உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained: کیا ہندوستان پر یوکرین بحران کا پڑے گا اثر؟ روس اور امریکہ سے ہندوستان کے تعلقات کیسے ہوں گے؟

    تقریباً 18,000 ہندوستانی طلبا خاص طور پر طب کے شعبے میں یوکرین میں زیر تعلیم ہیں۔

    تقریباً 18,000 ہندوستانی طلبا خاص طور پر طب کے شعبے میں یوکرین میں زیر تعلیم ہیں۔

    وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی (Arindam Bagchi) نے کہا کہ ہندوستان ایک آزاد خارجہ پالیسی برقرار رکھتا ہے جس کی عکاسی دفاعی ساز و سامان کی خریداری میں بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تمام مصروفیات ہندوستان کے قومی مفاد اور سلامتی کے مطابق ہیں۔

    • Share this:
      ماہا صدیقی

      مشرقی یورپ میں پیدا ہونے والا بحران ہندوستان کو ایک سے زیادہ طریقوں سے متاثر کر سکتا ہے۔ نئی دہلی نے ہنوز یوکرین (Ukraine) کے معاملے سے دوری برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ جمعرات کو نئی دہلی کی جانب سے ماسکو سے S400 میزائل ڈیفنس سسٹم (S400 missile defence system) کی خریداری اگرچہ ایک بار پھر زیربحث آئی ہے، لیکن اس بار یوکرین پر امریکہ ۔ روس کشیدگی (US-Russia tension) کے تناظر میں یہ صورت حال مزید تشویشناک اختیار کرگئی ہے۔

      روس سے S400 میزائل ڈیفنس سسٹم سے متعلق معاہدہ کے ساتھ ساتھ امریکہ ۔ ہندوستان دو طرفہ تعلقات کیسے متاثر ہو سکتے ہیں؟ اس سوال پر امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ میرے خیال میں یہ خطہ کے عدم استحکام کے کردار پر روشنی ڈالتا ہے جو کہ روس ادا کر رہا ہے۔ جب سی اے اے ٹی ایس اے (CAATSA) پابندیوں کی بات آتی ہے، تو آپ نے مجھے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ہم نے اس لین دین کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے، لیکن یہ وہ چیز ہے جس پر ہم حکومت ہند کے ساتھ بات چیت کرتے رہتے ہیں۔ چاہے وہ ہندوستان ہو، چاہے کوئی دوسرا ملک ہو۔ ہم تمام ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ روسی ہتھیاروں کے لین دین سے گریز کریں۔


      آخر سی اے اے ٹی ایس اے کیا ہے؟

      سی اے اے ٹی ایس اے کا مخفف Countering America’s Adversaries Through Sanctions Act ہے۔ یہ قانون 2017 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں نافذ ہوا تھا تاکہ ایران، روس اور شمالی کوریا کو سزا دی جا سکے۔ اب بھی امریکہ کا کہنا ہے کہ اے اے ٹی ایس اے کے تحت پابندیاں مخالفین کے لیے ہیں اور ان کا مقصد اتحادیوں اور شراکت داروں کو سزا دینا نہیں ہے۔

      اس کے برعکس جب نیٹو (NATO) کے اتحادی ترکی نے روس کے ساتھ S400 کے معاہدے پر مہر لگا دی تو امریکہ نے دسمبر 2020 میں اس کے خلاف اے اے ٹی ایس اے پابندیاں عائد کر دیا تھا۔ محکمہ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندیاں جان بوجھ کر روس کے اسلحے کی اہم برآمدات Rosoboronexport کے ساتھ ایک اہم لین دین میں ملوث ہونے پر لگائی گئی ہیں۔ اس دوران یہ بھی کہا گیا ہے کہ ترکی امریکہ کے لیے ایک قابل قدر اتحادی اور ایک اہم علاقائی سیکورٹی پارٹنر ہے۔ واضح رہے کہ S-400 زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹم ہے۔

      امریکی دھمکیاں اور ہندوستان:

      اس طرح کی امریکی پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود ہندوستان S400 کی خریداری کے معاملے پر اپنی بات پر قائم ہے۔ دراصل S400 کی پہلی ڈیلیوری پچھلے سال کے آخر میں شروع ہوئی تھی۔ سال 2019 میں بطور وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے نئی دہلی میں اپنے اس وقت کے ہم منصب مائیک پومپیو کے ساتھ ایک پریس بریفنگ کی۔ انھوں نے اس ڈیل کی وجہ سے اے اے ٹی ایس اے پابندیوں کے خطرے کے بارے میں سی این این نیوز 18 کے ایک سوال کا جواب دیا۔

      ایس جئے شنکر نے کہا تھا کہ ہندوستان کے کئی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں۔ ان تعلقات کی ایک تاریخ ہے۔ لہذا میں سمجھتا ہوں کہ ہم وہی کریں گے جو ہمارے قومی مفاد میں ہوگا۔ یہ ایک اسٹریٹجک شراکت داری کا ایک حصہ ہے، جو ہر ملک کی دوسرے کے قومی مفاد کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

      ہندوستان کی آزاد خارجہ پالیسی:

      جمعرات کو نیڈ پرائس کے بیان کے بعد ایم ای اے نے اسی موقف کو برقرار رکھا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی (Arindam Bagchi) نے کہا کہ ہندوستان ایک آزاد خارجہ پالیسی برقرار رکھتا ہے، جس کی عکاسی دفاعی ساز و سامان کی خریداری میں بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تمام مصروفیات ہندوستان کے قومی مفاد اور سلامتی کے مطابق ہیں۔

      ’’قریب سے جائزہ‘‘

      تاہم ہندوستان کے جامع اسٹریٹجک شراکت دار امریکہ اور خصوصی مراعات یافتہ اسٹریٹجک شراکت دار روس کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش کے ساتھ یوکرین کے بحران پر اظہار خیال کرنا یقیناً ایک سخت قدم ہوگا۔ ابھی کے لئے ایم ای اے کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم روس اور امریکہ کے درمیان جاری اعلیٰ سطحی بات چیت سمیت یوکرین سے متعلق پیش رفت کا قریب سے جائزہ لے رہے ہیں۔ کیف (Kyiv) میں ہمارا سفارت خانہ بھی مقامی پیش رفت کی نگرانی کر رہا ہے۔ ہم خطے اور اس سے باہر طویل مدتی امن اور استحکام کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں کے ذریعے صورتحال کے پرامن حل کا مطالبہ کرتے ہیں۔


      دریں اثنا سات سال میں پہلی بار جمعرات کو برینٹ کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل تک بڑھ گئیں۔ اس کی بنیادی وجوہات میں یوکرین کا بڑھتا ہوا بحران ہے، وہیں حوثیوں و متحدہ عرب امارات (Houthis and UAE) اور سعودی زیرقیادت اتحادی افواج کے درمیان تناؤ بھی ہے۔ ان دونوں خطوں میں سپلائی چین میں ممکنہ رکاوٹوں کی وجہ سے قیمتیں اوپر کی طرف بڑھ سکتی ہیں۔ امریکہ، روس اور سعودی عرب دنیا کے تین بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک ہیں۔


      تیل کی قیمتوں میں اضافہ:

      یہ ان کئی ہندوستانیوں کے لیے ایک بری خبر ہے، جو گزشتہ سال گھریلو ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے جوج رہے تھے۔ ایندھن کی اونچی قیمتوں سے ہندوستان کے متوسط ​​طبقے کی جیب پر زبردست اثر پڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ یا اتار چڑھاؤ جاری رہتا ہے تو کیا مرکز اور ریاستیں زیادہ ٹیکسوں کی طرف واپس جائیں گے؟ کیا اس سے بجٹ کے حساب کتاب پر بھی اثر پڑ سکتا ہے جو اگلے ہفتے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا؟

      سب کی نظریں 2 فروری کو پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم یعنی OPEC+ کے اجلاس پر ہوں گی جس میں پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اور روس کی قیادت میں اتحادی شامل ہیں۔ نیوز18 ڈاٹ کام کو معلوم ہوا ہے کہ سرکاری سطح پر یورپی یونین یوکرین کے بحران پر ہندوستان کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کر رہی ہے۔ یوکرین رقبہ کے لحاظ سے دوسرا سب سے بڑا مشرقی یورپی ملک ہے اور ہندوستان اسے تسلیم کرنے والے پہلے ممالک میں سے ایک ہے۔ حکومت ہند نے دسمبر 1991 میں جمہوریہ یوکرین کو ایک خودمختار ملک کے طور پر تسلیم کیا اور جنوری 1992 میں سفارتی تعلقات قائم کئے۔ یوکرین نے فروری 1993 میں دہلی میں اپنا مشن کھولا، جو ایشیا میں اپنا پہلا مشن ہے۔


      ایم ای اے کی ویب سائٹ کے مطابق تقریباً 18,000 ہندوستانی طلبا خاص طور پر طب کے شعبے میں یوکرین میں زیر تعلیم ہیں۔ ہندوستانی کاروباری پیشہ ور بنیادی طور پر فارماسیوٹیکل، آئی ٹی، انجینئرنگ، طب اور تعلیم کے شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ حالیہ کشیدگی میں اضافے کی صورت میں ہندوستانیوں کی محفوظ وطن واپسی بھی ایک اہم معاملہ بن جاتا ہے۔ امریکہ اس ہفتے کے شروع میں ہی اپنے سفارت کاروں کو کیف سے نکال چکا ہے۔

      یوں ہندوستان، ہندوستان کے عوام اور ہندوستان کے بین الاقوامی تعلقات پر روس ۔ یوکرین تنازعہ کا اثر پڑسکتا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: