உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Ukraine-Russia Conflict: جنگ سے روٹی کے لئے محتاج ہوجائیں گے درجنوں ممالک، دنیا کا سب سے بڑا گیہوں ایکسپورٹر ہے روس

    روس اور یوکرین کے درمیان ہوئی جنگ تو دو وقت کی روٹی کے محتاج ہوجائیں گے درجنوں ممالک۔

    روس اور یوکرین کے درمیان ہوئی جنگ تو دو وقت کی روٹی کے محتاج ہوجائیں گے درجنوں ممالک۔

    روس بحیرہ اسود یا دیگر راستوں سے ان ممالک میں برآمدات درآمد روکنے کی کوشش کرے گا۔ ایسے میں دنیا کے کئی غریب ممالک دو وقت کی روٹی کے لیے آسٹریلیا، قازقستان اور جرمنی جیسے ممالک کے محتاج ہو جائیں گے۔

    • Share this:
      ماسکو/کیف: اگر روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ہوئی تو اس تباہی سے دنیا کے کئی ممالک متاثر ہوں گے۔ کسی ملک میں مہنگائی بڑھے گی تو عوام کی پلیٹ میں دو وقت کی روٹی بھی مشکل ہو جائے گی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ روس گیہوں برآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور یوکرائن اس حوالے سے 5ویں نمبر پر ہے۔

      ایسے میں آج گہرائی سے جانتے ہیں کہ روس اور یوکرین دنیا میں کتنے فیصد گندم برآمد کرتے ہیں؟ کن ممالک میں جنگ کی صورتحال میں دو وقت کی روٹی ملنا مشکل ہو سکتا ہے؟ اگر جنگ ہوئی تو دوسرے ممالک پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

      روس اور یوکرین دنیا کے بڑے گیہوں ایکسپورٹرس
      گیہوں مکئی کے بعد دنیا میں پیدا ہونے والا دوسرا سب سے بڑا اناج ہے۔ اس اناج کی پیداوار میں روس اور یوکرین دونوں سرفہرست ہیں۔ روس 18 فیصد سے زیادہ گیہوں برآمد کرتا ہے۔ یوکرین اس حوالے سے 5ویں نمبر پر ہے۔ صرف یہ دو ممالک دنیا بھر میں 25.4 فیصد گیہوں برآمد کرتے ہیں۔

      کن ممالک میں سب سے زیادہ روس اور یوکرین سے کیا جاتا ہے گیہوں ایکسپورٹ
      زیادہ تر گیہوں روس اور یوکرین سے مصر بھیجا جاتا ہے۔ روس نے 2019 میں 18.99 ہزار کروڑ روپے کا گیہوں بھیجا تھا، جب کہ یوکرین نے مصر کو 5.10 ہزار کروڑ روپے کی گیہوں بھیجی۔ ترکی روس اور یوکرین سے گیہوں درآمد کرنے کے معاملے میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ان کے علاوہ انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور نائیجیریا سمیت دنیا کے درجنوں ممالک گیہوں کی برآمد کے لیے مکمل طور پر روس اور یوکرین پر منحصر ہیں۔

      2019 میں روس نے دنیا بھر میں 60.64 ہزار کروڑ مالیت کی گیہوں برآمد کی۔ ساتھ ہی، یوکرین نے 2019 میں دیگر ممالک کو 23.16 ہزار کروڑ کی گیہوں کی برآمد کی ہے۔

      دنیا بھر میں گیہوں ایکسپورٹ کرنے والے ٹاپ-10 ملک
      1980 کی دہائی میں، امریکہ سے برآمد ہونے والی مجموعی گیہوں کا دو تہائی حصہ روس کا تھا۔ 1985 میں سوویت یونین (USSR) نے دوسرے ممالک سے ریکارڈ 5.5 ہزار کروڑ کلو گرام گیہوں خریدی۔ اب وقت بدل گیا ہے اور آج روس دنیا کا ٹاپ گیہوں ایکسپورٹر بن گیا ہے۔ روس 2001 میں 1 فیصد گیہوں برآمد کرتا تھا اور 2019 میں یہ تعداد بڑھ کر دنیا کی گیہوں کی مجموعی برآمدات کا 18 فیصد ہو گئی ہے۔

      یوروپ میں بریڈ باسکیٹ کے نام سے جانا جاتا ہے یوکرین
      یوکرین گیہوں کی پیداوار کے حوالے سے جس کامیابی تک پہنچا ہے اس کے پیچھے ایک بہت ہی دردناک کہانی ہے۔ درحقیقت، 1932 میں، یوکرین سمیت سوویت یونین کے بڑے حصوں میں قحط پڑا۔ اس میں یوکرین کے لاکھوں لوگ بھوک سے مر گئے۔ پھر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے جوزف اسٹالن نے یوکرین میں گیہوں کی پیداوار پر اصرار کیا۔

      نتیجہ یہ ہے کہ آج یوکرین دنیا میں گیہوں برآمد کرنے والا 5واں بڑا ملک ہے۔ دنیا میں گیہوں کی کل فروخت کا 7 فیصد یوکرائن کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوکرین کو یورپ میں بریڈ باسکٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یوکرین کی مجموعی زمین کا 71فیصد حصہ زرخیز ہے۔ یہی نہیں ملک کے بیشتر علاقوں میں کالی مٹی پائی جاتی ہے جو گندم کی پیداوار کے لیے موزوں ہے۔ یوکرین کے لوگ اس کا بہت فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

      جنگ کی حالت میں اگر سپلائی متاثر ہوتی ہے تو آپشن کیا ہے؟
      دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کی حالت میں دنیا بھر میں مہنگائی بڑھنے کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نظر نہیں آرہا ہے۔ اس کی ایک وجہ صاف ہے کہ جنگ ہونے پر دونوں ملکوں سے ہونے والے 25 فیصد سے زیادہ گیہوں کا ایکسپورٹ متاثر ہوگا۔ اتنے بڑے پیمانےپر ایکسپورٹ متاثر ہونے کی وجہ سے دنیا کے ممالک امریکہ، کینیڈا اور فرانس جیسے ملکوں پر منحصر ہوجائیں گے۔

      NATO کے رکن ہونے کی وجہ سے امریکہ اور فرانس جیسے ممالک اس جنگ میں ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ حصہ لیں گے۔ ایسے میں روس بحیرہ اسود یا دیگر راستوں سے ان ممالک میں برآمدات درآمد روکنے کی کوشش کرے گا۔ ایسے میں دنیا کے کئی غریب ممالک دو وقت کی روٹی کے لیے آسٹریلیا، قازقستان اور جرمنی جیسے ممالک کے محتاج ہو جائیں گے۔

      جنگ کی حالت میں گیہوں کا ایکسپورٹ روکے جانے پر ہندوستان کا کیا رول ہوسکتا ہے؟
      2019 میں، ہندوستان نے عالمی مارکیٹ میں 411 کروڑ روپے کی گیہوں فروخت کی ہے۔ 2019 میں ہندوستان نے 2 لاکھ 17 ہزار 354 میٹرک ٹن گیہوں برآمد کی تھی۔ بہت سے پڑوسی ممالک جو پہلے روس یا یوکرین سے گیہوں درآمد کرتے تھے اب ہندوستان سے گیہوں درآمد کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں ہندوستان کی گیہوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جنگ کی صورت میں ہندوستان، نیپال اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کو گندم دے کر اپنی مضبوط دوستی کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔

      اس کے ساتھ ہندوستان کے پاس دو مواقع ہوں گے۔ پہلا- ہندوستان مہنگے داموں میں گیہوں کر کے اپنا خزانہ بھرے۔ دوسرا- ہندوستان کو نیپال، بنگلہ دیش، متحدہ عرب امارات، صومالیہ اور کوریا جیسے غریب ممالک کو مناسب قیمتوں پر گیہوں بھیج کر مہنگائی اور بھوک سے لڑنے میں لوگوں کی مدد کرے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: