹی بہن انجم کو بھی اس کا احساس ہوگیا تھا ۔ احساس تو ماں فاطمہ کو بھی تھا ، وہ خود بایولاجی کی اسکالر رہی تھیں ۔ ایسے ہی ماحول کے درمیان عید کا تہوار آگیا ۔ ظاہر ہے عید کا تہوار کیا منایا جاتا ، والد لیاقت عامر کو دونوں بہنوں نے گھر پر رہنے کیلئے کہا ہوا تھا اور دونوں خود اودے پور کے پارس جے کے اسپتال کے آئی سی یو میں اپنی ماں کے بستر کے پاس کھڑی تھیں ۔ جمعہ 12 مئی 2021 کو عید کے اس دن جب خوشیوں کی بجائے ماں کی بیماری کی وجہ سے دونون بہنوں کے چہرے پر افسردگی چھائی ہوئی تھی ، روبیکا کے فون کی گھنٹی بجی ۔ کوئی نمبر نہیں ، اسکرین پر لکھا ہوا تھا نو کالر آئی ڈی ۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ فون اٹھائیں یا نہیں ، پھر اٹھایا تو سامنے سے کہا گیا وزیر اعظم بات کرنا چاہتے ہیں ۔



      روبیکا نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وزیر اعظم مودی کریں گے فون

      روبیکا چونک گئیں ۔ عید کے اس دن ، کورنا کے خوفناک ماحول اور ماں کی بیماری کے درمیان جب کسی لیڈر ، رشتہ دار کا بھی فون نہیں آیا تھا ، تب ملک کے وزیر اعظم کا فون آنا ، کچھ سمجھ پاتیں ، اس سے پہلے ہی آواز آئی روبیکا جی ، آپ کو عید کی ڈھیر ساری مبارکباد ۔ روبیکا نے ماں کی بیماری کی بات بتائی تو وزیر اعظم مودی نے ان کے بارے میں تفصیل سے معلومات حاصل کیں اور پورا معاملہ جاننے کے بعد آئی سی یو کی بیڈ پر پڑی فاطمہ لیاقت سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی ۔ روبیکا نے اپنی ماں کو فون دیا ، ماں خود بول پانے کی حالت میں نہیں تھیں ، اس پر سے وزیر اعظم مودی کے لائن پر ہونے کے بارے میں سنا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔ دوسری طرف سے وزیر اعظم مودی کہہ رہے تھے کہ مجھے پورا یقین ہے کہ آپ پوری ہمت سے لڑیں گی اور اس بیماری کو مات دیں گی ۔

      فاطمہ لیاقت کچھ بول تو نہیں پائیں ، لیکن ہاتھ اٹھاکر بیٹی کی طرف یہ اشارہ ضرور کیا کہ وہ پوری ہمت سے یہ لڑائی لڑیں گی ۔ وزیر اعظم مودی کے فون کا یہ سلسلہ عید کے اس دن تقریبا پانچ سات منٹ تک چلا ۔ وزیر اعظم نے فون رکھنے سے پہلے روبیکا کو یقین دلایا کہ کسی قسم کی فکر نہ کریں ، ہر ممکن مدد کی جائے گی ۔

      روبیکا کی ماں کے بہترین علاج کا وزیر اعظم نے بندوبست کرایا

      اس دن کے بعد وزیر اعظم کا فون تو نہیں آیا ، لیکن وزیر اعظم دفتر سے روزانہ روبیکا کے پاس فون آتے رہے ، ماں کی صحت کی جانکاری لی جاتی رہی ۔ یہی نہیں ، بیماری سے لڑائی کیلئے جتنے بھی بہترین مشورے اور دوائیں ممکن ہوسکتی تھیں ، سب کچھ مہیا کرایا گیا ۔ یہاں تک کہ ایمس دہلی کے ڈٓائریکٹر رندیپ گلیریا اور انسٹی ٹیوٹ آف لیور اینڈ بلیریا سائنسیز کے ڈٓائریکٹر ایس کے سرین بھی اودے پور کے اسپتال میں بھرتی فاطمہ لیاقت کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی مسلسل رہنمائی کرتے رہے ۔ اودے پور کے ڈاکٹروں کے حیرانی کی حد نہیں تھی کہ آکر یہ کیا ہورہا ہے ۔ ایک طرف اتنے مشہور داکٹرس رہنمائی کررہے تھے ، تو دوسری طرف ڈرگس کنٹرولر جنرل آف انڈیا کا دفتر کسی بھی ضروری دوا کی سپلائی کرنے کیلئے تیار بیٹھا تھا ۔ جتنا بھی بہتر علاج ممکن تھا ، اس کے سہارے فاطمہ لیاقت نے 26 دنوں تک اپنی بیماری کے ساتھ جدوجہد کیا اور آخر کار 28 مئی کو انہوں نے اس دنیا کو الوداع کہہ دیا ۔ جب انہیں ایئر ایمبولینس کے ذریعہ اودے پور سے دہلی لانے کی تیاری کی جارہی تھی ، فاطمہ لیاقت کی موت فطری طور پر پورے کنبہ کیلئے گہرے صدمے اور دکھ کی وجہ رہی ، لیکن روبیکا ہی نہیں ، ان کے والد کو بھی اس بات سے کافی اطمینان ملا کہ دکھ کی اس گھڑی میں ملک کے وزیر اعظم مودی ان کے ساتھ کھڑے رہے ۔ ہر طریقہ سے مدد کی ، مسلسل حوصلہ بڑھاتے رہے ۔



      مسلمانوں کے درمیان مودی کی شبیہ کی برعکس رہا روبیکا کا تجربہ

      روبیکا اور ان کے والد یا پھر چھوٹی بہن کیلئے وزیر اعظم مودی کا یہ روپ بالکل نیا تھا ۔ خود روبیکا کا بھی تعارف مودی سے کوئی زیادہ پرانا نہیں تھا ۔ پہلی مرتبہ 20 فروری 2019 کو ہی وزیر اعظم مودی سے روبیکا کی بالمشافہ ملاقات ہوئی تھی ، جب سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے اعزاز میں منعقدہ لنچ پر روبیکا کو مدعو کیا گیا تھا ۔ روبیکا اور ان کے اہل خانہ کو سمجھ میں نہیں آیا کہ جس نریندر مودی کی شبیہ ان کے اپنے مسلم سماج میں گزشتہ دو دہائی سے کھلنائک کی بنائی گئی ہے ، جہاں یہ بات کی جاتی ہے کہ مسلمانوں کو مودی سے ڈر لگتا ہے ، ویسی شبیہ کے برعکس مصبیت کی گھڑی میں جب کبنہ کیلئے سب سے مشکل دور تھا ، وزیر اعظم مودی ان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہے ، ہر تکلیف کو دور کرنے کی کوشش کی ۔ جس مودی کے نام کو سامنے کرکے مسلم ووٹوں کی ٹھیکے داری کرنے والے لیڈران ملک کے کروڑوں مسلمانوں کو ڈراتے ہیں ، اس مودی نے فاطمہ لیاقت کی بیماری سے ڈرے کنبہ کو ہمت دینے کی ہر کوشش کی ۔

      روبیکا کی ماں کا انتقال ہونے پر وزیر اعظم نے لکھا خط

      روبیکا اور ان کے کبنہ کیلئے مودی کا یہ وہ روپ تھا ، جس کو کبھی انہوں نے دیکھا نہیں تھا اور نہ ہی کسی سے سنا تھا ۔ اسی درمیان فاطمہ لیاقت کی موت کی خبر ملنے کے بعد وزیر اعظم مودی نے تعزیتی پیغام بھیجا ، جس میں نہ صرف روبیکا کی ماں کے بارے میں تفصیل سے لکھا تھا ، بلکہ کبنہ کا حوصلہ بھی بڑھایا گیا تھا ۔ وزیر اعظم مودی کا یہ خط پاتے ہی روبیکا کے والد جذباتی ہوگئے ۔ انہوں نے بیٹیوں کو کہا کہ دکھ کے اس دور میں پہلے فون اور پھر خط کا آنا ، لیاقت کنبہ کبھی نہیں بھول پائے گا ۔ بھلا کنبہ کا کوئی رکن سوچ بھی کیسے سکتا تھا کہ گزشتہ سات سال سے ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والے وزیر اعظم مودی اپنی تمام تر مصروفیات کے درمیان اس معمولی کبنہ کے دکھ کی گھڑی میں اس طرح سے مثال بن کر ابھریں گے ۔ جذبات کے اس بھنور میں روبیکا نے وزیراعظم مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا : میری ماں گھر کی سربراہ تھیں ، جب ملک کے سربراہ نے ان کا حال معلوم کیا تو وہ لمحہ پورے کنبہ کیلئے بہت بڑا تھا ۔ اتنے مصروف وقت میں آپ نے میری ماں کیلئے وقت نکالا ، یہ کوئی گھر کا بڑا ہی کرسکتا ہے ۔

      شور مچائے بغیر لوگوں کی مدد کرنا وزیر اعظم مودی کی پرانی فطرت

      ایسا نہیں ہے کہ مصیبت کی گھری میں ملک کے وزیر اعظم کے ساتھ ہی گھر کے بڑے کی طرح سلوک کرنے کا مودی کا یہ کوئی واحد قصہ ہے ۔ ایسے سینکٹروں قصے ہیں ، لیکن زیادہ تر لوگ اس لئے سامنے نہیں آتے ، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اگر وزیر اعظم مودی کی ایسے انسانیت دوست اور ہمدردانہ سلوک کو بتانے والے قصے انہوں نے عام کئے تو ایسا لگے گا جیسے وہ لوگ وزیر اعظم مودی سے اپنی قربت کو ثابت کرنے میں مصروف ہیں ۔ خود وزیر اعظم مودی نے بھی کبھی اس کا عوامی طور پر تذکرہ نہیں کیا ۔ لوگوں کی مدد کرتے رہے ، کسی کو بتائے بغیر ، لیکن جس کی بھی مدد کی ، اس کیلئے یہ زندگی کا انمٹ حصہ بن گیا ۔

      نوٹ : یہ مضمون ہندی میں لکھا گیا ہے ۔ اس کو پورا پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: