உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Waseem Rizvi: دو شادیاں-سعودی عرب میں نوکری-کرپشن کے الزام۔۔ کون ہے اسلام چھوڑ کر ہندو بننے والے وسیم رضوی

    ۔اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب میں شامل ہونے کے بعد وسیم رضوی بنے جتیندر نارائن تیاگی۔

    ۔اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب میں شامل ہونے کے بعد وسیم رضوی بنے جتیندر نارائن تیاگی۔

    رضوی نے ملک کی 9 مسجدوں کو ہندووں کو سونپ دئیے جانے کی بات اٹھائی تھی۔ قطب مینار احاطے میں واقع مسجد کو ہندوستان کی زمین پر سیاہ داغ قرار دیا تھا۔ مدرسوں کی تعلیم کو دہشت گردی سے جوڑا تھا۔ قرآن کی 26 آیتوں کو ہٹانے کے لئے سپریم کورٹ میں عوامی مفاد عاملہ دائر کی تھی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: اُترپردیش شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی (Waseem Rizvi) نے پیر کو مذہب اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کرلیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وسیم رضوی کا اب نیا نام جتیندر نارائن تیاگی ہوگیا ہے۔ ہندو مذہب اپنانے کے بعد انہوں نے کہا کہ جب مجھے اسلام سے نکال دیا گیا تو پھر میری مرضی ہے کہ میں کون سا مذہب اختیار کروں۔ وسیم رضوی کے اس قدم پر کئی طرح کے ردعمل سامنے آرہے ہیں۔ ایسے میں ہم بتاتے ہیں کہ کون ہے وسیم رضوی جنہوں نے اسلام چھوڑ کر سناتن دھرم اپنایا؟

      2017 میں سرخیوں میں وسیم رضوی
      بتادیں کہ اُترپردیش میں یوگی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے وسیم رضوی لگاتار سرخیوں میں بنا ہوا ہے۔ رضوی نے ملک کی 9 مسجدوں کو ہندووں کو سونپ دئیے جانے کی بات اٹھائی تھی۔ قطب مینار احاطے میں واقع مسجد کو ہندوستان کی زمین پر سیاہ داغ قرار دیا تھا۔ مدرسوں کی تعلیم کو دہشت گردی سے جوڑا تھا۔ قرآن کی 26 آیتوں کو ہٹانے کے لئے سپریم کورٹ میں عوامی مفاد عاملہ دائر کی تھی، جس کے بعد شیعہ اور سنی طبقے کے علماوں نے فتویٰ دے کر وسیم رضوی کو اسلام سے خارج کردیا۔

      وسیم رضوی کے افراد کے خاندان میں سے اُن کی والدہ اور بھائی نے بھی اپنا رشتہ وسیم رضوی سے توڑ لیا تھا۔ وہیں، اب وسیم رضوی کو پیر کو غازی ااباد کے دیوی مندر میں یتی نرسمہانند سرسوتی نے ہندو مذہب میں شامل کرایا۔ وسیم رضوی سے جتیندر نارائن تیاگی اپنے ماتھے پر تری پونڈ، گلے میں زعفرانی بانا پہنے اور اپنے ہاتھ جوڑ کر پوجا کرتے نظر آئے۔

      وسیم رضوی سے جتیندر تیاگی
      ہندو مذہب اپنانے کے بعد جتیندر نارائن تیاگی (وسیم رضوی) نے کہا کہ مجھے اسلام سے نکال دیا گیا تو پھر میری مرضی ہے کہ میں کون سا مذہب اختیار کروں۔ سناتن دھرم کو وسیم رضوی نے دنیا کا سب سے پہلا مذہب قرار دیتے ہوئے اس میں کئی اچھائیاں گنوائیں۔ رضوی نے کہا کہ ہم اسلام کو مذہب نہیں سمجھتے، ہر جمعہ کو نماز کے بعد ہمارا سر کاٹنے کے فتوے دئیے جاتے ہیں تو ایسے حالات میں ہم کو کوئی مسلمان کہے، اس سے ہم کو خود شرم آتی ہے۔



      رضوی کا فیملی بیک گراؤنڈ
      بتادیں کہ ہندو مذہب اپنے والے وسیم رضوی کی پیدائش شیعہ مسلم خاندان میں ہوئی۔ رضوی کے والد ریلوے ملازم تھے، لیکن جب رضوی کی کلاس 6 کی پڑھائی جاری تھی تبھی والد کاانتقال ہوگیا تھا۔ اس کے بعد وسیم رضوی پر اپنے بھائی بہن اور والدہ کی ذمہ داری آگئی۔ اپنے بھائی بہنں میں سے سب بڑا وسیم رضوی 12ویں کی پڑھائی کے بعد سعودی عرب میں ایک ہوٹل میں نوکری کرنے چلا گیا اور پھر بعد میں جاپان اور امریکہ میں کام کیا۔

      خاندانی حالات کی وجہ سے وسیم رضوی لکھنو لوٹ آیا اور اپنا خود کا کام شروع کردیا، جس کی وجہ سے اُس کے تمام لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات بن گئے جس کے بعد وسیم رضوی نے میونسپل الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ یہیں سے وسیم کے سیاسی کرئیر کی شروعات ہوئی۔ اس کے بعد وہ شیعہ مولانا کلب جواد کے قریب ہوگیا اور شیعہ وقف بورڈ کا رکن بھی بن گیا۔ رضوی نے دو شادیاں کی ہیں اور دونوں ہی لکھنو کی ہی ہیں۔ رضوی کو پہلی بیوی سے تین بچے ہیں، جن میں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ تینوں ہی بوں کی شادیاں ہوچکی ہیں۔

      کلب جواد سے رہا گہرا رشتہ
      سال 2003 میں جب یو پی میں ملائم سنگھ یادو وزیراعلیٰ بنے تو وقف منسٹر اعظم خان کی سفارش پر ایس پی لیڈر مختیار انیس کو شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کا چیئرمین بنایا گیا۔ لیکن انیس کی میعاد میں لکھنو کے حضرت گنج میں ایک وقف جائیداد کو بیچے جانے کی مولانا کلب جواد نے سخت مخالفت کی تھی۔ مولانا کے تلخ رویے پر مختار انیس کو بورڈ کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹنا پڑا تھا۔ اس کے بعد ملائم سنگھ یادو سے 2004 میں مولانا کلب جواد کی سفارش پر وسیم رضوی کو شیعہ وقف بورڈ کا چیئرمین بنادیا گیا۔

      سال 2007 میں اسمبلی الیکشن کے بعد مایاوتی کی حکومت بننے کے بعد ہی وسیم رضوی نے سماج وادی پارٹی چھوڑ کر بہوجن سماج وادی پارٹی کا دامن تھام لیا۔ 2009 میں شیعہ سینٹرل وقف بورڈ نے اپنا پانچ سال کی معیاد مکمل کی۔ اس کے بعد جب نئے شیعہ بورڈ کی تشکیل ہوئی تو مولانا کلب جواد کے اتفاق سے اُن کے بہنوئی جمال الدین اکبر کو چیئرمین بنایا گیا اور اس بورڈ میں وسیم رضوی ممبر چنا گیا۔ یہیں سے وسیم رضوی اور مولانا کلب جواد کے درمیان سیاسی برتری کی جنگ چھڑ گئی۔

      رضوی اور مولانا کلب جواد میں برتری کی جنگ
      سال 2010 میں شیعہ وقف بورڈ پر بدعنوانی کے الزام لگاتے تو سابق چیئرمین جمال الدین اکبر نے استعفیٰ دے دیا اور اس کے بعد وسیم رضوی ایک بار پھر شیعہ وقف بورڈ کے صدارتی عہدے پر قابض ہوگیا۔ تین سال کے بعد 2012 میں اقتدار کی تبدیلی ہوئی اور ایس پی کی سرکار بننے کے دو مہینے بعد 28 مئی کو وقف بورڈ کو تحلیل کردیا گیا۔ وسیم رضوی نے اعظم خان سے قریبی رشتوں کی وجہ سے سال 2014 میں وقف بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا، جس کو لے کر مولانا کلب جواد نے ایس پی حکومت کے خلاف اعلان جنگ کردیا۔

      کلب جواد نےاپنے حامیوں کے ساتھ سڑک پر اُتر کر مظاہر کیا، لیکن اعظم خان کے سیاسی اثر کی وجہ سے وسیم رضوی وقف بورڈ صدر بنا رہا۔ سال 2017 میں اقتدار کی تبدیلی ہونے کے بعد وسیم رضوی نے اپنے سیاسی تیور بھی پوری طرح بدل دئیے۔ وسیم رضوی نے اپنا شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین کے طور پر اپنی معیاد 18 مئی 2020 کو پوری کی، لیکن دوبارہ سے واپسی نہیں ہوپائی۔ حالانکہ، شیعہ وقف بورڈ کے رکن ابھی بھی ہیں۔

      رضوی پر بدعنوانی کے لگے الزام
      وسیم رضوی پر کئی وقف جائیدادوں میں بدعنوانی کرنے کے الزام لگاے، جسے لے کر تمام ایف آئی آر درج کرائی گئیں۔ کلب جواب کے اثر میں یوگی سرکار نے وقف جائیدادوں پر ہوئے غیر قانونی قبضے کی جانچ سی بی سی آئی ڈی کے حالے کردی۔ اب یہ معاملہ سی بی آئی کے حوالے ہے۔ صوبے کے پانچ ضلعوں میں دھاندلی کے کیسیز میں وسیم رضوی سمیت 11 لوگوں پر مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ سی بی آئی نے صوبے کے شیعہ وقف جائیدادوں کو غیر قانونی طریقے سے بیچنے، خریدنے اور ٹرانسفر کرنے کے الزام میں یہ کیسیز درج کیے گئے ہیں۔ ایسے میں وہ اب اسلام مذہب کو چھوڑ کر ہندو دھرم میں داخل ہوگیا ہے اور وسیم رضوی سے جتیندر نارائن تیاگی بن چکا ہے۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو
      کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: