ہوم » نیوز » Explained

چومحلہ پیلس فن تعمیرکاعظیم شاہکار، اس کےذکر کےبغیر آصف جاہی طرزتعمیر کا ذکر ادھورا

حیدرآباد کے مشہور ادارہ دکن آرکائیو نے انڈین نیشنل ٹرسٹ فار آرٹ اینڈ کلچرل ہیریٹیج (INTACH) حیدرآباد چیاپٹر کے اشتراک سے حیدرآباد کے مشہور سیاحتی و تاریخی مقام چو محلہ پیلس ہیریٹیج واک کا اہتمام کیا۔ پیش ہے نیوز 18 اردو کی چوہ محلہ پیلس پر خصوصی رپورٹ

  • Share this:
چومحلہ پیلس فن تعمیرکاعظیم شاہکار، اس کےذکر کےبغیر آصف جاہی طرزتعمیر کا ذکر ادھورا
چومحلہ پیلس فن تعمیرکاعظیم شاہکار۔(تصویر :Shutterstock)۔

حیدرآباد کی تاریخ اتنی دلکش ہے کہ جس کا ہر پہلو قابل ذکر ہے۔ آج حیدرآباد بڑی کمپنیوں کا مرکز ہے، تو وہیں اس کے اطراف و اکناف تاریخی عمارت کا حسن بھی نظر آتا ہے۔ جس سے یہاں کی تاریخ و ثقافت اور طرز تعمیر کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔


حیدرآباد کے قلب میں واقع چارمینار سے تقریبا دیڑھ کلو میٹر دور چو محلہ پیلس (Chowmahalla Palace) بھی اپنی پرکشش طرز تعمیر اور نقش و نگار کے لیے مشہور ہے۔ یہاں داخل ہوتے ہوئے آج بھی شاہانہ جلال اور ماضی کی شاندار تاریخ کا احساس ہوتا ہے۔


  • یونیسکو ایشیا پیسیفک میرٹ ایوارڈ:


چو محلہ پیلس فی الحال نظام خاندان کی ملکیت ہے۔ اسے جنوری 2005 میں سیر و سیاحت کے لیے کھولا گیا تھا اور تب سے یہ حیدرآباد میں دیکھنے کے لیے سرفہرست سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ سنہ 2010 میں چوہ محلہ پیلس کو ثقافتی ورثہ کے تحفظ کے لیے یونیسکو کا ایشیا پیسیفک میرٹ ایوارڈ (UNESCO Asia-Pacific Award) ملا، جو کم ہی تاریخی و ثقافتی مقامات کے لیے دیا جاتا ہے۔

یونیسکو ایشیا پیسیفک میرٹ ایوارڈ یافتہ چومحلہ پیلس ۔(تصویر :Shutterstock)۔
یونیسکو ایشیا پیسیفک میرٹ ایوارڈ یافتہ چومحلہ پیلس ۔(تصویر :Shutterstock)۔


معروف محقق و ماہر دکنیات ڈاکٹر سید صفی اللہ نے نیوز 18 اردو سے گفتگو کرتے بتایا کہ چو محلہ پیلس کی تعمیر سنہ 1750 میں نظام سلابت جنگ نے تعمیر نے کرائی۔ جہاں مغل، ایرانی اور یورپی طرز تعمیر کا عکس نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ہمہ جہت طرز تعمیر کی وجہ سے اس کی خوبصورتی اور حسن و جمال میں کئی گناہ اضافہ ہوا۔

  • آصف جاہی حکمرانوں کا پائے تخت:


ڈاکٹر صفی اللہ نے بتایا کہ آصف جاہی سلطنت کے دوران نظام الملک آصف جاہ اول (1748-1724) کو چھوڑ کر چو محلہ پیلس میں نظام علی خان آصف جاہ دوم (1803-1762)، میر اکبر علی خان سکندر جاہ آصف جاہ سوم (1829-1803)، میر فرخندہ علی خان ناصر الدولہ آصف جاہ چہارم (1857-1829)، میر تحنیات خان افضل الدولہ آصف جاہ پنجم (1869-1857)، میر محبوب علی خان بہادر آصف جاہ ششم (1911-1869) اور میر عثمان علی خان بہادر آصف جاہ ہفتم (1948-1911) کے دور میں یہاں عام و خاص کے لیے شاہی دربار لگاکرتاتھا۔یہ ایک طرح سے آصف جاہی سلاطین کا پائے تخت تھا۔ یہاں شاہی دربار لگا کرتا تھا اور عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے اس شاہی دربار میں حاضر ہوتے۔ یہی نہیں بلکہ اس وقت کے انگریز وائسرائے بھی نظام حکمرانوں کے دربار میں حاضر ہوتے تھے۔

تصاویر کے ذریعہ ماضی کی بہترین عکاسی:

پیلس کے احاطہ میں ایک حصہ تاریخی فوٹو گرافی کا بھی ہے۔ جہاں نایاب و نادر تصاویر موجودہ ہے۔ اس احاطہ میں موجودہ بورڈ پر لکھا ہے کہ ’’فن فوٹو گرافی اور اس کے پوشیدہ تعلقات کے علاوہ شاہی شخصیات کی یہ تصویریں ایک شاندار ماضی کی بہترین عکاسی کرتی ہیں۔ اس طرح سے چومحلہ پیلس میں رکھی ہوئی ہوئی یہ تاریخی دستاویزات اس علاقہ کی تاریخ کے مطالعہ ہندوستان میں تاریخ اور فن فوٹو گرافی، فوٹوگرافرس، اس کے سرپرستانہ تعلقات اور فوٹو گرافی آرٹ کو مخلتف نقطہ نظر سے سمجھنے کے لیے کافی اہمیت کی حامل ہیں‘‘۔

’’میر محبوب علی خان بہادر کے دور حیات میں یعنی 1870 سے لے کر موجودہ دور تک فوٹو گرافی کا مجموعہ پیلس میں بطور ثبوت رکھا گیا۔ یہاں موجود تصاویری مجموعہ میں عورتوں اور بچوں کی غیر معمولی تصاویر بھی ہیں، جن میں سے چند ہی کو نمائش میں رکھا گیا۔ ان تصویروں میں آصف جاہی حکمرانوں کو قرض اور رسمی عائے شاہی جو سرپیچ، سریتی، کلغی توا(پگڑی زیورات) کانتی، ہرمراسا (نیکلیس) اور دوسرے زیوارت پہنے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے‘‘۔

چو محلہ پیلس کی تعمیر سنہ 1750 میں نظام سلابت جنگ نے تعمیر نے کرائی۔ (تصویر :Shutterstock)۔
چو محلہ پیلس کی تعمیر سنہ 1750 میں نظام سلابت جنگ نے تعمیر نے کرائی۔ (تصویر :Shutterstock)۔


  • دکن آرکائیو کی جانب سے  ہیریٹیج واک کا اہتمام:


واضح رہے کہ حال ہی میں حیدرآباد کے مشہور ادارہ دکن آرکائیو deccanarchive نے حیدرآباد کے مشہور سیاحتی و تاریخی مقام چو محلہ پیلس ہیریٹیج واک کا اہتمام کیا تھا۔ جس میں شہر کے تعلیم یافتہ نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ یہ ایک خوش گوار بات ہے کہ اس ہیریٹیج واک میں زیادہ تر نوجوان شریک رہے۔ جس سے ان کی حیدرآباد کی گنگا جمنی تہذیب، تاریخ و ثقافت اور طرز تعمیر سے لگاو کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

دکن آرکائیو کے بلاگر اور نوجوان مورخ جناب صبغت خان Sibghat اور ان کی ٹیم بڑی خوش اسلوبی سے دکن کی تاریخ اور تہذیب و ثقافت سے متعلق بے مثال خدمات انجام دے رہی ہے۔ دکن آرکائیو کی جانب سے منعقدہ ہیریٹیج واک کے دوران انڈین نیشنل ٹرسٹ فار آرٹ اینڈ کلچرل ہیریٹیج (INTACH) حیدرآباد INTACH Hyderabad چیاپٹر کی کنوینر انورادھا ریڈی نے اپنی گفتگو کے دوران کئی تاریخی حقائق سے واقف کرایا۔

  • خلوت کلاک ٹاور:


صبغت خان نے ہیریٹیج واک کے دوران بتایا کہ چوہ محلہ پیلس چار خوبصورت محلات تاہنیات محل ، مہتاب محل ، افضل محل اور آفتاب محل پر مشتمل ہے۔ شمالی صحن سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔ اس علاقے کی اہم کشش باڑہ امام ہے جو کہ ایک لمبی راہداری ہے۔ اس کے مشرقی حصے میں کمرے ہیں۔ یہاں ایک اور شاندار تعمیر کلاک ٹاور ہے۔ اس میں خلوت گھڑی ہے جو اب بھی مکمل طور پر کام کرتی ہے۔ پہلے چو محلہ پیلس 45 ایکڑ پر پھیلا ہوا تھا، لیکن فی الحال یہ صرف 12 ایکڑ تک ہی محدود ہوگیا ہے۔

محل اپنے جادوئی ساختی ڈیزائن کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔ اس میں دو صحن، شاہی دربار، سرسبز باغ اور شاندار فوارے شامل ہیں۔ جنوبی صحن چار محلوں پر مشتمل ہے۔ ان محلات میں سے ہر ایک نو کلاسیکل طرز تعمیر کا حامل ہے۔

چو محلہ پیلس چار خوبصورت محلات تاہنیات محل ، مہتاب محل ، افضل محل اور آفتاب محل پر مشتمل ہے۔ (تصویر :Shutterstock)۔
چو محلہ پیلس چار خوبصورت محلات تاہنیات محل ، مہتاب محل ، افضل محل اور آفتاب محل پر مشتمل ہے۔ (تصویر :Shutterstock)۔


نظام کی روایات کو جاری رکھتے ہوئے محل میں کئی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ چو محلہ میوزک اینڈ ڈانس فیسٹیول ایک بہت مشہور سالانہ میلہ ہے جو محل میں منعقد ہوتا ہے۔ محل کے دربار ہال میں 19 مسحور کن بیلجیئم فانوس ہیں جو حال ہی میں شاہی ہال کی کھوئی ہوئی شان کو واپس لانے کے لیے شامل کیے گئے تھے۔

چو محلہ پیالس کے احاطہ میں ایک بڑٓا حصہ پرانے زمانے کی کاروں کی پارکنگ سے متعلق ہے۔ جہاں اب بھی 1905، 1911 اور اس کے بعد کے دور کی کاریں محفوظ ہیں۔ جنہیں نظام دکن اور دیگر امرا استعمال کیا کرتے تھے۔ نظام ششم میر محبوب علی خان سے تعلق رکھنے والی شاندار کار رولس رائس سلور گھوسٹ تھرون اب بھی سیاحوں کے لیے پرکشش ہے۔ یہ گاڑی 1911 میں خاص طور پر کسٹمر کے آرڈر پر تیار کی گئی تھی جسے لندن ۔ اڈنبرا چیسی کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا اور اس وقت اس کے لئے 1.5 تا 2 لاکھ روپئے کی لاگت آئی تھی۔


  • دکن آرکائیو  کا مختصر تعارف:


دکن آرکائیو حیدرآباد کے چند متحرک نوجوانوں کا ایسا گروپ ہے، جس کا مقصد دکن سے متعلق تاریخی حقائق کو عام کرنا ہے۔ اس کے ذریعے دکن کی درست معلومات اور تاریخی واقعات سے واقف کرایا جاتا ہے اور اسے عام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ گروپ دکن کے متنوع تاریخی ورثے کو ڈیجیٹل طور پر محفوظ رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اس کے علاوہ نایاب مخطوطات، قدیم تصاویر اور آرکائیو کو محفوظ کیا جا رہا ہے۔ سماجی رابطہ کے مختلف ذرائع فیس بک، انسٹاگرام کے علاوہ ویب سائٹ https://thedeccanarchive.in پر دکن آرکائیو سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Aug 04, 2021 10:48 PM IST