உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Budget 2022:چھ بڑے فیصلے جن پر ٹکی ہیں سب کی نگاہیں، عام شہری اور سرمایہ کاروں کو راحت دے سکتی ہے حکومت

     ہر بجٹ سے پہلے اس قسم کی رائے حکومت تک پہنچائی جاتی ہے جس پر حکومت اپنی مرضی کے مطابق عملدرآمد کرتی ہے۔ آئیے کچھ ایسی ہی توقعات پر بات کرتے ہیں جو عوام کو حکومت سے ہے۔ ان توقعات میں انکم ٹیکس سلیب(Income Tax Slab) کو ٹیکس کی بچت سے کمائی تک بڑھانے کا مطالبہ بھی ہے۔ لائف انشورنس کے پریمیم پر ٹیکس چھوٹ بڑھانے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔

    ہر بجٹ سے پہلے اس قسم کی رائے حکومت تک پہنچائی جاتی ہے جس پر حکومت اپنی مرضی کے مطابق عملدرآمد کرتی ہے۔ آئیے کچھ ایسی ہی توقعات پر بات کرتے ہیں جو عوام کو حکومت سے ہے۔ ان توقعات میں انکم ٹیکس سلیب(Income Tax Slab) کو ٹیکس کی بچت سے کمائی تک بڑھانے کا مطالبہ بھی ہے۔ لائف انشورنس کے پریمیم پر ٹیکس چھوٹ بڑھانے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔

    ہر بجٹ سے پہلے اس قسم کی رائے حکومت تک پہنچائی جاتی ہے جس پر حکومت اپنی مرضی کے مطابق عملدرآمد کرتی ہے۔ آئیے کچھ ایسی ہی توقعات پر بات کرتے ہیں جو عوام کو حکومت سے ہے۔ ان توقعات میں انکم ٹیکس سلیب(Income Tax Slab) کو ٹیکس کی بچت سے کمائی تک بڑھانے کا مطالبہ بھی ہے۔ لائف انشورنس کے پریمیم پر ٹیکس چھوٹ بڑھانے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی:مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن یکم فروری (منگل) کو عام بجٹ (Budget 2022)پیش کریں گی۔ اس سے پہلے پیر کو صدر نے دونوں ایوانوں سے خطاب کیا۔ ملک کا اقتصادی سروے (Economic Survey)بھی پیر کو ہی جاری کیا جائے گا۔ بجٹ سے پہلے ہر شعبے کے لوگ اور ماہرین اپنے مطالبات یا توقعات حکومت کے سامنے رکھتے ہیں۔ ہر بجٹ سے پہلے اس قسم کی رائے حکومت تک پہنچائی جاتی ہے جس پر حکومت اپنی مرضی کے مطابق عملدرآمد کرتی ہے۔ آئیے کچھ ایسی ہی توقعات پر بات کرتے ہیں جو عوام کو حکومت سے ہے۔ ان توقعات میں انکم ٹیکس سلیب(Income Tax Slab) کو ٹیکس کی بچت سے کمائی تک بڑھانے کا مطالبہ بھی ہے۔ لائف انشورنس کے پریمیم پر ٹیکس چھوٹ بڑھانے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔

      1- ٹیکس فری انکم کی حد بڑھنے کی امید
      ٹیکس فری آمدنی کی حد کو بنیادی استثنیٰ(Basic Exemption Limit) کی حد کہا جاتا ہے۔ عام لوگوں سے لے کر امیروں تک یہ مطالبہ زوروں پر ہے۔ اس بار بھی لوگ چاہتے ہیں کہ حکومت ٹیکس کے بغیر کمائی کا دائرہ بڑھائے۔ فی الحال یہ حد 2.5 لاکھ روپے ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ حکومت اس بجٹ میں ٹیکس فری آمدنی کی حد ڈھائی لاکھ سے بڑھا کر تین لاکھ کر سکتی ہے۔ اس سے بڑی آبادی کو ریلیف ملے گا۔

      2- اسٹارٹ اپ کے لئے نئے اعلانات ممکن
      اوپر ہم نے عام لوگوں کو ریلیف دینے کی بات کی۔ ملک میں تیزی سے بڑھتے ہوئے اسٹارٹ اپس کے لیے بھی کچھ ایسی ہی امید ہے۔ اسٹارٹ اپ کمپنیاں اس بجٹ میں کچھ خصوصی پروویژن اور چھوٹ کی توقع کر رہی ہیں۔ حال ہی میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ہندوستان کے اسٹارٹ اپس کی تعریف کی تھی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ بہت کم وقت میں بہت سے اسٹارٹ اپ یونیکارن میں تبدیل ہوگئیں۔ سال 2021 میں ہندوستان کی اسٹارٹ اپ کمپنیوں نے 4200 کروڑ سے زیادہ رقم اکٹھا کی ہے۔ اب ان کمپنیوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت ان کی سہولیات اور ٹیکس میں چھوٹ بڑھانے کا بھی اعلان کرے۔

      3- کرپٹو کرنسی کے ٹیکس پر فیصلہ
      ہندوستان کے اربوں روپے cryptocurrency میں لگائے گئے ہیں۔ لیکن ابھی تک حکومت نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا کہ آیا کرپٹو کو غیر قانونی قرار دیا جائے یا اسے قانونی حیثیت ملے گی۔ جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں کافی تذبذب پایا جاتا ہے۔ سرمایہ کار چاہتے ہیں کہ حکومت بجٹ میں اس پر کچھ اعلان کرے۔ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں کرپٹو کرنسی پر ٹیکس ادا کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے تاہم حکومت کو اس کا فریم ورک سامنے لانا چاہیے۔ ٹیکس نظام کے حوالے سے سرمایہ کاروں نے اپنی نظریں بجٹ پر جما رکھی ہیں۔

      4- ریالٹی سیکٹر کی مانگ
      حقیقت کے شعبے کو اس بجٹ سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔ اس شعبے کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کے درمیان، رئیل اسٹیٹ میں پہلے کے مقابلے کچھ تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ بینکوں سے لے کر ہاؤسنگ کمپنیوں تک، وہ صارفین کو بہت سستے قرضے دے رہے ہیں۔ آج ہوم لون پہلے سے بہت کم ہے۔ ایسے میں حکومت کو حقیقت کے شعبے کے لیے خصوصی مراعات کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ پہلے ہونے والے نقصانات کی تلافی ہو سکے۔

      5- ختم ہوگا LTCG ٹیکس؟
      عوام کا مطالبہ ہے کہ مختلف سرمایہ کاری پر لانگ ٹرم کیپیٹل گین ٹیکس(LTCG)نہ دینا پڑے۔ سرمایہ کار چاہتے ہیں کہ حکومت اس ٹیکس کو ختم کرے۔ تاہم حکومت نے اسے ختم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ لیکن آگے چل کر اس میں کوئی تبدیلی آتی ہے یا نہیں، یہ دیکھنا ہوگا۔ سرمایہ کار چاہتے ہیں کہ ایکویٹی شیئرز کی فروخت پر لانگ ٹرم کیپٹل گین ٹیکس ختم کر دیا جائے تاکہ اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔

      6- اکویٹی سرمایہ کاری پر STT ہٹانے کا مطالبہ
      اکویٹی سرمایہ کاری پر مرکزی حکومت کی طرف سے ایس ٹی ٹی لگایا جاتا ہے۔ STT TDS کی طرح ہے اور یہ ٹیکس اس وقت لگایا جاتا ہے جب آپ شیئر خریدتے یا بیچتے ہیں۔ STT TCS اور TDS کی طرح جمع کیا جاتا ہے۔ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ شیئر کی خرید و فروخت پر طویل مدتی کیپٹل گین، جی ایس ٹی اور سیکیورٹیز ٹرانزیکشن ٹیکس ایک ساتھ لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: