ہوم » نیوز » Explained

Explained: اسقاط حمل (Abortion) کیا ہے، جانیے مکمل تفصیلات

اسقاط حمل، حمل (pregnancy) کو ختم کرنے کا ایک طریقہ کار ہے۔ اسقاط حمل کے دوران بچہ دانی سے مضغہ یا جنین اور نال کو دور کرنے کے لئے دوا یا سرجری کا استعمال کرتا ہے۔

  • Share this:
Explained: اسقاط حمل (Abortion) کیا ہے، جانیے مکمل تفصیلات
Explained: اسقاط حمل (Abortion) کیا ہے، جانیے مکمل تفصیلات


  • اسقاط حمل کیا ہے؟


اسقاط حمل، حمل (pregnancy) کو ختم کرنے کا ایک طریقہ کار ہے۔ اسقاط حمل کے دوران بچہ دانی سے مضغہ یا جنین اور نال کو دور کرنے کے لئے دوا یا سرجری کا استعمال کرتا ہے۔


  • کیا ہندوستان میں اسقاط حمل قانونی ہے؟


ہاں! یہ صرف تب ہی قانونی ہے جب طبی طور پر تجویز کیا گیا ہو لیکن اس کے لیے ضروری ہدایات پر عمل کیا جائے۔

  • کب رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنرز کے ذریعہ حمل کو ختم کیا جاسکتا ہے؟


حمل دو مراحل پر ختم کیا جاسکتا ہے:
a) اگر حمل 20 ہفتوں سے کم ہے تو اس کو واحد میڈیکل پریکٹیشنر کے ذریعہ ختم کیا جاسکتا ہے۔
ب) اگر حمل 20 ہفتوں سے زیادہ ہے لیکن 24 ہفتوں سے تجاوز نہیں کیا تو پھر حمل ختم کرنے کے لئے کم سے کم 2 طبی پریکٹیشنرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ جگہ جہاں حمل ختم ہوسکتا ہے۔ حکومت کے قائم کردہ یا دیکھ بھال والے اسپتال یا کسی ایسی جگہ پر حمل ختم کیا جاسکتا ہے جس کی حکومت کے ذریعہ منظوری دی گئی ہو۔

  • اگر میں 18 سال سے کم ہوں تو کیا میں اسقاط حمل کروا سکتی ہوں؟


ہاں اسقاط حمل کا انتخاب اس لڑکی کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے جس کی عمر 18 سال سے کم ہو لیکن سرپرست کی رضامندی لازمی ہے۔

  • کیا غیر شادی شدہ عورت اسقاط حمل کروا سکتی ہے؟


ہندوستان میں اسقاط حمل عورت اور جنین کی صحت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ قانون کا کہنا ہے کہ اگر حمل کے تسلسل میں حاملہ عورت کی زندگی یا اس کی جسمانی یا دماغی صحت کو شدید چوٹ پہنچنے کا خطرہ ہے تو حمل کو ختم کیا جاسکتا ہے۔

  • اسقاط حمل کے لئے کس کی رضامندی ضروری ہے؟


اسقاط حمل کے لئے صرف حاملہ عورت کی رضامندی ضروری ہے نہ اس کے والدین اور نہ ہی اس کے شوہر۔ اگر خواتین کی عمر 18 سال سے کم ہے یا وہ پاگل ہیں تو ایسی حالت میں سرپرست کی رضامندی لازمی ہے۔

  • کیا 24 ہفتوں کی حد کے بعد اسقاط حمل کی اجازت نہیں ہے؟


اگر خواتین کی زندگی کو زیادہ خطرہ ہے اور جنین کی ممکنہ خرابی اس سے کہیں زیادہ ہے تو عدالت 24 ہفتے کی حد کے بعد اسقاط حمل کی اجازت دے سکتی ہے۔

نوٹ : پراچی مشرا سپریم کورٹ کی وکیل ہیں ۔ 

Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: May 05, 2021 12:36 PM IST