ہوم » نیوز » Explained

Explained:سپریم کورٹ میں عرضداشت،قرآن مجیدکو لیکرکیاہے عدالتی جائزے کے اختیارات؟یہاں جانئے تفصیل

Quran case in Supreme Court:درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ اس نے قرآن مجید کے بارے میں وسیع تحقیق کی ہے لیکن انھوں نے قرآن مجید سے متعلق کسی کتاب یا مضمون کا ذکر نہیں کیا ہے۔ درخواست میں غلط طور پر ’سورہ‘ اور ’آیات‘ کا ذکر کیا گیا ہے حالانکہ دونوں کے مابین ایک فرق ہے۔ یہاں تک کہ انھوں نے متنازعہ مصری نژاد کینیڈا کے متنازعہ امام ڈاکٹر مصطفیٰ خطاب کے ترجمہ قرآن پر انحصار کیا ہے۔ جسے مستند ترجمہ نہیں سمجھا جاتا ہے۔

  • Share this:
Explained:سپریم کورٹ میں عرضداشت،قرآن مجیدکو لیکرکیاہے عدالتی جائزے کے اختیارات؟یہاں جانئے تفصیل
قرآن اورعدالتی جائزے کے اختیارات کیاہے؟

سپریم کورٹ (Supreme Court of India) میں مفاد عامہ کے تحت دائر کی گئی ایک درخواست (PIL) میں استدعا کی گئی ہے کہ قرآن کی 26 آیات کو غیر آئینی اور غیرعملی قرار دیا جائے۔ اسی ضمن میں اس کیس سے متعلق عدالتی جائزے کے حدود پریہاں روشنی ڈالی جارہی ہے، جو کہ ایک مقدس کتاب کے سلسلے میں زیر بحث ہے۔ اس میں درخواست کے مختلف پہلوؤں، درخواست گزار کی جانب سے پیش کی گئی آیات کا حقیقی تناظر اور قرآن پر سابق میں دائر کی گئی ​​درخواست کا جائزہ لیں گے۔


اترپردیش شعبیہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین و بی جے پی لیڈر وسیم رضوی (Wasim Rizvi) نے سپریم کورٹ میں عوامی مفاد کے تحت ایک درخواست دائر کی ہے، جس میں قرآن کی 26 آیات کو غیر آئینی، غیر موثر اور غیر فعال قرار دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان آیات سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کو فروغ مل رہا ہے اور اس سے ملک کی خودمختاری، یکجہتی اور سالمیت کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ اس کے برعکس لاکھوں لوگوں نے قرآن مجید حفظ کیا ہے۔ درخواست گزار نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ کوئی عدالت ان آیات کو ان کے ذہن سے کیسے حذف کرسکتی ہے۔؟


اس پٹیشن کے نتیجے میں مسلمان سراپا احتجاج ہیں اور متعدد علما نے درخواست گزار کے خلاف فتوے بھی جاری کیے ہیں۔ وشو لوچن مدن (2014) میں سپریم کورٹ نے پہلے ہی مشاہدہ کیا ہے کہ ایسے فتووں کی کوئی صداقت نہیں ہوتی۔ وہیں شیعہ علما نے رضوی کو شیعوں کے مسلک سے خارج کردیا۔

رضوی نے مرکز کے تین سکریٹریوں کو بطور مدعا نامزد کیا تھا۔ انہوں نے 56 نجی افراد کا نام بھی لیا ہے۔ جیسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے چانسلر (جو بوہری مسلک کے موجودہ امام ہیں)، کولکاتہ میں عالیہ یونیورسٹی کے چانسلر، کیرالہ میں اسلامیہ انگلش میڈیم ہائر سیکنڈری کالجوں کے پرنسپل اور سیاسی جماعتوں کے رہنما جیسے اسد الدین اویسی وغیرہ۔ اس فہرست میں مسلم پرسنل لا بورڈ 57 نمبر پر آتا ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر، جامعہ ملیہ اسلامیہ (یا اس کے چانسلر) اور مولانا آزاد یونیورسٹی کے وائس چانسلرز کو جواب دہندہ کیوں نہیں بنایا گیا۔

اگر دیکھا جائے تو درست قانونی شرائط کی روشنی میں رٹ دائرہ کرنا ’ریاست‘ کے خلاف ہے اور جواب دہندگان کے نام سے منسوب یہ تمام افراد آئین کے آرٹیکل 12 کے کے تحت یقینی طور پر ’ریاست‘ نہیں ہیں۔ اس کے برخلاف انھیں اللہ کو جواب دہی کا اول درجہ دینا تھا، کیونکہ مسلمان قرآن کو اللہ کی جانب سے نازل کی گئی کتاب مانتے ہیں۔ ہندوستانی قانون کے تحت بتوں کو قانونی شخصیات کا درجہ حاصل ہیں اور حال ہی میں رام لل نے بابری مسجد کا تاریخی مقدمہ جیت لیا۔
کیاہے عدالتی جائزے کے اختیارات:
ہندوستانی قانون کے تحت صرف ایک ’قانون‘ کو غیر آئینی قرار دے کر چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ دفعہ 13 (3) قانون کی وضاحت کرتا ہے، جس میں کسی بھی آرڈیننس، آرڈر، ضمنی قانون، رول، ریگولیشنس، نوٹیفکیشن، رواج یا اس علاقے میں قانون کی بالادستی کا استعمال شامل ہے۔ آئین کے آغاز سے متعلق ’نافذ قوانین‘ میں مقننہ یا دیگر مجاز اتھارٹی کے ذریعہ نافذ کردہ قوانین شامل ہیں۔ اس تعریف میں قرآن مجید سمیت کسی بھی مذہبی صحیفے کا احاطہ نہیں کیا گیا ہے۔ اسی طرح نہ تو وید، نہ گیتا، نہ بائبل اور نہ ہی گورو گرنتھ صاحب کو دفعہ 13 کے تحت ’قانون‘ کہا جاسکتا ہے۔ اس کے باوجود عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔ قرآن یا دیگر مذہبی صحیفوں کو رواج یا استعمال سے تعبیر کرنا، جیسا کہ اس درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے یہ لغو بات ہے۔ کوئی بھی عقل مند شخص جو رواج اور اعمال کو جانتا ہے وہ انسانوں کے بار بار انجام دینے والے اعمال کو جانتا ہے۔ مذہبی کتب کے الفاظ کو کبھی بھی رسم و رواج کے مطابق نہیں سمجھا جاسکتا۔ مذہبی کتابیں قانون کا ذریعہ ہوسکتی ہیں لیکن اپنے آپ میں قانون نہیں۔ لہذا قرآن مجید خود دفعہ 13 کے مقاصد کے تحت ’قانون‘ نہیں ہے۔ یہ اسلامی قانون کا بنیادی ماخذ ہے۔ مسلم فقہا اس کی ترجمانی کے ذریعے قوانین اخذ کرتے ہیں اور قانون کے دوسرے ذرائع جیسے حدیث (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوام)، اجماع (فقہی اتفاق رائے)، قیاس (تقابلی قیاسات)، عرف (رسم و رواج)، استحسان (فقہی ترجیح) اور اصلطلاح عام (عوامی مفاد) بھی اسلامی قانون کے بنیادی ماخذ ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ خود ہی قرآن پاک نے عربوں کے متعدد شرمناک رسوم و رواج کو منسوخ کردیا تھا، جیسے بچیوں کا زندہ درغور کردینا اور لہذا قرآن کو کبھی بھی رواج نہیں کہا جاسکتا۔ اگر قرآن قانون نہیں ہے تو یہ عدالتی جائزے کا موضوع نہیں ہے۔ کسی بھی مقدس کتاب کے بارے میں کوئی بھی عدالت اپنا فیصلہ نہیں سنا سکتی۔

دہشت گردی پہلے ہی جرم ہے:

عرضداشت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قرآن دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے لہذا ان 26 آیات کو حذف کرنا چاہئے۔ دلیل کی خاطر یہ فرض کرنا کہ درخواست گزار جیسے کوئی شخص یہ مانتا ہے کہ قرآن اسے دہشت گردی میں ملوث ہونے کا حکم دیتا ہے؛ کیا اس طرح کے عقیدے کو مذہبی آزادی کے تحت محفوظ کیا جاسکتا ہے؟ یقینی طور پر نہیں۔ کیوں کہ دفعہ 25 کے تحت مذہب کی آزادی عوامی نظم، صحت، اخلاقیات اور دیگر بنیادی حقوق سے مشروط ہے۔ کوئی بھی کسی کی زندگی نہیں چھین سکتا کیونکہ یہ دفعہ 21 کے منافی ہوگا۔ جو حق زندگی اور ہر ایک کو ذاتی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ لیکن مسلمان یقینی طور پر یہ ماننے کے حقدار ہیں کہ قرآن مجید خدا کا ناقابل یقین کلام ہے۔ کسی بھی عدالت کے پاس اس عقیدے کی سچائی کی جانچ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

جبکہ آئی پی سی 1860 کے سیکشن 302 کے تحت کسی انسان کا قتل قابل سزا و جرم ہے۔ جبکہ یو اے پی اے کو 1967 میں منظور کیا گیا تھا اور 2008 میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی تعمیل میں اس میں ترمیم کی گئی تھی۔ ہمارے پاس ٹاڈا 1985 اور پوٹا 2002 جیسے قانون بھی تھے۔ یو اے پی اے کو 2019 میں کہیں زیادہ سخت بنایا گیا۔ اس طرح بہت سے ایسے قوانین موجود ہیں جو دہشت گردی کی سرگرمیوں کو پہلے ہی ممنوع قرار دیتی ہیں اور ان پر سخت سے سخت سزائیں مقرر ہیں۔ کوئی بھی دہشت گرد اپنی مذہبی عبارتوں پر بھروسہ کرکے اپنا دفاع نہیں کرسکتا کیونکہ اس طرح کے معاملات میں قرآن مجید نہیں، بلکہ زمین کا قانون لاگو ہوگا۔ وہیں ایسے مذہبی رواج بھی ہیں جن پر قوانین ممنوع ہیں۔ جیسے ستی (روک تھام) ایکٹ 1987 کے تحت ستی یا آئین کے دفعہ 17 اور ایس سی اینڈ ایس ٹی ایٹروسٹی ایکٹ 1988 کے تحت اچھوت پن۔ یہ سچ ہے کہ اس طرح کے قوانین کے باوجود بھی اچھوت پن باقی ہے۔ سینکڑوں ہندوستانی دیہاتوں میں آج بھی اس پر عمل کیا جاتا ہے۔
درخواستیں اور درخواست گزار:
پی آئی ایل یا مفاد عامہ کے تحت دائرہ کی گئی درخواستوں کو اس وقت مقبولیت ملی جب سپریم کورٹ حکومت کے حامی فیصلوں کی وجہ سے قانونی حیثیت کے بحران سے دوچار تھی۔ پی آئی ایل کے ذریعے عدالت نے لوگوں کا اعتماد جیتنا شروع کیا۔ ایک یا دو دہائی کے اندر پی آئی ایل کے ناجائز استعمال کا عمل دخل شروع ہوا۔ عدالت کو جلد ہی اس کا احساس ہوا اور اس غلط استعمال پر قابو پانے کی کوشش کی گئی۔ نرمدا بچاؤ آندولن (2000) میں جسٹس بی این کرپل نے کہا کہ عوامی مفادات کی قانونی چارہ جوئی کو ’تشہیراتی مفادات کی قانونی چارہ جوئی‘ یا ’نجی خواہش کی بنا پر قانونی چارہ جوئی‘ بننے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔

رضوی کی عرضی واضح طور پر ان رہنما خطوط کی خلاف ورزی ہے اور یہ اپنے لیے ’عوامی تشہیر کے لیے قانونی چارہ جوئی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
پی آئی ایل کے استعمال پر پابندی لگانے کے لئے آج سب سے پہلے جو سوال عدالتوں سے کیا جاتا ہے وہ درخواست گزار کی اسناد اور مقاصد کے بارے میں ہے۔ اشوک کمار (2003) میں جسٹس اریجت پاسیات نے یہ موقف اختیار کیا کہ عدالت کو درخواست گزار کی اسناد کے بارے میں مطمئن ہونا چاہیے۔ ان کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کو مخفی نہیں رکھنا چاہیے اور مذکورہ معلومات درست اور حوالہ جات کے ساتھ ہوں۔ کسی بھی درخواست گزار کو دوسروں کے کردار سے متعلق سنگین الزامات میں ملوث ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ رضوی کی درخواست میں 14 کروڑ ہندوستانی مسلمانوں کو ممکنہ دہشت گرد بنا دیا گیا ہے۔
رضوی کے اعتبار کو دیکھیں: وہ کبھی بھی مسلمانوں اور ان کے مقاصد کے حق میں کھڑا نہیں ہوا۔ وہ اپنی سیاسی وفاداریاں بدلتا رہا ہے۔ یوپی حکومت کی سفارش کی بنا پر سی بی آئی نے نومبر 2020 میں ان کے خلاف وقف املاک (وہ شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین ہے) کے مبینہ طور پر غلط استعمال اور خرد برد کے الزام میں دو ایف آئی آر درج کی تھیں۔ یوتھ کانگریس کے رہنما شرد شکلا نے پریانکا گاندھی کے خلاف جنسی تعلقات پر مبنی تبصرے کرنے پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ اگرچہ رضوی کی درخواست میں ان کے خلاف ایف آئی آر کا ذکر ہے، لیکن سی بی آئی کے اس اقدام کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔
متنازعہ آیات:
جبکہ درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ اس نے قرآن مجید کے بارے میں وسیع تحقیق کی ہے لیکن انھوں نے قرآن مجید سے متعلق کسی کتاب یا مضمون کا ذکر نہیں کیا ہے۔ درخواست میں غلط طور پر ’سورہ‘ اور ’آیات‘ کا ذکر کیا گیا ہے حالانکہ دونوں کے مابین ایک فرق ہے۔ یہاں تک کہ انھوں نے متنازعہ مصری نژاد کینیڈا کے متنازعہ امام ڈاکٹر مصطفیٰ خطاب کے ترجمہ قرآان پر انحصار کیا ہے۔ جسے مستند ترجمہ نہیں سمجھا جاتا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ درخواست گزار کو قوانینِ جنگ اور قوانینِ امن کے مابین بین الاقوامی قوانین کے تحت بنیادی تفریق کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔ ہیوگو گروٹیئس (1583-1645) (جو باوائے بین الاقوامی قانون کے نام سے جانے جاتے ہے) نے کتاب ڈی جور بلیلی ایک پاسیس (جنگ اور امن کے حقوق) لکھا۔ سنہ 1945 تک کسی بھی قوم کے لئے جنگ ممنوع نہیں تھی۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے دفعہ 2، پیرا 4 میں اب طاقت کے استعمال پر پابندی ہے۔ لیکن آج بھی باب VII کے تحت ایک قوم اپنے حق دفاع کے استعمال کے لئے جنگ کا سہارا لے سکتی ہے۔

پٹیشن میں نقل کی گئی آیات جنگ کے بارے میں نہیں ہیں بلکہ اس میں ان مظلوم مسلمانوں کا ذکر کیا گیا ہے، جنھیں ایک مخصوص صورت حال کی وجہ سے مکہ چھوڑ کر مدینہ ہجرت کرنا پڑا۔ ان مسلمانوں کا خود مسجد حرم جیسی مقدم مسجد میں بھی اپنی جانوں کے قتل کا خطرہ ہر وقت لگا رہتا۔ ان مخصوص حالات کے ضمن میں مسلمانوں کو صرف ان لوگوں سے لڑنے کی اجازت تھی جو ان سے لڑتے ہیں (2:190) اس آیت کے نتیجے میں واقعتا کسی بھی طرح کا تشدد نہیں ہوا اور نہ ہی ایک کوئی بھی شخص اس وقت ہلاک ہوا۔ جب مسلمان 8 ہجری میں زیارت کے لئے گئے تھے۔ اس کے اگلے ہی برس بالآخر مکہ فتح ہوا، اس دوران صرف 3 مسلمان اور 17 مکہ کے باشندے مارے گئے۔ مزید یہ کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کے لیے عام معافی کا اعلان کیا۔

قرآن مجید 23 برس کے عرصے میں نازل ہوا، جو کہ اس وقت کی صورتحال پر منحصر ہے۔ درخواست گزار نے آیات کے متن، سیاق و سباق اور استعمال کو نظرانداز کیا ہے اور ان بنیادی اخلاقی اور روحانی اقدار کو نظرانداز کیا ہے، جسے قرآنی تعلیمات نے فروغ دیا ہے۔ درخواست گزار نے کچھ آیات کا حوالہ دیا ہے جس میں مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ خدا اور پیغمبر کے دشمنوں پر بھروسہ نہ کریں اور ان سے دوستی نہ کریں اور جہاں کہیں بھی ملیں ان کو قتل کریں۔ مثال کے طور پر کووڈ ۔19 کے تحت پابندیوں کو اس ضمن میں سمجھا جا سکتا ہے اور جب وبائی مرض ختم ہوجائے گا تو اس کا خاتمہ ہوگا۔

قرآن مجید عام کتابوں کی طرح منظم کتاب نہیں بلکہ ایک توسیع پسندانہ کتاب ہے اور اس کی آیات کو تمام اوقات اور ہر حالت میں عمومی ہدایات کی بجائے اس وقت کے حالات کے تناظر میں سمجھنا چاہئے۔ قرآن مجید کی بنیاد انسانی زندگی، بھائی چارہ، رواداری اور کثرت کا احترام ہے۔ متعدد مقامات پر قرآن انسانوں کو حکم دیتا ہے کہ آپس میں لڑو نہیں کیونکہ صرف خدا ہی پوری حقیقت جانتا ہے۔ ’اگر یہ آپ کے رب کی مرضی ہوتی تو سارے ہی انسان ایک خدا پر یقین کرتے۔ کیا تو پھر بنی نوع انسان کو ان کی مرضی کے خلاف یقین کرنے پر مجبور کیا جائے؟‘ (10:99)۔ دوسری زبانوں کے الفاظ کے طرح عربی الفاظ بھی متعدد سیاق و سباق میں متعدد معنی رکھتے ہیں اور اس طرح کے سیاق و سباق میں اس کے معنی و مفاہیم میں بھی تبدیلی آتی ہے۔ کسی بھی زبان میں کسی ایک لفظ کا موروثی یا مستقل معنی نہیں ہوتا ہے۔

بعض اوقات درخواست میں آیات کی بجائے تشریح پر سوالات کیے جاتے ہیں، لیکن کبھی کبھی آیات پر بھی سوالات کھڑے لیے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ وسیم رضوی نے یہ الزام لگایا ہے کہ پورا قرآن الہی نہیں ہے اور ان میں سے کچھ آیات کو پہلے تین خلیفہ نے شامل کیا تھا۔ اس طرح کے بے بنیاد الزامات کا مسئلہ یہ ہے کہ ایسا دعوی کبھی بھی حضرت علیؓ یا حضرت حسینؓ نے نہیں کیا تھا، جن کا شیعہ مسلمان سب سے زیادہ عزت و احترام کرتے ہیں۔ اس کے برعکس کسی شیعہ عالم نے کبھی بھی قرآن کی الوہیت پر سوال نہیں کیا تھا۔
سابق میں قرآن سے متعلق درخواستیں:
چاندمل چوپڑا نے مارچ 1985 میں کلکتہ ہائی کورٹ میں قرآن مجید پر پابندی کے لئے درخواست دائر کی تھی۔ ان کا بھی کہنا تھا کہ یہ مبینہ طور پر تشدد کو ہوا دیتا ہے اور مختلف طبقات میں دشمنی کو فروغ دیتا ہے۔ ہائی کورٹ نے اس درخواست کو 17 مئی 1985 کو مسترد کردیا تھا۔ جسٹس بی سی باساک، ویریبرن چیٹیئر (1958) میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر انحصار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آئی پی سی کے سیکشن 295 کے تحت مسلمانوں کی نظر میں قرآن مجید ایک پاک اور مقدس کتاب ہے اور اس طرح یہ دفعہ 295A کے توہینِ مذہب (blasphemy ) سے باہر ہے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ان آیات کا سیاق و سباق سے ہٹ کر حوالہ دیا گیا ہے اور اس میں غیر مسلموں کے جذبات کو مشتعل کرنے کے لئے کسی بدنیتی یا جان بوجھ کر ارادے کی عکاسی نہیں کی گئی ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ قرآن پر پابندی لگانے سے دفعہ 25 اور آئین کی تجویز کی خلاف ورزی ہوگی۔ اس نے واضح طور پر کہا کہ وہ قرآن، بائبل، گیتا اور گرو گرنتھ صاحب جیسی مقدس کتابوں کے بارے میں فیصلہ نہیں سنا سکتی ہے۔ عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ قرآن مجید کی وجہ سے کسی بھی وقت میں عوامی سکون کو پریشان نہیں کیا گیا تھا اور اس کے کوئی آثار نہیں ہیں کہ مستقبل میں اس طرح کا خلل پڑ جائے۔ عدالت نے کہا کہ درحقیقت درخواست گزار نے یہ درخواست داخل کرکے مختلف برادریوں کے مابین عداوت اور دشمنی کے جذبات کو فروغ دیا ہے اور یہ دفعہ 295 اے کے معنی میں توہینِ مذہب (blasphemy ) ہے۔
نومبر24 سنہ 1985 کو جسٹس ڈی کے سین اینڈ ایس کے سین کے ایک ڈویژنل بنچ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا اور واضح طور پر کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ عدالتیں کسی بھی قانونی کارروائی میں قرآن کریم یا اس کے مندرجات کے بارے میں کسی بھی طرح کا فیصلہ نہیں سنا سکتی ہیں۔ خود مذہب کسی بھی طرح کے برے کاموں کی اجازت نہیں دیتا۔ اس طرح کے فیصلے خود سپریم کورٹ کی نظر میں قابل قدر ہیں۔ رضوی کی عرضی کے تصفیے میں سپریم کورٹ یقینی طور پر غور کرے گا۔

(نوٹ : یہ مضمون معروف قانون داں اور نلسار یونیورسٹی آف لا کے وائس چانسلر فیصان مصطفی نے تحریر کیاہے جو انگریزی اخباردی انڈین ایکسپریس میں شائع ہوا ہے۔۔)
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Apr 05, 2021 02:35 PM IST