ہوم » نیوز » Explained

Sanjeevani Gaadi : سنجیونی گاڑی کی زندگی کا ایک دن

جنوری 2020 میں دنیا کس طرح یکسر تبدیل ہو گئی، اگر اس پر نظر ڈالیں تو لگتا ہے کہ مجھے اس سے زیادہ تیار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ وائرس کو ایک ملک سے دوسرے ملک سفر کرتے ہوئے دیکھنا، گھروں میں داخل ہوتے ہوئے دیکھنا، اس امر نے لوگوں کے ذہنوں میں جوابات سے زیادہ سوالات پیدا کر دئے۔ خوش قسمتی سے، یہ ایک ایسی چیز ہے جس میں مَیں لوگوں کی مدد کر سکتی ہوں۔

  • Share this:
Sanjeevani Gaadi : سنجیونی گاڑی کی زندگی کا ایک دن
ویکسین کیلئے رجسٹر کرنے کے طریقے سے متعلق ویڈیو

آداب، میرا نام ہے سنجیونی گاڑی۔ میں بھارت کے مختلف دیہاتوں کا سفر کرتی ہوں۔ میرا کام ہے ملک بھر کے دیہاتوں میں جانا اور کمیونٹیز کو COVID-19 سے متعلق ایسی گرانقدر معلومات فراہم کرنا جو وائرس سے تحفظ فراہم کرنے میں ان کی مدد کر سکے۔


جنوری 2020 میں دنیا کس طرح یکسر تبدیل ہو گئی، اگر اس پر نظر ڈالیں تو لگتا ہے کہ مجھے اس سے زیادہ تیار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ وائرس کو ایک ملک سے دوسرے ملک سفر کرتے ہوئے دیکھنا، گھروں میں داخل ہوتے ہوئے دیکھنا، اس امر نے لوگوں کے ذہنوں میں جوابات سے زیادہ سوالات پیدا کر دئے۔ خوش قسمتی سے، یہ ایک ایسی چیز ہے جس میں مَیں لوگوں کی مدد کر سکتی ہوں۔


اپنے موجودہ راستے پر، میں نے ملک کے 5 اضلاع کا دورہ کیا جس کے دوران کچھ بہت ہی دلچسپ باتیں ہوئیں۔ ہر دن، میرے مختلف دیہاتوں کا دورہ کرنے کے دوران، مجھے کمیونٹی کے ہزاروں اراکین سے گفتگو کرنے کا موقع نصیب ہوا۔ میرا یہ سفر مجھے دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں لے گیا، جس سے مجھے لوگوں کے گوناگوں گروپس کے ساتھ بات چیت کرنے کا موقع ملا۔ ان لوگوں کی عمروں کے گروپس، سماجی و معاشی پس منظر اور صنف مختلف تھی۔ ہر چند کہ ہمارا یہ سفر وبا کے ایک ایسے اہم مرحلے پر ہو رہا تھا جب ویکسین دستیاب ہے، لیکن بطور سنجیونی گاڑی، میرا کام پہلے سے کہیں زیادہ اہم تھا۔ مثال کے طور پر، اندور کے میرے گزشتہ دورے کے دوران، مجھ سے ویکسین کے بارے میں کئی سوالات پوچھے گئے۔ اس میں جو سوال اکثر کیا گیا وہ یہ تھا کہ ’’اگر ٹیکہ لگایا تو COVID-19 انفیکشن ہوگا کیا؟‘‘ کچھ لوگوں نے یہ بھی پوچھا کہ ’’ٹیکہ کہاں ملے گا؟‘‘ میں اس بات کو ہمیشہ یقینی بناتی ہوں کہ میں ڈھیر سارے معلوماتی پمفلیٹ، پیغامات اور ایک ایسی ٹیم کے ساتھ سفر کروں جو ہر کسی کے سوالوں کے جواب دے سکیں۔ اکثر، چھوٹے بچے میری طرف دوڑ کر آتے اور اپنے خاندانوں کو ہماری آمد کے بارے میں یوں بتاتے کہ ’’گاڑی آ گئی!‘‘ اپنی دسترس کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کیلئے، ایک اشتمالی مطمع نظر ہونا ضروری ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ خواندگی کی رکاوٹ کے بغیر میرے پیغامات ہر کسی تک پہنچیں۔ اس کیلئے، میرے پاس ویکسین کیلئے رجسٹریشن کرنے کا طریقہ، کووڈ سے متناسب برتاؤ کی پیروی کرنے وغیرہ سے متعلق آڈیو ویژوئل اسکرین پروجیکٹس ’’یہ کیسے کریں‘‘ ویڈیوز موجود ہیں۔ لوگوں کی مدد کرنے کیلئے ہم اس کا ویژوئل گائیڈ کی طرح استعمال کر سکتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے ہماری ویڈیو دیکھتے ہوئے اپنا رجسٹریشن کیا جو اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ بیداری پیدا کرنے کیلئے مواصلت کے مختلف طریقوں کا استعمال کارآمد ہے۔ اس پر مثبت ردعمل ملنے کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ COVID-19 سے متناسب برتاؤ اپنا رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی کمیونٹیز رہنے کیلئے ایک محفوظ جگہ بن جائے گی۔


میرے فرائض میں ویکسین سے متعلق لوگوں میں موجود جھجھک کو دور کرنا بھی شامل ہے۔ مفروضات اور غلط تصورات نے لوگوں کو اس قدر خوفزدہ کر دیا ہے کہ وہ ویکسینیشنز کو یکسر مسترد کرنے کو مجبور ہیں، لیکن یہی وہ لوگ ہیں جن سے بات کرنے کو میں بہت بے قرار ہوں۔ ن سوالات کا پہلے ذکر کیا جا چکا ہے، اس کے بالکل برعکس، کچھ جوابات میں ایسے جملے شامل ہیں کہ ’’ویکسینیشن کرنے کے بعد بھی لوگ مر رہے ہیں، تب میں یہ خطرہ کیوں مول لوں؟‘‘ اور ’’میں نہیں چاہتا کہ میرے جسم میں باہری کوئی چیز داخل کی جائے۔‘‘ ایسے لوگ COVID-19 سے براہ راست متاثر ہو سکتے تھے اور/یا ان کے خیالات ایسے گہرے ہیں جو جدید سائنس کی پیشکش سے متضاد ہیں۔ یہ وہ دیہات ہیں جہاں میں نے غلط تصورات کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے زیادہ وقت گزارا ہے۔ خود کو اور اپنے اہل خانہ کو محفوظ کرنے اور انفیکشن کی زنجیر کو توڑنے کی غرض سے ویکسینیشن لینے کی اہمیت کو اجاگر کر کے، مجھے یہ دیکھنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی کہ دھیرے دھیرے لوگوں نے سائنسی حقائق اور شواہد اور ویکسین لگوانے کے فوائد کو قبول کیا۔ میں نے ان سے ان جیسے دیگر افراد سے متعلق بھی بات کی جنہوں نے معلومات پر مبنی اس سپورٹ کی وجہ سے خود کو رجسٹر کروایا جو ہم نے انہیں فراہم کیا۔

سنجیونی گاڑی کا استعمال کرتے ہوئے عوامی بیداری مہم
سنجیونی گاڑی کا استعمال کرتے ہوئے عوامی بیداری مہم


اس کے علاوہ، تعداد جتنی زیادہ ہوگی، طاقت اتنی زیادہ ہوگی۔ اس تصور پر عمل کرتے ہوئے، میں نے اپنے ہر دورے پر سرپنچ، گرام پنچایت وغیرہ کے دیہاتوں کے افسران سے بات کرنے کی کوشش کی۔ ایسا کر کے، میں نے زیادہ لوگوں تک رسائی حاصل کی اور COVID-19 سے متناسب برتاؤ کو فروغ دینے اور ویکسین لگوانے کے حوالے سے جھجھک کو دور کرنے کیلئے ان کے تعاون کا اندراج کیا۔ انہوں نے میرے یعنی سنجیونی کے بارے میں مثبت پیغامات پھیلانے میں بھی مدد کی۔ یہ پیغامات دوسرے دیہاتوں کے قائدین تک بھی پہنچے جنہوں نے اپنی کمیونٹیز میں ہمارا استقبال کیا۔ ریاستی کناروں پر سفر کر کے، مجھے لوگوں کے ساتھ ان چیزوں کا اشتراک کرنے کا بھی موقع ملا جو میں نے سیکھا تھا، جس کی وجہ سے میری ٹیم منتخب اضلاع میں ہدفی سپورٹ فراہم کرنے میں کامیاب رہی۔ اس بات کو سمجھ کر کہ ویکسین کے تعلق سے تحفظات کہاں سے ظاہر کئے جا رہے ہیں اور مستفید ہونے والے ان لوگوں کو لازمی تعاون کے ساتھ لنک کر کے، میں نے یعنی سنجیونی گاڑی نے ان کی آگہی کی سطح کو بہتر بنا کر، سماج کے ممبران کے رویوں اور پریکٹسز کو تبدیل کر کے انفیکشن کی زنجیر کو توڑنے میں اہم کردار نبھایا۔ موجودہ اور متعلقہ معلومات سے باخبر رہنے کی وجہ سے، مجھے بھی ایک قابل اعتبار وسیلے کے طور پر قبول کیا گیا، جس کے موجودہ ماحول میں COVID-19 سے متاثر ہونے کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کرنے کے معاملے میں دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگلے چند مہینوں کے دوران، میرا ہدف ہے کہ میں 3200000 سے زیادہ لوگوں تک پہنچوں اور انہیں آگہی پر مبنی وہ سپورٹ فراہم کروں جس سے ان میں تحفظ کا احساس پیدا ہو۔

اندور، گنتور، دکشن کنّڑ، ناسک اور امرتسر کے منتخب دیہاتوں کیلئے عرض ہے کہ میں ان دیہاتوں میں پہنچنے کی منتظر ہوں۔

تارا رگھوناتھ


کوآرڈینیٹر، کمیونٹی انویسٹمنٹ
یونائیٹیڈ وے ممبئی
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 10, 2021 04:40 PM IST