உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained: کیرالہ سے تعلق رکھنے والے دو مسلمان خاندان سعودی عرب کی جائیداد پر کیوں لڑرہے ہیں؟ جانیے تفصیلات

    میان کُٹی کیئی 1.5 ایکڑ زمین خریدی، جو مسلمانوں کے سب سے مقدس مقام مکہ مکرمہ میں واقع کعبۃ اللہ سے بمشکل 300 میٹر کے فاصلے پر ہے اور وہاں سات کمروں اور ایک بڑے ہال کے ساتھ ایک قیام گاہ (رباط) تعمیر کرایا۔

    میان کُٹی کیئی 1.5 ایکڑ زمین خریدی، جو مسلمانوں کے سب سے مقدس مقام مکہ مکرمہ میں واقع کعبۃ اللہ سے بمشکل 300 میٹر کے فاصلے پر ہے اور وہاں سات کمروں اور ایک بڑے ہال کے ساتھ ایک قیام گاہ (رباط) تعمیر کرایا۔

    میان کُٹی کیئی 1.5 ایکڑ زمین خریدی، جو مسلمانوں کے سب سے مقدس مقام مکہ مکرمہ میں واقع کعبۃ اللہ سے بمشکل 300 میٹر کے فاصلے پر ہے اور وہاں سات کمروں اور ایک بڑے ہال کے ساتھ ایک قیام گاہ (رباط) تعمیر کرایا۔

    • Share this:
      سنہ 1870 میں کیرالہ Kerala کے مالابار Malabar علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک جہاز رانی میان کُٹی کیئی Mayankutty Keyi نے حج کیا تھا۔ اس دوران میان کُٹی کیئی مکہ میں ہندوستانی عازمین کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات سے خوش نہیں تھے۔ چنانچہ انھوں نے 1.5 ایکڑ زمین خریدی، جو مسلمانوں کے سب سے مقدس مقام مکہ مکرمہ میں واقع کعبۃ اللہ سے بمشکل 300 میٹر کے فاصلے پر ہے اور وہاں سات کمروں اور ایک بڑے ہال کے ساتھ ایک قیام گاہ (رباط) تعمیر کرایا۔ انھوں نے اپنے نام کے ساتھ قیام گاہ کے لیے عربی لفظ کا اضافہ کرتے ہوئے ولا کا نام کیئی رباط Keyi Rubat رکھا۔

      گھر خریدنا ان کے لیے کوئی بڑی بات نہیں تھی، کیونکہ ان کے پاس پہلے سے ہی ایمسٹرڈیم اور ویانا سمیت پوری دنیا میں گھر اور گودام موجود تھے۔ کیی کا مطلب فارسی میں جہاز کا مالک ہے۔ کیی خاندان کے گاہکوں میں تمام تاجر اور اس وقت کی سب سے بڑی مشترکہ اسٹاک کمپنی انگلش ایسٹ انڈیا کمپنی East India Company بھی شامل تھی۔

      کیرالہ کے میان کُٹی کیئی نے حرم مقدس کے قریب 1.5 ایکڑ زمین خریدی تھی۔
      کیرالہ کے میان کُٹی کیئی نے حرم مقدس کے قریب 1.5 ایکڑ زمین خریدی تھی۔


      میان کُٹی کیئی Mayankutty Keyi کے والد عبدالقادر کی Abdul Qadir Keyi ایک مشہور تاجر تھے جنہوں نے اپنے بیٹے کو پڑھانے کے لیے بڑے علما کی خدمات حاصل کی تھیں۔ اپنا حج کرنے سے بمشکل تین سال پہلے میان کُٹی نے کچھ ایسا کیا جس سے مالابار میں روایتی مسلمانوں کو غصہ آیا۔ انھوں نے قرآن کا عربی ملیالم میں ترجمہ کیا، جو کیرالہ کے میپیلا مسلمانوں کی روایتی زبان ہے۔ انھیں ترجمہ مکمل کرنے میں 15 سال لگے جس سے ان کا خیال تھا کہ قرآن عام آدمی کے لیے زیادہ قابل رسائی ہو جائے گا۔ اس کے بعد مشتعل لوگوں نے ترجمہ شدہ کاپیوں پر پتھر باندھ کر اسے بحیرہ عرب میں پھینک دیا۔ میان کُٹی نے ناقدین کو نظر انداز کیا اور مزید کاپیاں چھاپیں۔

      میان کُٹی نے اراکل خاندان Arakkal family سے شادی کی۔ یہ کیرالہ کا واحد مسلم شاہی خاندان ہے اور یہ ازدواجی نظام کی پیروی کرتا ہے۔ سب سے سینئر رکن اراکل خاندان کا سربراہ ہے، وہ چاہے خاتون ہو یا مرد۔ میان کٹی اور ان کی اہلیہ نے مکہ روانہ ہونے سے پہلے اپنے کاروباری کام اپنے بھائی کے حوالے کردیا، جس کے بد کئی نسلوں نے اس کاروبار کو سنبھالا۔ اس دوران میان کٹی اور ان کی اہلیہ رباط میں مقیم رہے۔ اس کے کئی برسوں بعد مایان کٹی نے ایک ملیالی موسی حاجی مالاباری Moosa Haji Malabari کو رباط میں اپنا ناظر (نمائندہ) مقرر کیا اور گھر واپس آگئے۔

      سعودی عرب کے پرچم کی فائل فوٹو: فوٹو رائٹرز
      سعودی عرب کے پرچم کی فائل فوٹو: فوٹو رائٹرز


      مکہ، مدینہ اور جدہ میں رباط کی تعمیرات کی تاریخ:

      حقیقت یہ ہے کہ رباط تقریباً ایک صدی تک مالاباری زائرین کی میزبانی کرتا رہا۔ ناظر کی وفات کے بعد مملکت سعودی عرب کے محکمہ وقف نے جائیداد کی دیکھ بھال کی۔ اسی زمانے میں نظام حیدرآباد Nizam of Hyderabadاور نواب آف ارکوٹ Nawab of Arcot نے بھی خانہ کعبہ کے قریب رباط بنوائے تھے۔ بعد ازاں بہت سے نوابوں اور اشرافیہ کے مسلم خاندانوں نے مکہ، مدینہ اور جدہ میں رباط تعمیر کیے۔ پہلی رباط کے ناطے کیی رباط کے پاس ان میں سے سب سے بھی زیادہ زمین تھی۔

      سنہ 1930 کی دہائی کے آخر میں تیل کی معیشت نے سعودی عرب اور اس کے ساتھ مقدس شہروں کو بدل دیا۔ 1956 میں سعودی حکومت نے مسجد کے توسیعی منصوبے کے تحت کیی رباط کی زمین پر قبضہ کر لیا اور اصل جگہ سے تھوڑا دور ایک اور پلاٹ الاٹ کیا۔ 1970 میں دوسرا پلاٹ بھی توسیع کے لیے حاصل کیا گیا اور معاوضے کے طور پر ایک بڑی رقم جاری کی گئی۔ چونکہ میان کُٹی کے قانونی وارث کا پتہ نہیں چل سکا۔ اسی لیے سعودی حکومت نے حکم دیا کہ وارث کے ملنے تک یہ رقم محکمہ اوقاف کے خزانے کے پاس رکھی جائے، جو کہ وقف کے امور کا انتظام کرتا ہے۔

      قانونی وارثوں کی تلاش:

      اس کے بعد سعودی حکومت نے میان کٹی کے قانونی وارثوں کی تلاش شروع کی۔ اس نے 1971 میں ہندوستانی حکومت سے رابطہ کیا۔ اندرا گاندھی حکومت نے کیرالہ کے وزیر اعلیٰ سی اچھوتا مینن کو درخواست بھیجی اور ان سے واپس رپورٹ کرنے کو کہا۔

      اراکلوں Arakkals کی طرح کیی Keyis بھی خاندانی پس منظر کے حامل ہیں۔ لہذا موروثی جائیداد ماں سے بیٹی کو یا بھائی سے بہنوں کے بچوں کو منتقل ہوتی ہے۔ 28 نومبر 1972 کو تھلاسری تحصیلدار نے سی وی کو قانونی وراثت کا سرٹیفکیٹ جاری کیا۔ جس میں آلوپی کیی Alupy Keyi، سی وی مویدو کیی C.V. Moidu Keyi اور مایان کٹی کے پڑپوتے بھانجے شامل تھے۔ اراکلوں نے تین وجوہات کی بنا پر سرٹیفکیٹ کو چیلنج کیا: i) کیئس کا یہ دعویٰ کہ میان کٹی بے اولاد تھے اور اسی دوران ان کی موت ہوئی۔ ii) میان کٹی کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی قانونی وارث تھے؛ iii) سعودی عرب ازدواجی نظام کو قبول نہیں کرتا۔ اس چیلنج نے ایک کشمکش کو جنم دیا جو آج تک جاری ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: