உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UP Elections: انتخابی موسم کےساتھ ہی’’مفت فراہمی‘‘کے وعدوں کی بھرمار، کس ریاست میں کیا مفت ملے گا؟

    Youtube Video

    • Share this:
      تقریباً ہر انتخابی موسم میں سیاسی کلیاروں میں کئی طرح کی تبدیلیاں آتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے لیے ایک بار پھر وقت آ گیا ہے کہ وہ کچھ وعدے کریں، چند رعایتوں کا اعلان کریں اور کچھ مفت فراہمی کی بھی پیشکش کر کے ووٹرن کی ہمدردی حاصل کرے اور یوں وہ اپنی سیاسی کامیابی حاصل کرسکیں۔

      نئے سال میں سات ریاستوں میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ ان میں سے پانچ ریاستوں اتر پردیش، پنجاب، گوا، منی پور اور اتراکھنڈ میں سال کے شروع ہی میں اسمبلی انتخابات ہوں گے۔ تو وہیں ہماچل پردیش اور گجرات میں سال کے آخر میں انتخابات ہوں گے۔ ملک کی دو ریاستوں میں سب سے زیادہ آبادی والی اتر پردیش اور سب سے زیادہ متنازعہ پنجاب ہے۔ دونوں میں اعلانات، وعدے اور مفت کی فراہمی کی باتیں ہر طرف سے سنائی دی جارہی ہے کہ فلاں پارٹی نے اس کا مفت اعلان کیا تو فلاں نے اس سے بڑھ کر دیگر چیزوں کی مفت فراہمی کا اعلان کرے گی۔

      ووٹر کی ترجیح اور پسند

      انتخابی موسم میں سیاسی جماعتوں کے تمام انتخابی منشوروں میں مفت فراہمی کی بات کی جاتی ہے۔ اس طرح کے اعلانات کو ووٹر کی ترجیح اور پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاط سے تیار کیا جاتا ہے۔ وہ کچھ بھی ہو سکتے ہیں۔ جیسے خوراک اور لباس، بنیادی ضروریات پر سبسڈی؛ بجلی اور رہائش جیسی مفت ضروریات؛ معیار زندگی کو بڑھانے کے لیے اسکیمیں وغیرہ۔ اس کے علاوہ مفت تعلیم یا سفر کے لیے بڑے اعلانات کیے جاتے ہیں یہاں تک کہ روزمرہ کی ضرورت کی اشیا جیسے مفت وائی فائی، ٹیلی ویژن، لیپ ٹاپ وغیرہ تک کی مفت فراہمی کا بھی ’’اعلان‘‘ کیا جاتا ہے۔

      سپریم کورٹ نے پہلے کہا ہے کہ سیاسی پارٹیوں کی طرف سے اپنے انتخابی منشوروں میں جن مفت اشیاء کا وعدہ کیا گیا ہے وہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو ناممکن بنا دیتے ہیں اور برابری کے میدان میں خلل ڈالتے ہیں۔ حال ہی میں نائب صدر وینکیا نائیڈو نے بھی مشورہ دیا کہ سیاسی پارٹیوں کو مفت فراہمی کے اعلانات پر وسیع تر بحث ہونی چاہیے۔ ٹائمز آف انڈیا کے ذریعہ شائع کردہ ایک رپورٹ میں نائیڈو نے کہا کہ ہم سب حکومتوں کے موجودہ منظر نامے میں زندہ ہیں جو واضح وجوہات کی بنا پر مفت دینے میں ملوث ہیں۔ جب کہ ضرورت مند لوگوں کی فلاح و بہبود اور سماجی تحفظ کو یقینی بنانا حکومتوں کی ایک اہم ذمہ داری ہے، اب وقت آگیا ہے کہ اس پر وسیع تر بحث کی جائے۔

      ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ فری پالیسی بجٹ پر مالی اثر ڈال سکتی ہے جو کہ بدلے میں "فلاحی اسکیموں" کے حقیقی نتائج کو نقصان پہنچاتی ہے۔ دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق سنٹر فار دی سٹڈی آف ڈیولپنگ سوسائٹیز (CSDS) کے ڈائریکٹر پروفیسر سنجے کمار نے کہا کہ اس طرح کے اعلانات نہ تو ہندوستان میں نئے ہیں اور نہ ہی یہ کوئی خاص واقعہ ہے، بلکہ یہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے معمول کی انتخابی پیشکش ہوتی ہے۔

      اسے ’’غیر ذمہ دارانہ پاپولزم‘‘ یا ’’رشوت‘‘ کہہ لیں، جو پارٹی بہتر ڈیل پیش کر رہی ہے وہ ووٹروں کو متاثر کرتی ہیں یا جوڑ توڑ کر سکتی ہے۔ لہذا یہاں ایک نظر ہے کہ کون کیا مفت میں فراہم کرنا کا اعلان کررہا ہے:

      اتر پردیش:

      اس سال تمام اسمبلی انتخابات کی ماں کے طور پر اتر پردیش میں فروری میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ سیاسی میدان گرم ہو رہا ہے کیونکہ پارٹیاں ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہی ہیں۔

      عام آدمی پارٹی نے اقتدار میں آنے پر 300 یونٹ مفت بجلی دینے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ بجلی کے تمام بقایا جات کو معاف کر دیا جائے گا اور کسانوں کو مفت بجلی ملے گی۔ پارٹی نے اپنے منشور میں روزگار کی ضمانت اور تعلیم کے لیے بڑے بجٹ کا وعدہ بھی کیا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: