ہوم » نیوز » Explained

Explained : میانمار میں مظاہرین کیوں کررہے ہیں تین انگلیوں سے سیلیوٹ ؟

Myanmar Military Coup : فلموں کی دنیا سے ایک علامت حقیقی دنیا میں کیسے آجاتی ہے ؟ آس پاس کے ممالک سے یہ علامت میانمار میں کس طرح ورچوئل ورلڈ کے ذریعہ پہنچتی ہے ؟ اس دلچسپ سفر کے ساتھ جانئے کہ اس علامت کا کیا مطلب ہے ۔

  • Share this:
Explained : میانمار میں مظاہرین کیوں کررہے ہیں تین انگلیوں سے سیلیوٹ ؟
Explained : میانمار میں مظاہرین کیوں کررہے ہیں تین انگلیوں سے سیلیوٹ ؟

میانمار میں منتخب آنگ سان سوکی حکومت کو یکم فروری کو گراکر فوج نے تختہ پلٹ کردیا ۔ اس وقت سے ہی پورے ملک میں شہری احتجاج کررہے ہیں ۔ جمہوریت کی بحالی کے مطالبہ کو لے کر کئے جارہے ان مظاہروں میں سب سے خاص بات یہ نظر آرہی ہے کہ مخالفت درج کرانے کیلئے سماجی کارکنان تین انگلیاں آسمان کی طرف اٹھاکر سیلیوٹ کررہے ہیں ۔ اس سیلیوٹ کی علامت کا ایک مطلب بھی ہے ، جو میانمار کے سماجی کارکنان نے اپنے پڑوسی ملک سے لی ہے ۔


حقیقت میں تین انگلیوں والا یہ سیلیوٹ احتجاج کی ایک علامت بن چکا ہے اور اکتوبر 2020 میں تھائی لینڈ میں بادشاہت کے خلاف جو احتجاج ہوئے تھے ، وہاں بھی اس علامت کو دیکھا گیا تھا ۔ میانمار میں اس احتجاج کی علامت میں کیا کچھ خاص ہے ، یہاں جانئے ۔


تین انگلیوں سے سیلیوٹ کا کیا مطلب ؟


میانمار میں سب سے پہلے اس طرح کا سیلیوٹ تختہ پلٹ کی مخالفت کرنے کیلئے میڈیکل کارکنان نے استعمال کیا تھا ۔ اس کے بعد جب نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرے شروع کئے اور جمہوریت کی حامی تنظیموں نے بھی ، تو اس علامت کو اپنایا ۔ زبردستی کی گئی اقتدار کی تبدیلی کے خلاف اب رنگون میں جو مظاہرے ہورہے ہیں ، ان میں یہ علامت سیلیوٹ میانمار کی شناخت بن رہی ہے ۔

اس علامت کی شروعات اصل میں حقیقی دنیا میں ہوئی ہی نہیں ، بلکہ یہ سوزین کالنس کی فلموں اور ہنگر گیمس کتابوں سے ہوئی ۔
اس علامت کی شروعات اصل میں حقیقی دنیا میں ہوئی ہی نہیں ، بلکہ یہ سوزین کالنس کی فلموں اور ہنگر گیمس کتابوں سے ہوئی ۔


اس علامت کی شروعات اصل میں حقیقی دنیا میں ہوئی ہی نہیں ، بلکہ یہ سوزین کالنس کی فلموں اور ہنگر گیمس کتابوں سے ہوئی ۔ اس سیریز میں انگوٹھے سے سب سے چھوٹی انگلی کو دبا کر باقی تینوں انگلیوں کو اٹھاکر سیلیوٹ کیا جاتا ہے ، جو تصوراتی دنیا کے تاناشاہ صدر کی حکومت کے خلاف اٹھ رہی آوازوں کے اتحاد کی ایک علامت مانا جاتا ہے ۔

تھائی لینڈ میں ہنگامہ کے بعد ہانک کانگ پہنچا یہ سیلیوٹ

جنوبی ایشیائی ملک میں لوگ اپنی لیڈر سوکی کو رہا کئے جانے کیلئے بینر ، جھنڈے اور پوسٹر لے کر سڑکوں پر اتر رہے ہیں ۔ ان مظاہروں میں اس سیلیوٹ کے ساتھ لوگ اپنا احتجاج درج کروا رہے ہیں ، لیکن احتجاج میں اس سیلیوٹ کو ممکنہ طور پر پہلی مرتبہ 2014 میں جنوبی ایشیائی ملک تھائی لینڈ میں دیکھا گیا تھا ۔ تب نوجوانوں نے تھائی لینڈ میں فوج کے ٹیک اوور کے خلاف آواز اٹھانے کیلئے احتجاج کے دوران ایسا سیلیوٹ کیا تھا ۔

دیکھتے ہی دیکھتے یہ سیلیوٹ جاگیردارانہ نظام کے خلاف پیغام کی ایک علامت بن گیا تھا اور تقریبا ہر ریلی میں نظر آنے لگا تھا ۔ اس سیلیوٹ کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے وہاں کی فوج نے اس پر پابندی عائد کردی تھی ، لیکن پابندی کی پروا کئے بغیر مظاہرین نے اس کو جاری رکھا ۔ اس کے بعد ہانگ کانگ میں 2014 کے مشہور امبریلا ریویلیوشن کے دوران بھی یہ سیلیوٹ کافی استعمال کیا گیا ۔

 احتجاج میں اس سیلیوٹ کو ممکنہ طور پر پہلی مرتبہ 2014 میں جنوبی ایشیائی ملک تھائی لینڈ میں دیکھا گیا تھا ۔
احتجاج میں اس سیلیوٹ کو ممکنہ طور پر پہلی مرتبہ 2014 میں جنوبی ایشیائی ملک تھائی لینڈ میں دیکھا گیا تھا ۔


میانمار میں کیسے پہنچی یہ علامت

دراصل 2010 سے میانمار میں جمہوریت کی بحالی کو لے کر راستے کھلنے شروع ہوئے ۔ ان حالات میں انٹرنیٹ کے ذریعہ لوگ دنیا بھر سے وابستہ ہوسکے ۔ یہ ایک انقلاب ثابت ہوا اور نوجوانوں کو دنیا بھر کے کلچر اور ٹرینڈ کے بارے میں جانکاریاں ملنے لگیں ۔ میانمار کے لوگوں نے پیپے اور فراگ جیسی علامتوں کا استعمال بھی احتجاج کی علامتوں کے طور پر کیا ، جن کا امریکہ میں 2016 میں مظاہرہ کے دوران استعمال کیا گیا تھا ۔

تین انگلیوں والے سیلیوٹ سے پہلے میانمار میں ہانگ کانگ کے جمہوریت حامی مظاہروں میں استعمال ہوچکے ڈوز اور چیمس جیسی علامتیں بھی استعمال کی گئیں ۔ غیر ملکی میڈیا کی مانیں تو اس کے علاوہ میانمار کے احتجاج میں لال رنگ کے ریبن اور لال پھولوں کو بھی احتجاجی ریلیوں میں بطور علامت استعمال کیا جاچکا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 28, 2021 01:47 PM IST